صرف ایک ڈالر میں اٹلی میں مکان خریدیئے

اٹلی کے گاؤں ساکومبا میں ایک مکان کی قیمت ایک ڈالر رکھی گئی ہے۔

روم، اٹلی : یورپ کے کئی ممالک میں کم آبادی والے علاقوں میں غیرملکیوں کو راغب کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس ضمن میں اٹلی کےمشہور شہر’سِسلی‘ کے ایک پہاڑی قصبے سامبوکا میں درجنوں محل نما خالی مکانات میں سے ہرایک کی قیمت ایک ڈالر لگائی گئی ہے۔

اس سےقبل 2015 میں بھی اٹلی کے ایک خالی ہوتے گاؤں جانجی میں مکان ایک ایک ڈالر میں فروخت کرنے کی خبریں مشہور تھیں۔ اس بار پالرمو شہر سے 40 میل کے فاصلے پر واقعے سامبوکا کے رہائشیوں نے یہ پیشکش کی ہے جس کی آبادی صرف 6 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں رہائشی نوجوان روزگار کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرچکے ہیں اور بزرگ رہ گئے ہیں یا پھر ان کی آبادی بھی کم ہورہی ہے۔

اسی طرح ایک اور گاؤں گروٹول بھی خالی پڑا ہے۔ یہاں صرف 300 لوگ رہتے ہیں اور 600 مکانات خالی ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ علاقہ بھوت نگر بن جائے گا اور اسی بنا پر لوگوں نے یہاں بھی مکانات میں رہنے  کی کئی اسکیمیں پیش کی ہیں۔

اٹلی کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جس کے ریکارڈ بن چکے ہیں اور یہاں آبادی پر تحقیق کے ادارے سے وابستہ اسٹیون موشر کہتے ہیں کہ اس ضمن میں کئی طریقوں پر کام اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کا خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اب دنیا بھر سے لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اٹلی میں جائیداد کےمالک بن سکتے ہیں۔

ای میل کا تانتا

سامبوکا کے ایک ڈالر گھر کے جواب میں حکومتِ اٹلی کو دنیا بھر سے ہزاروں ای میل موصول ہوئی ہیں۔ ان میں دبئی، بارسلونا، نیویارک اور دنیا کے دیگر ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ سامبوکا کے نائب میئر کے مطابق اب تک انہیں دنیا بھر سے 39 ہزار ای میل موصول ہوئی ہیں جن میں بعض لوگوں نے سارے مکانات خریدنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

لیکن مرمت آپکے ذمے

اگرچہ اٹلی کی اس پیشکش کے تحت ایک مکان کی قیمت بریانی کی ایک پلیٹ جتنی ہے لیکن باقی معاملات آسان نہیں ہیں ۔ خریدار کو ایک ڈالر کا مکان خریدنے سے قبل 5600 ڈالر سیکیورٹی کی مد میں جمع کرانے ہوں گے۔ اس کے بعد مکان کی مرمت اور تزئین خود کرنا ہوگی جس کا خرچ 17000 ڈالر تک ہوسکتا ہے اور خریدار کو تین سال کے اندر اندر اس کام کومکمل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سیکیورٹی ڈپازٹ واپس مل جائے گا جس کے بعد وہاں رہنے کی اجازت ہوگی۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *