محبت جرم ہے ۔۔۔ تحریر : اختر مرزا

کیا محبت جرم ہے؟ کیا محبت بری ہے؟ نہیں اگر بری نہیں ہے تو اچھی بھی نہیں۔ اگر اچھی ہے تو میرے لیے تو نہیں۔ اگر میں مان بھی لوں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اظہار کیسے کروں؟ ویسے تو میں محبت ہی نہیں کرتا۔ جب محبت ہی نہیں تو اظہار کیسا! ہاں محبت ہے ہی نہیں۔ میں کسی سے محبت نہیں کر سکتا۔ چلو اگر کر بھی لی مگر عنایا سے تو بالکل نہیں۔ ہر گز نہیں۔ اگر اس سے محبت ہوئ تو محبت جرم ہے، بہت بڑا جرم ہے۔
اسامہ اور عنایا ایک عرصے سے ایک دوسرے کے دوست تھے۔ وہ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے ان کی دوستی بہت پرانی تھی تو ان کو ایک دوسرے کی عادات کا پتا چل گیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو اتنا ہی جانتے تھے جتنا ایک دوست کو دوسرے دوست کو جاننا چاہیے۔ ایسا نہیں کہ وہ بہت زیادہ قریب تھے، بس دوست کی حد تک ہی تھے، ہم کلوز فرنڈ بھی نہیں کہ سکتے۔ مگر وہ یہ ہی کہا کرتے تھے۔ ایک دوسرے سے انہوں بہت کچھ چھپایا ہوا تھا، سب باتیں نہیں بتاتے تھے۔ انہوں نے پرائوسی رکھی تھی کبھی کبھار باتوں باتوں میں کوئ ایک بات عیاں ہو جاتی مگر زیادہ پنہاں ہی رکھتے تھے۔
اتنے عرصے میں اسامہ کو ایسا احساس کبھی نہیں ہوا تھا جو اب ہو رہا تھا۔ وہ عنایا کو پسند کرتا تھا، وہ اس بات کو مانتا تھا کیوں کہ وہ کہا کرتا تھا کہ وہ اپنے ہر دوست کو پسند کرتا اوران سے پیار کرتا ہے اور عنایا کو بھی ایک بہت اچھا دوست ہی سمجھتا تھا۔ مگر اب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بات دوستی سے آگے چلی گئ ہے۔ جیسے پہلی پہلی محبت میں ہوتا ہے۔ اسامہ کو محبت کے احساسات کا علم نہیں تھا کیوں کہ محبت کے احساسات کو وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس کو محبت ہوئ ہو یا وہ شاعر یا ادیب ہو جو محبت کے فلسفے کو جانتا ہو۔ اسامہ یہ دونوں ہی نہیں تھا وہ ایک عام سا لڑکا تھا۔
اس کے دوستوں نے اسے اپنے عشق کے بارے میں بتلایا ہوا تھا اور کچھ اشعار تو اس نے بھی پڑھ رکھے تھے۔ اس کا ایک دوست اختر مرزا شاعر تھا اور اس کے اشعار اس کے جذبات کی عکاسی کرتے تھے۔
وہ تو پہلے مری گلی کا عام سا چہرہ تھا
وہ ہی اس عشق میں پیارا لگنے لگا ہے
میں اب راتوں کو جاگتا ہوں اس لیے
کہ وہ اب مجھے ستارا لگنے لگا ہے
راتوں کو تو اسامہ صاحب بھی جاگنے لگ گۓ تھے اور عنایا کے بارے میں زیادہ سوچتے بھی تھے۔ ایک عجیب سی بےچینی اس کو ہوتی تھی جس کا محرک اسے معلوم نہ تھا، ایسا جیسے وہ ابھی نامکمل سا ہو، جیسے وہ ایک دراہے پر کھڑا کسی کا انتظار کر رہا ہو یا وہ کہیں خود کسی کے پاس جانا چاہتا ہو پر اسے اپنی منزل کا ہی نہیں پتا۔ پھر اختر مرزا کا ایک شعر اس کے احساسات بتاتا ہے۔
آج کل میرے دل میں اک اضطراب ہے
میری کہانی کا ابھی بھی ایک ادھورا باب ہے
اب وہ بالکل عاشقوں کی طرح ہی مضطرب رہتا، جس دن عنایا سے بات نہ ہوتی تو عنایا اس کو عنایا میں ڈال دیتی، ایک اضطراب اور ہیجان سا ہمیشہ اس کے پیچھے گھومتا رہتا۔ مگر اسامہ ابھی بھی اس بات کو ماننے پر راضی نہ تھا کہ یہ محبت ہے وہ کہتا، “وہ صرف ایک اچھی دوست ہے اور اسی وجہ سے میں اس کی فکر کرتا ہوں۔”
اسامہ ایک بہت اچھا دوست تھا اور اسے دوستی نبھانے بھی آتی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر وہ عنایا سے اظہار محبت کر لے گا، جو وہ مانتا ہی نہیں تھا کہ محبت ہے۔ مگر اگر مان لے اور اپنی محبت کا اظہار کر لیتا تو اس نے ایک بہت اچھی دوست کو کھو دینا تھا۔ دوستی تو ایک کچے دھاگے کی مانند ہوتی ہے کہ بس اس کو ٹوٹنے کے لیے ایک کھچاؤ کی ضرورت ہوتی۔ اسامہ اس دھاگے کو ٹوڑنا نہیں چاہتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اپنی دوستی کو برقرار رکھے۔ اسامہ نے اسی وجہ نے اپنی دوست کو نہیں کھویا اور اس راض کو اپنے سینے میں ہی دفن کر دیا۔
مگر محبت کو اظہار کی حاجت نہیں ہوتی وہ تو سب پر عیاں ہوتی ہے۔ اسامہ کے برتاؤ سے عنایا کو بھنک پر گئ تھی کہ کچی دوڑ اب اور کچی ہونے لگی ہے، مگر وہ بھی ایک اچھی دوست تھی۔ اس نے بھی اس کا اظہار نہیں کیا۔ مگر محبت میں تو الہام ہو ہی جاتے ہیں اور اسامہ کو بھی علم ہو گیا تھا کہ عنایا کو علم ہو گیا ہے، تو اب اس نے میسج پر احتیاط برتی۔
اب اس کے میسج میں احتیاط صاف معلوم پرتی تھی۔ جس کا اس کو بھی شک ہو گیا تھا اور جب کوئ محتاط میسج بھیجتا تو اسے بھی شک ہو جاتا کہ شاید عنایا کو پتا چل گیا ہے۔ مگر بہر حال وہ عنایا کہ دل کا حال تو نہیں جان سکتا تھا، یہ سوچ کر وہ اپنا کام جاری رکھتا۔
عنایا کی ایک دوست تھی جس کو وہ اپنی تمام باتیں بتایا کرتی تھی۔ اکثر لڑکیوں کی کوئ نہ کوئ ایسی سہیلی ہوتی ہے جس سے وہ اپنے دل کا حال کہ کر بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ عنایا کے پاس “رامین” تھی۔ عنایا اس کو سب بتاتی تھی کہ اس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے۔ چار سال پہلے ایک لڑکے نے عنایا سے پیار کا اظہار کیا تھا۔ عنایا نے اپنی سہیلیوں کے مشورے سے اس کو قبول کرلیا۔ سہیلیوں نے کہا، “بات کرنے میں کیا حرج ہے!” بس پھر باتوں باتوں میں بلال اس کی محبت بن گیا کہ عادت پتا ہی نہیں چلا۔ چار سال بعد بلال کو کوئ اور مل گئ تو اس نے عنایا کو چھوڑ دیا۔ عنایا کو پہلے بہت برا لگا کہ اس نے کبھی خود کو اس سے علیحدہ تصور ہی نہیں کیا تھا مگر پھر رامین کے سمجھانے پر وہ سنبھل گئ اور رونا دھونا چھوڑ کر اپنی زندگی کی طرف گامزن ہو گئ۔
اسامہ کو اس بارے میں کچھ پتا نہ تھا۔ عنایا نے رامین سے ایک اور انکشاف کیا تھا کہ اب وہ اسامہ کو پسند کرنے لگی ہے۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ اسامہ خود ہمت کر کے اس بات کا اظہار کرے۔ وہ ایک بار دھوکا کھا چکی تھی تو دوسری بار پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی۔ دوسری طرف اسامہ کو اس بات کا ڈر تھا کہ اس کی دوستی نہ ٹوٹ جاۓ، دونوں کی اپنی اپنی وجہ اور کسی نے بھی اظہار نہ کیا۔
عنایا کے والدین نے اس کی شادی کہیں اور تہ کر دی اور ایک مہینے بعد اس کی شادی بھی کردی۔ عنایا کو تو اسامہ ہی پسند تھا، اس نے بلال کے بعد جب بھی اپنے سپنوں کے راجہ کو دیکھا تو وہ اسامہ کی صورت ہی دیکھتی۔ مگراب اس کی شادی کسی جہانگیر نامی لڑکے سے کی گئ۔ اس کے ولدین نے اس سے پوچھا بھی نہیں کہ کیا وہ اگر کسی کو پسند کرتی ہے تو بتا دے۔ نہیں انہوں نے اپنی مرضی کی تحت اپنی بیٹی کا فرض پورا کیا۔
اسامہ نے بھی اس شادی میں شرکت کی تھی۔ وہ ٹھیک اس میز پر بیٹھا تھا جہاں سے اسے عنایا کا اداس چہرہ دکھائ دیتا تھا اور اس میں اس کو اپنا ملال بھرا چہرہ بھی صاف دکھائ دیا۔ رامین نے ان دونوں کے اترے ہوۓ چہروں کو دیکھا مگر وہ یہ سوچ کر چپ ہو گئ کہ ان دونوں نے جس بات کو راض رکھا وہ کیوں اس راض کو فاش کرے۔ اور ویسے بھی اب دیر ہو گئ تھی۔ اسامہ نے شادی سے جلدی رخصت لی اور وہاں سے چند قطرے آنسو کے پونچھتا ہوا چلا گیا، جو اس کی آنکھوں میں چمک رہے تھے۔ اب واقعی میں دیر ہو گئ تھی۔

نوٹ : اوپر کے تمام اشعار میرے اپنے ہیں۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *