‎رانا بشارت علی خان صدر انٹرنیشنل ہیومن رائٹ مومن یونائیٹڈ نیشن کی ساتویں کانفرنس میں شرکت کے لئے برطانیہ سے جنیوا سویٹزرلینڈ کے روانہ

برطانیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) رانا بشارت علی خان نے جنیوا سویٹزرلینڈ جانے سے پہلے ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہو بتایا کہ ان کا یونائیٹڈ نیشن میں جانے کا مقصد مسلمانوں پر دنیا بھر میں جو مظالم ہو رہے ہیں ان کے خلاف آواز بلند کرنا خاص طور پر عراق افغانستان کشمیر سر یہ بوسنیا اور برما کے مسلمانوں پر جو قیامت ڈہائی جا رہی ہے اس کا انٹرنیشنل کمیونٹی کے سامنے آواز بلند کرنا ہے اور خاص طور پر برما کے پناہ گزین کو آئندہ آنے والے سخت ترین موسم سے بچانے کے لیے ہنگامی طور پر کوئی انتظامات کئے جائیں اور برما کے مسلمانوں کو دنیا بھر میں سفر کرنے کے لئے انٹرنیشنل پاسپورٹ جاری کیا جائے تا کہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح دنیا میں تعلیم صحت کے لئے سفر طے کر سکے برما کے مسلمان اس وقت دنیا کی سب سے بھترین انسانی حقوق کے در پر ہے ہمیں مل کر ان کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کو برما کی گورنمنٹ پر زور ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ برما کے مسلمان جو دنیا بھر سے واپس برما جا رہے ہیں ان کے لیے ایک الگ بستی کا انتظامات کئے جائیں۔
اس موقع پر انہوں نے او آئی سی اور عرب لیگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان اورگنائزیشنز کو ختم کردینا چاہئے یہ مسلمانوں کے مفادات کی بات کرنے میں ہمیشہ پیچھے رہے ہیں ہمیں ایک مضبوط مسلم کی ضرورت ہے جو دنیا بھر میں مسلم مظالم پر آواز بلند کر سکے انہوں نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ اور خاص طور پر وہ آئی سی اور عرب لیگ کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا یہ اس میں وہ انتہائی طور پر نااہل ثابت ہوئے ہیں۔
اور وہ اس بات پر خاص طور پر اقوام متحدہ پر زور ڈال لیں گے کہ وہ برما کی گورنمنٹ پرزور ڈالے کہ برمی مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کو سختی طور پر ختم کیا جائے اور ایسے مظالم کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے نہ صرف برما کے مسلمانوں کی برما واپسی کے راستے کو آسان بنایا جائے اور وہاں پر ان کے لیے مستقل بنیادوں پر رہائشی بستیوں اور کاروبار کا سلسلہ اور ایجوکیشن ہوسپٹل اور عوامی سہولیات کو کو جلدازجلد فراہم کیا جائے اور اقوام متحدہ کا ایک گروپ اس کی نگرانی کرے اور اگر معمار گورنمنٹ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس پر انٹرنیشنل پابندیاں نافذ کی جائیں ، سیوزرلینڈ میں انہوں نے اپنی مصروفیات کے بارے میں بتاتے ہوئے بتایا کہ وہ وہاں پر پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اپنے اعزاز میں آرگنائز گی میٹنگز اور عشائیہ میں خاص طور پر شرکت کریں گے اس کے علاوہ وہ جنیوا کے میر کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے اور ریڈ کریسنٹ جنیوا کے ہیڈ آفس کا وزٹ کریں گے۔
سیرین مسلمانوں کے لیے بنائے گئے پناہ گزین کیمپوں کے بارے میں تفصیلی ملاقات کریں گے۔

(Visited 11 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *