گجرات گرین ٹاؤن چوکی انچارج احمد نواز ڈیوٹی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ظالموں کو نوازنے لگا ۔

افتخار احمد کی آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی اور ڈی پی او گجرات سید علی محسن رضا کاظمی سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

گجرات (سلیمان بٹ سے) چوکی گرین ٹاؤن تھانہ سول لائن گجرات کی حدود اللہ ہو کالونی میں آج سے تقریبا پندرہ روز پہلے افتخار احمد کے کزن بلال نے اپنے ہمسایہ بابر اور سجاد کو10000ہزار روپے اس کی بہن کی شادی کیلئے ادھاردیئے کچھ عرصہ میں کچھ رقم واپس کردی باقی6500روپے رہ گئے جب بلال نے ان سے رقم مانگی تو ان لوگوں نے پہلے گالی گلوچ کی بعد میں مارنا شروع کردیا اس کی آواز سن کر افتخار احمد بچانے کیلئے گیا تو ان5افراد نے جو تھرا مار کر بیٹھے تھے فوراً پسٹل سے حملہ کردیا ۔شہباز نوازش اور طاہر نے پسٹل کے بٹ مارکر افتخار احمد کے سرپر اور ناک مُنہّ پر وار کئے جس کیوجہ سے افتخار احمد کے ناک اور منہ سے خون نکل رہاتھا اس بات کی چوکی میں بروقت احمد نواز چوکی انچارج کو اطلاع دی اس نے دو ملازم ہمارے ساتھ بھیجے جن دو ملازموں نے افتخار احمد کے منہ ناک ارو منہ سے خون نکلتا دیکھا اور ان5افراد کا پتہ کیا وہ گھر سے فرار ہوگئے پولیس ملازم افتخار احمد کے ساتھ چوکی واپس آگئے اور افتخار احمد کو عزیز بھٹی شہید ہسپتال بھجوا دیا کہ میڈیکل کرالو افتخار احمد نے جاکر میڈیکل کرایا اور واپس آکر چوکی انچارج سے اپیل کی ان غنڈہ گرد عناصر کو گرفتار کیاجائے وہ دھمکیاں دیتے ہیں ہم قتل کردیں گے مجھے جان کا بھی خطرہ ہے لیکن چوکی انچارج نے دو افراد پکڑ کر واپس چھوڑ دیئے چوکی انچارج نے15دن مدعی کو ذلیل خوار کیا لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی چوکی انچارج کے جھوٹے بیان ریکارڈ ہے آئے روز ایف آئی آر کا کہہ کر ٹرخا دیتاہے اگر چوکی انچار ج ہی ظالموں کا ساتھ دے گاتو علاقے میں امن کیسے قائم ہوگا چوکی انچارج کا کام تھا ان 5افراد کو گرفتار کرکے افتخار احمد کے زخموں کی دادر سی کرتا لیکن چوکی انچارج گرین ٹاؤن احمد نواز نے مدعی کو اس طرح خوار کیا جیسے ملزمان سے کوئی گہرے تعلق ہیں ورنہ پولیس کا کام ظلم کو ختم کرناہے ظلم کی حمایت کرنا نہیں پہلے بھی ایسی حرکتوں کی وجہ سے اس چوکی میں کئی اے ایس آئی معطل کئے گئے ہیں یہ لوگ اس چوکی کو اپنے کھانے پینے کی سرنگ سمجھتے ہیں اور عوام پوچھتی ہے آر پی او صاحب کیا چوکی انچارج ایسے ہوتے ہیں جن کو آپ انعام سے نوازتے ہیں وہ اپنا انعام سٹیٹس پر لگادیتے ہیں اور عوام کی خدمت اور پولیس ڈیوٹی کو بلاکر ایسی غفلت کی چادر اپنے گرد لپیٹ لیتے ہیں اور انصاف کی بجائے ہٹ دھرمی اور پرانے وقتوں کی طرح چوکی پر قبضہ کرکے مالک بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور عوام ان چوکیوں میں ذلیل و خوار ہوتی رہتی ہیں شہریوں نے آر پی او سے اپیل کی ہے ایسے اے ایس آئی سے انعام واپس لیاجائے اس چوکی میں درخواستوں کا ریکارڈچیک کیاجائے اس چوکی میں ایک راشدہ بی بی کی درخواست بھی پڑی ہے وہ بھی ان پولیس والوں کا منہ دیکھ رہی ہے ناجانے کتنے لوگ اس چوکی میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں گجرات کے شہریوں نے آئی جی پنجاب پولیس سے مطالبہ کیاہے وہ اس چوکی انچارج کے خلاف کاروائی کرے اور آئندہ اس انچارج کو کسی بھی چوکی میں ہر گز نہ لگایاجائے یہ ہر چوتھے مہینے اس چوکی پر قبضہ کرلیتاہے جو سراسر زیادتی ہے۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *