گدھے تو گدھے ہیں مینڈک بھی نہ چھوڑے ہم نے ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لاہوریوں کو اب مینڈک کھلائے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے گدھے کھانے کا اعزاز بھی لاہور والوں کو ہی حاصل ہے۔ واقعی جس نے لاہور نے دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ ایسی سوغاتیں اور کس شہر میں ملتی ہیں۔اس کے علاوہ کھانے کا جو سلیقہ لاہوریوں کو ہے وہ پورے پاکستان میں کسی اور کو حاصل نہیں سو ہر نئی ڈش پہلے لاہور والوں کو کھلانا ان کی حس ذائقہ کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ہے۔ اگر وہاں وہ مقبول ہو جائیں تو پھر پورے ملک کو کھلائے جا سکتے ہیں۔ اپنا دوست شہباز اکبر الفت شدید غصے ّ میں ہے اور اس بات کو تسلیم کرنے سے عاری ہے کہ لاہوریوں نے مینڈک کھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ایک کے کھانے سے ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ ہم ان سے عرض کر دیں کہ یہ ڈش کھانا فرض کفایہ ہے۔ کسی ایک نے یا چند لوگوں نے کھا لی تو پوری بستی کی نمائندگی ہو گئی بالکل ایسے ہی جیسے اقوام متحدہ میں چند لوگ پورے ملک کی نمائندگی کر دیتے ہیں۔ پورے لاہور کو کھلایا تو پاکستان میں مینڈکوں کی نسل کشی کے امکانات ہیں۔سنا ہے کہ اپنا ابن نیاز تو لاہور میں کھانے ہی مینڈک گیا تھا۔ بہانہ البتہ اس نے ادبی تقریب کا ہی کیا۔ اصل دکھ شہباز کو اسی بات کا ہے۔
بادی النظر میں کوئی مجرم گروہ اس کام میں ملوث ہے۔ جس کا کام محض اپنا منافع بڑھانا ہے۔ تاہم کبھی کبھی کھوٹے سکے بھی کام آ جاتے ہیں تو مجرموں کی حکمت عملی سے حکومت بھی چاہے تو فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم بھی حکومت کی معاونت کو تیار ہیں۔
پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً رہائشی کالونیوں کی بہتات ہوئی جاتی ہے اور کھلے میدان اور کھیتوں کی قلت۔ آبی وسائل پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اگر صورت حال یوں ہی رہی تو اگلے چند سالوں میں پاکستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ اس بحران سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو نئے اور غیر روایتی کھانوں کی طرف راغب کیا جائے۔ مینڈک کا گوشت اسی کی ایک کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنی ابتدائی تقریر میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہمارے کروڑوں کی تعدادمیں بچے ّ غذائی قلت کا شکار ہیں چنانچہ ان کے دماغ کی نشو و نما ٹھیک نہیں ہو پاتی۔مینڈک کے گوشت میں پروٹین، اومیگا 3، وٹامن اے اور پوٹیشیم کی بہتات ہوتی ہے۔ کسی ایک خوراک میں اتنے مختلف عناصر کم ہی موجود ہوتے ہیں۔ سو بچوں کی نشو و نما کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ بے شک نیت صاف ہو تو قدرت بھی ساتھ دیتی ہے۔
ہمارے وزیر اعظم نے پہلے مرغیاں اور بعد ازاں کٹے پالنے کی ترغیب دی تھی۔ بلاشبہ وہ بھی بہت اچھی تجاویز ہیں مگر ان کے لئے سرمایا چاہیے۔ جگہ چاہیے اور پھر وقت بھی۔ کیونکہ کچھ ماہ یا سال بعد منافع ملے گا مگر مینڈک پالنے کے لئے کسی سرمائے کی ضرورت اور نہ جگہ کی۔ بس جوہڑ ہی کافی ہیں۔ اللہ نے ہمیں اس نعمت سے بھی خوب نوازا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شہر کی میونسپل کیمٹیوں کی شبانہ روز کوشش سے تمام شہر بھی جوہڑ کا منظر پیش کرتے ہیں بالخصوص برسات کے دنوں میں۔ تھوڑی سی کوشش سے نہ صرف ہم ملک کی غذائی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ اسے بیرون ملک برآمد کر کے کثیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ بس لوگوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بھارت بارشوں کے موسم میں ہمارے دریاؤں میں زیادہ پانی چھوڑکر سیلاب کی صورت حال پیداکر دیتا ہے۔ اگر بارش کم ہو تو پانی روک دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہماری فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ہماری پیداوارکم ہوجاتی ہے۔ بھارت ہمارا پانی تو بند کر سکتا ہے مگر ہمارے حصے ّکے مینڈک نہیں۔ وہ بھارتی فوجیوں کے دائیں بائیں اور نیچے سے پھدک کر پاکستان میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرنے آتے ہیں۔
ہم نے سنا ہے کہ مینڈک ڈینگی کے مجھر کو کھا لیتا ہے۔ اس مرتبہ ڈینگی کا بھی مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ سو کیا معلوم کہ مینڈک اندر جا کر بھی اس ڈینگی کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کر دے۔ اگر ایسا ہو گیا تو غریب عوام کو کھانے کے ساتھ ساتھ ڈینگی سے بچاؤ کا سستا حل بھی مل جائے گا۔
اگر ہماری تجاویز پر حکومت سنجیدگی سے غور کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہم ملک کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے قابل ہوں گے بالکہ کثیر زرِ مبادلہ بھی ہمارا مقدر ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ہمیں بیرون ملک سے اس قدر آڈر ملیں کہ ہمیں برائلر مینڈکوں کے پلانٹ لگانے پڑ جائیں۔ اس صورت میں ہم کچھ ہی سال میں سارا قرضہ نہ صرف اتار دیں گے بلکہ آئی ایم ایف کو اپنی شرائط پر قرضہ دینے کے قابل ہوں گے۔ اور شاید اقبال کے ایک مشہور زمانہ شعر کی نئی صورت یوں ہو
گدھے تو گدھے ہیں مینڈک بھی نہ چھوڑے ہم نے
پکا کر کھا لیے کبھی زیادہ کبھی تھوڑے ہم نے
اس کے علاوہ اس منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہی چین کے مقتدر حلقوں میں صف ماتم بچھ جائے گی۔ انہیں اپنے اقتصادی منصوبے خاک میں ملتے نظر آئیں گے۔ چینیوں کی ترقی کا راز ہی مینڈک وسانپ کھانے میں پوشیدہ ہے۔ کبھی سنا کہ ان کے بچوں کو غذائی مسائل ہیں؟انہیں دیکھا ہے کہ وہ کتنے چست و ذہین ہیں؟ یہ سب انہی کھانوں کی تو دین ہے کہ آنکھیں نیم وا کیے وہ سارے کام کر لیتے ہیں۔ جو ہم آنکھیں پھاڑ کر بھی نہیں کر سکتے۔ سو اگر ہماری عوام کو بھی ایسی خوراک مل گئی تو یہ سی پیک تو ہم نے خود بنا لینا بلکہ شاید پاکستان نے بیجنگ تک ہم انھیں نیا سی پیک بنا دیں۔

لاہور قلندرزسے ہمیں ہمدردی ہے۔ گزشتہ سالوں میں انہیں کھوتا کڑاہی کی لاج رکھنی پڑی اور خدا لگتی یہ ہے کہ انہوں نے نمک حرامی نہیں کی۔ اب انہیں اس ڈش کے ساتھ بھی انصاف کرنا پڑے گا۔ یعنی کارکردگی کا معیار برقرار رکھنے کے ساتھ پھدکنا بھی ہو گا۔ کچھ کھلاڑیوں کی حرکات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے لئے یہ ڈش شاید نئی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *