نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

نماز نہ پڑھنے میں حائل رکاوٹیں اور اس کا سدِباب

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے، بیشک یہ جملہ زبان زدِ عام ہے اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ نماز ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ، نماز دین کا ستون ہے،نماز مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے ، نماز مومن کی معراج ہے، نماز نہیں تو زندگی بے کار ہے، نماز پیارے نبیﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نماز ہر درد کو ختم کرتی ہے ، نماز چہرے کا نور ہے،نماز جنت کی کنجی ہے ،نماز اللہ رب العزت سے مانگنے کا ذریعہ ہے،جس کی نماز جاندار اس کی زندگی شاندار،جس کی نماز میں سکون و اطمینان اس کی زندگی میں سکون و اطمینان،بے نمازی کی زندگی میں نہ مال میں کسی چیز میں برکت نہیں رہتی۔بیشک ان باتوں کا سب کو علم ہے اور ہر باشعور مسلمان نماز کی اہمیت کو سمجھتا ہے ۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر بندہ اپنے نفس کو بھولائے ہوئے بنا تبلیغی اصولوں سے واقفیت کے دوسروں کو اصلاحاً تائید و نصیحت کر رہا ہوتا ہے کہ نماز پڑھو دنیاوی تماشوں میں کچھ نہیں رکھا ۔نماز پڑھنے میں کچھ آس پاس کی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں جو بظاہر توتنقید برائے اصلاح کے اامور سے مشتق ہوتی ہے لیکن کام تنقید برائے تنقید کا ہی کرتی ہے ان تمام اصولوں سے صرف وہی انسان واقفیت رکھتا ہے جو دعوت و تبلیغ کے اصولوں سے باخوبی واقف ہو۔
بد کردار لوگ دوسروں کے کردار کو اور بے ایمان لوگ دوسروں کے ایمان کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے داغ دار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ تنقید کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اگر کوئی بندہ نماز کی طرف لگ ہی گیا ہے تو اس پر بلا ضرورت تنقید شروع کر دی جاتی ہے کہ اس کی تو داڑھی نہیں ہے، اس کی داڑھی فیشنی ہے، اس کے کپڑے ویسٹرن ہیں، ٹوپی نہیں پہنی،اس کی فلاں چیز ،فلاں کیفیت، غرض اس کا کردار درست نہیں ، تو اس کی عبادت کیونکر قبول ہو گی ؟یہ تنقید برائے تنقید ہے تنقید برائے اصلاح نہیں ۔
اس کے علاوہ بعض افراد کا یہ حال ہے کہ خود نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ان کی عادت ہی کچھ اس طرح سے بن گئی ہوتی ہے کہ ہر فرد کو جابرانہ لہجے میں بار باریہی سوال کرتے ہیں تم نے نماز پڑھ لی ؟ نماز پڑھ آئے ہو؟نماز پڑھنے جا رہے ہو؟بظاہر وہ اپنی طرف سے نیکی کی طرف دعوت دے رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی کم علمی کہ نصیحت محض ایک بار ہوتی ہے بار بار نہیںیہ چونکہ انسانی فطرت و انسانی نفسیات کے بھی خلاف ہے اور اس کا نقصان یہ ہے کہ انسان نماز کو بوجھ سمجھ کر اتارنے کی کوشش کرتا ہے اور دل سے اس کے فرائض پورے پورے کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
بہتر صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ نصیحت کرنے کے درپے ہیں تو اپنی نصیحت میں ان تمام خدوخال کو مدِنظر رکھیں جن سے آپ کی نصیحت موثر اور کارآمد بنے یا اپنے عمل سے لوگوں کو نیکی کی طرف راغب کریں اور اگر آپ ایسی صلاحیت نہیں رکھتے تو بلا ضرورت نصیحت کرنے سے احتراض کریں کیونکہ ایسی صورت میں آپ دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دین اسلام وہ واحد دین ہے جس میں جبر نہیں ۔خدا کیلئے اپنی جہالت کو دین کے لبادہ میں لپیٹ کر پیش مت کریں۔ دعوت و تبلیغ کے اصول و ضوابط جانے بغیر تبلیغ کے فرائض سر انجام دینا ظلم ہے۔
جب یہ بات واضح الفاظ میں اور عمل کے ساتھ لوگوں کو سمجھا دی گئی کہ مقصدِتخلیقِ انسانی ہی عبادت ہے اور حدیث مبارکہ سے بھی یہ پہلوواضح ہے کہ بے نمازی بد نصیب ہے کیونکہ بے نماز کو دین اسلام سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تو ان سب واضح دلائل کے ہوتے ہوئے ہم کسی اور طرف کیوں دیکھیں ؟ کیوں نہ قرآن و سنت پر عمل کر کے دین اسلام کے اصل راستے پر چلا جائے ۔سنّت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مسائل حل کئے جائیں۔
علاوہ ازیںیہ ایک سوچ انسان کو گمراہی کے اندھیروں میں لے جاتی ہے کہ دین کی چار باتیں کتابوں سے رٹ کر بندہ اپنے آپ کو عالم سمجھے ۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے زندگی مسلسل سیکھنے کا نام ہے ۔حضرت موسیٰ کے دور میں گائے ذبح نہ ہو اس پر ان کی قوم نے حیلے بہانے بنائے اور آج نماز سے دوری کی وجہ بھی اسی قسم کے سوالات ہیں کہ نماز کیسے پڑھی جائے ؟کس مسلک کے مطابق پڑھی جائے؟ کن کی مسجد میں پڑھی جائے ؟ اللہ رب العزت ایسے لوگوں کو عقل و فہم عطا فرمائے کیا ان لوگوں کونمازکی ادائیگی سے متعلق سنّت نبویﷺ اور احکاماتِ نبوی ﷺ دکھائی نہیں دیتے؟ کیا مسلک کی جنگ نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ یا اس سے پہلے کی ہے ؟کیا ممکن نہیں کہ مسالک کو چھوڑ سنّت کو اپنایا جائے؟۔
مزید یہ کہ کیا فرق پڑتا ہے مسجد کسی کی بھی ہو مسجد اللہ کا گھر ہے تو نماز بھی اللہ کی خوشنودی اور نبیﷺ کی سنت کے مطابق پڑھیں مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب انسان ہر چیز کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے ۔پس تعلیم اسی کمی کو پورا کرتی ہے ۔انسان کو جانور بننے سے روکتی ہے اور اسلام کی پُرامن فضاء میں سانس لینے کے قابل بناتی ہے ۔البتہ ر بِّ ذولجلال سے التجا ء ہے کہ ایسے لوگوں کو علم و عقل عطا ء فرمائے جو بظاہر تو ہر انسان کو نصیحت کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ دین کو ہی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں محض اپنی کم علمی کی وجہ سے ۔یا اللہ (عزوجل) ایسے افراد سے دین کی حفاظت فرما …….آمین

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *