مادری زبان ۔۔۔ انسان کی پہچان ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

سندھی برادری،پشتون برادری،بلوچ برادری،سرائیکی برادری۔۔۔یہ وہ برادریاں ہیں جنہیں اپنی ماںّ بولی سے محبت ہے یہ وہ لوگ ہیں جنھیں گھر سے باہر اپنی مادری زبان میں بات کرتے شرم نہیں آتی بلکہ یہ لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے پڑھے لکھے ہونے کارعب اردو بول کر نہیں دکھایا۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ تعلیم سے واقفیت نہیں رکھتے..حالانکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں مگر اپنی جڑوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔تعلیم یافتہ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی شناخت کھو دی جائے ۔آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں اردو زبانکی مخالفت کررہی ہوں توایک بات جان لیجیئے۔۔۔کہ میں اردو زبان کی مخالفت نہیں کر رہی۔۔۔بلکہ مجھے اردو زبان سے اتنی ہی محبت ہے جتنی مجھے اپنی ماں،دھرتی ماں، اور ماں بولی سے ہے۔اور میری ماں بولی ہے پنجابی۔ پنجابی زبان اس صدی میں اپنی ایک الگ پہچان بنا چکی ہے ۔اور اگر روحانیت کے پہلو پر غور کیا جائے تو پانچ دریاؤں کی اس سر زمین کی اس بولی کو بام عروج پر پہنچانے والے ہی اس سرزمین کے صوفیاء اکرام ہیں۔چاہے وہ بلھے شاہ ہو داتاگنج بخش یا پھر وارث شاہ ۔لیکن بدقسمتی دیکھئے اس بولی کی کہ اسے بام عروج سے زوال تک لانے والے بھی اس بولی کے بولنے والے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور ماڈرن کہلوانے کے لئے اردو زبان کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔حالانکہ انہیں اپنی قومی زبان اردو سے محبت صرف اسی غرض سے ہے جس کا ابھی اوپر ذکر کیا ہے۔۔۔اردو زبان رابطہ کی زبان ہے۔ جو قوم اپنی مادری زبانوں کو تحفظ نہیں دیتی وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر پاتی۔پاکستان میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں۔ جنہیں آپس میں مخاطب ہونے کے لئے ایک مشترکہ زبان کی ضروت ہے ۔ اور اردو زبان اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک مضبوط پُل سا کردار ادا کرتی ہے۔ بد قسمتی دیکھئے بچہّ جب بولنے کے قابل ہوتا ہے تو گھر والے اسے ایک ایسی زبان سے آشنا کرواتے ہیں جسے نہ تو ہم اردو کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی انگریزی ۔اور مادری زبان؟یو ں سمجھئے کہ گویا جیسے فاتح پڑھ لی ہو۔۔۔ مادری زبان میں بات کرنا بچےّ کے لئے ممنوعہ قرار دی جا چکی ہوتی ہے۔کچھ عرصہ قبل میں ایک تقریب میں گئی تو وہاں دیکھا کہ ایک خاتون اپنے بچےّ سے کہہ رہی تھیں کہ بیٹااردو زبان میں بات کرو حالانکہ اس تقریب میں مدعو تمام افراد ایک ہی زبان بولنے والے تھے ۔میں نے ان خاتون سے کہا کہ بی بی آپ اپنے بچےّ کو کیوں اردو میں بات کرنے کو کہہ رہی ہیں حالانکہ یہاں موجود تمام افراد ایک ہی زبان میں بات کرنے ہیں تو پھر اردو میں مخاطب ہونے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ تو وہ خاتون کہنے لگی کہ مادری زبان میں بات کرنے انسان جاہل اور پینڈو لگتا ہے۔مادری زبان میں بات کرنا کسی بھی باشعور انسان کے لئے باعث شرم نہیں۔۔۔بلکہ زندگی میں کامیابی ایسے ہی لوگوں کی قدم بوسی کرتی ہے جو اپنے اصل سے کبھی منہّ نہیں موڑتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 23 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *