نگاہیں مطلع نو پر ہیں ایک عالم کی‘‘۔۔۔ تحریر : عبدالحنان چوہدری’’

دراز قد کشادہ سینہ نپی تلی بات دو ٹوک موقف علمی تاریخی اعتبار سے انتہائی باخبر یہ تعارف ہے حساس ملکی ادارے کے شعبہ انٹیلی جنس میں بڑے عہدے پر ذمہ داریاں سرانجام دینے والے ریٹائرڈ میجر ندیم شہزاد موصوف پاک آرمی میں ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر اسی سوچ اور فکر کی آبیاری کیلئے میدان عمل میں نکل آئے جو رفاح عامہ کا مشن دوبار ناظم اور ممبر ضلع کونسل رہنے والے میجر ندیم شہزاد کے بڑے بھائی انتہائی شفیق ملنسار حلیم الطبع نفیس الوضع مرحوم انجم شہزاد جگنو کی زندگی کا نصب العین اورمقصد حیات تھا۔ مرحوم انجم شہزاد جگنو نے زندگی کا ایک پل پل، ایک ایک سانس سانس، ایک ایک لمحہ خدمت انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کر رکھا تھا۔ اس میں قطعاً بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ مرحوم انجم شہزاد جگنو نے ہمیشہ سروں کی بجائے دلوں پر راج کیا وہ گھڑیاں تاریخ کے سینے پر نقش ہوکر رہ چکی ہیں جب ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تمام سیاسی مذہبی اکابرین مرحوم انجم شہزاد جگنو کے جسدخاکی کو آخری کندھا دیتے ہوئے زار و قطار رو رہے تھے۔ سابق ایم این اے ریاض فتیانہ جوکہ اس وقت ایم این اے تھے بہاولپور سی ایم ایچ سے لے کر تدفین تک زار و قطار اشکبار نظر آئے یہ حالت ہر اس فرد کی تھی جو مرحوم کے سفر آخرت میں شریک تھا۔ اہلیان علاقہ کے دلوں پر راج کرنے والے انجم شہزاد جگنو کے گھرانے سے لوگوں کی والہانہ محبت کے جذبات طشت ازبام ہیں۔ مرحوم کے سانحہ ارتحال کے بعد ایک خلا ء پیدا ہوا جسے پورا کرنا ناگزیز تھا مرحوم کے برادر خورد پر علاقہ کے لوگوں کا اصرار بڑھا تو میجر ندیم شہزاد اپنا تابناک ملڑی کیئریر کو عوامی محبتوں پر قربان کرتے ہوئے دکھی انسانیت کی مسیحائی کرنے کیلئے میدان عمل میں نکل آئے جس کا اہلیان علاقہ نے شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے میجر ندیم شہزاد کو سرآنکھوں پر بٹھا کر دل کی دھڑکنیں میجر(ر)ندیم شہزاد کے نام کردیں۔ میجر (ر)ندیم شہزاد سیاسی لسانی عصبیتوں سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کیلئے نبرد آزما ہوئے عوام کا دیدنی جوش علاقائی سیاسی پنڈتوں کیلئے انتہائی گراں گزر رہاہے مگر میجر(ر)ندیم شہزاد مخالفین کے تمام تر حربوں کے باوجودہر آنے والے دن بلندی اور کامیابی کے قریب تر ہوتے ہوئے حلقہ پی پی 90 اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مقبول ترین سیاسی شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہے ہیں چونکہ اقبال کے اس شعر کے مصداق
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہو نے داغ ضرب کاری
بلاشبہ ماضی اور حال کی صاف گوئی اور دیانتداری بے داغ خاندانی پس منظر میجر (ر)ندیم شہزاد کی کامیابی کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ہم دعا گو ہیں کہ موصوف جس جذبے اور اخلاص کے ساتھ بے کس و مجبور انسانیت کی مسیحائی کررہے ہیں یہ محبتوں کا سفر کامیابی سے ہمکنار ہو۔آمین

نگاہیں مطلع نوپر ہیں ایک عالم کی
کہ مل رہاہے کسی پھوٹتی کرن کا سراغ

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *