مدارس کے نصاب پر اعترا ضات اور حقا ئق ۔۔۔ تحریر : گوہر اقبال خٹک

روئے زمین پر سب سے پہلا مدرسہ یہو دیو نے بنایا تھا ۔یایہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب یو سف اپنے بھا ئیو ں سمیت کنعا ن مصر منتقل ہوئے ان میں سے ایک بھا ئی کے اولا دنے تعلیم وتربیت کو اپنا روزگار بنا لیا اور مصر میں ایک مذہبی مدرسہ قا ئم کیا یہ لوگ ان مدرسوں میں علماء پیدا کرتے تھے یہ علما ء فارغ ہونے کے بعد لوگو ں میں تبلیغ کرتے تھے انہیں مذہبی شعا ئر سکھا تے تھے۔یہ سلسلہ حضرت مو سیٰ ؑ تک پہنچ گیا اسوقت تک مصر کے یہو دیو ں پر بہت برا وقت آ چکا تھا فرعون نے اُنکے مدا رس اور عبا دت گا ہیں تبا ہ کر دینے تھے ۔ لیکن اسکے با وجود یا لوگ چھپکے چھپکے اپنی تعلیما ت کا سلسلہ جا ری رکھنے ہوئے تھے ۔
حضرت موسیٰ ؑ کا اپنے قوم کو لینے کے بعد تعلیمات کا یہ سلسلہ بھی مصر سے باہر آگیا یہ لوگ جب فلسطین پہونچے تو انہو ں نے آ ج سے ساڑھے چار ہزار سا ل پہلے بیت المقدس میں با قا عدہ مد رسہ قا ئم کیا تھا ۔اُس وقت یہ قا نون پا س ہوا تھا دنیا کے جس کو نے میں یہو دیوں کی عبادت گا ہیں بنے گی وہا ں یہودی تعلیما ت کا مدرسہ بھی ہوگا چنا نچہ آج تک دنیا کے جس کونے میں سینی گاگ سنتا ہے وہاں مدرسہ بھی قائم ہوتا ہے ان سو فیصد سینی گا گ یہودیوں کو عالم بننے کی تعلیم دیتے ہے سا ڑھے چا ر ہزا ر سال سے ان مدارس میں دی جا تی ہے جبکہ انکی کتا بیں گرئمر ،زبان ،ثقا فت غر ض ہر چیز ہیرا ن اور قدیم ہے انکے اساتزہ اپنے نظریات میں کٹر اور متشدد واقع ہوئے ہے۔
انکا حلیہ سا ڑھے چا ر ہزار سا ل پرانا ہے یہ لو گ سا ڑھے چا ر ہزار سا ل سے سیا ہ گا ؤں کوٹ سیا ہ عبا ہ پہن رہے ہے یہ لوگ ساڑھے چار ہزار سال سے سر ڈھانپتے چلے آرہے ہے ۔ چنانچہ ٹوپی بھی انہی کی ایجاد ہے البتہ ہمارے اور انکی ٹوپی میں صرف رنگ کا فرق ہے دنیا میں یہودی پہلی قوم تھی جس نے ڈارھی کو مذہبی فریضہ بنایا آج بھی آپکو نوے فیصد یہودی بارلٹین ملیں گے ۔ ان کے کھانے پکانے کا سٹائل ، شادی بیاہ کی رسمیں ، مردے کو دفن کرنے کا طریقہ ان کا حلیہ ان کا تعلیمی نظام عادات و اطوار لڑائی ، جھگڑے اور تعلقات کی نوعیت عرض ہر چیز تین ساڑے تین ہزار سال قدیم ہے۔
اب ذرا عسائیوں کی طرف آئیے ! آپ تمام چرچوں کا دورہ کر لیں پرانی ہے ڈیٹی کن سیٹی میں اٹھارہ سو سال پہلے ایک مدرسہ بنا تھا یہ مدرسہ آج تک قائم ہے ۔ یہ یہودیوں سے دو قدم آگے ہیں یہ لوگ دنای کے جس کونے میں گئے وہاں تین قسم مذہبی مداراس اسکے ساتھ ایک چھوٹا سا چرچ ہوتا ہے جس میں تمام بچوں کو لیکر انکے سامنے عسائیت کی عبادت کے طریقے دہرائے جاتے ہیں اسکولز آپ کو کھینڈرل ، سینٹ جونز وغیرہ کے ناموں سے ملیں گے یہ بھارے اور پاکستان کے علاقہ دوسرے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں عیسی ؑ کھردری لکڑی کی میز اور کرسی استعمال کرتے تھے آج تک ان کے کلیساوں میں یہی طریقہ چلا آرہا ہے آپ پوری دنیا گھوم کر دیکھوں آپ کو یسی یہودی سینی گاگ کیساتھ قائم مدد سے میں کمپوٹر انگس ، ملٹی میڈیا ،اور دوسرے مارڈن آلا ت نہیں ملیں گے۔
آپ ویٹی کن سٹی سے لاہور تک گھوم کر دیکھو کسی چرچ کے مدد سے میں آپ کو یہ چیزیں نہیں ملیں گے۔ لیکن پھر بھی تمام دنیا کو یہودیوں اور عیسائیوں کے یہ تمام مدارس قبول ہیں جبکہ مسلمانوں کے مدرسوں سے ان کو تکلیف ہو رہی ہے یہ لوگ کہتے ہے آپ کا نصاب پرانا ہے اسے ماڈرن بنانا ہوگا آپ اپنے طالب علموں کو ماڈرن بنالو انہیں چٹائی کے بجائے کرسی پر بٹھاو انہیں چمچ سے کھانا سکھاو انہیں کرتہ کے بجائے پینٹ شرت پہناو اور ساتھ ساتھ میوزک کی تعلیم بھی دے دو۔
آپ کو دنیا میں نناوے فیصدمساجد ایسے ملے گے کہ ان میں مدرسہ نہیں ہوگا بلکہ زیادہ سے زیادہ امام مسجد صبح کے وقت بچوں کو ناظرہ پڑھاتے ہوئے ملے گا۔ اپ حیران رہ جائیں گے دنیا کو مسلمانوں کے مدارس کیوں برداشت نہیں ہو رہے ۔ صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے مدارس کی تعداد اور مسلمانوں کا اس پراعتماد، آپ اگر مسلمانوں کے مدارس کا موازنہ انکے مدارس کیساتھ کریں گے تو یقیناًااپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ ان کے مدارس میں اضافہ نہیں ہوا یہ پہلی حالت پر بھی نہ رہی جبکہ مسلمانوں کے مدارس آج پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں آئیں گے۔ اس دور جو نئی حکومت آتی ہے وہ مدارس کے نظام تعلیم و نصاب تعلیم پر بات کرتے ہیں یہ ان کی اپنی بات نہیں ہوتی یہ تو کسی اور کے کہنے پر کرتے ہیں ۔اور ان کو معلوم ہے اگر مسلمانوں کو قابو کرنا ہے تو ان سے مدارس کو ختم کردو۔اس وجہ سے ہر نئی حکومت مدارس کے نصاب کی تبدیل کی بات کرتے ہیں ۔ دوسری بنیادی وجہ اسلام کا غلبہ ہے پچھلے پچاس سال میں اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب کا سائز چھوٹا ہے فرانس جیسے مطلب میں دس سال میں اڑھائی سو چرچ بند ہوئے امریکہ میں دس سال کے دوران ایک لاکھوں عسائی مسلمان آج پوری دنیا میں یہی منتر دھراہی جا رہی ہے کہ مدارس کی نصاب تبدیل کر دو یہ پرانا ہوچکا ہے لیکن یہ لوگ سوجتے نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مدارس ماڈرن بھی ہے اور تازہ بھی ہے اسکی ابتداء ہوئی تقریباً چودہ سو سال ہو چکے ہیں یہ مدارس ان ساڑھے چار ہزار اور دو ہزار سال پہلے والے مدارس سے ماڈرن ہے ان کے اساتذہ وسیع اور کشادہ نظرئیے کے مالک ہوتے ہیں یہ وہ مدارس ہے جسمیں آپ انگلش اور کمپیوٹر سے لیکر علوم معاشیات تک راہ نمائی ملے گی یہ لوگ اپنا نصاب بھی پڑھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ معاشرہ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری علوم بھی پڑھاتے ہیں یہ لوگ عصری علوم میں ملکی اور صوبائی سطح تک کی پوزیشن لینے ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ کچھ روشن خیال محض عناد کی وجہ سے مدارس کو نشانہ بنائے بیٹھے ہیں کچھ دہشتگر دی کا پروپیگنڈہ تو کبھی نصاب کی تبدیلی کا نعرہ یقیناًیہ وہ خرابیاں ہیں جس نے ہمیں مذہب سے دور رکھا ہے ۔ ہمیں ہر حال میں ان علماء اور مدارس کا ساتھ دینا ہوگا اگر ہمارہ معاشرہ علماء اور مذہبی اداروں کو سپورٹ کرنا شروع کردے تو یقیناًوہ دن دور نہیں کہ ہم پھر سے ایک پرچم تلے اکھٹے ہوکر ایک قوت بن جائیں گے ۔ اور ہمارے درمیان تمام فاصلے اور رکاوٹیں ختم ہو جائیں گے۔

(Visited 63 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *