نصیب !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

کہتے ہیں کہ انسان کے نصیب میں جولکھا ہو، اسے ہر حال میں مل کر ہی رہتا ہے۔ اور اگر کوئی چیز نصیب میں نہ ہو تو لاکھ کوشش کے باوجود اس کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ ۔ ’’ زینب بنتِ محمد قاسم!! آپ کو بعوض پچیس ہزار روپے حق مہر موجل سکہ رائج الوقت، اصضر شاہ ولد شاہنواز شاہ کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔؟ ‘‘ ہال میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی ، اور اس خاموشی میں قاضی صاحب کی آواز گونج رہی تھی۔ زینب سرخ عروسی لباس میں ملبوس ، سر جھکائے بیٹھی تھی۔اس کی دونو ں بڑی بہنیں اس کے دائیں بائیں کھڑی فکرمندی سے اس کے جھکے سر کو دیکھ رہی تھیں۔ قاضی صاحب نے اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تھا، مگر جواب اب بھی ندادر۔ زینب کی طر ف سے چھائی مکمل خاموشی نے سارے میں ایک بار پھر سراسیمگی سی پھیلا دی تھی۔ قاسم صاحب جو ایک طرف نڈھال سے سر جھکائے بیٹھے تھے، اب ان کی آنکھوں سے بے ساختہ اشک بھی بہنے لگے تھے، اور یہی حال انکی بیگم سلمیٰ کا بھی ہو رہا تھا۔وہ تو ابھی ’’ گذرے وقت‘‘ کی تباہ کاری اور خوف سے ہی باہر نہیں نکل پائے تھے کہ زینب کی طرف سے اختیار کی جانے والی ’’ پراسرار خاموشی‘‘ نے انہیں دہلا کر رکھ دیا تھا۔ ۔ ’’ زینب۔!! بیٹی، میں آپ سے ایک بار پھر پوچھ رہا ہوں کہ آپکو یہ نکاح قبول ہے۔؟ ‘‘ قاضی صاحب نے چند لمحے انتظار کے بعد اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے ایکبار پھر نرم انداز سے پوچھا تھا۔ ۔ ’’ نہیں۔ مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے۔ سنا آپ نے، سن لیا ناں آپ سب نے، مجھے اس آدمی کے ساتھ نکاح قبول نہیں ہے۔‘‘ جھکے سر کے ساتھ ، بہت مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اس نے جیسے دھماکہ کر ڈالا تھا۔اس کے مُنہ نے نکلنے والے ’’ انکار‘‘ نے ’’ جلتی پر تیل‘‘ کا کام کیا تھا۔بڑی مشکل سے بند ہونے والی چہ مگوئیاں ایکبار پھر شروع ہو چکی تھیں۔قاسم اور سلمیٰ بیگم پر یوم حساب جیسے آج ہی آ گیا تھا۔ لوگوں کی آگ لگاتی نگاہیں، رشتہ داروں کی انگارے اگلتی زبانیں بڑی مشکل سے خاموش ہوئی ہی تھیں کہ زینب کے انکار نے انہیں ایک بار پھر شعلے اگلنے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد قاسم کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ ان کی چھوٹی سی کریانہ کی دکان تھی، جو بہت اچھی چلتی تھی۔بیٹے جیسی نعمت سے اللہ نے انہیں نوازا ہی نہیں تھا، سو انہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو ہی اس کی رحمت سمجھتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔محمد قاسم کو اپنی تینوں بیٹیوں سے بے پناہ محبت تھی۔ انہوں نے بغیر کسی گلے، بنا کسی شکوے کے اپنی بچیوں کو بڑے نازونعم سے پالا تھا۔سلمیٰ بیگم ایک سمجھدار اور سلیقہ شعار خاتون تھیں۔کم آمدن میں بھی انہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں، عفت، رفعت اور زینب کو بہترین تعلیم و تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مقدور بھر ان کے جہیز کے لیئے بھی جوڑ جمع کر رکھا تھا۔کہتے ہیں کہ بیٹیاں تو بیری کی طرح ہوتی ہیں، ان کے بڑھنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ سو ، ان کے بڑھنے کا بھی قاسم اور سلمیٰ کو پتا ہی نہ چلا۔بیٹیاں وقعی بیری کی طرح ہی ہوتی ہیں، اور جس گھر میں بیری ہو، وہاں پتھر تو آتے ہیں۔ عفت اور رفعت کے دورانِ تعلیم ہی رشتے آنے لگے تھے۔ سلمیٰ بیگم ایک زیرک اور معاملہ فہم خاتون تھیں، انہوں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ گو کہ قاسم چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں ابھی مزید پڑھیں ، مگر سلمیٰ بیگم نے انہیں قائل کر ہی لیا اور یوں عفت اور رفعت مناسب وقت پر اپنے اپنے گھر بار والی ہو گئیں۔ ہاں، البتہ زینب کا معاملہ دوسرا تھا۔ ایک تو وہ پڑھائی میں شروع سے ہی تیز تھی، کچھ اپنے بابا کی زیادہ ہی لاڈلی تھی اس لیئے اس کی خوشی کو دیکھتے ہوئے قاسم اور سلمیٰ نے اسے پڑھنے دیا۔ عفت اور رفعت اپنے اپنے گھر میں بہت خوش تھیں۔ قاسم نے ان کی شادیاں اپنے جیسے متوسط گھروں میں ہی کیں تھیں، مگر یہ ان کی بیٹیوں کے نصیب کی تیزی تھی کہ شادی کے فوراً بعد عفت کے شوہر نواز کو سعودیہ میں بڑی اچھی جاب مل گئی اور رفعت کے شوہر اقبال کی ترقی ہو گئی۔ یوں وہ دونوں جو خواب اپنی پلکوں پر لے کر سسرال گئی تھیں، وہ ایک ایک کر کے پورے ہونے لگے۔ محمد قاسم اور سلمیٰ اپنی بیٹیوں کو خوش اور شاد دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے تھے۔ ۔ زینب ان کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی۔وہ بہت خوش اخلاق، ملنسار اور حساس طبیعت کی مالک تھی۔ قاسم کو اپنی اس بیٹی سے خصوصی لگاؤ تھا۔ زینب بھی اپنے بابا پر جان دیتی تھی، ان کے مُنہ سے نکلا ہر لفظ اس کے لیئے حرف آخر ہی ہوتا تھا۔وہ شروع سے ہی اپنی ماں سے زیادہ بابا کے قریب تھی۔ اپنی ہر بات ان سے شیئر کیئے بنا اسے چین ہی نہیں آتا تھا۔جس طرح اس کے بابا اس کی ہر خوشی، ہر خواہش پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے، اسی طرح وہ بھی اپنے بابا کی خوشی، انکی عزت کے لیئے ہنستے ہنستے جان دینے کو بھی تیار ہو جاتی تھی۔ اس کے بابا کی شان میں کوئی گستاخی کرے یہ زینب مر کے بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ۔ شاہنواز شاہ، محمد قاسم کے دوست تھے۔ اور یہ دوستی گھر سے باہر تک محدود تھی۔شاہنواز شاہ کو قاسم نے ہمیشہ دوستوں کی مدد کے لیئے تیار دیکھا تھا۔وہ بہت سوشل قسم کے انسان تھے۔ بہت باتونی، اور ان کی باتوں میں 80 فیصد باتیں ان کی اپنی اور اپنے بچوں کی بڑائی اور تعریفوں پر ہی مشتمل ہوتی تھیں۔ قاسم ایک سیدھے سادے، سچے اور صاف دل کے انسان تھے۔ وہ جیسے خود تھے ، اسی نظر سے دوسروں کو بھی دیکھنے کے عادی تھے۔شاہنواز شاہ کو قاسم کی یہی سادگی اورسیدھا پن بہت بھاتا تھا، سو وہ کتنے بھی مصروف کیوں نہ ہوتے، قاسم سے ملنے کے لیئے وقت ضرور نکال لیتے تھے۔ان کی یہ دوستی اور محبت بھرا انداز دیکھ کر قاسم نے رفعت کی شادی کے موقعے پر انہیں فیملی سمیت مدعو کر لیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ شاہنواز شاہ کی پوری فیملی سے قاسم اور سلمیٰ کی ملاقات ہوئی تھی۔ شاہنواز شاہ کے تین بیٹے اور دوبیٹیاں تھیں۔ بڑے دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی کی وہ شادی کر چکے تھے۔ اصغر شاہ اورحمیرا کی ذمہ داری ابھی ان کے کاندھوں پر موجود تھی۔ان کی بیگم بہت تیز اور لالچی قسم کی خاتون تھیں۔ وہ اپنا مفاد ہمیشہ سب سے اوپر رکھتی تھیں۔ اپنی دونوں بہوؤں کے ساتھ بھی ان کا روئیہ بہت حاکمانہ سا تھا۔ بیٹے تو بیٹے، ان کے تو داماد بھی ان سے دبتے تھے۔سلمیٰ قاسم کو خالدہ شاہ سے مل کر ہمیشہ ہی بہت عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ کیا۔؟ وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتیں تھیں۔ مگر کچھ تھا ضرور ایسا جو انہیں ہمیشہ پن کی طرح چبھتا تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 زینب جیسے ہی ایم اے انگلش کے پیپرز دے کر فارغ ہوئی،شاہنواز شاہ اور خالدہ شاہ نے قاسم کے سامنے اس کے رشتے کے لیئے جھولی پھیلا دی۔ سلمیٰ کو اصغر کے رشتے پر بظاہر کوئی اعتراض نہ تھا، مگر وہ جانے کیوں دل سے راضی بھی نہیں ہو پارہی تھیں۔ اور ان کے گریز کی وجہ وہی خالدہ کے مزاج کی تیزی اور طبیعت کی کرختگی ہی تھی۔ محمد قاسم کو اس رشتے پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں تھا۔ پھر جس طرح شاہنواز اور خالدہ نے ان کی دہلیز پکڑی تھی، اس نے بھی انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔سو، انہوں نے شاہنواز اور خالدہ کی چاہت دیکھتے ہوئے زینب کا رشتہ اصغر شاہ سے طے کر دیا۔ ۔ ’’ یہ آپ نے کیا کر دیا عفت کے بابا۔!! آپ ان لوگوں کو ہاں کرنے سے پہلے ایکبار مجھ سے بھی مشورہ کر لیتے۔ایکبار تو میری بھی رضا پوچھ لیتے۔عفت کے بابا۔ کیا میری اولاد پر میرا اتنا بھی حق نہیں تھا کہ آپ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ایکبار ، صرف ایکبار مجھے بھی اعتبار میں لے لیتے۔؟ ‘‘ محمد قاسم نے جب سلمیٰ کو بتایا کہ وہ شاہنواز شاہ کو ’’ ہاں ‘‘ کہہ چکے ہیں، تو ایک لمحے کو وہ حیران ہی رہ گئیں۔ پھر ان سے ناراض ناراض سی پھر نے لگیں۔قاسم کے لیئے ان کا یہ روئیہ بہت نیا، بہت عجیب سا تھا۔پہلے تو وہ خاموشی سے ان کا جائیزہ لیتے رہے، پھر جب برداشت نہیں ہوا تو استفسار کر بیٹھے۔ سلمیٰ بھی شاید اسی انتظار میں تھیں، فوراً دل کی بات زبان پر لے آئیں۔ قاسم حیرت سے انہیں دیکھ کر رہ گئے۔ ۔ ’’ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ بیگم آپ۔؟ آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے۔؟ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ کر لوں، اور وہ بھی اپنے بچوں کے معاملے میں۔ آپ جانتی تو ہیں کہ شاہنواز بھائی اور بھابھی کتنے عرصے سے اس رشتے کے لیئے اصرار کر رہے تھے۔ پہلے تو ہم اس کی تعلیم کی وجہ سے رکے ہوئے تھے، مگر اب جبکہ اللہ کے فضل سے ہماری بیٹی یہ مرحلہ بھی بخوبی طے کر چکی تو مجھے مناسب نہیں لگا کہ میں ان شریف لوگوں کو بلاوجہ لٹکاتا پھروں۔ بھئی، سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تو اصغر کی فرمانبرداری بہت پسند ہے۔ جس طرح ہماری زینب ہماری تابعداربیٹی ہے، اسی طرح اصغر بھی اپنے والدین کا بہت فرمانبردار بیٹا ہے۔اور ویسے بھی جس چاہ سے وہ لوگ ہماری بیٹی کے لیئے جھولی پھیلائے ہوئے ہیں،اب بھی ہم اگر ان سے سوچنے کے لیئے وقت مانگتے تو شائد یہ کفرانِ نعمت ہو جاتا۔ بس ، اسی خیال کے تحت میں نے شاہنواز بھائی کو ہاں کر دی۔ اب جلد ہی وہ لوگ منگنی کی رسم کے لیئے آئیں گے۔آپ اپنی طرف سے تیاری رکھئے گا۔!! ‘‘ قاسم نے انہیں پاس بٹھاتے ہوئے نرمی اور رسان سے سمجھایا تو بات سلمیٰ بیگم کی سمجھ میں بھی آگئی اور ان کے دل کو بھی لگی ۔ اس لیئے وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگیں۔ ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ طے ہوتا چلا گیا۔شاہنوا ز شاہ اور خالدہ شاہ کو جانے کس بات کی جلدی تھی کہ انہوں نے ہتھیلی پر سرسوں جماتے ہوئے جھٹ منگنی، پٹ بیاہ والا معاملہ کیا۔وہ لوگ منگنی کے لیئے آئے تو باتوں ہی باتوں میں انہیں ایسا گھیرا کہ شادی کی تاریخ لے کر ہی ٹلے۔شاہوں کی اس افتادِ طبع پر سلمیٰ بیگم کے ساتھ ساتھ رفعت اور عفت بھی بوکھلا کر رہ گئیں۔ مگر خالدہ شاہ نے کسی کے اعتراض کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے زینب کے سر پر شگنوں کی چنری ڈالی، ساتھ ہی اس کی انگلی میں اصغر کے نام کا چھلا پہناتے ہوئے قریب ترین ڈیٹ شادی کے لیئے خود بخود ہی طے کر دی۔ ۔ ’’ بس بھائی صاحب۔!! آج سے زینب ہماری بیٹی ہوئی، اور اب یہ آپکے پاس ہماری امانت ہے۔ انشااللہ، اگلے ماہ کی دو تاریخ کو ہم اپنی امانت آپ سے لے جائیں گے۔پورے اعزاز اور شگنوں کے ساتھ۔!! ‘‘ خالدہ شاہ نے مٹھائی کا بڑا سا ٹکڑا سلمی کے مُنہ میں زبردستی ٹھونستے ہوئے اس انداز سے کہا کہ رفعت اور عفت ایکدوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔ پھر انہوں نے آس پڑوس اور خاندان میں مٹھائی تقسیم کر کے ایک طرح سے سبکو اس رشتے اور شادی کی اطلاع ایکساتھ دے دی گئی۔ ۔ جس دن سے یہ رشتہ طے ہوا تھا،خالدہ اور اس کی بیٹیوں نے تو جیسے ان کے گھر کا راستہ ہی دیکھ لیا۔وہ جب دل چاہتا مُنہ اٹھا کر بغیر بتائے ہی چلی آتیں۔ کبھی بہانہ بناتیں کہ بازار آئے تھے، سوچا زینب سے بھی مل جائیں۔ اور کبھی انہیں بیٹھے بٹھائے زینب کے ہاتھ کے بنے کھانے اس قدر یاد آتے کہ وہ کہ ان کی طرف بھاگی چلی آتیں۔ان کی ہر بار کی آمد سلمی اور زینب کو عجیب سے احساس سے دوچار کر جاتی تھی۔خالدہ اور حمیرا کی بیتابیاں، انکا والہانہ پن دیکھ کر وہ خود کو سمجھا تو لیتیں، مگر پھر بھی کچھ تو ایسا تھا جو انہیں پریشان کر رہا تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ’’ نہیں۔ مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے۔سنا آپ نے۔ سنا آپ سب نے، مجھے اس آدمی کے ساتھ نکاح قبول نہیں ہے۔ مجھے اس خاندان کا ساتھ قبول نہیں ہے۔۔سنا آپ سن نے، نہیں ہے قبول مجھے۔!! ‘‘ ۔ ’’ یہ کیا کہہ رہی ہو زینب۔؟ ہوش میں تو ہو تم۔؟ یہ کیا بکواس کر رہی ہو۔؟ ‘‘ عفت نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا، مگر وہ ہوش میں کہاں تھی جو اسے عفت کی آواز سنائی دیتی۔ اس کے کانوں میں تو اسکی امی کی سسکیاں، اسکے جان سے پیارے بابا کی روتی کرلاتی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ان کے واسطے، انکی منتیں ہی گونج رہی تھیں۔ ایسے میں اسے کسی اور کی آواز بھلا سنائی بھی کیسے دے سکتی تھی۔ ۔ ’’ ہاں۔!! ٹھیک کہہ رہی ہوں۔نہیں کرنی مجھے شادی اس لالچی خاندان میں۔سنا آپ نے آپی۔!! ‘‘ عفت کا ہاتھ تیزی سے جھٹکتی وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ عفت اس کی حالت دیکھ کر مزید خوفزدہ ہو گئی۔ رفعت کے آنسوؤں میں روانی آ چکی تھی۔ ۔ ’’ کیا قصور تھا میرے بابا کا۔؟ہاں، کوئی تو بتائے مجھے کہ کیا قصور تھا میرے باباکا۔؟ تین تین بیٹیوں کا باپ ہونا ان کاگناہ بن گیا یا پھر ان لوگوں کی جھوٹی چاہت اور خلوص پر بھروسہ کرنے کی غلطی سرزد ہوگئی ان سے۔؟کیا کمی چھوڑی تھی ہمارے والدین نے ہماری پرورش، ہماری تربیت میں۔پڑھایا لکھایا، جگر کا خون پلا کر جوان کیا۔اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ان لوگوں کا گھر اور پیٹ بھرنے کے لیئے اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز اکٹھا کیا۔اپنی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر ان کی فرمائیشیں پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر صلہ کیا دیا ان بے حس لوگوں نے۔ ؟بھری برادری میں، ساری محفل کے سامنے میرے شریف عزتدار بابا کو ذلیل کر کے رکھ دیا۔؟ کس کے لیئے، صرف ایک موٹر سائیکل کے لیئے۔؟اتنا پاکھنڈ مچایا کس کے لیئے۔؟ ساس کے سونے کے کنگنوں اور نندوں ، جیٹھانیوں کی جھمکوں،بالیوں کے لیئے۔؟ ‘‘ زینب کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی۔ ساری بھنبھناتی آوازیں دم توڑ چکی تھیں۔سب لوگ مُنہ کھولے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے جارہے تھے، جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو۔ ۔ ’’ ارے۔!! کوئی تو ان سے پوچھے۔؟ کیا انہیں اللہ سے ڈر نہیں لگتا۔؟ کیا انہیں اللہ کا خوف نہیں ہے۔؟ کسی مجبور انسان کی، کسی مجبور باپ کی عزت بھرے بازار میں اچھالتے ہوئے ان کا دل نہیں کانپا۔؟ یہ کیوں بھول گیئے کہ عزت اور ذلت کا مالک صرف اللہ ہے۔ وہ چاہے تو ایک پل میں ’’ عزت داروں‘‘ کی عزت اتار کر رکھ دے۔ اور چاہے تو ایک لمحے میں بے عزتوں، رذیلوں کو عزت کے تاج پہنا دے۔اور یہ لوگ، یہ لوگ خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔یہ جو چاہیں کرتے پھریں، انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔؟ ‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ایک ٹرانس کے عالم میں بولتی چلی گئی۔ عفت نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا، مگر اس نے ایکبار پھر درشتی سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔ اب اسکا رخ ہال میں بیٹھے مہمانوں کی جانب ہو چکا تھا۔ ۔ ’’ میں آپ سے پوچھتی ہوں۔آپ سب بھی تو بیٹیوں والے ہیں۔ اور آپ قاضی صاحب، آپ کی بھی تو کوئی بیٹی ہو گی ناں ، اس کے باوجود بھی آپ سب لوگ خاموش تماشائی بنے میرے بابا کی بے بسی کا تماشہ دیکھتے رہے۔ کیوں۔؟ آخر کیوں۔؟اور یہ ۔۔یہ شاہنواز شاہ صاحب، کتنی جلدی انہوں نے اپنے چہرے سے خوش اخلاقی اور دوستی کا نقاب اتار پھینکا۔کیوں۔؟ آخر کیوں۔؟ کوئی تو پوچھے ان سے ۔ اور یہ۔۔ یہ جناب عزت ماب اصغر شاہنواز شاہ صاحب ، مال و دولت اور جہیز کے لالچ میں اس قدر اندھے ہو گیئے کہ جب ان کی اماں نے کہا ’’ اٹھ جاؤ، بارات واپس جائے گی۔‘‘ تو یہ فٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور پھر جیسے ہی الطاف انکل، نواز بھائی اور اقبال بھائی نے ان کے سارے مطالبات مانتے ہوئے، فوری طور پر ، ہنگامی بنیادوں پر ان کی’’ مطلوبہ اشیاء ‘‘ فراہم کردیں تو انہیں انکی اماں کی طرف سے ایکبار پھر آڈر ملا کہ ’’ بیٹھ جاؤ، جہیز سمیت ’’ دلہن‘‘ لے کر جائیں گے۔‘‘ اور یہ کاٹھ کے اُّلو کی طرح واپس بیٹھ گیئے۔ ارے، ایسا روبوٹ جس کا ریموٹ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہو، اس سے شادی کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ میں کنواری رہ کر اپنے ماں باپ کی خدمت کروں، ان کی دعائیں لوں۔ نہ کہ ان لالچی لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیئے، نکاح نامے پر سائین کر کے اپنے بابا کو ہمیشہ کے لیئے قرضے کے بوجھ تلے دبا دوں۔ کیا چاہتے ہیں آپ سب لوگ، کہ میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی دنیا اور آخرت بھی برباد کر لوں۔نہیں کرنی ہے مجھے یہ شادی۔ آپ لوگ بارات واپس لے جا سکتے ہیں۔!! ‘‘ زینب کا صدمے اور دکھ سے برا حال ہو رہا تھا۔وہ بنا سوچے سمجھے مسلسل روتے ہوئے اونچا اونچا بولتی چلی گئی۔اس کی یہ دگرگوں حالت اور اس پر اس کی کھری سچی باتوں نے پورے ہال میں سناٹا سا طاری کر دیا تھا۔باراتیوں سمیت تمام مہمانوں کی نگاہیں ہی نہیں ، گردنیں بھی شرم سے جھکی جا رہی تھیں۔ محمد قاسم اور سلمیٰ بیگم شدتِ غم سے نڈھال ہو چکے تھے۔وہاں موجود سب بیٹیوں والے خود کو قاسم کی جگہ پر محسوس کر رہے تھے، اسی لیئے ان کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں اور دل بے حد گداز ہو رہے تھے۔عفت اور رفعت بھی ایک طرف کھڑی آنسو بہا رہی تھیں۔ آن کی آن میں سارا ماحول ہی بدل کر رہ گیا تھا۔ شاہوں کو تو جیسے لینے کے دینے پڑ گیئے تھے۔ ان کے ساتھ آئے باراتی تو پہلے ہی ان کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہے تھے، اب وہ کھل کر اپنی ناگواری کا اظہار کرنے لگے تھے۔اور اس صورتِ حال میں ان کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس بگڑتی صورتِ حال کو قابو کیسے کریں۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصغر شاہنواز شاہ کی بارات اپنے مقررہ وقت پر پہنچ گئی تھی۔بارات کا استقبال بہت خوشی بھرے انداز میں کیا گیا تھا۔ باراتی بھی بہت جوش و خروش سے آئے تھے۔ سب معاملات خوش اسلوبی سے جاری تھے۔ لیکن اصل مسلہٰ اس وقت پیدا ہوا جب عین نکاح کے وقت خالدہ اور ان کی بیٹیوں نے جہیز دیکھنے کی عجیب و غریب سی فرمائیش داغ کر سب کو انگشت بدنداں کر دیا۔اس نازک وقت میں ان کی طرف سے ایسی بات کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی، اس لیئے سب پریشان ہو گئے۔ظاہر ہے، فنکشن شادی ہال میں رکھا گیا تھا اور جہیز گھر میں رکھا گیا تھا، اب ایسی صورت میں خالدہ بیگم اور ان کی بیٹیوں کی یہ فرمائیش کیسے پوری کی جاسکتی تھی۔؟ سلمیٰ بیگم اور ان کی بیٹیوں نے انہیں اپنی مجبوری بتانے کی کوشش کی تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر سلمیٰ بیگم اور قاسم کی طرف کی چند بزرگ خواتین نے معاملہ رفع دفع کروانے کی کوشش کی تو ان کی یہ کوشش بھی خالدہ کی ہٹ دھرمی نے ناکام بنا دی۔ مہمان خواتین کی اس طرح سے انوالومنٹ کو خالدہ اور انکی بیٹیوں کے ساتھ ساتھ شاہنواز شاہ نے بھی بہت برا جانا۔ شاہنواز شاہ نے اپنی ناگواری کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی اور ماتھے پر ڈھیروں بل لیئے ایک طرف جا بیٹھے۔ ان کی طرف سے اس ’’ خاموشی‘‘ اور ’’ لاپرواہی‘‘ کو خالدہ اور اسکی بیٹیوں نے ان کی رضا مندی سمجھا۔ اور پھر آپس میں مشورہ کرنے کے بعد ایک لمبی فہرست مطالبات کی سلمیٰ کے سامنے رکھ دی۔ ۔ ’’ دیکھو سلمیٰ بہن۔!! تم تو اچھی طرح جانتی ہو کہ اصغر میرا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہے۔ اس کے لییے تو گھر بیٹھے بہت امیر اور شاندار گھرانوں سے رشتے آ رہے تھے، مگر شاہ صاحب نے تمہاری بیٹی کو پسند کر لیا، اور اس پسند پر مہر اصغر نے لگا دی۔ اور پھر میں نے بھی سوچا کہ کم تو تم لوگ بھی کسی سے نہیں ہو۔ ایک یہی بیٹی تو بیاہنی ہے تم لوگوں کو، تو اب تمہارا جو کچھ بھی ہے، زینب کا ہی تو ہے، اور پھر تم جو بھی دو گے اپنی بیٹی کو ہی دو گے۔تمہاری بیٹی اور داماد ہی تو استعمال کریں گے وہ سب چیزیں۔ اس میں ہمارا کیا بھلا ہوگا بھلا۔اسی لیئے میں چاہتی ہوں کہ تم ہمیں پہناؤنیوں میں بہت اعلیٰ جوڑے دو، مجھے سونے کے کنگن اور میری دونوں بہوؤں کو جڑاؤ جھمکے شگن میں ڈالو اور میری بیٹیوں کو سونے کی بالیاں دو ۔بس، ہماری تو بس یہی ڈیمانڈ ہے، باقی فریج، ٹی وی، موٹرسائیکل اور باقی کا سارا سامان تو زینب اور اصغر نے ہی استعمال کرنا ہے۔!! ‘‘ خالدہ شاہ نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے بڑے غرور بھرے انداز میں گردن تانتے ہوئے کہا تو سلمیٰ کے ساتھ ساتھ قاسم کے پیروں تلے سے بھی زمین نکلتی چلی گئی۔ ان کا ایک رنگ آ رہا تھا، تو دوسرا جا رہا تھا۔مگر وہ بے بسی سے سوائے خالدہ شاہ کے پرغرور انداز کو دیکھنے کے اور کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ ۔ ’’ شاپنواز بھائی۔!! یہ۔۔یہ بھابھی کس طرح کی باتیں کر رہی ہیں۔؟ آپ انہیں سمجھائیں پلیز۔!! کچھ تو میری عزت کا خیال کریں ۔!! ‘‘ محمد قاسم نے بھیگی آواز میں شاہنواز شاہ سے کہا تو وہ لاپرواہی سے سر جھٹک کر ہنسنے لگے۔ ۔ ’’ ارے یار !! تم سمجھنے کی کوشش کرو ناں۔ یہ سب عورتوں کے معاملات ہیں، اور میرا تمہارا ان معاملات سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ان عورتوں کو آپس کے مسلےٰ خود ہی سلجھانے دو یار۔!! ‘‘ شاہنواز کی بات سن کر ایک لمحے تو وہاں موجود سب افراد ششدر ہی رہ گیئے تھے۔قاسم کی آنکھوں سے بے بسی بھرے آنسو بے اختیار گرنے لگے اور ان کے آنسو دیکھ کر نواز اور اقبال سے رہا نہیں گیا۔ وہ فورا! ان کی مدد کو آگے بڑھے تھے۔ اور ان کے ساتھ قاسم کی مدد کو بے ساختہ سامنے آنے والے الطاف احمدتھے۔ قاسم کے بچپن کے دوست۔ ۔ ’’ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ انکل۔؟ ادھر آنٹی بھری محفل میں ہماری عزت اچھالنے پر تلی ہیں اور ادھر آپ ہیں کہ اس سنگین صورتِ حال میں اپنا پوزیٹو کردار ادا کرنے کی بجائے،اسے’’ عورتوں کا معاملہ‘‘ کہہ کر ہمیں بھی خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔؟ کمال ہے، ایسا تو کہیں بھی نہیں ہوتا انکل۔!! ‘‘ نواز نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں شاہنواز کی بات کاٹتے ہوئے کہا تو شاہنواز کے ماتھے پر گہرے بل پڑ گیئے۔انہیں نواز کی بات کسی تازیانے کی طرح لگی تھی۔ وہ سخت برا مانتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ شاہنواز کے اس طرح اٹھتے ہیں، ان کے حامی بھی اپنی اپنی جگہوں سے کھڑے ہوگیئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بات بڑھ گئی۔ دونوں طرف سے مصالحت کروانے والوں نے بہت کوش کی، مگر نہ تو شاہنواز شاہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہوئے اور نہ ہی خالدہ شاہ اپنے مطالبات اور رویئے میں کسی قسم کی لچک دکھانے کو رضامند ہوئیں، سو بات بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ گئی کہ انہوں نے بارات کی واپسی کا اعلان کر دیا۔ یہ صورتِ حال بے حد نازک تھی۔ قاسم اپنی جگہ نڈھال سے بیٹھے رہ گیئے تھے تو سلمیٰ مارے شدت غم اور ذلت کے بیہوش ہی ہو گئیں۔ اب بات کسی کے اختیار میں نہیں رہی تھی۔ شاہنواز شاہ اور خالدہ شاہ کے حکم پر اصغر شاہ’’ سہرہ‘‘ وہیں پھینک اسٹیج سے اتر چکا تھا اور اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بڑی کینہ توز نگاہوں سے قاسم اور سلمیٰ کے ساتھ ساتھ ان کے سب رشتہ داروں کو گھور رہا تھا۔یہ صورتِ حال دیکھ کر سب ہی بوکھلا گیئے۔ ہنگامی بنیادوں پر ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کوشش میں الطاف احمد کے ساتھ نواز اور اقبال نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ خالدہ اور اسکی بہوؤں اور بیٹیوں کے لیئے سونے کے زیوارت کا فوری بندوبست کیا گیا، اور یہ ایسے ممکن ہوا کہ الطاف احمد کی بیگم سعدیہ نے اپنی کلائی سے جڑاؤ کنگن اتار کر الطاف کے ہاتھ میں تھما دیئے تھے۔ سعدیہ بیگم کے اس ایثار نے الطاف احمد کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ انہوں نے مسکرا کر سعدیہ بیگم کی طرف دیکھا اور پھر وہ کنگن خالدہ اور شاہنواز کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ ان کی دیکھا دیکھی نوازاور اقبال نے بھی عفت اور رفعت سے مشورہ کیا اور پھر ان کے زیورات ہدیئے کے طور پر پیش کر دیئے گیئے۔ رہ گئی اصغر کی موٹرسائیکل ، تو اس کے لیئے بھی الطافاحمد نے چیک بھر کے پیش کر دیا۔ پھر جیسے ہی سارے معاملات سیٹل ہوئے، خالدہ شاہ نے بڑے فخرئیہ انداز سے بارات ’’دلہن ‘‘ کے ساتھ لے جانے کا اعلان کر کے اپنے تئیں چوکا مار دیا تھا۔ ۔ زینب بھی ایک طرف بیٹھی سب تماشہ دیکھ رہی تھی۔ یہ سارا ہنگامہ شروع ہونے سے پہلے وہ برائیڈل روم میں اپنی سہیلیوں اور کزنز کے ساتھ بیٹھی نکاح خواں کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک باہر سے شور اور اونچا اونچا بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک لمحے کو سب سب لڑکیاں ڈر کر خاموش ہو گئیں کہ جانے کیا ہو گیا۔ پھر ان میں سے ایک اٹھی اور حالات کا جائیزہ لینے باہر چلی گئی۔ چند منٹ کے بعد ہی اس کی واپسی ہوگئی، اور اس نے اندر آ کر جو رپورٹ پیش کی اس نے زینب کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ وہ ساری مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے اٹھی اور اپنا بھاری عروسی لباس دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی ہوئی باہر ہال میں آ گئی۔ اس کی کزنز اور سہلیوں نے البتہ یہ عقلمندی ضرور کی تھی کہ اسے زیادہ آگے نہیں جانے دیا اور وہیں ایک طرف کرسی کھینچ کر بٹھا دیا۔پھر اس نے ہال میں ہونے والی ساری کاروائی اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھی۔شاہنواز شاہ اور خالدہ شاہ کی زہر اگلتی زبانیں بھی اور مہمانوں کی آگ پر تیل چھڑکتی باتیں بھی۔ زینب نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تھا۔ سعدیہ آنٹی کا ایثار بھی اور اقبال اور نواز بھائی کی محبت بھی۔ اس کا نازک دل اپنے والدین کی بے قدری اور بے عزتی پر بری طرح سے ٹوٹا تھا۔اس کی نگاہوں کے سامنے سے اس کی پوری زندگی کسی فلم کی طرح گذر رہی تھی۔ اپنے باپ کی محبتیں، اپنی ماں کی چاہتیں، اپنی بہنوں کا پیار اسے سب رلا رہا تھا، اور اس پرقاسم اور سلمیٰ کی منتیں سماجتیں۔ اس کا ذہن ماؤف ہوا جا رہا تھا۔ سو جیسے ہی سارا معاملہ سیٹ ہوا اور بقول شاہنواز شاہ ’’ معاملہ سلجھ گیا‘‘ تو انہوں نے نکاح کے لیئے قاضی صاحب کی خدمات حاصل کیں جو خود بھی اس بگڑتی بنتی صورتِ حال سے پریشان ہو چکے تھے۔ مگر یہاں زینب کی برداشت کا اختتام ہو چکا تھا۔ وہ اب مزید اپنے امی اور بابا کی انسلٹ برداشت نہیں کر سکتی تھی ، سو اس نے ایک ہی لمحے میں کھیل کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ اس کے انکار نے ایکبار پھر ہال کا ماحول بدل دیا تھا۔ اب بے چینی ’’شاہوں ‘‘کی طرف دیکھی جا رہی تھی۔ خالدہ بار بار اپنی کلائیوں میں پہنے گیئے سعدیہ کے کنگنوں کو دیکھتیں اور پھر شاہنواز اور دوسرے باراتیوں پر دباؤ ڈالتیں کہ کسی نہ کسی طرح زینب کو منا لیا جائے۔ مگر زینب اپنے ارادے میں اٹل تھی۔اسکی ’’ناں‘‘ اب کسی صورت بھی ’’ہاں‘‘ میں بدلنے والی نہیں تھی۔ اس پر باراتیوں میں سے بھی کئی مہمان انہیں ہی برا بھلا کہہ کر واپس جا چکے تھے، یہ صورتِ حال شاہنواز شاہ اور خالدہ شاہ کے لیئے کسی بھی طرح سے قابلِ قبول نہیں تھی، وہ لوگ بے حد غصے میں آگئے اور بکتے جھکتے واپسی کے لیئے پر تولنے لگے۔ ۔ ’’ جا رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ ہمیں بھی اس بدزبان اور بدتہذیب لڑکی کو اپنی بہو نہیں بنانا۔ ارے، ہمیں اپنی نسل خراب کرنی ہے کیا ایسی بددماغ لڑکی سے اپنے معصوم اور بھولے بھالے بیٹھے کو بیاہ کر۔ !! ‘‘ ۔ ’’ تو اور کیا۔ ٹھیک کہہ رہی ہیں اماں آپ۔ ہمارے لڑکے کے لیئے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں، اور پھر لڑکوں کو کون پوچھتا ہے، ساری بدنامی تو اس کلموہی کے حصے میں آئے گی۔ ہمارا بھائی تو پہلے بھی صاف شفاف تھا اور آئیندہ بھی۔۔۔۔!!! ‘‘ خالدہ شاہ نے غصے سے اٹھتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالنی شروع کی ۔ ان کے اٹھتے ہی باقی بچے سارے باراتی بھی اپنی اپنی جگہ سے اٹھتے چلے گیئے۔ خالدہ شاہ نے غصے کی شدت سے ہانپتے ہوئے آگے بڑھ کر اصغر شاہ کے گلے سے پھولوں کی مالا نوچ کر اتاری اور دور ، سر جھکا کر بیٹھے اپنی بٹی کے نصیبوں کو روتے قاسم کے مُنہ پر دے ماری۔ ہال میں ایک لمحے کو تو سناٹا ہی چھا گیا، پھر ایکدم حیرت سے بھری آوازوں کی بھنبھناہٹ شروع ہو گئی۔خالدہ شاہ کو بکتےء جھکتے باہر کی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کرانکی بیٹیوں اور بہوؤں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کے ساتھ قدم بڑھا دئے۔ ۔ ’’ جائے۔ ضرور جائے بہن جی۔!! مگر یہ’’ قیمتی تحفے’’ اور ’’ زبردستی کی ’’سلامی‘‘ میں لیئے جانے والے بھاری ’’چیک‘‘ واپس کرتے جایئے ۔ ان پر اب آپکا اور آپکے’’ بے زبان۔ معصوم ‘‘بیٹے کا کوئی حق نہیں رہا۔ لایئے ، اتارئے یہ’’ کنگن ‘‘اور واپس کیجئے عفت اور رفعت کا سارا زیور۔!! ‘‘ وہ لوگ افراتفری مچاتے، زور زور سے بولتے بکتے اسی لیئے جلدی جلدی واپس جا رہے تھے تاکہ کسی کو بھی ان چیزوں کا خیال نہ آنے پائے، مگر یہ ان کی بھول تھی۔قاسم اور اسکے بیوی بچیوں کو اگر واقعی ہوش نہیں تھا تو وہاں ایسے افراد بھی ضرور موجود تھے جو پورے ہوش وحواس میں بیٹھے سبکی حرکتوں کو غور سے دیکھ رہے تھے، اور رفعت کی ساس بھی انہیں لوگوں میں سے تھیں، وہ تو خالدہ اور شاہنواز شاہ کی اصلیت کھلنے کے بعد سے ہی دعائیں کر رہی تھیں کہ یہ رشتہ نہ ہونے پائے۔ انہیں زینب اپنی بیٹیوں کی طرح ہی پیاری تھی۔انہوں نے ایک لمحے میں خالدہ کی بد نیئتی بھانپ لی اور تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے ان کے سامنے جا کھڑی ہوئیں۔ خالدہ ایک لمحے کو تو سناٹے میں آگئیں۔ وہ مفت ہاتھ آئے ’’ مال‘‘ کو شائد کبھی بھی خود سے جدا نہ کر پاتیں، مگر برا ہو ان کے ساتھ آئے ان کے رشتہ داروں کا کہ انہوں نے بھی یہی زبان بولنی شروع کر دی۔ شاہنواز شاہ کے لیئے تو پہلے ہی شرم سے ڈوب مرنے والی بات ہو رہی تھی، اب جو انہوں نے خالدہ کو آئیں بائیں شائیں کرتے دیکھا تو غصے سے آگے بڑھے اور کھا جانے والی نگاہوں سے رفعت کی ساس کو گھورتے ہوئے خالدہ کی کلائی سے زبردستی کنگن اتار ان کے قدموں میں دے مارے۔ اقبال سے اپنی ماں کی یہ بے عزتی برادشت نہیں ہوئی وہ ایکدم آگے بڑھا اور شاہنواز شاہ کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا۔ ۔ ’’ شاہنواز شاہ صاحب۔!! آپکی اس حرکت نے ثابت کر دیا کہ اس سارے ڈرامے میں آپ بھی برابر کے شامل تھے۔اور اس بات کا تو سو فیصد یقین ہو گیا کہ آپ جیسے ہی گھٹیا لوگ ہوتے ہیں جو دوستی جیسے پاک اور نازک رشتے کو بھی اپنی لالچ اور غرض کے چھینٹوں سے داغدار کر کے رکھ دیتے ہیں۔!! ‘‘ ۔ ’’ ارے جاؤ جاؤ۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ ہمیں لالچی اور ڈرامہ باز کہنے سے پہلے ذرا اپنے گریبانوں میں بھی جھانک کر دیکھ لو ذرا کہ تم لوگ خود کیا ہو۔؟ اپنی اتنی تیز اور زبان دراز بیٹی کو معصومیت کا لبادہ اوڑھا کر ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ ہمیں ہوا بھی نہیں لگنے دی کہ یہ لڑکی اس’’ طرح‘‘ کی ہوگی سیدھے سادھے اور معصوم ہونے کا ڈرامہ تم لوگوں نے کیا یا ہم نے۔؟ اور اس پر پہلے یہی کہتے رہے کہ ہمارا جو کچھ بھی ہے ہماری بیٹی کا ہی تو ہے، اور جب دینے کی باری آئی تو ۔۔۔۔۔!!! ‘‘ ۔ ’’ بس۔!! بہت ہو گیا۔ اب اگر آپ میں سے کسی نے بھی ایک لفظ اور کہا تو آپ میں سے کوئی بھی اپنے پیروں پر چل کر یہاں سے نہیں جا پائے گا۔آپ سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ آپ اپنے مہمانوں کو اکٹھا کریں اوردفع ہو جائیں یہاں سے۔ اور ہاں، اپنے دماغ میں یہ بات اچھی طرح بٹھا لیں کہ ہماری بیٹی ہمارا غرور ہے۔ ہمیں اپنی بہن، اپنی بیٹی پر ناز ہے۔ ہم اس کی ہمت کی دادا دیتے ہیں کہ اس نے آپ جیسے گھٹیا لوگوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ جایئے، اور اپنے ’’ کاٹھ کے اُّلو ‘‘ کے لیئے کوئی اپنی جیسی ہی فیملی اور اس کے جیسی ہی لڑکی دیکھئے۔ہماری بچی کا اللہ مالک ہے۔ اگر بارات کے واپس جانے سے ہماری بے عزتی ہوگی تو خالی ہاتھ جانے سے ذلت آپکی بھی ہوگی۔آپ ایک انگی ہماری طرف اٹھائیں گے تو باقی کی تین انگلیاں خود آپکے گریبان کی طرف بھی اٹھیں گی۔اگر ہمیں زمانے کو جواب دینا پڑیں گے تو دنیا جواب آپ سے بھی ضرور طلب کرے گی۔جائیں اور جا کر لوگوں کو اپنا مکروہ اور لالچی چہرہ دکھائیں تاکہ لوگوں کو بھی پتا چل سکے کہ آج کی لڑکیاں، اپنے حق ، اپنی عزت کے لیئے آپ جیسے لوگوں کے سامنے ڈٹ جانے کی ہمت رکھتی ہیں اور اپنے والدین کی عزت بچانے کے لیئے آپ جیسے جہیز کے لالچی لوگوں کا راستہ روک بھی سکتی ہیں۔ جائیں، چلے جائیں یہاں سے۔!! ‘‘ شاہنواز شاہ نے جس طرح اقبال کی بات کاٹتے ہوئے زہر اگلنا شروع یا تھا، سارے میں غصے کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی اسی لیئے نوازنے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف انکی قینچی کی طرح چلتی زبان بند کر دی تھئی، بلکہ ہال کے گیٹ تک ان کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں باہر کا راستہ بھی دکھا دیا تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ ’’ زینب بنتِ محمد قاسم!! آپکو بعوض دو لاکھ رروپئیہ حق مہر معجل سعد احمد ولد الطاف احمد کے دیا جاتا ہے۔ آپکو قبول ہے۔؟‘‘ ۔ ’’ قبول ہے۔!! ‘‘ اصغر شاہ کی بارات واپس جانے کے بعد وہ سب بہت نڈھال اور پریشان سے ہو چکے تھے۔ سلمیٰ بیگم اور قاسم کا رورو کر برا حال ہو چکا تھا۔ انہیں اپنی بیٹی کے فیصلے سے اجتناب نہیں تھا، مگر اب اس کی قسمت میں کیا لکھا جانے والا تھا، یہ سوال انہیں دہلا رہا تھا۔ رفعت اور عفت بظاہر اپنے اپنے شوہروں اور سسرال والوں کی مورل اسپورٹ کی وجہ سے کچھ مطمعین دکھائی دے رہی تھیں، مگر اندر سے وہ دونوں بھی ڈری ہوئی خوفزدہ خوفزدہ سی تھیں کہ ’’اب کیا ہوگا۔؟‘‘ اور یہ خوف انکی سانسیں روک رہا تھا۔بارات کے جاتے ہی ان کی طرف کے کافی مہمان بھی واپسی کے لیئے پر تولنے لگے تھے۔ کچھ قریبی عزیز تو دبی دبی زبان میں زینب کی قسمت پر مستقل قسم کی خرابی اور بربادی کو لیبل ہی لگا چکے تھے کہ اچانک ہی ماحول ایکبار پھر بدل گیا۔الطاف احمد ، سعدیہ اور سعد کے ساتھ آگے بڑھے اور قاسم کے سامنے جھولی پھیلا کر کھڑے ہو گیئے۔ ۔ ’’ میں تمہارا یہ احسان کیسے اتاروں گا یار۔ تم نے ایک ہی دن میں دوسری بار میری عزت بچانے کے لیئے سوچا۔ تم میری بیٹی کی اور میری لاج رکھنے کے لیئے اس حد تک جا رہے ہو کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان ۔۔۔!! ‘‘ قاسم صاحب کے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے، فرط جذبات سے ان کی آواز لڑکھڑا رہی تھی تو الطاف کے سامنے جڑے ہاتھ لرز رہے تھے۔ ۔ ’’ نہیں یار، میری محبت کو تم احسان کا نام مت دو۔ زینب میری بیٹی ہے، اور میں اپنی بیٹی کی بے حرمتی کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے اپنی بیٹیوں کی عزت ، انکی حرمت کے لیئے جو بھی کرنا پڑے، میں اس سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔‘‘ الطاف نے ان کے ہاتھ کھولتے ہوئے انہیں بھینچ کر سینے سے لگا لیا تھا۔ ۔ ’’ تو اور کیا۔ اس میں احسان کی کیا با ہے بھائی جان۔یہ تو الٹا آپکا احسان ہوگا ہم پر کہ آپ اپنے جگر کا ٹکڑا ہماری جھولی میں ڈال دیں۔میں سچ کہہ رہی ہوں بھابھی۔ زینب بیٹی تو ہمیں شروع سے ہی بہت پسند تھی، میں تو جب بھی اپنی اکلوتی بہو کا تصور کرتی چھم سے زینب ہی میری نگاہوں کے سامنے آ جاتی۔ یہ تو ہم سے ہی دیر ہوگئی جو ہم اپنے دل کی بات آپ تک نہیں پہنچا سکے۔ ہم سعد کے پیروں پر کھڑا ہونے کا انتظار ہی کرتے رہے، اور جیسے ہی اس کی جاب لگی، ہم نے آپ کی طرف آنے کا پروگرام بنایا ہی تھا کہ آپ کی طرف سے زینب کی بات پکی ہونے کی اطلاع آ گئی۔ بس بھابھی، میں تو دل مسوس کر ہی رہ گئی تھی۔ مگر پھر سوچا کہ اللہ ہماری بچی کے نصیب اچھے کرے، ہو سکتا ہے کہ اس کی قسمت وہیں لکھی ہو جہاں اسکی بات طے ہوئی ہے۔بس، پھر دل کو سمجھایا اور زینب بیٹی کے لییے بہت سی دعائیں کر ڈالی۔ اور آج ہم یہاں آیئے تو ہمیں کیا خبر تھی کہ ہم اپنے دل کی مراد، اپنے گھر کی رونق، اپنے آنگن کی چاندنی یہاں سے خوشی خوشی لے جائیں گی۔ بس، بھائی جان۔ آب آپ لوگ مزید سوچنے میں وقت نہ لگائیں اور ہماری امانت ہمارے حوالے کر دیں۔!! ‘‘ سعدیہ الطاف نے سلمیٰ کو گلے لگاتے ہوئے اس قدر محبت ، چاہت اور مان کے ساتھ کہا کہ وہ سب سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے ان کی درخواست مان گیئے۔اور پھر چند لمحوں کے بعد ہی وہیں زینب اور سعد کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔زینب نے اس بار بڑی آرام سے ایجاب و قبول کے مراحل طے کر لیئے تھے۔ اس کے پورے وجود پر ایک اطمینان اور سکون سا چھایا ہوا تھا۔ سعد کے چہرے پر بھی اندرونی خوشی نے بسیرا کر رکھا تھا۔ اسکے مسکراتے لب اور خوشی سے دمکتا چہرہ اس کی رضامندی اور دلی خوشی کا پتا دے رہے تھے۔قاسم اور سلمیٰ بھی اب قدرے بہتر حالت میں دکھائی دے رہے تھے۔ نکاح کے فوراً بعد باقی بچے مہمانوں کو کھانا کھلا دیا گیا۔ چونکہ اس سارے ہنگامے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیئے کھانے کے فوراً بعد رخصتی کا شور مچ گیا۔ زینب کو رخصت کرتےء وقت قاسم اور سلمیٰ کے چہروں پر اطمینان تھا اور آنکھوں میں بیٹی کی جدائی کے آنسو۔ ۔ ’’ بابا۔!! کہنے والے ویسے ٹھیک ہی کہتے ہیں۔جو جس کا نصیب ہوتا ہے، وہ اسے ضرور ملتا ہے، چاہے دو پہاڑوں کے نیچے ہی کیوں نہ ہو اور جو نصیب میں نہیں ہوتا ، وہ کبھی بھی نہیں ملتا، چاہے اس کے دو ہونٹوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو۔ تو بھئی، میں تو مان گیا کہ زینب سعد کا ہی نصیب تھی۔ اصغر شاہ کا نہیں، سو وہ اسے مل ہی گئی۔!! ‘‘اقبال بھائی نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے شرارت سے کہا تو سب بے اختیار ہنسنے لگے۔ ان سب کی ہنسی میں سعد اور زینب کی جھینپی جھینپی سی شرمیلی سی مسکراہٹیں بھی شامل تھیں۔ اور ان کے قریب کھڑے وہ سب رشتے دارجو تھوڑی دیر پہلے تک زینب کے ’’ نصیب‘‘ پر افسوس کر رہے تھے، اب انہیں رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے دلی دعاؤں سے نواز رہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *