۔’’لوح‘‘عصرِ حاضر کا عظیم ادبی شاہکار۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

حقائق و مشاہدات کو عملِ تسوید میں لانے کے فن کو تاریخ کہا جاتا ہے،حقائق مشتمل ہوتے ہیں حالات و واقعات پر۔اور حالات و واقعات کو جمع کرنے کا فن اسی وقت شروع ہو گیا تھاجب حضرتِ انسان کو لکھنے کے فن سے آگاہی و آشنائی ہوئی۔تاریخ جمع کرنا اور صداقت بر مبنی حالات و واقعات کی تاریخ اور بھی مشکل فعل ہو جاتا ہے جب آپ عصرِ موجود کا ایک کردار ہوں جبکہ حقائق آپ ایامِ گزشتہ کے تلاش کر رہے ہوں۔اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ فنِ تاریخ اتنا آسان نہیں جتنا کہ خیال کر لیا جاتا ہے۔وہ تاریخِ اقوامِ عالم ہو،جنگ و جدل کی تاریخ ہو،تاریخ آثار قدیمہ ،بادشاہی سلسلوں یا اصنافِ ادب کی تاریخ ہو۔یہ خیال مجھے ممتاز احمد شیخ کے تشنگانِ ادب کے لئے ایک خاص توشہ سہ ماہی’’لوح‘‘ کے ایک سو پندرہ سالہ افسانوں کا انتخاب پڑھتے ہوئے آیا۔کہ عصرِ حاضر میں بھی ایسے محبان ادب موجود ہیں جن کا مقصدِ زیست خدمتِ ادب کے سوا کچھ اور نہیں۔اور اس سلسلہ میں وہ کاغذی گھوڑے ہی نہیں دوڑاتے بلکہ دامے درمے سخنے کسی نہ کسی صورت میں تشنگانِ ادب کی پیاس بجھا رہے ہوتے ہیں۔’’لوح‘‘ بھی ایک ایسا ہی بحرِ ادب ہے جس سے لاکھوں تشنگانِ ادب اپنی ادبی و علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔
ممتاز احمد شیخ کا تعلق لا ہور شورکوٹ ریلوے ٹریک پر ننکانہ صاحب کے پاس واقع ایک چھوٹے سے شہر منڈی واربرٹن کے ایک خوش حال گھرانے سے ہے۔ابتدائی تعلیم کے بعد ممتاز شیخ لاہور تشریف لے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہوئے۔اور اس وقت خود کا بزنس راول پنڈی میں سنبھالے ہوئے ہیں۔راوین ہونے پر افتخار محسوس کرتے ہیں ،وہ گورنمنٹ کالج کو ایک تعلیمی ادارہ ہی خیال نہیں کرتے بلکہ ایک legacy خیال کرتے ہیں۔
’’لوح‘‘ کا وصفِ خاص یہ بھی ہے کہ یہ رسالہ ہر نسل کی نمائندگی کرتا ہے۔نئی نسل کو پرانی نسل سے مربوط و پیوستہ کرتا ہے۔جیسے کہ ان کے افسانوں کے انتخاب کو ہی لے لیں تو ماضی کے صفِ اول کے افسانوں نگاروں سے لے کر عصرِ حاضر کے عظیم افسانہ نگاروں کے افسانوں کو انہوں نے لوح کا حصہ بنایا ہے۔جو بلاشبہ وہی کر سکتا ہے جسے اپنی ماضی کی خبر ہو اور حال کا پتہ ہو،اسی لئے میں نے عرض کیا کہ تاریخ جمع کرنا جان گسل کام ہے۔اور میرے اس دعوے کا اقرار ممتازشیخ نے اپنے اداریہ’’خامہ انگشتِ بدنداں ہے اسے کیا کہیے‘‘میں بھی کیا ہے۔لوح کا شمارہ دیکھتے ہی ممتاز شیخ کی شخصیت اور ان کا ظرف نکھر کر سامنے آ جاتا ہے،خوبصورت ٹائٹل،ضخامت،بہترین پیپر،تمام اصنافِ ادب پر خامہ فرسائی،یعنی حمد،نعت،سلام،افسانے،مقالات اور شاعری ان کی شخصیت کی نزاکت کو بیان کرتے ہیں۔بلاشبہ فروغِ ادب میں ’’لوح‘‘ سرخیل اور سپہ سالار کا کام سر انجام دے رہا ہے۔

(Visited 56 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *