پانچ فروری ہر سال آتا ہے !۔۔۔تحریر : عنایت کابلگرامی

 

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنت اور اس میں موجود انعامات کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کچھ ایسی بھی نعمتیں پیدا کی ہیں جنہیں دیکھ کر،سن کر،سونگھ کراورچکھ کرجنت اور اس میں موجود نعمتوں کا تھوڑا بہت ادراک اور کچھ نہ کچھ قیاس کیا جا سکتا ہے۔کشمیر بھی اللہ تعالیٰ کی ان ہی نعمتوں میں سے ایک ہے جسے دیکھ کربعض لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر تو جنت کا ایک ٹکڑا ہے جوزمیں پر آ گرا ہے۔کشمیر پاکستان کے شمال مشرق میں اورافغانستان و تاجکستان کے مشرق،چین کے جنوب میں اور ہندوستان کے مغرب میں کوہ ہمالیہ میں پڑی ہوئی خوبصورت اورسرسبزوادی کا نام ہے،کشمیر کا کل رقبہ217935کلومیٹر ہے اوراس کی آبادی 1کروڑ سے کچھ اوپر ہے جس میں 92فیصد مسلمان آباد ہیں اور باقی آبادی ہندو، سکھ اوربدھ مت پر مشتمل ہیں،کشمیر کا کچھ حصہّ چین کے پاس،کچھ حصّہ آزاد ہے جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے اور اس کا کچھ حصّہ بھارت کے پا س بھی ہے جس پر بھارت نے ناجائز طور پرقبضہ کیا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے پوری دنیا گھمبیر مسائل کا شکار ہے اور اس ہی خطّہ کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان3جنگیں بھی ہو چکی ہیں اوراب بھی ہر وقت جنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے آزاد کشمیر کا دارالخلافہ مظفر آباداور مقبوضہ علاقے کا دارالحکومت گرمیوں میں سری نگر اور سردیوں میں جموّں ہوتا ہے۔2جون1947ء کے فارمولے کا اعلان ہوتے ہی مہاتما گاندھی اور کانگریس کے صدر مسٹر جے بی کرپلانی فوراً کشمیر پہنچے اور مہاراجہ ہرن سنگھ کے ساتھ ساز باز کرکے اپنی سازشوں میں شامل کر لیا۔16اگست1947ء کو تقسیم ہند کے بارے میں جب ریڈ کلف ایوارڈ کااعلان ہوا تو ضلع گورداس پور کی آبادی میں واضح مسلمان اکژیت کے باوجود شرانگیزی و مسلم دشمنی کی وجہ سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا،کیونکہ گورداس پور پر قبضہ کے بغیر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ممکن ہی نہیں تھا۔بھارتی افواج کشمیر میں27اکتوبر1947ء کی صبح کو داخل ہوئیں پاکستان کے جی ایچ کیو کو ایک رات پہلے ہی ان کے ارادوں کا پتّہ چل چکا تھا اور جب قائد اعظم نے بری فوج کے قائم مقام کمانڈر انچیف جنرل سرڈگلس گریسی کو حکم دیا کہ پاکستانی افواج کو بلا تاخیرکشمیر میں بھیج دو تو جنرل گریسی نے اس حکم کی تعمیل کے بجائے نئی دہلی میں موجود فیلڈمارشل سر کلا ڈوگنیگ کومطلع کیا جو اس پیغام کے ملتے ہی اگلے روز لاہور آ کر دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا، کہ اگر ایسا کیا گیا توپاکستان کی فوج میں موجود تمام برطانوی افسروں کوواپس بھیج دیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کی ساری افواج غیر منظم ہوجائے گی۔1965ء تک سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ133بار آچکا تھا،کبھی بھارت کہنے پراور کبھی پاکستان کی درخواست پر،سلامتی کونسل کے ڈاکٹر فرینک پی گراہم نے1951ء اور1958ء کے درمیان سلامتی کونسل کو6مختلف فارمولوں والی رپورٹیں پیش کیں، جن میں موجود ہر فارمولے کو پاکستان نے مانااور اس کے برعکس بھارت نے ہر دفعہ نامنظور کیا۔ پچھلے21سال سے کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے مزاحمت او رمسلحّ تحریک کے لئے کوششیں کر رہے ہیں،حق خودارادیت کی اس تحریک کو کچلنے کے لئے بھارت ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے،اور بے انتہا سفاکی وسربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔جنوری 1989ء سے 30 جنوری تک لگ بھگ آٹھ ہزار کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیااورہزاروں کو گولیاں مار کرشہید کیا گیا،دس ہزار سے ذایدخواتین کی بے حرمتی کی گئی جبکہ تقربن ایک لاکھ کے قریب مکانات اوردوکانوں کو تباہ وبرباد کردیا گیا،ہزاروں خواتین بیوہ جبکہ بچے یتیم ہو چکے ہیں ہزاروں کشمیری لاپتہ اور سینکڑوں تا حال گرفتار ہیں۔اور تو اور بھارت نے کشمیر میں چار ماہ سے ذیادہ کرفویوں لگا کر ظلم اور بربریت کا ایک عالمی رکارڈ بھی اپنے نام کیاہیں۔لیکن بھارت جب بھی بین الاقوامی یا اندرونی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تووہ پاکستان کو مذاکرات کے جال میں الجھا لیتا ہے اور جونہی اس پر دباؤ ختم ہوتا ہے تو بھارت ان مذاکرات اور اس کے تمام نتائج سے منہ پھیر لیتاہے۔مسئلہ کشمیر اب تک صرف معاہدوں کی نذرہی رہا ہے،1966ء میں معاہدہ تاشقند ہوااور پھر6برس بعد معاہدہ شملہ ہوا یکم جنوری1949ء سے اب تک مسئلہ کشمیر یو این او کی قدیم دستاویزوں کے محافظ خانوں میں سال ہا سال سے جمع ہو کر مقفل ہو جاتا ہے۔ہر سال پوری دنیا میں کشمیری 5فروی کو یوم کشمیرکے طور پر مناتے ہیں،پوری دنیا میں کہیں بھی کسی بھی فورم پر مسئلہ کشمیر کا ذکر ہو تاتو بھارت اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اوراس کو پاکستان کی سرحدوں پرجنگ کے بادل منڈلاتے ہوئے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اب تو کشمیر کا نام بھی اگرلیا جائے تو بھارت اس کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تشبیہ دیتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ صرف بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ بھارت نے ریفرنڈم کا فارمولہ خود تسلیم کیا اور بعد میں جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔ بھارت نے اپنا موقف کیوں تبدیل کیا؟ اقوام متحدہ بھی مسئلہ کشمیر کی ذمہ دارہے جو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہے۔۔5 فروری کا دن ہر سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے،ملک بھر میں جلسے ، سیمینارز منعقد کئے جاتے ہیں،حکومت سرکاری سطح پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے اعلان کرتی ہے۔سیاسی ومذہبی جماعتیں بھی5فروری کویوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مختلف پروگرامات کا انعقاد کرتی ہیں۔یوم یکجہتی کے دن پاکستان بھر کی مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ اہل پاکستان ان کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرعوام اقوام متحدہ،سلامتی کونسل،او آئی سی اور دیگر ذمہ دار اداروں سے اس بات کامطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ ریاست کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار اداکریں اور بھارت پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و تشدد کا سلسلہ بند کرے۔یہ ایک تا ریخی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مقد مہ جواہر لال نہرو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے۔یو این نے کشمیر یوں کو حق خودارادیت دینے کی قر ارداد منظو ر کی۔ کشمیر ی 69 سا ل سے یہ حق حا صل کر نے کے لئے بے مثا ل قربانیاں دے رہے ہیں۔اس وقت ہمارے موجودہ حکمرانوں کو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم اور اس کے اصل چہرے کو پوری دنیا پر بے نقاب کرنا چاہیے، عالمی اداروں سے مسئلہ حل کروانے کی توقع رکھنافضول ہے لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانا کرتے، ہندو بنیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے اس کو اسی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔پا رلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اپنا رول ادا کر ے’’کشمیر بنے گا پا کستان‘‘ کے نعر ے کو بلند کرے۔ اس حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں والا دوٹوک اصولی موقف اختیار کیاجائے اور پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کیا جائے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اورجنت نظیر وادی کو درندوں سے آزاد کریا جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یااللہ تو کشمیر سمیت دنیا کے تما م مسلمانوں پر رحم فرما۔(آمین)۔

(Visited 68 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *