مار گئی مہنگائی ۔۔۔ شاعر : راشد علی مرکھیانی ،لاڑکانہ

بھوت سراپا بن کے آئی ہائے اوئے مہنگائی
کھا گئی میری ساری کمائی ہائے اوئے مہنگائی

آلو بھنڈی پیاز ٹماٹر سونے جیسے لاگیں
دال پکی تو عید منائی ہائے اوئے مہنگائی

حال ہوا ہے ایسا اب تو یاد نہیں ہے مجھ کو
کب تھی میں نے مرغی کھائی ہائے اوئے مہنگائی

 

 

نوکر چاکر چھوڑ چلے اب کرنی خود کو ہوگی
جھاڑو پوچا اور صفائی ہائے اوئے مہنگائی

مجھ کو لوٹے روز یہ کہہ کر مرا فیملی ڈاکٹر
اب میں دوں گا ٹھیک دوائی ہائے اوئے مہنگائی

صبح صبح جب آنکھ کھلے تب کہتے ہیں یہ بچے
ہم کو لادو نان کھٹائی ہائے اوئے مہنگائی

 

 

چلتے چلتے رک جاتا ہے میرا موٹر سائیکل
عشق اسے پیٹرول سے بھائی ہائے اوئے مہنگائی

شاپنگ اسکو کیسے کراؤں کہاں سے لاؤں پیسے
بیگم کرتی روز پٹائی ہائے اوئے مہنگائی

روکھی سوکھی کھا کر راشد رب کا شکر مناؤں
کس کو دوں سرکار دہائی ہائے اوئے مہنگائی

(Visited 19 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *