لوٹ آتے تو اچھا تھا‘‘ ۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی’’

لوٹ آتے تو اچھا تھا ،یہ فریاد ی جملہ نہیں کتاب کا نام ہے ۔یہ کتاب شاعری مجموعہ ہے جس کی مصنفہ ’’ھما خان ‘‘ہیں۔کتاب کا سرورق بہت دیدہ زیب ہے ۔بیک فلاپ پہ مایہ ناز شاعر ارشد ملک کے کتاب کے بارے میں رائے ہے جس میں آپ لکھتے ہیں کہ ’’ہماخان کی شاعری روایات پر قائم رہتے ہوئے آج کی شاعری ہے ۔اُن کی شاعری ہلکے پھلکے انداز کی شاعری ہے جو بڑی بات کہنے کا سلیقہ بھی رکھتی ہے ۔اِس رائے کے ساتھ ہی ’’ھما خان ‘‘کی تصویر دی گئی ہے ۔تصویر بتاتی ہے کہ گہرے صدموں کو دل میں چھپائے ہوئے ہوں ۔آنکھوں کی گہرائی اس کی گواہی دے رہی ہیں ۔اِنسان دُنیا میں آتا ہے تو اس کی زندگی میں نشیب وفرازآنے شروع ہو جاتے ہیں ۔کوئی دُکھوں کی نگری میں رہتا تو کسی کو دُنیا جینے کی سزا دیتی ہے ۔اپنے ہی گراتے ہیں نشمن پہ بجلیاں کے مصداق غیروں کو خبر نہیں ہوتی کہ دِل کی جگہ کہاں ہے ۔اپنے ہی ہوتے ہیں جو دِل پہ وار کرتے ہیں اور جینے کی سزا دیتے ہیں۔یہاں ہی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔یہ تصویر پوری کہانی سُنا رہی ہے ۔
لوٹ آتے تو اچھا تھا ،خوبصورت شاعری کا مجموعہ ہے جس کو رمیل ہاوس آف پیلی کشنیز نے شائع کیا ہے ۔کتاب کی مناسب قیمت 300 سور وپے ہے ۔خوبصورت سفید کاغذ کے ساتھ پیاری کتاب ہے ۔مصنفہ ھما خان نے اپنی اس کتاب کا انتساب نیو دہلی کے لیور ٹرانسپلانٹ اسپیشلسٹ انڈین ڈاکٹرز ڈاکٹر سبھاش گپتا،ڈاکٹر مانو وادھون،ڈاکٹر شری شر،ڈاکٹر پراتھاپان ویلیاکمبراتھ،ڈاکٹر اینڈ پروفیسر نیتورنگ اینڈ آل ٹیم آف سر جنز اینڈ ڈاکٹرز اور لیور پیشنٹس کے نام کیا ہے ۔اس میں بھی ایک کہانی چھپی ہے ۔یہ کہانی رشتوں کو جوڑتی ہے ۔رشتوں میں محبت کے بیج بوتی ہے ۔اپنوں پہ قربان ہوتی ہے ۔جی ہاں ۔احساس دِل رکھنی والی شاعرہ،ھما خان نے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے اپنا جگر دیا ہے ۔واقعی بہنیں ایسی ہوتیں ہیں ،جو بیٹی کے روپ میں باپ ،ماں پہ قربان ہوتی ہیں تو بہن کے روپ میں بھائیوں کا مان ہوتی ہیں اُن پر قربان ہو جاتی ہیں ۔یہاں بھی ایک بہن نے بھائی کی جان بچائی۔اللہ تعالیٰ نے بہن کا رشتہ بناتے وقت قربان ہونے کے تمام جذبے اس میں رکھ چھوڑے ہیں ۔کون کہتا ہے کہ رشتوں کی اہمیت نہیں رہی ۔ہاں مگر چند خود غرض ضمیر فروشو ں نے ان رشتوں کو توڑنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔لیکن اِس دُنیا میں ھما خان جیسے رشتوں کی قدر کرنے والے بستے ہیں۔بس دُعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ سبھی کی بہنوں کو،انمول رشتوں کو سلامت تاقیامت رکھے آمین !۔
فلاپ کے اندرون میں حامد عمران (خادم الحرمین الشرفین کنگ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود الریاض السعودیہ ) نے اپنے الفا ظ میں شاعرہ کی کہانی بتا دی ہے ۔کچھ اپنی شاعری میں ھما خان لکھتی ہیں کہ اپنے احساسات ،جذبات اور خیالات کے اظہار کا واحد اور بہترین ذریعہ شاعری ہی ہے ۔میں ان سے اتفاق کرتا ہوں ۔
افسانہ ،ناول کہانی ،داستان میں مصنف اپنی بات ،اپنے پیغام کے اظہار کے لئے تفصیلی گفتگو کرتا ہے لیکن شاعری ایسی صنف ہے جس میں شاعریہی بات ایک شعر میں کہہ دیتا ہے ۔ایسے تو نہیں کہتے کہ شاعری دِل کی ترجمان ہوتی ہے ۔انسان اپنے دُکھ ،درد وغم ،ہجر وصال ،تنہائی ،زخموں کا اظہار،ہو یامحبت کا اظہار،محبوب کی کارستانیاں ہوں یا اپنوں کے ستم کا اظہار شاعری کے ذریعہ کرکے خود کو تسلیاں دیتا ہے ۔خود سے ہم کلامی کرنا کوئی شاعر سے سیکھے۔
شاعرہ کی کچھ اپنی باتیں پڑھ کر ان کی زندگی کے بارے جانکاری ہوتی ہے ۔لوٹ آتے تو اچھا تھا ،یہ ایک کتاب ہی نہیں ھما خان کی زندگی کی داستان ہے ۔جس میں غزلیات ،نظمیں ،قطعات کا بہترین مجموعہ ہے ۔لوٹ آتے تو اچھا تھا سے چند اشعار انتخاب کے طور پر آپ کی نذر کرتا ہوں ۔
لوٹ آتے تو اچھا تھا ہم آوارہ نہ ہوتے
دعویٰ ہے ہم سنبھل جاتے بکھر جانے سے پہلے
۔2۔۔محبتوں کے ثمر ،چاہتوں کے نگر کہاں گئے
ریت کے سینے پر بنے گھر کہاں گئے
۔3۔غم کا ثبات چاہتا ہے دِل
مشکلوں سے نجات چاہتا ہے دل
۔4۔کبھی تو ہو گی تیرے در تک بھی رسائی
خود کو یہ تسلی ہم ہر گام دیتے ہیں
۔5۔اسلام کی شان مٹانے والا خود
اپنی ہی شان مٹا کے گیا
۔6۔لمحوں کو شمار کرکے کیا کریں گے
غم تھے زمانوں کے ادوار کے سامنے
۔7۔ٹوٹی بکھری ہوئی زندگی تھی لیکن
نئی اُمید کا پھر اقرار آنسو تھے
۔8۔ہر بار ادھورا رہ گیا افسانہِ محبت کہیں
نہ ہمیں لکھنا آیا نہ اُنہیں پڑھنا آیا
۔9۔زخمی احساس لیے پھرتے ہیں سوالات کے ہاتھوں
ہر بار قتل ہوتے ہیں حالات کے ہاتھوں
۔10۔۔میں نے یوں زندگی بتائی ہے
اِک گرہ کھولی ،اِک لگائی ہے
۔11۔اب کے فصلوں پہ قحط کی نظر ہے
کیا گلابی تتلیوں کو بھی خبر ہے
۔12۔درد کی آخری بوند بھی پلکوں سے نچوڑے
میرا دل گویا طوفاں کی رہگذر ہے
۔13۔میری بھیگی ہوئی آنکھوں کی خواہش تھی
اگر تم مسکرا جاتے تو اچھا تھا
۔14۔یہ جو میرے لہجے کی نازک سے تتلی ہے
کیوں تلخ رُتوں کے کپڑے اوڑھ کے نکلی ہے
15۔۔ہجر کی رات کا ذکر بھی اور دُھواں نہ اُٹھے
ملبوسِ کفن اوڑھے بارات یہ کس کی نکلی ہے
۔16۔۔میں تو جی لوں گی خزاں کے زرد پتوں کی طرح
سوچنے تجھ کو لگوں تو ڈرنے لگ جاتی ہوں میں
۔17۔کچھ رورہی ہے اور نہ مسکرارہی ہے
آنکھ میری چھلکنے کا بہانہ بنا رہی ہے
۔18۔۔بڑے خوش فہم خوش مزاج تھے وہ
جن کے لہجوں میں اب اُداس رُت کا گزر
نکلے تھے وہاں سے دل برداشتہ ہو کر
نادانی میں کہتے تھے اپنا جسے ہم گھر
۔19۔وہ جب بھی میرے سُخن کو کمال کہتے ہیں
تو سادگی پہ بہت اُن کی مسکراتی ہوں میں
۔20۔آتشِ رشک سے رُخسار پہ تل جلتا رہا
ابرِبے ضبط کے ہاتھ میں انگلی تھما گیا وہ
۔21۔۔لڑتے لڑتے تنہائی سے نبض مری جب تھم جائے گی
وہ لوٹیں گے جب آئینے پہ آنکھ جم جائے گی
۔22۔قیاس کے بوجھ میں دبی ہوئی ہیں میری بوجھل آنکھیں

جتنا بھی برس لیں آنکھیں برسات ہے یہ تھم جائے گی
۔23۔۔گھر کے دیوارو دَر گریں شاید
اب کے برسات ایسی چھائی ہے

(Visited 17 times, 1 visits today)

One Response to لوٹ آتے تو اچھا تھا‘‘ ۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی’’

  1. This paragraph is genuinely a fastidious one it assists new web visitors, who are wishing in favor of blogging.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *