۔’’مِیّاں‘‘ کی میاؤں۔ ( طنز و مزاح ) ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

فارسی ضرب المثل ہے کہ’’گربہ کشتن روزِ اوّل‘‘یعنی بلی کو پہلے دن ہی مار دینا چاہئے وگرنہ بڑے ہو کر شیر کی طرح غرّانا شروع کر دیتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کہ ،ایک شادی شدہ جوڑا اپنی شادی کی پچیسویں سالگرہ منا رہا تھا اور وہ اس سلسلہ میں ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دے رہے تھے۔اینکر نے ان کی خوشحال زندگی کا راز پوچھا تو آدمی نے بتایا کہ جب ہماری شادی ہوئی تو ہم ہنی مون منانے کیلئے ایک صحت افزا مقام پہ چلے گئے وہاں میری بیوی نے گھوڑ سواری کی فرمائش کی،ابھی وہ گھوڑے پر بیٹھی ہی تھی کہ گھوڑا بدکا اور محترمہ زمین پر،اس نے گھوڑے کے مالک سے کہا کہ پہلی غلطی ہے اس لئے معاف کر رہی ہوں،اسی طرح دوسری مرتبہ گرنے پر بھی خاتون نے معاف کر دیا مگر جب تیسری بار گھوڑے نے محترمہ کو گرایا تو اس نے اپنے پرس سے پسٹل نکالا اور گھوڑے کو فائر کر دیا۔خاوند غصہ کے عالم میں چلّایا کہ بیگم یہ تم نے کیا کر دیا ،گھوڑے کو فائر کیوں کیا،بیگم نے بھی غصہ کے عالم میں خاوند کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ پہلی غلطی ہے،اور پھر اس دن کے بعد ہماری زندگی سکون و آرام سے گزر رہی ہے اور میں نے کبھی دوسری غلطی نہیں کی۔لہذا بلّی مارنے سے قبل یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ مخالف پارٹی کے پاس بھی پسٹل ہو سکتا ہے اور وہ بلی کی بجائے آپ کا گھوڑا بھی مار سکتی ہے۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے کہ بہت سے بچے ایک جگہ جمع ہو جاتے اور ان میں سے دو نسبتاً بڑی عمر کے طاقتور بچے ایک آواز لگاتے’’بولو میری بکریوں‘‘اور ایک سمت چل دیتے کچھ بچے ایک طرف تو کچھ دوسری طرف بکریوں کی طرح ’’میں،میں‘‘ کرتے دو پارٹیوں میں تقسیم ہو جاتے۔آج بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ گھر کا ’’میاں‘‘طاقتور ہو تو سب بکریاں بن کر میں میں کرتے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ایسے ہی سیاسی میاں‘‘بھی جب تک طاقتور رہتا ہے سب سیاستدان بکریوں کی طرح میں میں کرتے اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔گھریلو میاں اور سیاسی میاں میں ایک فرق ضرور ہوتا ہے کہ گھریلو میاں مستقل جبکہ سیاسی میاں عارضی ثابت ہوتا ہے۔گھریلو میاں کے لئے شہر کیا کبھی کبھار گھر چھوڑنا بھی مشکل ہوتا ہے جبکہ سیاسی میاں کو جب بھی موقع ملے ملک چھوڑ کو بھی بھاگ جاتا ہے۔ایک بات ہے کہ سیاسی میاں ہوتا شیر ہے مگر ڈرتا کتے سے ہوتا ہے۔جیسے کہ کسی سانڈ سے پوچھا گیا کہ تم اتنا غصہ کیوں دکھاتے ہو تو کہنے لگا کہ سانڈ جو ہوں ،اچھا تو پھر تم ہر وقت پیشاب کیوں کرتے رہتے ہو تو جواب ملا کہ بچہ تو گائے کا ہی ہوں ،ایسا ہی حال کچھ سیاسی میاؤں کا بھی ہوتا ہوکہ اپنے’’کلّے‘‘ پر تو وہ شیر ہی ہوتے ہیں مگر ڈرے کتوں سے ہوتے ہیں۔نام شیر رکھ لینے سے کوئی شیر تھوڑی بن جاتا ہے،آپ نے بھی سن رکھا ہوگا کہ ایک دروازے پر مسلسل دستک ہوئے جارہی تھی تو گھر سے ایک بزرگ کی آواز آئی کہ کون ہو تو جواب ملا کہ شیرا،بڑے میاں نے کہا کہ اچھا اندر آ جاؤ تو شیرا بولا کہ اچھا آ جاتا ہوں مگر پہلے اپنے کتے کو تو چپ کرواؤ۔
بلّی کی میاؤں اس بات کا اشارہ ہے کہ اسے بھوک لگی ہوئی ہے۔اس کے پیالہ میں دودھ ڈال دیا جائے۔اور اگر سیاسی میاں کی میاؤں میاؤں ہو رہی ہو تو سمجھ جائیے کہ’’میاں‘‘بھاگنے کے لئے تیار ہے۔اور ایک بار جو میاں بھاگنے کا ارادہ کر لے تو پھر اسے کوئی ’’شیر‘‘کا بچہ بھاگنے سے نہیں روک سکتا۔اور اگر ’’گھریلو میاں‘‘کی میاؤں میاؤں ہو رہی ہو تو اس بات کا ثبوت ہے کہ زن مریدی نقطہ عروج پر ہے۔بقول میرے ایک دوست ظفر اقبال کے، کہ 90 فیصد لوگ زن مرید ہی ہوتے ہیں اور باقی 10 فیصد جھوٹ بولتے ہیں۔زن مریدی سے ایک روائت یاد آگئی کہ ایک گاؤں میں تین مشکوک افراد کو گاؤں کے نمبردار کے سامنے پیش کیاگیا کہ سرکار ہمیں شک ہے کہ یہ تینوں لوگ کسی واردات کی نیت سے گاؤں سے گزر رہے تھے،نمبردار نے پہلے شخص سے پوچھا تو اس نے بتا یا کہ سرکار میں فلاں پیر کا مرید ہوں اور وہاں سلام کے لئے جارہا تھا،نمبر دار چونکہ پیروں کو نہیں مانتا تھا اس لئے اس نے حکم دیا کہ اس کی چھترول کی جائے،ایسا ہی دوسرے کے ساتھ بھی کیا گیا،جب تیسرے بندے کی باری آئی تو اس نے چالاکی دکھاتے ہوئے از راہِ مذاق کہا کہ نمبردار جی میں کسی پیر کا مرید تو نہیں ہوں ہاں مگر ’’رج کے رن مرید ضرور ہوں‘‘نمبر دار کا یہ سننا تھا کہ اپنے بچوں کو بآوازِ بلند پکارنا شروع کر دیا کہ بیٹا جلدی آؤ اور اپنے’’ پیر بھائی ‘‘کی خاطر مدارت کرو،کہ ایک عرصہ کہ بعد مجھے کوئی میری طرح کا زن مرید ملا ہے۔لہذا ۔۔۔اچے کھلو کے ویکھیا تے گھر گھر ایہو اگ۔
ویسے بلی سے پیارا جانور دنیا میں کوئی نہیں،خاص کر جب وہ اپنی سریلی آواز میں میاؤں میاؤں کرتی اپنی نرم و نازک زبان سے آپ کے تلوے چاٹ رہی ہوتی ہے تو مجھے انسانوں سے بھی باوفا اور محبت کرنے والی لگتی ہے،اور انسانوں سے بُرا دوست مجھے نہیں ملا جو بغیر ’’میاؤں‘‘ کئے سیدھا دل پر یا پشت پر وار کرتے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو پاکستانی سیاست میں دو جانوروں کی مثال بہت دی جاتی ہے۔کتا اور بلی۔اسی لئے کچھ ماہرین سیاست کو کتے بلی کا کھیل بھی کہتے ہیں،ٹھیک ہی کہتے ہیں سیانے کہ سیاستدان اتنے سالوں سے عوام کے ساتھ کھیل ہی تو رہے ہیں،بس اندازہ لگانا باقی ہے کہ ان دونوں میں بلی کون ہے؟اور اگر پتہ چل جائے تو کوشش کرو کہ اس کو پہلے دن ہی مار دیا جائے،ویسے میرے دوست فہیم الدین جسے اب باقاعدہ دوحہ میں بلیوں والا بابا تسلیم کر لیا گیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ بلی مارنے سے بہتر ہے کہ بلوں کو’’خصی‘‘ کر دیا جائے۔اس کا فائدہ ہو گا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔یہی فعل اگر سیاسی بلوں کے ساتھ بھی کر دیا جائے تو ملک میں بہتری کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

(Visited 30 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *