کیا آئین عوام کے دکھ دور کر رہا ہے؟ ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزاد

ہمیں اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ دوائیوں میں اثر ہی نہیں رہا یا ڈاکٹر نالائق ہو گئے ہیں۔ اسی لئے نزلہ، زکام، بخار جیسی چھوٹی چھوٹی بیماریاں بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اپنی اس گفتگو کا نتیجہ ہم عموماً یہ نکالتے ہیں کہ چونکہ دوائیوں میں ملاوٹ ہوتی ہے، اس لئے وہ بے اثر ہوگئی ہیں اور ڈاکٹروں کے مسیحا کی بجائے سوداگر بن جانے کے باعث ان کے ہاتھوں سے برکت اُٹھ گئی ہے۔ لوگوں کے اس نظرےئے کو چھیڑے بغیر ایک اور طرح سے بھی سوچا جاسکتا ہے کہ امیون ہونا بھی ایک فطری عمل ہے۔ ہوسکتا ہے ہم روایتی دوائیوں کو کئی نسلوں سے استعمال کرنے کی وجہ سے اپنے اندر قوتِ مدافعت ڈویلپ کرگئے ہوں اور اب یہ دوائیاں ہماری عام بیماریوں کے لئے بھی زیادہ مؤثر نہ رہی ہوں۔ جی نہیں! یہ دوائیوں پر لکھا گیا کالم نہیں ہے بلکہ میڈیسن میں امیون کے مفہوم کو ہم اپنے موجودہ سیاسی ڈھانچے پر فِٹ کرکے دیکھتے ہیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ سیاست یا سیاسی لیڈر میں کسی قسم کی کوئی بھی غلط کاری سامنے آتی تو ایک شور مچ جاتا۔ اس شور کے اثرات مرتب ہوتے اور آہستہ آہستہ وہ سیاسی لیڈر یا سیاسی پارٹی دھول ہو جاتے۔ مثلاً پاکستان کی سیاست کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھانے والے ابتدائی تقریباً دس برسوں کو چھوڑ کر اُس وقت سے دیکھیں جب لوگوں کو سیاست کے اندھیر کمروں میں کچھ کچھ دکھائی دینا شروع ہوا۔ تب سے ہی ہمیں سیاسی غلطیوں کے خمیازے بھگتنے کی کہانیاں ملتی ہیں۔ مثلاً ایوب خان کے دور میں ذرا سی چینی مہنگی ہوئی یا تاشقند معاہدے کے خلاف آواز اٹھی یا احتجاجی جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے چند کالجی طالب علم مارے گئے وغیرہ وغیرہ کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ایوب خان عوامی نفرتوں کے سیلاب میں بہہ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے اقتدار کے چند برسوں کے اندر اندر ہی بہت زیادہ خود اعتماد ہوچکے تھے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا جو سلسلہ شروع کیا، اسلامی ذہن کے کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے تھوڑی سی پی لینے کا اعتراف کیا، 1977ء کے عام انتخابات میں لینڈ سلائیڈنگ وکٹری کی کوشش کی یا ایسی ہی بہت سی سیاسی ہیرا پھیریوں کا کفارہ انہوں نے پھانسی گھاٹ پہنچ کر ادا کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بظاہر کسی اہم وجہ کے بغیر ایک ٹھنڈے مزاج اور شریف طبیعت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو اچانک برطرف کیا تو لوگوں کو اس اقدام سے جھرجھری آگئی اور دیکھا گیا کہ جونیجو کی برطرفی کے بعد سے اپنی موت تک کے آخری چند ماہ ضیاء الحق نے سیاسی بدہضمی کے ساتھ ہی گزارے۔ پھر 1988ء سے 1999ء تک کے گیارہ برسوں پر مبنی ’’لکن میٹی‘‘ کا ایک ایسا سیاسی کھیل شروع ہوا جس کے میچ ڈریسنگ روم سے کنٹرول کئے جارہے تھے۔ ان تمام میچوں میں بھی دو تین سال کے درمیان ہی سیاسی حکومتوں کو تیزتیز سیاست کرنے کی سزا دی جاتی رہی۔ 1999ء کے بعد جب ہوڑمت والے پرویز مشرف دندنانے لگے تو امریکیوں کے سامنے لیٹ جانے، سیاست دانوں کو لیفٹ رائٹ کروانے، ججوں کو قید کرنے اور ایمرجنسی لگانے جیسے دھونس ڈنڈے کے فیصلوں کے خلاف لوگوں نے قوتِ مزاحمت حاصل کرلی۔ 2008ء میں جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی کے نام کو استعمال کرکے نئی قیادت نے پرانی حرکتیں ہی کیں تو لوگوں نے فوراً جان لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2018ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو امیدوار ہی نہیں ملے لیکن پیپلز پارٹی اب بھی اپنے آپ کو ایک بڑی جمہوری جماعت کہتی ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ عوام کے معیار پر نہ سہی آئینی فارمولے پرتو پورے اترتے ہیں۔ مزید یہ کہ موجودہ سیاسی دور میں پہلے والا ہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کی رفتار خلائی جہاز سے تیز ہے، لوگوں کے جان و مال اُتنے ہی غیرمحفوظ ہوچکے ہیں جتنے قدیم دنیا میں بسنے والے اکیلے اکیلے جنگلیوں کے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی ایجاد بم دھماکوں سے ہوئی اُس میں جدت خودکش حملوں سے آئی۔ ان سب کے ساتھ ساتھ حکومتیں ہیں کہ چلتی ہی جارہی ہیں، اپوزیشنیں ہیں کہ بولتی ہی جارہی ہیں، الیکشن ہیں کہ ہوتے ہی جارہے ہیں، لوگ ہیں کہ مرتے اور جیتے ہی جارہے ہیں، میڈیا ہے کہ کچھ بتاتا اور کچھ چھپاتا ہی جارہا ہے لیکن لگتا ہے کہ اصل میں کچھ بھی نہیں ہورہا۔ کچھ ہونے سے مراد کیا عوام کی کسمپرسی سے نجات نہیں ہونی چاہئے؟ یا کچھ ہونے سے مراد محض انتخابات جیتنا ہی ہے؟ نئی منتخب ہونے والی حکومت کیا کرے گی یا کیا کرسکتی ہے؟ اُن کے پاس بھی تو یہی میدان اور یہی گھوڑے ہوں گے۔ جولائی 2018ء کے انتخابات میں حصہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمایاں امیدواروں میں خاندانی سیاست کی چوتھی نسل شامل ہوچکی ہے۔ ان میں صرف پنجاب کے آٹھ جاگیردار خاندان موجود ہیں۔ یہ ڈرامہ نہ جانے کب تک جاری رہے گا کیونکہ تقریباً یہ سب کام آئین کی حدود کے اندر رہ کرہی ہو رہے ہیں۔ آئین میں بے شمار ایسی گنجائشیں موجود ہیں جن سے سیاسی مافیا کی ذاتی خواہشیں پوری کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ایک ہی امیدوار کئی نشستوں پر کھڑا ہوتا ہے اور جیتنے کے بعد آئین کے مطابق ایک نشست اپنے پاس رکھ کر باقی سب کو خالی کردیتا ہے جہاں دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں۔ اس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے مگر نشستیں چھوڑنے والے امیدواروں کو اس کی بالکل پرواہ نہیں ہوتی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے انتخابی امیدواروں کو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی اس حرکت کا آئینی حق حاصل ہے۔ لہٰذا ان آئینی گنجائشوں سے پورا فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور اگر اپنی مرضی کا کوئی راستہ سمجھ نہ آرہا ہو تو ٹاک شوز میں آئینی بحث چھیڑ دی جاتی ہے تاکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آئے۔ آئین کو ہرکوئی اس حد تک اپنے حق میں استعمال کررہا ہے کہ ڈر لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں یہ آئین کسی کے استعمال کا ہی نہ رہے۔ سوچیں تو سہی! کہیں ہمارے سیاسی نظام میں موجود خطرناک جراثیم آئین کی اینٹی بائیوٹک کے سامنے قوتِ مدافعت تو حاصل نہیں کرگئے؟ کہیں لوگوں کی کسمپرسی آئین سے امیون تو نہیں ہوگئی۔

(Visited 41 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *