مکافات عمل ۔۔۔ تحریر : ایم پی خان

ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے دلاور کے قیافہ سے گہری سنجیدگی اورمتانت ظاہرہو رہی تھی ۔ بڑا گول چہرہ، نیم سفید باریک ڈاڑھی،بڑا تندرست جسم،موٹی موٹی کلائیاں، رانوں پر سفید چادر پڑی ہوئی تھی، جس میں دونوں ٹانگیں انگلیوں تک لپٹی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔بڑی بڑی آنکھوں کے گردموٹے موٹے حلقے بنے ہوئے تھے ،جس سے گہری اداسی اور مایوسی ظاہر ہو رہی تھی۔
میں نے بڑے ادب کے ساتھ سلام کرکے ان کے قریب پڑی ہوئی چارپائی پربیٹھ گیا ۔
۔”کیسی طبیعت ہے، چچا”۔
۔”شکرہے اللہ کا، زندگی رواں دواں ہے اورہرپل فناکی جانب قریب ترہوتے جارہے ہیں”، چچانے جواب دیا۔
۔”نہیں چچااس طرح باتیں کرنااچھانہیں ہوتا، اللہ آپکوصحت وتندرستی کے ساتھ لمبی زندگی دے۔”۔
۔”نہیں نہیں بیٹا!۔۔۔ اب لمبی زندگی کی بالکل فکرنہیں ہے ،بس عاقبت سنورجائے، اورکچھ نہیں چاہئے،”چچانے نہایت فکرمندانہ اندازمیں جواب دیا، جیسے آنے والی زندگی توکیا، بسرکی ہوئی زندگی بھی انکے لئے عذاب سے کم نہ تھی۔
۔”چچا!اس قدرمایوسی اورنا امیدی اچھی بات نہیں ، اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے، جب زندگی دیتاہے، صحت اورتندرستی دیتاہے،آب ودانہ دیتاہے، توعاقبت بھی سنوارے گا، بس آپ یقین کامل رکھیں اورحتیٰ المقدورحق بندگی اداکریں۔”۔
میری باتوں سے جیسے چچا دلاور کا دکھ اوربڑھ گیا، چہرے پر گہری سنجیدگی چھاگئی ، آنکھیں پرنم ہوئیں اورموٹے موٹے آنسوں سیل رواں کے لئے قطاردرقطار انتظار میں کھڑے ہوئے، لیکن جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ہمت بھی مضبوط تھی، ضبط سے کام لیا اورکچھ لمحوں کے لئے اپنے رانوں سے چادر ہٹائی، میں حیران رہ گیا کہ چچا دلاور کی ایک ٹانگ مکمل طورپر کٹ چکی ہے۔مجھے بہت دکھ ہوا، ایسا ناقابل برداشت منظرمیں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے دکھ کے اس عالم میں اس سانحہ کی حقیقت معلوم کرنا چاہی۔ چچا دلاور نے اپنی داستان غم جاری رکھی۔
جوانی کا عالم تھا، مال ودولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے وجاہت اورجسمانی طاقت بھی خوب دی تھی۔ بس کیا تھا کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔تکرونخوت کی انتہاتھی۔میرے اس طرزعمل سے پورے گاؤں والے سہمے سہمے رہتے تھے اورمیری گلی سے گزرتے ہوئے ہرآدمی پر خوف کا عالم طاری ہوتا تھا۔ایک دن دوپہر کے وقت ، جب میں محوآرام تھا، اچانک میری گلی میں زور زور سے آواز گونجی۔
۔” اللہ کے نام پر ملنگ بابا کوخیرات دیں “۔
یہ آواز کیا تھی، میرے سکون میں ایساخلل پڑاکہ جسم میں خون کی رفتارتیز ہوئی، سرمیں شدیدقسم کادردہوا اور دماغ میں ریل گاڑی کے انجن کی طرح آوازیں شروع ہوئیں۔فوراً اٹھا اورقریب پڑی ہوئی بھانس کی لاٹھی اٹھائی۔فقیر نے مجھے اس ہبیت ناک حالت میں دیکھا تو اپنی گٹھڑی وہاں چھوڑ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن میری گرفت سے نہ بچ سکا۔ میں نے اسکی کمر پر لاٹھی کاوارکیا،جس سے وہ منہ کے بل زمین پرگرپڑا اوراسکی چیخوں سے پورامحلہ گونج اٹھا۔اس نے بہت منت سماجت کی اورہاتھ جوڑے، لیکن مجھے ذرابھی رحم نہیں آیا۔میں نے لاتوں، مکوں اورگھونسوں سے اس پر پے درپے وارکئے،جس سے اسکے منہ اورناک سے اتنہا خون بہاکہ اسکی سفید ڈاڑھی لال ہوگئی۔میراعتاب ختم نہیں ہورہاتھا۔ میں نے بھانس کی لاٹھی اٹھائی اور اسکے سرپر وارکیا،جس سے اس نے خشک مٹی میں تڑپناشروع کیااورپورے محلے میں گردکے بادل اٹھنے لگے۔میں نے بھانس کی لاٹھی اٹھائی اوراپنے گھرچلاگیا۔ کچھ دیربعد مجھے محلے کے لوگو ں کی زبانی معلوم ہوا کہ فقیرہماری گلی سے بہت ناراض سفرآخرت پر چلا گیا ہے۔میری طاقت، حشمت اوردبدبے کے آگے کسی کا گلہ نہیں چلتا تھا ۔ ریاست کے کمزور قوانین میرے سامنے بے بس تھے بلکہ میری طرح بہت سے مجرموں کے لئے یہ قوانین محفوظ راستے نکالتے ہیں۔میری طرح لوگوں کی حرام کی کمائی سے ریاست کے اداروں میں کام کرنیوالے سگ صفت انسانوں کے پیٹ کی آگ بھجتی ہے۔معززین علاقہ اورسفیدپوش جن کے توند اورگردن حرام خوری سے باہرنکلتے ہیں، میرے سامنے حق بات کہنے سے معذور تھے اورمساجدمیں حق اورباطل کا راگ الاپنے والے ائمہ کرام بھی میرے جیسے حرام خوروں کے ٹکڑوں پہ پلنے کی وجہ سے زبان کشائی نہیں کرسکتے تھے۔نظام عدل کی کتابوں میں کوئی ایساشق نہیں ہے،جس میں میرے اورمیری طرح ظالموں کاگریبان پکڑاجاسکے بلکہ ان کتابوں کے ہرسطرمیں ہمارے لئے باعزت بری ہونے کی نویدموجودہے۔
پھراچانک دلاورچچاکے لہجے نے حکیمانہ انداز اختیار کیا۔۔اور میں پوری توجہ سے سن رہاتھا۔
“لیکن ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ کی بھی ایک عدالت ہے ،جہاں اللہ کے فرشتوں کے مضبوط ہاتھ ہمارے گریبانوں تک پہنچتے ہیں اور ہمارے مقدمات کی، سماعت سے پہلے ایسے فیصلے صادر ہو جاتے ہیں، جوہمیں دنیا اور آخرت میں اپنے اعمال کی سزادیتی ہے۔”
میں نے خوب دیہان کے ساتھ چچا کی کہانی سنتے ہوئے ، اسکی ٹانگ سے متعلق استفسارکیا۔
چچا نے اپنی کہانی کو جاری رکھا۔
۔” فقیرکی موت کے کچھ عرصہ بعدمیری دائیں ٹانگ میں ران کے اوپرحصہّ میں اچانک درد ہوا اور روزبروز درد میں اضافہ ہوتا گیا۔ کسی طور علاج سے افاقہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ جوں جوں علاج کرتا رہا، درد بڑھتا گیا۔بڑے ہسپتال گیا، تومعلوم ہوا کہ ران میں کینسرہواہے اور اسکا واحد علاج یہ ہے کہ پوری ٹانگ کاٹ لی جائے۔میرے اوپر جیسی بجلی گری ہو، اعصاب نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ میں چیختا رہا لیکن میری چیخوں کاکسی کے اوپر کچھ اثرنہیں ہوا۔ میری بیوی اور بچے بھی یہ روح فرسامنظردیکھ رہے تھے لیکن یہ قیامت صرف میرے اوپر ٹوٹ پڑی تھی۔پھر میرے ہوش وہواس نہ رہیں اورجب میں نے آنکھ کھلی تونہ وہ طاقت تھی، نہ وہ حوصلہ تھا، نہ ورعب اور دبدبہ تھا اور نہ وہ حشمت بلکہ دلاور۔۔۔ایک نشان عبرت تھا اور اب میں چیخ چیخ کر دنیا والوں سے کہہ رہا ہوں۔
۔”یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔۔۔۔”۔

(Visited 28 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *