نوجوان لکھاریوں کی تربیتی ورکشاپ کا آنکھوں دیکھا حال خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ۔۔۔ تحریر : محمد شہزاد اسلم راجہ

نوجوان لکھاریوں کی تربیتی ورکشاپ کا آنکھوں دیکھا حال خوبیوں اور خامیوں ساتھ
نئی چیزو ں کو سیکھتے رہنا برا اہم ہے اسی حوالے سے ایک جادوگر کا واقع برا دلچسپ ہے ۔’’ایک جادوگر اپنے جادو کے کمالات دکھا رہا تھا ۔ اس نے حاضرین سے کہا ایک ایک کنکراٹھا لیں اور سٹیج پر رکھ دیں ۔۱۰۰ یا ۱۵۰ بندے اٹھے اور سٹیج پر کنکروں کا ڈھیر لگ گیا۔اس جادوگر نے اپنی چھڑی کے ذریعے ان کنکروں کو سونا بنا دیا ۔سب کو کہا کہ باری باری آئیں اور ایک ایک کنکری لے جائیں ۔آکر میں ایک نوجوان رہ گیا اور سٹیج پر ایک کنکر بچا۔ جادوگر نے اس نوجوان سے کہابھائی تم بھی آؤ اور اپنی کنکری لے جاؤ۔شوختم ہو گیا ہے ۔اس نوجوان نے کہا میں اس کنکری کا کیا کروں گا ؟اسے بیچ کر رقم حاصل کروں گا اور کھا پی جاؤں گا۔مجھے تو وہ فن سیکھنا ہے جو ان پتھروں کو سونا بناتا ہے‘‘اس طرح جب کسی شعبے کو پوری طرح سمجھ لیتے ہیں آپ ایسا ہی فن سیکھ جاتے ہیں ۔
صاحبو ! نوجوان لکھاریوں کے سیکھنے سکھانے کی بات ہو تو ہمارے ملک میں مختلف پلیٹ فارم سے گاہے بگاہے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہتا ہے ۔گزشتہ دنوں خانیوال شہر میں بھی لکھاریوں کی تربیت کے لئے غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان نے رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس پاکستان کے اشتراک سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں راقم الحروف نے بھی کچھ سیکھنے کی غرض سے شرکت کی اس ورکشاپ کا آنکھوں دیکھا حال خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ پیش ہے ۔اس تربیتی ورکشاپ کاآنکھوں دیکھا حال خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اس لئے کہ چلنے والے انسان کے دونوں پیروں میں کتنا فرق ہوتا ہے ایک آگے ہوتا ہے تو دوسرا پیچھے ہوتا ہے لیکن نہ تو آگے والے کو غرور ہوتا ہے اور نہ پیچھے والے کی توہین ہوتی ہے ۔ کیوں ؟ کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ پل بھر میں یہ بدلنے والے ہیں تو غرور کس بات کا اور کیسی توہین ۔
اس تربیتی ورکشاپ کے چیف آرگنائزر حاجی محمد یوسف صدیقی اور شبیر حسین شبیر ، ورکشاپ کوارڈینیٹر چوہدری دلاورحسین اور ورکشاپ منیجمنٹ سربراہ ابن نیاز(اعجازلودھی) تھے ۔بمطابق شیدول صبح ساڑھے آٹھ بجے سے آنے والے مہمانوں کی رجسٹریشن کا مرحلہ شروع ہونا تھا جو کہ نو بج کر پندرہ منٹ تک جاری رہنا تھا۔رجسٹریشن کرواتے وقت ہی آنے والے مہمانوں کو تحائف دیئے جانے تھے۔ رجسٹریشن کے لئے ہال میں استقبالیہ کاؤنٹر قائم نہیں اس لئے رجسٹریشن کے لئے حافظ عثمان معاویہ خود مہمانوں کے پاس جا کر ان کی رجسٹریشن اور حاضری لے رہے تھے اور جو تحائف ملنے تھے وہ بھی مہمانوں کو ان کی نشست پر پہنچائے گئے جس کو راقم الحروف نے بلکل بھی نہیں دیکھا اور نا ہی اس بات کی گواہی فقیر کے پاس کی مہمانوں کو تحائف دیئے گئے کیونکہ نا تو راقم الحروف کو ان تحائف میں سے کوئی تحفہ ملا نا ہی فقیر کے ساتھ چند دوستوں کو۔بہر حال تقریب کا آغاز ساڑھے نو بجے کیا جانا تھا لیکن آغاز بروقت نا ہو سکا بہرحال تقریب اپنے مقررہ وقت کے تقریبا پون گھنٹہ یا ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی ۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت فواد فاروق نے حاصل کی اور بارگاہ رسالت ﷺمیں ہدیہ نعت پیش کرنے کا شرف راقم الحروف کو حاصل ہوا جس کے لئے پہلے باقاعدہ کوئی اطلاع نا تھی۔اس تقریب کے دو سیشن تھے پہلے سیشن کی صدارت معروف شاعر و مصنف جناب زاہد شمسی صاحب فرما رہے تھے اورمہمان خصوصی جناب سجاد جہانیہ ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل تھے جبکہ مہمانان اعزاز میں معروف سکالر و تاریخ دان مرزا حبیب ، حاجی محمد یوسف صدیقی اور پاک انٹرنیشنل میڈیا کونسل کے صدر جاوید فخری صاحب تھے ۔تقریب میں سب سے پہلا لیکچر نوجوان صحافی اور فیچر رائٹر اسد نقوی نے ’’سکرپٹ رائیٹنگ‘‘ کے حوالے سے دیا۔ اسد نقوی تقریب میں لیکچر دینے والے افراد میں سب سے کم عمر ہونے کے باوجود بہت اچھا اور جامع لیکچر دینے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے اپنے مخصوص وقت مختصر مگر جامع لیکچر دیا جسے نہ صرف حاضرین نے بلکہ صدر محفل زاہد شمسی اور مہمان خصوصی سجاد جہانیہ نے بہت سراہا۔اس تقریب میں نظامت کے فرائض سلیم یوسف نے کم ادا کئے جبکہ عمارہ کنول اور مظفر حسین بابر نے نظامت زیادہ کی ۔ مظفر حسین بابر پر جوش انداز میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے اور خوب انصاف بھی کیاسٹیج کے ساتھ جبکہ یہ ایک تربیتی ورکشاپ تھی نہ کہ کھیل کا میدان جس میں جوش زیادہ دلایا جائے۔عمارہ کنول نے جس انداز سے کمپیئرنگ کی وہ اس تقریب کے شایان شان تھی لیکن کئی ایک جگہ پر وہ بھی انتطامیہ کی دی گئی ہدایت کے مطابق ڈگمگائی بھی مگر اپنے سٹیج کو نا ڈگمگانے دیا۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد تقریب تھی جس میں سپاس نامہ لیکچر کے بعد پیش کیا گیا جو کہ اس تربیتی ورکشاپ منیجمنٹ کے سربراہ ابن نیاز (اعجاز لودھی) نے پیش کیا۔ ’’ادب و صحافت‘‘ کے موضوع پر جناب احتشام جمیل شامی نے بڑے ہی خوبصورت انداز گفتگو میں اپنا مقالہ پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ ہر صحافی ادیب نہیں ہوتا اور ہر ادیب صحافی نہیں ہوتا، ہم میں سیبہت سوں نے ادب اور صحافت کو ایک کر دیا ہے جبکہ ادب اور صحافت دو الگ الگ پہچان رکھنے والے شعبے ہیں ۔تقریب کے شرکاء کی بوریت اور تالیاں بجانے کی انرجی بحال کرنے کے لئے سٹیج پر مزاحیہ شاعر جناب ادریس بابر کو دعوتدی گئی کہ وہ آئیں اور اپنی مزاحیہ شاعر ی سے حاضرین کو ہنسنے پر مجبور کردیں ۔ مگر یہ انتظامیہ کی غلطی تھی یا کہ شاید ادریس بابر صاحب کے سمجھنے میں غلطی تھی انہوں نے سٹیج پر جا کر اردو لکھتے وقت جملوں میں کن الفاظ اور کن اسلوب کا د ھیان رکھنا ہے پر لیکچر دینا شروع کر دیا۔ورکشاپ انتظامیہ کی طرف سے ہر لیکچر کے لئے دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا مگر ادریس بابر صاحب نے وقت کی قید کو ختم کر لیا اور انتظامیہ کے بار بار کہنے کے باوجود بھی اپنا لیکچر ختم نا کیا۔ تب جناب سجاد جہانیہ صاحب کی طرف سے کہا گیا کہ ہر چیز کے آغاز کے بعد

اختتام بھی ہوتا ہے اس لئے اختتام کی طرف بھی آئیں تب جا کر ادریس بابر صاحب کو مہمانوں پر ترس آیا اور اپنی ایک مزاحیہ نظم سنا کر لیکچر ختم کیا۔بابائے ادب جناب عبداللہ نظامی نے اپنے مخصوص انداز میں ہال میں موجود تمام مہمانوں کا فرداََ فرداََ شکریہ ادا کرنے کے بعد ’’بچوں کا دب‘‘ کے موضوع پر جامع اور پُر مغز لیکچر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو کتاب کی طرف مائل کریں ۔ بیشک آج ٹیکنالوجی کا دور ہے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو اپنے مستقبل کو کتاب سے پیار اور کتاب سے دوستی کا سبق دیں اور لکھاریوں سے کہا کہ وہ بچوں کے لئے معیاری ادب تخلیق کریں ۔ورکشاپ کے پہلے سیشن کے اختتام سے قبل مہمان خصوصی جناب سجاد جہانیہ صاحب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لکھاریوں کی تربیت کے لئے ورکشاپس کا انعقاد ضروری ہے ۔اس سے کمی کوتاہیاں دور ہوتی ہیں اور نئے لکھنے والوں کو بہتر رہنمائی ملتی ہے ۔انہوں نے خاص طور پر اسد نقوی کے لیکچر کو سراہا تے ہوئے اسد نقوی کو مستقل کا بڑا فیچر رائٹر قرارا دیا ۔پہلے سیشن کی ایک اور بات یہ کہ صدر محفل کا خطبہ صدارت بھی نا ہوا اور پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا۔
ورکشاپ کا دوسرا سیشن شروع ہونے سے قبل چائے کا وقفہ کیا گیا جس میں مہمانوں کی توازع گرما گرم اور مزیدار کشمیری چائے سے کی گئی ۔ورکشاپ کر دوسرے سیشن میں انتظامیہ شاید کچھ گڑ بڑ کر گئی چونکہ اس ورکشاپ میں جناب حاجی لطیف کھوکھر کے نعتیہ مجموعہ ’’نعتاں سرکار دیاں‘‘ کی رونمائی بھی ہونا قرار پائی تھی ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ باقاعدی اعلان کیا جاتا کہ اس دوسرے سیشن کے بعد حاجی لطیف کھوکھر صاحب کی کتاب کی رونمائی کی جائے گی مگر نا تو یہ اعلان کیا گیا اور وقت کی کمی کے باعث کتاب کی رونمائی کو دوسرے سیشن میں ایڈجیسٹ بھی نا کر پائی ۔ اب دوسرے سیشن میں صورت حال یہ ہوئی کہ صاحب کتاب حاجی لطیف کھوکھر صاحب دوسرے سیشن کی صدارت کر رہے ہیں جبکہ دیگر مہمان خصوصی میں میاں عبدالوحید عمرانہ، اجمل عباس اور زاہد شمسی صاحب شامل تھے۔دوسرے سیشن کے پہلے لیکچر کے لئے جناب زاہد حسن صاحب کو بلایا گیا مگر تب تک زاہد حسن صاحب اپنی مصروفیت کی بنا پر جا چکے تھے، کیونکہ ان کی مصروفیت کی بنا پر ان کا لیکچر پہلے سیشن میں طے تھا مگر انتظامیہ کا اس طرف دھیان ہی نہیں تھا ۔سو مرتے کیا نا کرتے ہال میں موجود راقم الحروف کے ادبی استادشہزاد عاطر جو کہ رحیم یار خان سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے ان کو پانچ منٹ پہلے کہا گیا کہ ’’فکری مضمون کیسے لکھیں ‘‘ یا ’’فکری مضمون کی خصوصیات‘‘ پر لیکچر دیں ۔ اتنا وسیع موضوع اور اتنے کم وقت میں ۔۔۔یہ استادوں کا ہی خاصہ ہے کہ جناب شہزاد عاطرنے اس موضوع پر مختصر وقت میں جامع لیکچر دیاجس کو زاہد شمسی صاحب کے ساتھ ساتھ تمام مہمانوں نے سراہا۔برادرم حسیب اعجاز عاشر اپنی گھریلو مصروفیت کی بنا پر اور جناب ندیم نظر انتظامیہ کی طرف سے وقت اور تاریخ کی اطلاع نا ملنے کی وجہ سے خانیوال نہیں آسکے اس لئے ان کے ذمہ لگائے گئے لیکچر نا ہو سکے ۔تاریخ کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا جناب مرزا حبیب کو رحیم یار خان سے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ’’تاریخ کے جھروکوں سے ادب‘‘ کے موضوع پر لیکچر دینے کو لیکن باوجود ان کے ہال میں موجود ہونے کے ان کو لیکچر کے لئے بلایا نہیں گیا۔یہ بھی انتظامیہ اور سٹیج سیکرٹری کے درمیان رابطہ ہر ممکن صورت حال کے مناسب حل کے لئے رابطہ نا ہوناہی باعث تھا۔رشید احمد نعیم نے بھی ’’ایڈیٹر کو اپنی تحریر پڑھنے پر مجبور کرنا ‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا مگر ان کی بھی یہ ہی شکایت تھی کہ لیکچر کے لئے تقریب سے تقریبا دو چار دن پہلے اطلاع کیا کریں تاکہ سیکھنے والوں کے لئے کچھ موتی بھی ڈھونڈ کرلائیں ۔جناب نور اللہ رشیدی نے اپنے مختصر مخصوص وقت میں ’’مصنف کیسے بنیں‘‘ کے عنوان پر عمدہ اور مدلل دلائل کے ساتھ لیکچر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے سرورق کے ساتھ کتاب شائع کرواکر اچھا مصنف نہیں بنا جاتا بلکہ اچھے سرورق کے ساتھ کتاب کا مواد بھی جاندار ہو تب اچھے مصنف میں شمار ہوتا ہے۔اس تقریب میں مختلف شعبوں میں عمدہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے لکھاریوں کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ان ایوارڈ میں جناب زاہد شمسی کے نام سے جاری کیا گیا ایورڈ ’’شمسی ایوارڈ‘‘ جناب عبدالستار ایدھی مرحوم کے نام سے ’’ایدھی ایوارڈ‘‘ اور غازی ہیومن کے نام سے ’’غازی ایوارڈ ‘‘ شامل تھے۔پاکستان رائٹر ونگ کی طرف سے غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کی پوری ٹیم کے اراکین کو ’’اعتراف خدمات فروغ ادب‘‘ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔تقریب کے اختتام پر جناب زاہد شمسی جو کہ لاہور سے راقم الحروف کی درخواست پر خصوصی طور پر آئے تھے انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا سلام عقیدت پیش کیا اور کہا کہ خصوصی محبت لے کر لاہور سے آیا ہوں ۔میں اس ساری تقریب میں پوری یکسوئی کے ساتھ بیٹھا ہوں ۔انہوں نے راقم الحروف کو یہ عزت بخشی ان کا کہنا تھا کہ آج جو میں خانیوال میں موجود ہوں اس کے محرک شہزاد اسلم راجہ ہیں ان کی وجہ سے میں یہاں موجود ہوں ۔انہوں نے غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کی تمام ٹیم کو کامیاب پروگرام منعقد کروانے پر مبارک باد دی جس میں دور دور سے مہمان تشریف لائے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپ نا صرف لکھاریوں کے لئے بلکہ سوسائٹی کے ایک ایک فرد کے لئے ضروری ہے ۔یہ اسی طرح ہے جیسے علم حاصل کرنا ۔ میرے نزدیک سب سے بڑا عشق علم سے پیار ہے ،علم کو حاصل کرنا اور علم کو آگے پھیلانا۔تحصیل علم اور ترسیل علم انتہائی اہم ذمہ داری ہے ۔اس تقریب میں غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والے مقابلہ مضمون نویسی کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا جس کے مطابق سعدیہ ہما شیخ سرگودھا سے ، طیبہ عنصر مغل راولپنڈی سے اور طیبہ شریں راولپنڈی سے بلترتیب اول دوم اور سوم پوزیشن کی حق دار ٹھہریں جبکہ شاہانہ جمال کراچی، امیر حمزہ فیصل آباد، راحیلہ بنت مہر علی ٹانک، وردہ صدیقی نوشہرہ کینٹ اور ساجد اقبال جھنگ خصوصی پوزیشن لینے میں کامیاب رہے ۔ تقریب کے اختتام پر تمام مہمانوں کو پرتکلف بریانی کا ظہرانہ بھی دیا گیا۔یوں یہ ایک یاد گار تربیتی ورکشاپ اپنے اختتام پر پہنچی۔

اس تقریب میں خاص طور پر جو لکھاری حضرات شریک ہوئے ان میں حفیظ چوہدی ، شہباز اکبر الفت لاہور، قاری محمد عبداللہ ملتان، مہر اشتایق احمد سیالکوٹ ،سید قمر عباس ہمدانی بانی دریچہ ادب ویلفیئر سوسائٹی احمد پور سیال، عبدالصمد مظفر پھول بھائی لاہور، رانا سعید یوسف چیف ایڈیٹر لاہور ٹائمز ، مرزا محمد یسین بیگ لاہور،حاجی محمد لطیف کھوکھر لاہور، عبدالرؤف سمراء خانیوال ، انجینئر مظہر خانخانیوال، محمد عرفان ، آر ایس مصطفی، محمد صادق چیف لائبریرین ای لائبریری رحیم یار خان ، عرفات ظہور ملتان، علی عمران ممتاز ملتان، ڈاکٹر محمد اقبال ندیم احمد پور سیال، انجینئر شفاعت علی مرزا ،اکبرعلی ، عابد قادری واربرٹن ،ستارہ آمین کومل کبیروالا، عبدلخالق خان سکھانی کبیر ولاشامل تھے۔ یہاں میں کہہ سکتا ہوں کہ اس ورکشاپ میں ملک بھر سے بہت سے لکھاری حضرات شریک ہوئے تھے اس لحاظ سے یہ واقعی قومی سطح کی ورکشاپ تھی جس پر غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔
صاحبو! اس آنکھوں دیکھا حال میں جو خامیاں بیان ہوئی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریب کو منعقد کرنے والے تمام احباب میری ٹیم کا حصہ ہیں ۔آج ان کے سامنے یہ خامیاں رکھوں گا تو آئندہ مستقبل میں ہونے والی تقریبات میں ان خامیوں پر میری ٹیم قابو پائے گی۔ آخر میں ویلدن میری ٹیم ،ویلدن غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی پاکستان۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *