جامعہ عثمانیہ کا دو روزہ آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول ۔ رپورٹ : گوہر اقبال خٹک

کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور طرزفکرو احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان آلات و اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہین سہن، فنون لطیفہ ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، عقائدو نظریات ، اخلاق و عادات، رسوم و روایات ، عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔
ہر قوم کی ایک تہذیبی شخصیت ہوتی ہے۔اس شخصیت کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کردیتی ہیں۔ ہر قومی تہذیب اپنی انہی انفرادی خصوصیتوں سے پہنچانی جاتی ہیں۔اقوامیں تہذیب وتمدن وثقافت کی بقا و توسیع کے لئے اپنی تن من کی بازی لگاتی ہے ۔کسی قوم کی بقا اور عظمت اس کی تہذیب اور ثقافت کی بقا کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ۔ تہذیب ایک ایساگہوارہ ہے جس میں انسانیت پروان چڑھتی ہے انسان کا تشخص قائم ہوتا ہے ،اور اوج ثریا تک پہنچنی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔اور آج بھی معاشرے پر نظرڈالیں تو وہ قومیں کی ترقی کی راہ پر ہے جنہوں نے اپنی ثقافت ،تہذیب وتمدن کو اپنایا ہے اور وہ قومیں زوال کا شکار ہے جنہوں نے تہذیب کو چھوڑدیا ہے ۔ان اقوام میں ایک پاکستانی قوم بھی ہے جنہوں نے اپنی پاکستانی و اسلامی تہذیب کو چھوڑ دیا ہے۔مغربی وپورپی تہذیب کو اپنایا ہے،یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم ذہنی طور پر مغرب ویورپ کی مکمل غلام بن چکی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسی قوم تیار کی جا رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہو گی۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں یورپی افکار و نظریات کی عکاسی نظر آتی ہے۔ مڈل کلاس میں جہاں بچوں کو اسلامی تہذیب اور اخلاقیات کا درس دینا چاہیے وہاں پر مغرب اور اس کی تہذیب کی باتیں کی جاتی ہے ۔
شرم وحیا کی تعلیم دینے کے بجائے بے حیائی کی باتیں کی جاتی ہے۔ پاکستانی قوم کو جدیدیت کے نام پر ذہنی مرتد بنایا جا رہا ہے۔ ہماری قوم ذہنی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ہماری فکرو تدبر کی صلاحیت چھین لی گئی ہے۔ ہمارے اندر قیادت کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ ہماری سوچوں پرمغربیت کا غلبہ ہوچکاہے۔
صرف یہی نہیں ،حکومتی سطح پر اسلامی اور پاکستانی ثقافت کے احیا کا تصور بھی ناممکن ہے کیونکہ نئی حکومت زیادہ سے زیادہ سینما گھر بنا کر فلموں اور ڈراموں کے ذریعے ثقافت اور اقدار کو فروغ دینے کے در پے ہے۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ فلموں اور ڈراموں کے

 ذریعے منتقل ہونے والی ثقافت اسلامی یا پاکستانی ہر گز نہیں ہوسکتی۔ یقینی طور پر حکومت کی ترجیحات میں مسلم معاشرے کو بے راہ روی کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ پاکستان میں مکمل طور پر مغربی اور انڈین ثقافت کو فروغ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اگر ایک قوم اپنے افکار، نظریات اور اعتقادات کو بھلا بیٹھے تو دوسروں کے افکار و نظریات اس قوم پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ پاکستانیوں نے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر جدیدیت کے نام پر یورپی ثقافت اور ان کے رہن سہن اور طور طریقوں کو گلے لگایا اور اپنی پہچان کو بھلا دیا۔

پاکستانی و اسلامی ثقافت ایک اپنی انفرادی شناخت اور پہچان رکھتی ہے۔ اسلامی ثقافت کا فروغ یقینی طور پر انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی و اسلامی ثقافت کا دوبارہ احیاء فلموں اور ڈراموں کے ذریعے نہیں بلکہ گھریلو و تعلیمی اداروں تربیت سے ہوگا۔ جب تک والدین گھروں اور اساتذہ میں اپنے سکول میں اپنے بچوں کو اپنی تہذیب ورسومات اور اخلاقیات اور شرم و حیا کا درس نہیں دیں گے اور انہیں برائیوں سے دور رہنے کی تلقین نہیں کریں گے تو ہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔
تو اپنی تہذیب و ثقافت ،کلچرورسومات،نظریہ وروایات احیاء کرنے لئے ایک دینی وتعلیمی ادارے جامعہ عثمانیہ پشاورنے ایک نمائش کا اہتمام کیا تھا ۔ایک دینی ادارے کے اعتبار سے یہ بہت ہی عجیب وغریب حیران کن اور ناظرین کو بہت کچھ سوچھنے پر مجبور کیا۔یہ دو روز آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول تھا۔ جسمیں مختلف علاقوں کے ناموں سے سٹالز لگائیں تھے۔ان سٹالوں میں متعلقہ علاقوں کے راویتی کھانے ،ملبوسات اور شخصیات کے بارے میں

 

معلومات فراہم کی گئی۔
فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح جامعہ کے مہتمم مفتی غلام الرحمن صاحب نے کی ،افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی غلام الرحمن نے کہاکہ معاشرہ اور عالم دین کا گہراتعلق ہے ۔ثقافت اور کلچر معاشرے کی ضرورت ہے دینی مدارس کی طلبہ نے ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے منفی پروپیگنڈے کا ازالہ کریں گے۔طلباء ان سٹالزکو اور نمائش کے لئے کثیر تعداد میں شرکت کی،جسمیں کمشنر پشاور شہاب علی،ایم این اے حاجی شوکت علی،جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ،چترال کے اقلیتی ایم پی اے وزیر زادہ ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ آیاز ،ڈپٹی ہوم سیکرٹری طیب عبداللہ ،وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا انوار الحق نے نمائش کا خصوصی دور ہ کیا،کمشنر پشاور شہاب علی کا فیسٹیو ل دیکھنے کے بعد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ عثمانیہ تمام مدارس اور یونیورسٹیز کے لئے رول ماڈل ہے ،جامعہ عثمانیہ نے آج جس طرح ثقافتی نمائش کا انقعاد کیا ہے عصری ادارے اس طرح نمائش سے قاصر ہیں،میں کلچر ڈیپارنمنٹ والوں سے کہتا ہوں کہ کلچر نمائش کرناہوتو جامعہ عثمانیہ سے سیکھے۔اہل مدارس کے لئے منفی پروپیگنڈے کا واحد حل ہم نصابی سرگرمیاں ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی حاجی شوکت علی نے انتظامیہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جامعہ عثمانیہ کے اس فیسٹیول نے مدارس کے روشن چہرے سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
جامعہ عثمانیہ کا یہ آرٹس اینڈ فوڈز فیسٹیول دو روز رہا ،اپنی نوعیت کی یہ منفرد فیسیٹول اور ثقافتی نمائش دو روز بعد اختتام پذیر ہوا،اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بانی جامعہ عثمانیہ نے کہامدارس کے طلباء کی صلاحیتیں کسی بھی جدید ادارے کے طلباء سے کم نہیں،طلباء کو چاہئے ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔علماء معاشرے کے ساتھ اپنا رابطہ قائم کریں ،آج ہماری بدقسمتی ہے کہ مدارس کے طلباء معاشرے سے الگ تھلگ ہوگئے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ہم نصابی سرگرمیوں میں صحابہ نے بھی حصہ لیاہے،مسجد نبوی کی طلباء (اصحاب صفہ) تیز اندازی ،گھوڑدوڑ اور شمشیرزنی کا باقاعدہ اہتمام کرتے تھے اور آپ ﷺ بذات خود ان کی سرگرمیوں کا ملاحظہ کرتے تھے۔اور یوں ہمیں یہ سبق دیکھ کر فیسٹیول اختتام پذیر ہوا ۔
دیار مغرب کے رہنے والوخدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زراآب کم عیار ہوگا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپاہیدار ہوگا۔
تہذیب سکھاتی ہے جینے کاسلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی۔

(Visited 40 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *