این اے 53، پی ٹی آئی کو ایک اور دریا کا سامنا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

۔’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘ ۔
منیر نیازی کا یہ شعر تحریک انصاف کی مستقبل قریب کی سیاست پر خوب فِٹ آتا ہے۔ عام انتخابات 2018ء مکمل ہو گئے لیکن ضمنی انتخابات کے باعث پی ٹی آئی کے آرام سے بیٹھنے کے دن ابھی نہیں آئے۔ عام انتخابات 2018ء کو جس طرح ہر سطح پر چیلنج کیا جارہا ہے اور متحدہ اپوزیشن مستقبل کے جو منصوبے بنا رہی ہے، اُن کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو عام انتخابات سے زیادہ محنت اور امیدواروں کے بارے میں درست فیصلے کرنے پڑیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن ضمنی انتخابات جیت کر پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں اکثریت کو برابر کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ ضمنی انتخابات کے سب حلقوں میں سب سے اہم حلقہ عمران خان کی خالی کردہ نشست کا بنی گالہ والا حلقہ این اے 53 اسلام آباد ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی کے رہنما یہ سوچیں کہ جیسے عام انتخابات میں عمران خان اس حلقے سے جیت گئے ویسے ہی ضمنی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کا کوئی بھی نمائندہ یہاں سے جیت جائے گا تو شاید یہ خام خیالی ہوگی کیونکہ عمران خان کی شخصیت کا معاملہ پی ٹی آئی کے کسی بھی دوسرے نمائندے سے مختلف تھا۔ چونکہ این اے 53 میں کافی بڑا علاقہ دیہی علاقوں پر مبنی ہے اس لئے پی ٹی آئی کو یہاں سے اپنا نمائندہ کھڑا کرتے وقت بہت سی باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی کے متوقع امیدواروں میں الیاس مہربان، بابر اعوان، چوہدری محمد اشرف گوجر، ظفر علی شاہ اور فرحانہ قمر کے نام سننے میں آرہے ہیں۔ الیاس مہربان مزاجاً انتہائی شریف النفس انسان ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ایک نظام چلاتے ہیں۔ الیاس مہربان 2013ء میں بھی اسلام آباد سے پی ٹی آئی کی نشست پر الیکشن لڑچکے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کا تعلق اسلام آباد کے مضافاتی علاقے موضع ترلائی کلاں سے ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اب یہ علاقہ این اے 53 کی بجائے این اے 52 میں آتا ہے جہاں سے حالیہ عام انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کے راجہ خرم نواز پہلے ہی ایم این اے منتخب ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی اندرونی لابیوں میں یہ ڈسکشن بھی موجود ہے کہ الیاس مہربان ن لیگ کے رہنما اور اسی حلقے کے سابق ایم این اے اور وزیر طارق فضل چوہدری کے رشتے دار بھی ہیں۔ نیز ان کی برادری کی دوسری بڑی شخصیت چوہدری منظور چےئرمین یونین کونسل ترلائی نے پی پی پی کے امیدوار کی حالیہ عام انتخابات کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ان بنیادوں پر انتخابی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ الیاس مہربان جیسا شریف النفس انسان قومی اسمبلی کے انتخابات کی بجائے سینیٹر کے لئے موزوں ہوسکتا ہے۔ بابر اعوان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ صوبہ پنجاب کو کنٹرول کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے نوجوان وزیراعلیٰ کے ساتھ پی ٹی آئی کو پنجاب میں منجھے ہوئے گورنر کی بھی ضرورت ہوگی۔ بابر اعوان اس میرٹ پر پورے اترتے ہیں۔ وہ پنجاب کی اپوزیشن کو انہی کی زبان میں سمجھانے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے نندی پور پاور پراجیکٹ کا جو کیس دوبارہ کھولا ہے اس میں بابر اعوان کو بھی بہت سی صفائیاں دینا پڑیں گی جن کے اثرات این اے 53 میں ان کی انتخابی مہم پر بھی پڑیں گے۔ اس لئے بابر اعوان کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 پر آزمانے کی بجائے پی ٹی آئی کو اُن سے اہم کام لینا چاہئے۔ ظفر علی شاہ زلفی بخاری کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ ن لیگ کی نشست پر سینیٹر رہ چکے ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ سینیٹر کا لفظ ہی اچھا لگتا ہے۔ امید ہے کہ سینیٹ کے انتخابات تک زلفی بخاری پر قائم مقدمات کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ رہا فرحانہ قمر کا معاملہ تو وہ پہلے بھی ن لیگ کی مخصوص نشستوں کی مرہون منت تھیں۔ عوامی ووٹوں کے ذریعے براہِ راست منتخب ہونا شاید ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لئے عرض ہے کہ انہیں یاد اسمبلی کی بجائے اب زیادہ وقت یاد الٰہی میں گزارنا چاہئے۔ اگر چوہدری محمد اشرف گوجر ایڈووکیٹ کو این اے 53 کے حوالے سے پرکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حالیہ عام انتخابات میں چےئرمین عمران خان کی قیادت میں اسلام آباد کے تینوں حلقوں اور مری کے حلقوں میں پی ٹی آئی کی بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ اس کے علاوہ لاہور جاکر پی ٹی آئی کے لئے شیرانوالا گیٹ کے مقام پر ایک بہت بڑے جلسہ عام کا انعقاد کرایا اور خطاب کیا۔ اشرف گوجر سپریم کورٹ کے مشہور وکیل ہیں۔ وہ 2006ء میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہونے کے بعد 2011ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے پہلے اور بانی صدر بھی منتخب ہوئے۔ وہ پیمرا کے رضاکارانہ ممبر رہے اور اصولی اختلاف پر خود مستعفی ہوئے۔ ن لیگ نے انہیں مراعات اور پروٹوکول کے اعتبار سے سپریم کورٹ کے جج کے مساوی چےئرمین ITNE کا عہدہ بھی پیش کیا جسے اشرف گوجر نے قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ وہ وزیراعظم عدالتی اصلاحات کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے اور جامع سفارشات مرتب کیں۔ انہوں نے یہ سب کام رضاکارانہ طور پر صرف عام پاکستانی لوگوں کو سستا اور فوری انصاف پہنچانے کے لئے کیا۔ انہوں نے لیبر پالیسی بھی بنائی لیکن ان کی عدالتی اصلاحات کی سفارشات اور لیبر پالیسی کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا۔ این اے 53 کے دیہی و شہری علاقے جن میں شاھدرہ کلاں، شاھدرہ خورد، رملی، نریاس، قائداعظم یونیورسٹی کے اردگرد تمام آبادیاں، کوٹ ہتھیال شمالی، ڈھوک چوہدریاں، چھتر، تلہاڑ، گوکینہ، کوٹلہ، پیرسوہاوہ تک کے تمام پہاڑی علاقے کی آبادیاں، کراچی کمپنی، جی نائن، جی سیون، جی سکس وغیرہ شامل ہیں میں مقامی کے علاوہ کے پی کے، پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کی گوجر برادری بڑی تعداد میں آباد ہے۔ اشرف گوجر یہاں کے بسنے والوں کو فرداً فرداً جانتے ہیں اور ان کی خوشی غمی میں ہمیشہ شریک ہوتے آئے ہیں۔ اسی لئے انہیں گوجر برادری، تاجرو مزدور تنظیموں اور علمائے کرام سمیت سب لوگوں کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے بنی گالہ کے علاقے میں ناجائز تجاوزات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو رول ماڈل کا کردار ادا کرنے کو کہا ہے۔ اس کام کی تمام ذمہ داری بھی پی ٹی آئی کے منتخب ہونے والے این اے 53 کے ممبر اسمبلی کے ذمے ہی ہوگی جس کا قانون کی مکمل سوجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ مقامی آبادی میں انٹریکشن ہونا بھی ضروری ہے۔ وکیل ہونا علیحدہ بات لیکن باوقار، باکمال اور باعزت وکیل ہونا بڑی بات ہے جو اشرف گوجر کی شخصیت کا خاصہ ہیں۔ اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے پی ٹی آئی کے چاق و چوبند اور ہونہار لیڈر اسد عمر منتخب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 سے بھی پی ٹی آئی کا کوئی ایسا امیدوار ہی منتخب ہونا چاہئے جو اسد عمر کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر وزیراعظم عمران خان کے خوابوں کو تعبیر دے سکے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باوثوق ذرائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ وہ ہر صورت میں این اے 53 کی نشست حاصل کرے۔ لہٰذا اس حلقے کے لئے چیئرمین عمران خان کو ہر طرح سے موزوں امیدوار کھڑا کرنا ہوگا۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *