مزدور آج بھی مزدور ہی ہے ۔۔۔ تحریر : عارف اے نجمی

محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پردنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مختلف تنظیموں کی طرف سے جلسے جلوس کا انعقاد کیا گیااور ریلیاں نکالی گئیں، جس میں مختلف مقررین کی طرف سے شگاگو کے مزدوروں کی جہدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، میں بتاتا چلوں کہ یکم مئی کے واقعہ سے پہلے مزدوروں کے لئے کوئی قانون موجود نہ تھا جس کی وجہ سے مزدور وں کیساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہوتی تھی مزدوروں کو مالکان کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا تھا ،مالکان اپنی ،مرضی ،اپنی شرائط اور کم معاوضے پر کام کرواتے کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا اور مزدور کومعاوضہ بھی اپنی مرضی سے دیتے ،جس پر مزدور کچھ کہہ بھی نہ سکتاتھا،اگر کوئی مزدور احتجاج کرتا تو اسے نکال باہر کرتے ، 1886ء میں شگاگو کے مزدوروں کو مالکان کے اس رویہ اور زیادتی پر بڑی بے چینی ہوئی تو انہوں نے متحدہو کر اپنے حقوق کے لئے کام چھوڑ ہڑتال کی جس پرشگاگو میں جگہ جگہ احتجاج شروع ہو گئے ،تب وہاں کی حکومت حرکت میں آگئی جس سے پولیس اور مزدوروں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی ، جس کی وجہ سے شگاگو میں مزدوروں نے ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ کیا، اچانک کسی نے پولیس کی گاڑی پر بم پھنیک دیا جس سے پولیس کا کافی نقصان ہوا،ا س پر پولیس نے پرتشدد جوابی کاروائی کی تو اس سے بہت سے مزدور ہلاک ہو گئے، اتنا جانی نقصان ہونے کے باوجود یہ احتجاج نہ رکا بلکہ اس میں زور آتا گیا اور اس احتجاج میں ہزاروں مزدوروں نے اپنی جانیں قربان کیں ،اس واقعہ کے بعد دنیا بھر میں بھی احتجاج شروع ہو گئے بالآخر شگاگو کی حکومت کو مزدوروں کے آگے گھٹنے ٹیکنے اور مزدوروں کے مطالبات ماننے پڑے، کافی بحث ومباحثے کے بعد طے ہوا کہ مزدور سے آٹھ گھنٹے کام لیا جائے گا اور کام کروانے سے پہلے مزدور سے اجرت طے کی جائے گی اور دوران کام آدھاگھنٹہ بریک بھی ہو گی جس میں وہ کھانا کھا سکیں گے اورہفتے میں ایک دن کی چھٹی بھی ہو گی ،یہاں سے مزدوروں کی کامیابی کا جو سلسلہ شروع ہواتھا وہ اب تک جاری ہے ،ان ہی باحوصلہ جان نثاروں کی یاد لئے یکم مئی ہر سال چلا آتا ہے اور ہمیں سوچنے اور جہدوجہد کرنے کے لئے تیار کرتا ہے ،یکم مئی کو جب لیبر ڈے منایا جاتا ہے تو مختلف تقریبات میں مزدور کے حقوق کی بات کی جا تی ہے اور مطالبہ کیاجاتا ہے کہ مزدور کے ساتھ ظلم مت کیا جایا بلکہ اسے کام کے مطابق پورا معاوضہ دیا جائے اور ان کے بچوں کو بہترین سہولت فراہم کی جائیں ،لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتنے ہی ممالک میں آج بھی مزدور مالک ہی کے رحم و کرم پر رہتے ہیں، طرح طرح کے قوانین موجود ہیں مگر ان پر کوئی عمل نہیں ہوتا،آج بھی مزدور کو اسکی محنت کا درست معاوضہ نہیں ملتابیمار ہو جائے تو اس کی چھٹیاں کاٹی جاتی ہیں دیر سے آئے تو ٹوکا جاتا ہے مگر دیر تک کام کرنے پر کوئی شاباش نہیں دی جاتی ،مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لئے بڑے اچھے قوانین ہیں مگر زیادہ ترمزدور اس سے وقف نہیں ہوتے اور مالکان واقف کرانا بھی نہیں چاہتے،مزدور آج بھی مزدور ہی ہے اسے آج بھی مالکان سے وہی شکائت رہتی ہے جو کہ پہلے ہوتی تھی بس فرق اتنا آگیا ہے کہ مزدوروں کی تنظیمیں ہی مزدوروں پر ہونے والے مظالم کی تردید کر دیتی ہیں اور انہیں چھپادیتی ہیں ، یعنی کے پہلے مزدور اور مالک تھے اب ایک درمیانی طبقہ ہے جو کہ مزدور تنظیموں کا ہے ،یہ تنظیمیں بنائی جاتی ہیں مزدوروں کے حقوق کی نگہبانی کے لئے مزدوروں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے اور ایسا ماحول پیدا کرنے کے لئے کہ مزدور ہنسی خوشی کام کر یں اور مالکان خوش ہوں اور کمپنی کا فائدہ ہو مگر آج بھی کمپنی مالکان منافع کو خسارے میں بدل کر بتاتی ہیں کہ کوئی فائدہ ہی نہیں ہوا ہم مر گئے ہم ڈوب گئے تو مزدوروں کو کیا دیں ،اس کام میں اکثر مزدوروں کی تنظیمیں مالکان اورحکومت کی ہمنوا بن جاتی ہیں اور اس طرح ایسا ماحول ہی نہیں بننے دیا جاتا کہ مزدور جی جان سے کام کریں تو مالکان بھی خوش ہوکر ان کو خوب داد دیں، مزدوروں کو اس کی محنت کی درست اجرت نہ ملے گی تو مزدور خوش ہو کر کام نہ کر سکے گا ،تمام قوانین کے باوجود آج بھی مزدور محنت کی درست اجرت سے محروم رہتا ہے ، ہر سال لیبر ڈے پر سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے مگر مزدور اس چھٹی سے بے خبر اپنے کام میں مگن ہوتا ہے ، آج کام پر لگے ایک مزدور سے جب میں نے پوچھا کہ آج تو مزدور ڈے ہے اور پوری دنیا میں چھٹی ہے اور تم کام کر رہے ہو تو اس نے کہا صاحب ہمیں کیا پتہ مزدور ڈے کیا ہے ،ہمیں تو صرف یہ پتہ ہے جب ہم نے کام ختم کر کے جانا ہے اور جو پیسے ملیں گے اس سے بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان لے کے جانا ہے ،اگر ہم آج چھٹی کر لیتے تو گھر کا چولہا نہ جلتا اور بچے بھوکے رہتے ،اس کا جواب سن کر میں خاموشی سے وہاں سے چل پڑا اور سوچتا جا رہا تھاکہ کہہ تو سہی رہا ہے کیونکہ جو مزدور سارا دن گلیوں محلوں اور سڑکوں پر گھوم پھر کر روزی کماتا ہے اسکو لیبر ڈے اور چھٹی سے کیا غرض،کبھی ہم میں سے کسی نے اس بات پرغورکیا یکم مئی پر جو چھٹی ہوتی ہے اس سے ایک عام مزدور کو کیا فائدہ ہے ،اس کا فائدہ تو صرف تنخواہ دار طبقے کوہے جو چھٹی والے دن گھر بیٹھ کے انجوائے کرتے ہیں مزدور تو ایک دن کی چھٹی بھی بمشکل کرتا ہے وہ بھی جس دن وہ خود بیمار ہوتاہے یا اس کی فیملی میں سے کوئی بیمار ہو،ورنہ وہ نہ دھوپ نہ گرمی نہ سردی اور نہ ہی دن رات دیکھتا ہے بس اپنے بیوی بچوں کے لئے کام کرتا رہتا ہے،آج یوم مئی پر ہر کسی کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ مزدور جیسے بھی اور جہاں بھی ہو اس کی ضروریات کو سمجھا جائے اسے بھی سب کے ساتھ عزت سے رہ کر ترقی کرنے کے مواقعے حاصل ہوں اسے مزدور کہہ کر حقیر نہ سمجھاجائے بلکہ اسے حق دیا جائے کہ وہ بھی اپنا معیار زندگی بلند کر سکے اور اپنی بچوّں کو اعلیٰ تعلیم دلوا سکے ۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *