قطر کے قومی دن پر پاکستان ایسوسی ایشن کی پر وقار تقریب ۔۔۔ رپورٹ : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں قطر واحد ملک ہے جو تعلیم و صحت،ثقافت و کھیل اور معیشت میں روز افزوں ترقی کی وجہ سے پوری دنیا میں مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔خصوصاً خطہ عرب میں قطر یقیناً قابلِ صد ستائش اس لئے بھی ہے کہ 2006 میں نہ صرف بطور پہلے عرب ملک ایشین گیمز کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا بلکہ2022 ؁ میں مشرقِ وسطیٰ میں قطر واحد ملک ہو گا جسے دنیا کے سب سے مقبول ترین کھیل فٹ بال کی میزبانی کا موقع بھی ملے گا۔بلا شبہ یہ سب نہ صرف قطری حکومت و عوام بلکہ تارکینِ وطن کے لئے بھی باعثِ صد افتخار ہو گا۔کہ عرصہ طویل سے مقیم غیر ملکی اب قطر کو اپنا وطن ہی خیال کرتے ہیں۔اور اپنے آپ کو اسی ملک کے صحراؤں کے ذرے بن کر ملکی ترقی کو روشن و تابندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔18 دسمبر یوم الوطنی یا قطر نیشنل ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔جس میں آبائی باشندوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کا جوش و خروش اور اظہارِ یک جہتی دیدنی ہوتا ہے۔تارکینِ وطن دامے،درمے،سخنے ہر طرح سے اہالیانِ قطر کے شانہ بشانہ دکھائی دیتے ہیں۔موجودہ سیاسی صورتِحال ایک مصرع کے مصداق’’میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح‘‘اگرچہ ہمسایہ ممالک کی طرف سے سیاسی و اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے ۔تاہم وطنی و غیر وطنی سب کے حوصلے جواں اور عزائم عظیم تر ہیں۔قومی دن کے موقع پر وطنِ ثانی سے اظہارِ یک جہتی ،محبت اور سپاس گزاری کے لئے پاکستان ایسوسی ایشن قطر نے ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا ،جس میں بلا رنگ و نسل،سیاسی کشیدگیوں اور تعصب کے تمام کمیونٹی افراد کو مدعو کیا گیا۔جس میں پاکستان کے علاوہ کینیا ،سری لنکا،انڈیا،بنگلہ دیش،نیپال،فلپائن،مصر اور پاکستانی نژاد برٹش کمیونٹی نے شمولیت کی۔تقریب کی کمپئیرنگ کرتے ہوئے سید فہیم الدین ہاشمی چئیرمین نے تمام کمیونٹی افراد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ میری دعا ہے کہ رنگا رنگ پھولوں سے سجے اس گلدستہ کو اللہ ہرقسم کے شر اور نظرِ بد سے بچائے۔کیونکہ یہاں بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ مختلف کمیونٹی کے افراد اس طرح اتنی تعداد میں مل بیٹھے ہوں جیسے آج ہم سب وطنِ ثانی کی محبت میں جمع ہیں۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ حکیم سے ہوا جس جس کی سعادت فرقان سید نے حاصل کی۔تلاوت کے بعد مہمانان نے مل کر کیک کاٹنے کی رسم ادا کی اور فرداً فرداً سب افراد نے صاحبِ السمو شیخ تمیم بن حمد اآل ثانی سے محبت اور اظہارِ یک جہتی کے لئے ان کے پورٹریٹ پر پیغامات کے ساتھ ساتھ دستخط بھی فرمائے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سب قطر کے ساتھ کھڑے ہیں۔بعد ازاں ہر کمیونٹی کے ایک ایک فرد نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی فرمایا۔
مسٹر چیوڈو نے نائجیرین کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس مشکل گھڑی میں قطر کے ساتھ کھڑے ہیں۔قطر ہمارا وطنِ ثانی ہے۔شکریہ قطر
جبیر محمد نے بنگالی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرصہ طویل سے قطر میں مقیم ہیں اور اب قطر ہی انہیں اپنا مستقل مسکن لگتا ہے۔
عبدالرزاق نے مصری کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے قطر کا شکریہ ادا کیا اور قطر زندہ باد کا نعرہ تحسین لگایا۔
اجے سنگھ پنجاب انڈیا سے مقبول انڈین پنجابی گلو گار کی حیثیت سے تقریب میں شامل ہوئے جنہوں نے قطر کے معروف شاعر شوکت علی نازؔ کا قطر سے محبت اور یک جہتی کے لئے لکھا پنجابی نغمہ گا کر سب کو مسحور کیا۔
قطر میرا سوہنا قطر میرا پیارا
جنتاں دے ورگاں ایہدا ہر نظارہ
عبدالوکیل وکیل نے نیپالی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ قطر سے مجھے ایسے ہی پیار ہے جیسے اپنے ملک سے۔قطر پائندہ باد
پروگرام کے اختتام سے قبل عرفان تاج دفاعی اتاشی سفارت خانہ پاکستان نے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قطر میں آئے مجھے صرف ڈیڑھ سال کا عرصہّ ہی ہوا ہے تاہم اپنائیت کا یہ عالم ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عرصہ دراز سے قطر میں مقیم ہوں اور سب سے بڑھ کر آپ سب لوگوں کا تعاون اور خلوص میرے لئے کسی مہمیز سے کم نہیں کہ جس سے مجھے پاکستان اور قطر کے لئے مزید کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے،مزید میں مشکور ہوں شاہد رفیق ناز،تجمل چیمہ،شوکت علی ناز،زاہد اعوان اور مراد علی شاہد کا کہ جنہوں نے اس پر وقار تقریب کا انعقاد کیا اور آپ سب سے ملنے کا موقع فراہم کیا ۔شکریہ۔ پر تکلف طعّام کے ساتھ یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *