نگران سے ملاقات ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ہم کچھ دیر تو وہیں کھڑے رہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اگر غلط مقام پر جا پہنچے تو واپسی کی ہمت بھی نہیں ہونی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور چل پڑے۔ کچھ ہی آگے چلے تھے کہ ایک طالب علم ماالف سمت سے آتا دکھائی دیا۔ہم نے اسے روک کے اپنے شعبے کا پوچھا تو اس نےادھر ادھر دیکھا اورکہا کہ آئو میرے ساتھ۔ دو منٹ میں ہم شعبہ کے دروازےپر تھے۔  ہم کچھ دیر تو وہیں کھڑے رہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اگر غلط مقام پر جا پہنچے تو واپسی کی ہمت بھی نہیں ہونی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور چل پڑے۔ کچھ ہی آگے چلے تھے کہ ایک طالب علم ماالف سمت سے آتا دکھائی دیا۔ہم نے اسے روک کے اپنے شعبے کا پوچھا تو اس نےادھر ادھر دیکھا اورکہا کہ آئو میرے ساتھ۔ دو منٹ میں ہم شعبہ کے دروازےپر تھے۔  پھر وہی جوتے اتارنے کا معمول ہوا۔ ہمیں تو جوتے اتارتےایسا محسوس ہوتا کہ اندر قرآن خوانی ہو گی مگر ایسا ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ نجانے کیسے مسلمان ہیں یہ لوگ ۔ہم اندر داخل ہوئے اور چلتےچلتے اپنے نگران کی سیکرٹری کے پاس جا پہنچے۔ ہم نے اپنا تعارف کروایا  تو کہنے لگیں کہ آپ آج بھی اتنی تاخیر سے آئے ہیں۔ ہم نے کہا ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاابھی ہم تاخیر کی وضاحت ہی کر رہے تھے کہ اس نے کہا کہ میں معلوم کرتی ہوں کہ ابھی ملاقات ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی میٹنگ میں چلے جائیں۔ انھوں نے معلوم کیا اور کہا کہ چلیں جائیں اندر۔ ہم نے جل تو جلال تو کا ورد کیا اور داخل ہو گئے۔ پروفیسر صاحب  دفتری میز کے عقب میں کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہے تھے۔ ہم نے سلام کیا تو جواب دیا اور کہا کہ بیٹھئے۔ ہم قریب موجود صوفے پر ہی بیٹھ گئے۔ دو منٹ بعد وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ یہیں بیٹھتے ہیں۔ پھر پوچھا کہ آپ کیسے تشریف لائے۔ اف یہ پروفیسر حضرات۔ ہم نے کہا کہ جناب آپ ہمارے پی ایچ ڈی کے نگران ہیں سو آپ سے ملاقات کے لئے آئے ہیں۔انھوں نے سر ہلایا غالبًا بے یقینی میں۔کچھ دیر بعد پوچھا کہ آپ بنگلہ دیش سے ہوکہ بھارت سے۔۔۔(ظالم استاد آپ کو ہم بنگالی اور بھارتی دکھتے ہیں)۔ ہم نے کہا کہ پاکستانی ہیں۔دل ہی دل مین پاکستان زندہ باد بھی کہا۔ اس کے بعد کچھ پیشہ ورانہ گفتگو ہوئی۔ انھون نے ہمیں کچھ مفید مشوروں سے نوازا۔ پھر جب ہم نے اجازتچاہی توکہنےگے کہ کل شعبےمیں ظہرانہ ہے۔ ضرور آنا ہے آپ کو ۔ ہم نے کہا کہ ہم تو سب ملائشین کھانے کھا کھا کر اکتا چکے تو کہنے لگے کہ نہیں انگریزی کھانے بھی ہوںگے۔ ۔ہم نے کہا کہ گر طبیعت سازگار رہی تو ضرور آئیں گے۔۔ بس کے جانے میں ابھی وقت تھا تو ہم نے وہاں شعبہ کے ساتھ بنی مسجد میں نماز پڑھی اور وہیں بیٹھ گئے۔ وہاں ہمیں بیٹھے دیکھ کر ایک اور صاحب آئے اور کہنے لگے کہ آپ انڈین ہیں۔ ہم حیران کہ نہ ہم نے لنگوٹ باندھی نہ سر پر سکھوں والی پگڑی نہ کوئی اور ایسی نشانی مگر آج سب کو ہم بھارتی اور بنگالی کیوں لگ رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ پاکستان سے ہیں۔تو کہنے لگے کہ میں بھی پاکستان سے ہوں۔ان کا نام ڈاکٹر اقبال تھا۔ وہ ہمیں اپنے دفتر لے آئے۔ ان کے ساتھ وقت بہت اچھا گزرا۔ انھوں نے ہمیں کانگر اور جامعہ کی مفصل معلومات دیں۔پاکستانی کو دیکھ کر الخصوص دیارِ غیر میں تو ایک عجب سی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ۔  واپسی پر بس میں کافی طلبا تھے مگر ان میں وہ عراقی طالبہ ہمیں نظر نہیں آئی۔ کسی اور نے بھی ہم سے سلام دعانہیں کی تو ہم بھی چپ چاپ اپنی سیٹ پر بیٹھے نظاروں کو دیکھتے رہے۔اگلے روز ہماری طبیعت تو ٹھیک نہیں تھی۔ گلا خراب کے ساتھ ساتھ بخار بھی تھا مگر ہم نے جامعہ جانے کا فیصلہ کیا۔ہم گیارہ بجے ہی نکلے تا کہ کھانا کھائیں اور واپس آ جائیں۔ ادھر بس جامعہ کے لئے روانہ ہوئی ادھر آسمان برسنے لگا۔ بارش اتنی تیز کہ ہم نے سوچا کہ اگر بارش ہمارے شعبہ پہنچنے تک بھی یہی رہی تو اسی بس میں واپس آ جائیں گے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہمارا سٹاپ آنے تک بارش تھم چکی تھی۔ ہم اندر گئے تو ظہرانہ جاری تھا۔ کسی نے ہمارا انتظار بھی نہیں کیا۔ اخلاقیات  تو ان کو چھو کر بھی نہیں گزریں۔ہمارے پروفیسر اور نگرانکے پاس ایک کرسی خالی تھی۔ انھوں نے ہمیں دیکھا تو پاس بلوا لیا۔ ہمارے سامنے میز پر انواع ق اقسام کے کھانے ہمیں دعوتِ طعام دے رہے تھے اور دماغ کہتا تھا کہ بندہ بن جا۔ ذرا سی بے احتیاطی کی تو بیرون ملک کڑی سزا بھگتے گا۔ادھر جاتا ہے یا دیکھیں پروانہ  ادھر آتا ہےکھیرے تربوز اور ایسی ہی کچھ سبزیوں سے ہم نے اپنی پلیٹ بھر لی۔ ہمارا کھنا دیکھ کےنگران صاحب کہنے لگے کہ اچھا آپ سبزی خور ہیں؟ کل ہم بھارتی تھے آج ترقی کر کے سبزی خور بھی ہو گئے۔ ہم نے ان کی تردید کی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہماری صحت دیکھیں۔ کیا اتنا گوشت بغیر گوشت کھائے آ سکتا ہے۔ ہم ناسازئی طبیعت کے باعث پرہیز کر رہے ہیں۔ہم نے کھانے کی اور اس سرگرمی کی تعریف کی۔ کچھ طالب علموں سے گپ شپ ہوئی اور اجازت چاہی۔واپسی پر ہمارے متوازی سیٹ پر ایک اور عراقی طالبہ تھیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ملایشیا میں اتنے عراقی کیوں ہیں تو جواب آیا کہ ملک کے حالات بہت اچھے نہیں ہیں اور ملائشیا یورپی ممالک کی بنسبت سستا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ اب کے اور صدام کے دور کے عراق میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب بہت ہی خوبصورت تھا۔ کہنے لگی کہ صدام سے سو اختلاف ہو سکتے ہیں مگر اس وقت عراق ایک ملک تھا۔ ایک ملک محسوس ہوتا تھا۔ اب تو وہ خانہ بندی ہے کہ ملک صرف نقشے پر ہی موجود ہے۔ اس طالبہ کی اس بات نے ہمیں اداس کر دیا کہ عراق کچھ عرسہ قبل تک مشرق وسطٰی میں ایک انتہائی اہم ملک اور طاقت تھی۔ مسلمانوں کے بہت سے مقدس مقامات بھی یہیں ہیں۔ یہ اداسی ہمین اگلے کچھ دن اپنے سحر میں جکڑے رہی۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *