پہلی رات ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

سر! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔خلیل الرحمن نے اپنے بعد اپنے بھائی کو فوج میں بھرتی کروانے کے بعد ہی میجر صاحب کے پاس حاضری بھرتے ہوئے ۔ایک زور دار سلیوٹ کیا اور پھر اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا۔۔
جی ۔جی ضرور !! کیا بات ہے تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو۔۔میجر نے اپنی نفری کے بندے کو بڑے پیارسے کہا ۔اور اپنے پاس پڑی کرسی کی طرف بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا۔۔
سر! خلیل الرحمن پُرجوش لہجے میں بولا اور پھر ایک دَم کھڑا ہو گیا ۔۔۔وہ اپنے آفیسر کے سامنے بیٹھنے کو اپنی توہین سمجھ رہا تھا ۔۔اس لیے اُس نے سوچا کہ مجھے اپنے آفیسر کی عزت کرتے ہوئے کھڑے ہی ہو کر بات کرنی چاہئیے۔۔
جی جی !!فرمائیے ۔۔۔۔میجر نے پیار سے اُسے مخاطب کیا۔۔
سر!!۔۔میرا بھائی بھی فوج میں بھرتی ہوا ہے ۔۔وہ مجھ سے چھوٹا ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے سیکشن میں میرے ساتھ اور آپ کے زیرِ سایہ رہے ۔۔سر ۔۔۔سر۔۔۔وہ ابھی چھوٹا۔۔۔ہے۔۔میرا جانِ جگر۔۔میرا بھائی۔۔۔خلیل الرحمن نے اپنی بات بمشکل مکمل کی اور میجر کی پُر کشش شخصیت کے آگے اُس کی کانپتی ہوئی آواز اُس کا ساتھ دینے سے قاصر تھی۔مگر وہ بھائی کی محبت اور فکر سے سرشار تھا ۔وہ اپنے آفیسر کے عہدے اور رُعب کے دبدبے سے خوف زدہ دیکھائی دینے لگا۔
فکر نہ کرو !!خلیل الرحمن ۔۔۔اُسے کچھ نہیں ہو گا۔۔میجر نے ایک دَم سے کرسی کو پیچھے کی طرف دھکیلا اور کھڑے ہو کر خلیل الرحمن کے کندھے پہ ایک زور دار تھپکی دی۔۔اور اپنے آفس سے باہر چلا گیا۔۔خلیل الرحمن کے چہرے پہ ایک مطمئن کر دینے والی مسکراہٹ دوڑنے لگی ۔اور اُس کے دل کو یقین ہونے لگا کہ میجر کے اس جملے میں اُ س کی بات کا مثبت جواب ہے۔۔وہ نظروں سے میجر کا شکریہ ادا کرتا ہوا اُس کے پیچھے آفس سے باہر آ گیا۔۔
کہاں گیا تھا تو۔۔خلیل الرحمن ۔۔۔شیر دل نے اُسے اپنی طرف آتے دیکھا تو پوچھا ۔
میں میجر صاحب کے پاس۔۔۔خلیل الرحمن آدھی بات بتا کر اُس کے پا س بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
خیرتو ہے نا ۔۔یارا۔۔۔۔شیر دل نے اپنا دائیاں ہاتھ ہوا میں لہرایا اوراُن کے پاس جانے کی وجہ پوچھی۔
وہ ۔۔بس۔۔۔خیر ہی ہے یار۔۔۔میرا چھوٹا بھائی بھی فوج میں بھرتی ہوا ہے ۔تو مجھے اُس کو لے کے فکر ہو رہی تھی ۔۔سوچا میجر صاحب سے بات کروں کہ وہ میرے بھائی کو میرے سیکشن میں کر دے ۔تا کہ وہ میرے ساتھ ہی رہے ۔۔خلیل الرحمن نے اپنے دوست شیر دل کو ساری بات بتا دی جس کی فکر میں وہ کل رات سو نہ سکا تھا۔
ہاں یارا!! تم نے بہت اچھا کیا ۔۔۔۔اپنے سیکشن کے میجر صاحب بہت اچھے ہیں ہم سب کا اپنے بھائیوں کی طرح خیال رکھتے ہیں۔۔ہماری بات سنتے ہیں۔۔اور سمجھتے ہیں۔۔شیر دل نے بھی اپنے میجر کی تعریف میں بہت کچھ بول دیا ۔۔اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے انداز میں آسمان کو دیکھتے ہوئے نظریں جھکالیں۔۔
جماعت کو گائیڈ کرنے والا اگر اچھا اور ایمان دار ہو تو اس سے نہ صرف ماحول اچھا رہتا ہے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی بھی پیدا ہوتی ہے اور جماعت ایک اچھی راہ پہ بھی چلنے لگتی ہے۔
خلیل الرحمن نے اپنے میجر کی تعریف میں بولا ۔۔اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں کو محسوس کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرنے لگا۔۔جہاں وہ بیٹھے گرمی کو دُور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔اِن دنوں دن میں شدید گرمی پڑتی اور رات میں کچھ ٹھنڈ ہونے لگتی۔۔ساری نفری رات میں کھلے آسمان کے نیچے ہی سوتی تھی۔۔
ہاں!!اللہ ہمارے میجر کو زندگی دے ۔۔شیر دل نے دعا دی اور پھر اچانک ایک سیٹی کی آواز پہ وہ دونوں اُس آواز کی طرف دوڑنے لگے ۔۔اُن کے ساتھ ساتھ باقی نوجوان بھی دُوڑتے ہوئے اُس طرف جانے لگے۔۔
پھر سب کے سب دو تین لائینوں میں کھڑے ہو گئے ۔اور اُن کے سامنے اُن کو ٹریننگ دینے کے لیے ایک کوارڈینیٹر کھڑا ہو گیا۔۔جب کہ ہر نفری کا میجر بھی وہیں پہ موجود تھا۔۔جو یہ ٹریننگ اپنی اپنی نگرانی میں ہر روز کرواتے تھے۔۔سیٹی کی آواز آتے ہی لائینیں ایک دم سے ایسی سیدھی ہو گئیں جیسے کوئی تار کھینچ دی گئی ہو۔اور سارا گراؤنڈ خاکی رنگ کی چادر سے تنا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پہ ایساجما ہوا تھا جیسے برف جم گئی ہو۔۔اور اُس پہ کوئی چیز بھی اثر نا کر سکتی ہو۔۔
ٹریننگ ہر روز ایسے ہی جوانوں کو گرم اور پُرجوش رکھنے کے لیے کروائی جا تی تھی ۔جو ایک طرح کی ورزش بھی تھی ۔۔تا کہ اُن کے بدن چاک و چوبند رہیں۔۔
اللہ اکبر ۔۔۔اللہ اکبر۔۔پھر ایک ساتھ اللہ اکبر کے نعروں کی آواز گونجنے لگی۔
پاکستان ۔۔۔۔۔ایک بھاری آواز والے نوجوان نے اپنے وطن کا نام پکارا۔
زندہ باد۔۔۔۔اُس کے جواب میں سب نوجوانوں نے زندہ باد کے نعرے لگائے۔۔سار ا میدان کسی میدانِ جنگ کا سا سماں پیش کرتا دکھائی دینے لگتا۔۔۔
میرے وطن کے جوانو !!! میجر عزیز بھٹی اپنی نفری کے جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد بولے۔۔تو ایسے لگا جیسے سارے جوانوں میں کوئی بجلی سی بھر دی گئی ہو۔سب ایک دَم سے جوش میں آکر میجر صاحب کو ہمہ تن گوش سننے لگے۔۔میجر صاحب ہمیشہ اپنی گفتگو کا آغاز ۔۔میرے وطن کے جوانو۔۔ہی کے الفاظ بول کر کرتے تھے ۔۔اور یہ الفاظ اُن سب جوانوں کے سینوں میں ایک تیز ترین تیر کی طرح پیوست ہو جاتے۔جو اِن کو فوری طور پہ جوش اور جذبے میں لے آتے وہ جذبہ جو اُنھیں اپنے وطن کے لیے شہید ہونے پہ اُکساتا تھا۔۔اور وطن کا نام سُنتے ہی اُن کا جسم لوہے کی مانند سخت ہو جاتا۔۔یہ اُن نو جوانوں کی اپنے وطن سے سچی محبت تھی ۔جو وہ اُس کا نام سُنتے ہی جاگ اُٹھتے تھے۔۔
وطن ایک دھرتی ماں کی طرح ہوتاہے۔اور ہمیں اِس دھرتی ماں کی حفاظت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ہمارا اِس راستے پہ آنا ہی اِس بات کی گواہی ہے کہ اللہ نے ہم پر ایک بہت بھاری زمہ داری عائد کر دی ہے جیسے ہم نے اپنی جان کی پروہ نہ کرتے ہوئے نبھانا ہے۔اِس پہ ہماری جان ،مال حتٰی کہ سب کچھ قربان ہے۔
جیسے ہم اپنی ماں کی حفاظت کرتے ہیں اُسے ایک چادر میں ڈھانپ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔۔اسی طرح ! ہم نوجوان اپنی دھرتی ماں کے لیے خاکی چادر کی مانند ہیں۔۔اور یہ خاکی چادر اپنی دھرتی ماں کو ہر بُری نظر اُٹھا کر دیکھنے والے کی آنکھ کو پھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔جس طرح اپنے جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے ایک ماں کو کوئی فکر نہیں ہوتی اسی طرح ہم نوجوانوں کے ہوتے ہوئے اس دھرتی کو کسی بھی چیز کی کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے ۔ہمارے ہوتے ہوئے اُ س کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
میجر صاحب کی ایک ایک بات سب جوانوں کے دل میں اُترنے والی ہوتی تھی ۔۔پھر اپنے وطن کے نعرے ہر جوان کو جوش دلاتے تھے۔۔
اس کے بعد ہر ایک وطن پہ قربان ہونے کا جذبہ لیے وہاں سے چلا جاتا اور اپنے ملک کی سلامتی کے لیے بھی آخر میں خصوصی دعا کی جاتی۔
یارا !!!یہ کیا ہے ؟ آج پھر دال۔۔۔شیر دل نے شوربے والی دال کی پلیٹ دیکھتے ہی مُنہ بسورہ اور باقی ساتھیوں کی طرف دیکھا۔۔
اللہ کا شکر ادا کرو ۔۔خلیل الرحمن نے اُسے ہاتھ مارتے ہوئے کہا اور روٹی کے دو حصے بنا کر ایک حصّہ اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔پھر دال میں ڈبو ڈبو کر ہر ہر لقمے کا مزہ لینے لگا۔۔
وہ تو ٹھیک ہے یار ۔۔پر ہفتے میں دو بار ۔۔اُف۔۔۔نہیں کھائی جاتی۔۔شیر دل نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے کہا ۔۔اور پھر ایک لقمہ دال کے شوربے سے بھر کے مَنہ میں ڈال لیا۔۔وہ زور سے اُسے چبانے لگا۔۔
پہلے کھانا تو ٹھیک سے کھا لو یار۔۔۔پھر پانی پینا ۔۔رات پھر کہو گے مجھے بھوک لگی ہے اور پھر ماں کے ہاتھ کی بنی پنجیری کھول کے بیٹھ جاتے ہو ۔۔خلیل ا لرحمن نے اُسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہا۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔شیر دل ایک قہقہے کے ساتھ ہنسا ۔۔تو سب آس پاس بیٹھے جوان بھی اُس کا ساتھ دیتے ہوئے ہنسنے لگے۔۔
ہیشش ۔۔۔چُپ۔۔اوئے۔۔۔۔ایک ساتھ میں بیٹھے جوان نے اپنے ہونٹوں پہ شہادت کی انگلی کو جماتے ہوئے کہا ۔۔تو اُس کے منہ سے ۔۔بمشکل شی کی آوازنکلی۔۔
اوئے یارا !! میجر صاحب۔۔شیر دل نے بھی دروازے سے میجر کو آتے دیکھا تو آہستہ سے کہا ۔۔پھر سب ایسے چپ سادھ گئے جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہو۔
میجر صاحب اگر دل کے نرم اور خیال رکھنے والے انسان تھے تو اُن کا رُعب اور دبدبہ بھی جوانوں پہ بہت تھا ۔اُن کی ایک ہی آواز پر سب لرز اُ ٹھتے تھے۔
تم کیا کر رہے ہو ۔شیر دل۔۔میجر صاحب نے شیر دل کو ٹینکر کے نیچے بچھے ہوئے دیکھا تو پریشان ہو کر پوچھا۔۔
سر!!!!! میں ٹینکر صاف کر رہا ہوں ۔۔شیر دل جلدی سے ٹینکر کے نیچے سے باہر آیا اور عاجزی سے کھڑے ہو کر بولا۔۔
کیوں ۔۔۔۔کیوں صاف کر رہے ہو ۔۔میجر صاحب نے بات کو کھینچ کر کہا۔
سا ۔۔سر ! ہمیں اپنے دُشمنوں سے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے ۔۔دُشمن پہ بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔۔شیر دل نے اپنے ہی انداز میں بات کی ۔۔اور جلدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر سے ٹینکر کے نیچے لیٹ گیا ۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔تمہارا قصور نہیں ہے ۔بیٹا تم ہو ہی پٹھان ۔۔۔۔میجر صاحب یہ کہتے ہوئے اُس کی حرکت پہ مسکرا یا۔کیونکہ شیر دل اکثر ایسی حرکتیں کرتا جس سے سب مسکرانے لگتے۔۔۔پھر جلدی سے دوسرے جوانوں کو دیکھنے کے لیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں آگے بڑھ گیا۔۔
اوئے۔۔۔تم ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہو خلیل الرحمن ۔۔۔میجر نے کیمپ کے اندر داخل ہوتے ہی خلیل الرحمن کو جستی کے ڈبے میں کسی چیز کو کھاتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
سر!!! وہ ۔۔ما۔۔میں ۔۔۔پنجیری کھا رہا ہوں۔۔خلیل الرحمن نے جلدی سے پنجیری کھانا چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا۔۔۔میجر نے اچھا ۔کہتے ہوئے ایک نظر اُس ڈبے پہ ڈالی جو خلیل الرحمن نے ایک طرف رکھ دیا۔۔۔۔
س۔۔ا۔۔سر۔۔ وا۔۔وہ۔۔یہ میری نہیں ۔۔شیر دل کی ہے۔۔خلیل الراحمن نے ڈرتے ڈرتے کہااورکھانے کا ڈبہ میجر صاحب کے آگے کر کے اپنی نظریں جھکا لیں۔۔
بُری بات ہے ۔۔۔بہت بُری۔۔میجرصاحب نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔۔اور پھر وہاں سے چلے گئے۔
خلیل الرحمن کو ذرہ میرے پاس بھیجو۔۔۔میجر نے اپنے رنرسے کہا ۔
یس۔۔سر۔۔ خلیل الرحمن نے میجر صاحب کے آفس میں آتے ہی ایک زور دار سَلیوٹ کیا اور پھر سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔۔
وہ ہمیشہ آفس میں آتے ہی سب سے پہلے سَلیوٹ کیا کرتا ۔پھر ایسے ہی چپ سادھ لیتا۔۔
تمہارابھائی آج سے ہماری نفری میں ہے۔۔میجر صاحب نے اُسے کہا ۔۔۔تو وہ اچھلنے لگا جیسے اُسے کوئی خوشی کی خبر مل گئی ہو۔
بہت ۔۔بہت۔۔شکریہ صاحب۔۔خلیل لرحمن نے میجرصاحب کا شکریہ ادا کیا۔۔اور اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے ہوئے اُسے ہر وقت گائیڈ کرتا رہتا۔۔۔
کیا ہوا۔ہماری جو نفر ی بھارت میں سڑک پہ کام کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اس کا کام کہاں تک پہنچا ہے۔۔میجر نے اپنے دوسرے ساتھی کو وائرلیس کر کے جاننا چاہا۔۔
جی سر! وہ تو کام مکمل ہو چکا ہے ۔۔وائرلیس پہ بات کرنے والے میجر نے جواب میں کہا۔۔
بات ختم کر کے میجر عزیز بھٹی نے اپنے آفس سے باہر آنا چاہا تو پھر سے وائرلیس کی گھنٹی بجنے لگی۔۔
یس۔سر۔۔میجر نے جواب میں کہا ۔
بھٹی یار تم اپنی نفری کو رَن کَچھ کے مقام پر جلدی بھیجو۔۔وائرلیس پر بات کرنے والے دوسرے آفیسر نے کہا۔۔
سر۔۔۔سب خیر۔۔۔میجربھٹی نے مختصر سے انداز میں پوچھا۔۔
نہیں ۔۔خیر نہیں ۔۔ہم نے جو رَن کَچھ کے مقام پہ ایک سڑک بنائی تھی ۔وہ بھارت میں میلوں دور تک جاتی تھی اس کی خبر اُنھیں ہو چکی ہے ۔۔اور وہاں چرواہے اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے ۔جنھیں اُنھوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔اور کچھ پولیس والے دستے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ہماراریلوے سٹیشن بدین بھی 26 میل کے فاصلے پہ ہے۔جس سے کراچی 113میل پڑتا ہے۔۔مگر بھارت کی رسائی نہیں ۔یہیں پہ پاکستان کی آٹھویں ڈویثرن کا ہیڈ کواٹر بھی ہے۔آ پ کو یہاں نفری بھیجنی ہے۔۔
دوسرے آفیسر نے کہا ۔۔
جی سر۔۔۔میجر بھٹی نے جواب میں کہا۔
دوسری طرف بھارت میں سب سے نزدیک 31ویں بریگیڈ احمد آباد میں ہے ۔جہاں سے نزدیکی ریلوے سٹیشن بھوج سے 180کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔بھارتی سکیورٹی کو پتہ چلا ہے کہ پاکستان نے ڈینگ اور سرائی کو ملانے کے لیے 18میل طویل کچی سڑک بنا لی ہے اور یہ سڑک کئی مقامات پربھارتی سرحد کے ڈیڈھ میل اندر تک جاتی ہے ۔تو بھارت نے اس مسلئے پر مقامی اور سفارتی سطح پر احتجاج بھی شروع کر دیا ہے ۔۔
پاکستان نے اس کے جواب میں بریگیڈ کے کمانڈر اظہر کو اس علاقے میں جارحانہ گشت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
بھارت نے بھی کجر کوٹ کے قریب نصف کلومیٹر جنوب میں سردار چوکی بنا لی ہے۔
او۔کے ۔۔پھر وہ یہ کہہ کر وائرلیس بند کر کے جوانوں کی طرف بڑھا ۔۔۔
جب سب جوان ایک میدان میں اکٹھے ہو گئے تو ایک اجلاس نما تقریر کی گئی پھر حکم ہوا کہ ہر نفری یعنی ہر چوکی کے چار چار جوان وہاں بھیجے جائیں گے ۔تا کہ بریگیڈئر اظہر کی کمانڈ میں بھارت کی چوکی کو تباہ کر دیا جائے ۔اور یہ حملہ 9اپریل کو ہو گا۔۔پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوئے ۔اور اس کے بعدسب اپنی اپنی جگہوں پہ کیمپس میں چلے گئے ۔۔
خلیل الرحمن ۔شرجیل الرحمن شیر دل اورکاکا خان آپ چاروں ہماری چوکی سے بریگیڈ ئراظہر کی کمانڈ
میں جاؤ گے ۔۔میجر بھٹی نے آڈر سائن کر دیئے۔۔
سر۔۔۔اُن سب نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب میں سر جھکائے صرف سر ۔۔سر ۔۔ہی کہا اور پھر اپنا اپنا سامان سمیٹنے کے لیے اپنے کیمپ میں چلے گئے ۔۔
یارا۔۔مجھے تو لگتا ہے ۔۔پاکستان کو باہوت خطرہ ہے ۔۔شیر دل نے پریشانی ظاہر کرتے ہوئے لفظ ۔بہت۔ کوذرہ کھینچ کر کہا ۔
ہاں ۔۔لگتا تو مجھے بھی ایسے ہی ہے ۔۔پر ۔۔ہم اپنے وطن پہ قربان ہو جائیں گے اُس پہ ایک آنچ بھی نہیں آنے دیں گے ۔۔خلیل الرحمن نے دھڑلے سے جواب دیا۔۔
اگلی ہی صبح سب کیمپس میں سے چار چار جوان سردار چوکی کی طرف روانہ ہو گئے۔۔
نو اپریل کو حملہ شروع ہوا ۔اور پھر اُنھیں سردار چوکی ،جنگل،اور شالیمار کی مزید بھارتی چوکیوں پر بھی قبضہ کرنے کاحکم ملا۔
فائر۔۔۔۔۔۔بریگیڈئر اظہر نے دوران لڑائی کہا تو نوجوان فائر کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھنے لگے اور وہاں بھارت کی طرف سے کچھ ریزرو پولیس والے تھے جو پاکستانی جوانوں کے حملے کی تاب نا لا سکے ۔۔اس طرح وہ دونوں چوکیاں بھی ان کے قبضے میں آ گئی ۔۔لیکن سردار چوکی پر چودہ گھنٹے کی لڑائی کے بعد سر اظہر نے گولہ باری روک دی۔
سر بھارتی اپنے اڈے پہ وجیو کوٹ واپس چلے گئے ہیں ۔۔ایک سپاہی نے بریگیڈ ئراظہر کو وائرلیس کیا ۔
چلو ہم بھی واپس ۔چلتے ہیں ۔۔۔اُنھوں نے جوا ب میں کہا اور وہ واپس وہیں چلے گئے جہاں سے وہ صبح چلے تھے۔۔
سر۔۔ پاکستانی جوان واپس چلے گئے ہیں۔۔بھارتی فوج کے ایک جوان نے اپنے آفیسر کوبتایا۔۔
گُڈ۔۔۔ہری اَپ ۔جلدی چلو ۔۔سردار چوکی پر۔۔بھارتی فوج کے بریگیڈ نے آڈر دے دیا۔۔اور وہ بغیر لڑے ہی سردار چوکی پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے۔
سر۔۔بھارتیوں نے پھر سے سردارچوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔۔اظہر بریگیڈ ئرکے ایک سپاہی نے وائرلیس کیا۔۔تو وہ پھر اپنی نفری کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔۔دونوں میں خوب لڑائی شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جنگ چا رماہ تک ایسے ہی جاری رہی۔مگر بھارت مزید نزیبانہ حربے استعمال کرنے پہ تُل آیا۔جس کی وجہ سے یہ جنگ بڑھتی چلی گئی۔۔
اس طرح پہلے والے جوانوں کو واپس کینٹ بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ پہ نئے جوان بلا لیے گئے ۔۔
سر۔۔۔۔۔خلیل الرحمن نے میجر بھٹی کے آفس میں آتے ہی سلیوٹ کیا ۔۔تو میجر نے اُسے اُس کے گھر سے آنے والا تار پکڑا دیا۔۔۔۔
خلیل لرحمن وہ لے کر آفس سے باہر آیا اور جلدی سے اپنے بھائی شرجیل لرحمن کی طرف دوڑتا ہوا آیاکہ اُسے بھی بتائے کہ گھر سے تار آیا ہے۔۔
کیا ہو ابھائی۔۔وہ خلیل کو ایسے تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔اور پھر دونوں بھائی ایک جگہ پر بیٹھ کر تار کے ٹکڑے کو کھول کر پڑھنے لگے۔۔
کیا پڑھ رہے ہو ۔۔یار دونوں بھائی چھپ چھپ کر ۔۔کوئی راز ونیاز ہے ۔کیا۔۔شیر دل نے اُن کو جانچ لیا اور پاس آکر پوچھنے لگا۔۔
وہ گھر سے خط آیا ہے ۔اباّ نے گھر بلایا ہے۔۔ہم دونوں بھائیوں کو۔۔خلیل لرحمن نے اُسے بتایا تو شیردل نے جلدی سے کہا ۔۔خیرتو ہے نا سب۔۔
ہاں ۔۔خیر ہی ہے ۔۔اباّ نے ہماری شادی کی تاریخ طے کر دی ہے اس لیے بلایا ہے۔۔خلیل لرحمن نے منہ کو بسورا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
واہ۔۔شادی۔۔ہمارے یار کا شادی۔۔ہو رہا ہے۔۔ہم ابھی سب کو بتاتا ہے۔۔شیر دل نے خوشی کا اظہار کیا اور جلدی سے اپنے کیمپ میں سب کو بتانے کے لیے دوڑا۔۔
ارے رُک جا یار۔۔شیر دل۔۔۔رُک جا۔۔خلیل لرحمن اُسے پکارتا رہا مگر اُس نے اُس کی ایک نہ سُنی اور سب کو بتا دیا۔۔
شا۔۔ دی۔۔ شادی شادی شادی۔۔اچانک سارے کیمپ سے سب نوجوانوں کا ایک جُھنڈ اُمڈتا ہوا آیا اور اُن دونوں بھائیوں کو اپنے گھیرے میں لے کر شادی شادی ۔۔پکارنے لگے۔۔
اُف ۔۔۔شیر دل۔۔۔خلیل لرحمن اور شرجیل لرحمن دونوں بھائی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔اور شیر دل کو کوسنے لگے کہ سب کو کیوں بتایا اب یہ سب ہمیں تنگ کرنے پہ تُل جائیں گے۔۔
اب ہر ہر وقت سب اُن دونوں بھائیوں کو ایسے ہی چھیڑتے رہتے اور وہ سوائے چپ رہنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
مے آئی کم اِن۔سر۔۔۔خلیل لرحمن نے کہا ۔۔
یس۔۔۔میجربھٹی نے کہا اورپھر ساتھ ہی اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔
سر۔۔۔خلیل لرحمن نے پھر ایک بار اُن کو بلایا ۔۔
خلیل لرحمن ۔۔آج صبح صبح ۔۔۔۔میجر بھٹی نے اُسے ایک نظر دیکھتے ہوئے کہا۔۔
جی سر ۔۔وہ ۔۔خلیل لرحمن نے جھجکتے ہوئے اِکادُکا الفاظ بولے ۔۔تو میجر کو اس کی کچھ سمجھ نہ آئی ۔
اب بولو ۔۔۔میجربھٹی نے اپنا کام چھوڑ کر ساری توجہ خلیل لرحمن کی طرف کی اور کہا۔۔
صاحب ۔۔۔وہ ۔۔مجھے چھٹی چاہئے ۔۔خلیل لرحمن نے چھٹی کی بات کی۔
چھٹی تو ۔۔۔بہت۔۔۔مشکل۔۔۔میجر بھٹی نے لفظوں کو ناپتے تولتے ہوئے کہا ۔۔تو خلیل لرحمن فٹ سے کہنے لگا ۔۔
سر ۔۔میری شادی ہے ۔۔اس لیے مجھے چھٹی چاہئے۔۔
اچھا ۔۔شادی۔۔گڈ۔۔میجر بھٹی نے شادی کا نام سُنتے ہی ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھینکی اور پھر اندازہ لگانے کے انداز میں۔۔ سوچنے لگا۔۔
اچھا ۔۔چلو ۔۔کچھ کرتا ہوں۔۔میجر نے اُسے اُمید دلائی ۔۔
صاحب مجھے اور میرے بھائی کو چھٹی چاہئے ۔ہم دونوں کی ایک ساتھ شادی ہے ۔۔خلیل لرحمن نے اپنی بات مکمل کی ۔
اچھا ۔۔تم دونوں کی اکٹھی شادی ہے۔۔میجر نے پھر ایک نظر اُسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔اور پھر مسکرانے لگا۔۔
شام کو اُن کی چھٹی کنفرم ہوئی ۔۔اور وہ خوشی خوشی اپنا سامان پیک کرنے میں لگ گئے۔۔
میرے یار کی شادی ہے ۔۔ارے میرے یار کی شادی ہے۔۔رات کھانے سے فارغ ہوتے ہی جب سب ایک ساتھ چائے پینے کے لیے بیٹھے تو شیر دل نے خود ہی گانا بنا کر گانا شروع کر دیا ۔۔وہ اپنے دوست کی شادی کی خوشی منانے لگا ۔۔
ہمارے یار کی شادی ہے۔۔۔شیر دل کے ساتھ باقی سب ساتھی بھی مختلف گانے گانے لگے۔۔اس طرح وہ اپنے یاروں کی شادی کا جشن منانے لگے ۔۔
مہندی ۔سجے گی میرے یار کے ہاتھ میں۔۔اُن میں سے ایک ساتھی اُٹھا اور سب کے درمیان میں آکر گھومنے اور ناچنے لگ گیا ۔۔وہ ایسے ڈانس کر رہا تھا کہ جیسے مہندی اُٹھائے ناچ رہا ہو۔
ہاہاہاہاہا۔۔پھر ایک دم سب تالیاں بجاتے ہوئے ہنسنے لگے۔۔
یار تم سب لوگ بھی ہوتے ساتھ تو بہت مزہ آتا۔۔خلیل لرحمن نے گھر جاتے ہوئے اپنے سب ساتھیوں سے کہا ۔
ہماری نوکری ہی ایسی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نہ خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں اور نہ دُکھ درد میں۔۔ہماری تو خوشی بھی فوج ہے اور غم کا ساتھی بھی۔۔۔ایک سپاہی نے بڑے دُکھی انداز میں کہا۔
یار تو فکر نہ کروتمہاری بھی شادی کا وقت آجائے گا۔۔اُن میں سے ایک اور ساتھی نے اُسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تو باقی سب ہنسنے لگے۔۔ہاہاہا۔
ٹھہر جا ۔۔سہی۔۔۔جس ساتھی نے کہا تو دوسرا اس کے پیچھے اس سے بدلہ لینے کے لیے دوڑا پھر وہ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے لگے ۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔اب اس کی خیر نہیں ہے۔۔سب ایک ساتھ بولے۔۔
سب سے ملنے کے بعد وہ دونوں اپنے گھر کو چلے گئے۔۔
***
او۔بھائی صاحب تمہارے لاڈلے کب آئیں گے ۔۔اب تو شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں۔۔کرم علی نے اپنے بھائی واجب علی سے کہا۔۔
تار تو بھیجا ہے ۔جیسے ہی ملے گا انھیں ۔تبھی کچھ پتہ چلے گا کہ کب آئیں گے۔۔واجب علی نے جواب میں کہا۔
اگر اُن کو چھٹی نہ ملی تو۔۔کرم علی نے پھر اپنے بھائی سے پریشان ہو کر پوچھا۔۔
او ۔اللہ خیر کرے گا سب ۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔واجب علی نے اپنے بھائی کو تسّلی دیتے ہوئے کہا۔۔
نیک بختے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر ۔۔واجب علی نے اپنی بیوی کو آواز لگائی اور کہا۔
اچھا لاتی ہوں ۔۔وہ جواب میں بولی اور جلدی سے لسّی کے گلاس میں مکھن ڈال کر لے آئی۔۔
ساری تیاریاں مکمل ہیں نا۔۔واجب علی نے اپنی بیوی سے پوچھا۔
ہماری کیا تیاری ہونی ہے ۔۔خلیل لرحمن کے ابّا۔۔۔تیاری تو لڑکی کے گھر میں ہوتی ہے ۔۔کوئی داج واج بنانا ۔اور زیور ۔۔۔وہ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے رُک گئی۔
ہاں ۔کہتی تو تو ٹھیک ہی ہے۔۔واجب علی نے اُسے کہا۔۔اور پھر حقے کا گش لگانے لگا۔۔
تم جہیز کا کچھ نہ کرنا ۔۔اپنے گھر کی ہی بات ہے ۔۔کرم علی۔۔ہم بھائی ہیں یہ سب چیزیں تو غیروں میں پائی جاتیں ہیں۔واجب علی نے اپنے بھائی کو سہارا دیتے ہوئے کہا۔۔
یہی تو فائدہ ہوتا ہے اپنوں میں رشتہ جوڑنے کا۔۔ہم دونوں بھائی ایک ہی گھر میں بیاہے گئے ہیں اور اب ہمارے بیٹے بھی ۔۔۔واجب علی نے پھر ساری پُرانی تفصیل پڑھ ڈالی۔۔
ایک طرف دونوں بھائی اور دوسری طرف دونوں بہنیں۔۔اب ایسے ہی ہمارے بیٹے بھی۔۔بیاہے جائیں گے۔۔کرم علی نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
اپنا مارے تو چھاؤں میں ڈالے ۔پرایا مارے تو دھوپ میں۔۔۔۔۔بڑے بھائی کی بیوی جو پاس بیٹی تھی اُس نے ان کی باتیں سن کر محاورہ بول دیا۔
ہاں صحیح کہتی ہو ۔بڑی۔۔کرم علی کی بیوی بھی ان کی باتیں سننے کے لیے پاس آبیٹھی ۔۔اور بڑی بہن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگی ۔۔
اسلام علیکم! ابّا جی۔۔خلیل لرحمن اور شرجیل لرحمن نے ایک ساتھ گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کیا۔۔
او۔۔۔میرے شیر آگئے۔۔واجب علی نے بڑے جوش کے ساتھ سلام کا جواب دیا اور پھر اُن کے استقبال میں اُن سے ملنے کے لیے کھڑے ہو کر کہا۔
وہ دونوں سب کے گلے ملے۔۔اور پھر ان کے پاس بیٹھ گئے۔۔
اور سنا پُتر ۔۔۔کرم علی نے پوچھا۔
بڑی مشکل سے چھٹی ملی ہے ۔۔حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔چاچا جی۔۔شرجیل نے کرم علی کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
میرے بھائی آگئے۔۔۔جنت بھائیوں کو دیکھتے ہی چلِائی جو خلیل اور شرجیل کی چھوٹی بہن تھی ۔۔
دونوں بھائیوں نے اُسے گلے سے لگا کر پیار کیا۔۔اور اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اماں ۔۔اب تو میں گانے رکھ سکتی ہوں گھر پہ۔۔اب تو بھائی لوگ بھی آگئے ہیں۔۔جنت نے خوشی خوشی اپنی ماں سے کہا۔
اچھا اچھا۔۔آج سے تم ڈھولکی رکھ لینا۔۔اماں نے خوشی سے اجازت دے دی۔
یہ کوئی ضروری ہے ۔۔بیگم ۔۔۔واجب علی نے بیوی کو ڈانٹتے ہوئے سوال کیا۔۔
ہاں ۔ضروری ہی ہے۔۔بچی کو کرنے دیں آپ۔۔بس ۔۔اس کی بیوی نے رضامندی کا اظہار کیا۔اور پھر بولی۔۔
یہ بہنوں کے ارمان ہوتے ہیں جنھیں اپنے بھائیوں کی خوشی میں نکالنے کا موقع ملتا ہے۔۔ایک ہی تو خوشی ہوتی ہے ان کی زندگی میں کہ وہ اپنے سب ارمان بھائیوں کی شادی میں پورے کریں۔
وہ بات کرتے کرتے اپنی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو صاف کرنے لگی۔۔
پھر دونوں کو کھانا وغیرہ کھلایا گیا۔۔اور ایک ہفتے کی چھٹی پہ وہ دونوں بہت خوش تھے۔۔وہ اپنے اُن سب دوستوں سے ملنے بھی گئے۔۔جو اُن کے گھر کے قریب میں رہتے تھے۔۔
یہ کیا ؟۔۔۔خلیل ا لرحمن نے شام کو گھر واپس آتے ہی پوچھا ۔۔
پُتر ۔۔کرنے دو آج جنت نے اپنی سب سہلیوں کو ڈھولک پہ بلایا ہے۔۔ماں نے بیٹے کو جواب میں سمجھانا چاہا۔
پھر ہر طرف سے گانے بجانے کی آوازیں آنے لگی۔۔اور گھر میں خوشی کا سماں تھا۔
ارے۔۔بھائی آپ ادھر کیوں آ رہے ہیں۔۔جنت نے اپنے بڑے بھائی کو منع کیا۔۔
کیوں ۔ادھر کیا ہے ؟۔۔ہٹو مجھے جانے دو۔۔خلیل لرحمن نے زبردستی اُس کے ہاتھ کو پیچھے کی جانب ہٹایا اور آگے بڑھ گیا۔۔
بھائی ۔۔آگے بھابھی ۔۔مائیوں پہ بیٹھی ہیں۔۔جنت نے بھائی کو آواز لگائی ۔مگر تب تک وہ اندر جا چکا تھا۔۔
تم۔۔۔یہاں۔۔۔خلیل لرحمن نے اپنی منگیتر سے کہا ۔تو اس کے پاس کھڑی اس کی بہن جوشرجیل کی بیوی بننے جا رہی تھی جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئی ۔وہ گھبرا کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چھت پہ جا پہنچی۔۔وہ سب ساتھ ساتھ گھر وں میں رہتے تھے ۔اس لیے خلیل الرحمن کو پتہ نہ تھا کہ یہاں اس کمرے میں وہ موجود ہوں گی۔۔
سلام ۔۔۔خلیل کی منگیتر نے سلام کیا۔۔
تم ۔۔پا۔۔پی۔لے ۔۔جوڑے میں ۔۔ابھی ۔۔سے دُلہن بن گئی ہو۔۔خلیل ا لرحمن نے اسے پیلے جوڑے میں سجا سجایا دیکھا تو کہا۔
آپ کو اتنا بھی نہیں پتہ۔۔ابھی مائیوں ۔میں ہوں۔۔اُس کی منگیتر نے جواب دیا۔جو پیلے جوڑے میں نہایت ہی خوبصورت دیکھائی دے رہی تھی ۔۔اُس کے کندھوں کو چھوتے بال ۔سویّوں کی طرح ایک ایک اس کے شانے کو چھونے میں مصروفِ عمل تھے۔اور پیلے جوڑے کے ساتھ اس کے کانوں میں لٹکتے ہوئے چاندی کے بُندے ایسے چمک رہے تھے کہ جیسے آج ہی چاند اپنی روشنی پھیلانے کے لیے بضد ہو۔
خلیل ا لرحمن اُسے مسلسل گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔
تم بدل کیسے گئی ۔۔نا ۔۔نگین۔۔خلیل الرحمن نے اُس کا نام لیتے ہوئے کہا۔۔
نگین نے اپنا نام اُس کے منہ سے سنتے ہی ایک آنکھ سے دیکھنے کے لیے اپنے چہرے سے ہلکا ساڈوپٹے کے پلو کو ہٹایا ۔اور اُس کی مست جوانی کو دیکھتی رہ گئی۔۔وہ اُس کے سامنے ایک چٹان کی طرح مضبوط ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی بھی اُسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا ہو۔ اُ س کی نہایت چھو لینے والی قدامت اور اُ س پہ ججتا ہوا بالوں کا اسٹائل سیدھا اُس کے دل کو جا لگا۔
سفید رنگت اُس کی جوانی کی تعریف کرتے ہوئے نہ تھکتی تھی۔۔وہ لمبا چوڑا مگر سمارٹ سا نوجوان فوجی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ اُس کے سامنے اپنی شریفانہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔
نگین کی ایک ہی نظر اُس کے دل کو بے تاب کرنے کے لیے کافی تھی جبکہ نگین خود بھی اُس کے اِس شریفانہ انداز سے لٹ پٹ چکی تھی۔ایک بار اگر اُس کی شریفانہ نظریں نگین کو اپنی لپیٹ میں لیتی تو دوسری طرف خلیل ا لرحمن کو نگین کے ایک آنکھ سے چھپ کر دیکھنے کا انداز دیوانہ بنانے میں مصروف تھا۔
کیسے ہیں آپ؟ نگین نے ہمت کر کے اُس کا حال پوچھ ہی لیا۔۔
ٹھا۔۔ٹھیک۔۔ہوں۔۔پا۔۔۔پر۔۔تم۔۔بہت۔۔خلیل ا لرحمن نے لفظوں کو ہکلاتے ہوئے کہا۔۔اور پھر اُس کی مست جوانی میں کہیں کھو گیا۔۔
نگین بیٹا کدھر ہو۔۔۔۔۔نگین کی ماں نے آواز دی ۔۔
اوہ۔۔چاچی ۔۔آگئی۔۔۔۔خلیل ا لرحمن کے منہ سے بے اختیا ر نکلا اور وہ ڈر کر وہاں سے چلا گیا۔۔کہ اگر چاچی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔۔جب کہ وہ تو انجانے میں وہاں آن پہنچا تھا۔۔
بیٹا ۔۔ذرہ چھت پہ جا کر دیکھو کہ ٹینٹ لگانے کی جگہ ہے یا نہیں۔۔شرجیل الرحمن کو ماں نے چھت پہ دیکھنے کے لیے بھیجا۔۔
جی۔۔امی۔۔یہاں پہ کیل موجود ہے ہم آسانی سے ٹینٹ لگا سکتے ہیں۔۔شرجیل نے چھت کے کنارے پر کھڑے ہو کر کہا اور پھر جلدی سے پیچھے کی طرف مڑا ۔۔
مڑتے وقت وہ وہاں پہ موجود مہ جبین کے ساتھ ٹکرایا۔۔جو ڈر کے مارے چھت پہ کھڑی تھی کیونکہ جب خلیل ا لرحمن اچانک کمرے میں آگیا تھا تو وہ بھاگ کر چھت پہ چلی گئی تھی۔۔اور اُسے نہیں معلوم تھا کہ شرجیل ایسے وہاں پہ آجائے گا۔۔
اوہ۔۔آ۔۔۔آ۔۔آپ۔۔یہاں۔۔مہ جبین نے رُک رُک کر کہا۔
تا۔۔تا۔۔تم ۔۔میرے پیچھے کیوں آئی۔۔شرجیل الرحمن نے جلدی سے لفظوں کا جال بُنا۔۔
میں ۔۔کیوں آؤں گی بھلا آپ کے پیچھے۔۔آ۔۔آپ خود آئے ہیں۔۔مہ جبین نے جلدی جلدی کہا۔۔
اچھا ۔۔اب تو لڑنا چھوڑ دو۔۔اب تو ہماری شادی ہو رہی ہے۔۔شرجیل الرحمن نے بڑے تحمل سے اُسے سمجھانا چاہا۔۔
آہ۔۔۔مہ جبین نے شادی کا لفظ سُنتے ہی اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔شرجیل ا لرحمن کی اُس کی اِس طرح حرکت کرنے پہ ہنسی نکل گئی۔۔
وہ اکثر اوقات ایسے ہی بچوں کی طرح لڑتے رہتے تھے ۔اورسارے گھر میں شو ر وغل کرتے ہوئے بھاگتے تھے۔۔۔کزن ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کا بچپن بھی ایک ساتھ گزراتھا اس لیے وہ ایسی حرکتیں کرتے ہوئے دِکھائی دیتے تھے۔۔
اچھا۔۔سُن۔۔۔۔۔شرجیل ا لرحمن نے رُک رُک کر کہا ۔اور ہلکی سی سیٹی بجائی۔۔
اوہ۔۔۔۔اللہ جی۔۔۔فوجی ایسے بھی ہوتے ہیں ۔۔کیا۔۔مہ جبین نے لمبا سانس لیا اور اپنا دائیاں ہاتھ منہ پہ رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاہاہاہا۔۔اُس کے اِس انداز پہ شرجیل ا لرحمن کی مزید ہنسی نکل گئی ۔۔
ویسے ایک بات ہے ۔۔تم شرماتی ہوئی بہت پیاری لگتی ہو۔۔بس آئندہ لڑنا نہیں ۔۔وعدہ۔۔۔۔شرجیل الرحمن نے جلدی سے کہا اور وعدہ لینے کے لیے اپنا دائیاں ہاتھ اُس کے آگے پھیلادیا۔۔
آ۔۔آپ بہت وہ ۔ہو گئے ہیں۔۔مہ جبین نے جلدی سے اُس کا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا۔۔
تو۔۔کیا ایک فوجی کا دل نہیں ہوتا ۔۔میں ایک عام سپاہی ضرور ہوں مگر میرے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے ۔اپنی محبت کے لیے ۔۔۔شر جیل ا لرحمن نے بڑے عاجزانہ انداز میں کہا۔۔
اچھا جی یہ۔۔کب سے انکشاف ہوا۔۔۔مہ جبین نے اپناہاتھ ہوا میں لہرایا اور اُسے شوخی سے کہا۔۔
اب ضروری تو نہیں کہ بندہ ہر وقت لڑتا ہی رہے۔۔شرجیل ا لرحمن نے اپنی نظروں کو جھکاتے ہوئے کہا۔
اور مہ جبین اُسے مسلسل گھورنے لگی ۔تو شرجیل ا لرحمن کی جھُکی ہوئی نظریں بھی اُس کے سارے جسم کا محاصرہ کرے ہوئے تھیں۔۔جنھیں مہ جبین بار بار دیکھ رہی تھی کہ کیسے وہ جُھکی جُھکی نگاہیں اُٹھاتا اور مہ جبین کے سراپے کا محاصرہ کرتاہے۔۔
مہ جبین بھی پیلے جوڑے میں اُسے خوب بھا رہی تھی ۔جو اپنی نئی نئی جوانی کے ساتھ ایک اَن چھوئی کلی سی لگ رہی تھی جو ابھی ابھی شبنم میں نہا کہ نکلی ہو۔۔جبکہ شرجیل الرحمن بھی ایک ہلکی سی عمر کا نوجوان تھا جو اپنے اندر ساری فوجیوں والی خوبیاں رکھتا تھا۔۔۔
کیا ہے؟۔۔۔۔مہ جبین وہاں سے جانے کے لیے مڑی تو اُس کا اپنے آگے ہاتھ دیکھ کر اچانک رُک سی گئی اور بولی۔
تھوڑی دیر اور رُک جاؤ۔۔ابھی مجھے دیکھنا ہے۔۔شرجیل الرحمن نے شرماتے ہوئے لفظوں کو گوندھا اور اپنا ہاتھ بازو سمیت پھیلاکر اُس کے راستے کی رکاوٹ بنا دی۔۔
جا۔۔۔جانے دو۔۔مہ جبین نے ہلکی سی آواز کے ساتھ کہا۔
نہیں۔۔شرجیل الرحمن نے مختصر سا جواب دیا۔۔اور چٹان کی صورت میں اُس کے سامنے سارے کا ساراکھڑا ہو گیا۔۔
اوچ۔۔۔مہ جبین نے آگے بڑھ کر جانے کی کوشش کی تو ایک بار پھر اُس کے جسم کے ساتھ جا ٹکرائی۔۔اور ٹکراتے ہوئے اُس کے منہ سے بے اختیار صرف ایک ہی لفظ نکلا۔۔
شر۔۔شرجی۔۔کوئی دیکھ لے گا۔نا۔۔مہ جبین نے بڑے پیار بھرے انداز میں اُسے سمجھانا چاہا۔۔
دیکھنے دو۔۔شرجیل الرحمن بضد اُس کے آگے کھڑا ہوگیا۔۔۔
جنگ کرنے کا ارادہ ہے کیاجناب کا ۔۔پھر سے۔۔۔۔شرجیل ا لرحمن نے اپنا ہاتھ بازو سمیت اُس کے آگے کر کے مذاق میں کہا ۔۔
میں کو ئی بھارت ہوں جو آپ کے ساتھ جنگ کروں گی۔۔۔۔مہ جبین نے نظریں گھمائیں اور غصّے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔
کیوں جنگ صرف بھارت ہی تھوڑی کرتا ہے ۔۔تمہاری جنگ تو اُس سے بھی زیادہ خطر ناک اور ہولناک ہوتی ہے۔۔۔۔شر جیل ا لرحمن نے اُسے چھیڑنے کی غرض سے کہا۔۔اور پھر مُسکرانے لگا۔۔
ٹھہرو !! ذرہ۔۔۔مہ جبین نے موڈبنا کر کہا ۔تو وہ چھت پہ بھاگ کھڑا ہوا تا کہ اُس کے حملے سے خود کو بچا سکے۔۔
شرجی۔۔۔۔مہ جبین نے اُسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا جب وہ چھت کے کنارے پہ جا رُکا ۔۔اور اُسے اِس طرح دیکھ کر مہ جبین خوفزدہ سی ہو گئی تھی کہ کہیں گر نہ جائے۔۔پھر اِسی کشمکش میں وہ دونوں ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ایک طرف جا گرے۔۔
اُف۔۔آپ بھی نا ۔۔ڈرا ہی دیتے ہو۔۔بس۔۔۔۔مہ جبین نے چھت پہ ٹانگیں جوڑ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔تو شرجیل الرحمن بھی اُس کے پاس بیٹھ گیا۔۔
جنگ بھی کرتی ہو اور پھر خود ہی مجھے بچاتی بھی ہو۔۔۔۔۔شرجیل ا لرحمن نے اُس کے چہرے پر غور کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ۔۔نا،،آپ کو ہارتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔مہ جبین نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا اور اپنا سر اُس کے کندھے پہ رکھ کر اپنی آنکھیں موند لیں۔۔پھر اچانک اُس کی آنکھیں چاند کی چمکتی ہوئی روشنی سے کُھل گئیں۔۔اور وہ بولی۔
شرجیل۔۔۔دیکھو چاند کتنا پیارالگ رہا ہے۔۔
مگر ۔۔مجھے تو اپنا چاند ہی پیارہ لگتا ہے ۔۔۔۔۔شرجیل الرحمن نے اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
اپنا ۔۔چاند۔۔۔مہ جبین نے اُس کی طرف دیکھا اور سوال کیا۔
ہاں۔۔اپنا۔۔چاند۔۔۔شرجیل الرحمن نے اُس کے سوالیہ چہرے کی طرف اپنی شہادت کی انگلی کر کے ماتھے سے لیکر ٹھوڑی تک ایک لکیر کھینچتے ہوئے کہا۔۔
ہوں۔۔ہا۔۔۔مہ جبین کے ہونٹوں پہ جب شرجیل ا لرحمن کی انگلی چلتے چلتے رُکی تو اُس کے گلابی ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔پھر یک دَم مہ جبین نے اپنے دونوں ہونٹ ایسے جوڑ لیے جیسے وہ کسی مقدس چیز کو چُوم رہی ہو۔۔
شرجیل ا لرحمن کی آنکھیں بھی یہ محسوس کرتے ہوئے سُرخی مائل ہو گئیں کہ ہماری لڑائی کے پیچھے کتنی محبت چھپی ہوئی ہے۔۔
شرجیل الرحمن نے مہ جبین کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کچھ کہنا چاہا تو اچانک اُسے کسی کی آواز سُنائی دی۔۔
شرجیل بھائی۔۔۔
شرجیل الرحمن کی بہن اُسے ڈھونڈتی ہوئی چھت پہ آتی اور آواز دیتی ہوئی سُنائی دی۔۔
آرہا ہوں۔۔۔۔شرجیل جلدی سے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر اُٹھا اور اپنی بہن کی آواز کی طرف چل پڑا۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔بھائی۔۔بہن نے چھت پہ تانک جھانک کرتے ہوئے کہا۔۔تو اُسے وہاں کچھ دِکھائی نہ دیا۔۔پھر وہ دونوں چھت سے اُترتے ہوئے صحن کی طرف چل دیے۔۔
تیری چمک بہت ہے ۔۔پر میرے چاند سے زیادہ نہیں۔۔مہ جبین نے چاند سے باتیں کرتے ہوئے کہا۔۔
ہر کسی کو اپنا ہی چاند اچھا لگتا ہوتا ہے ۔۔جو اُس کے دامن کے صحن میں روشنی پھیلاتا ہے۔۔اور اُس کے دل کی دُنیا کو اپنی محبت کی روشنی سے منّور کرتا ہے۔۔محبت انسان کے دل کو ایسے ہی جگمگاتی ہے جیسے کہ چاند اِس دھرتی کو۔۔
چاند کی روشنی میں دھرتی کی ہر شے ایسے ہی چمکتی ہے جیسے دوسرے انسان کی محبت اُس کے چہرے اور بدن کوچمکاتی ہے۔۔۔
تم کہاں تھیں۔۔۔۔نگین نے مہ جبین سے پوچھا جب وہ چھت سے اُتر کر اُ سکے پاس کمرے میں آئی۔۔
کہیں نہیں۔۔مہ جبین نے رُوکھاسا جواب دیا۔۔
اور پھر وہ دونوں ڈھولک کی آواز میں مگن ہو گئیں۔۔جو سارے آنگن میں چاند کی روشنی کی طرح پھیل رہی تھی ۔۔اور لڑکیوں کے گانے کی آواز سب کو محصور کن کیے جارہی تھی۔۔
سب تیاری مکمل ہے نا بھائی صاحب ۔۔بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا جو اپنے بیٹوں کی برات لایا تھا۔۔
جی جی۔۔بھائی ۔۔چھوٹے بھائی نے عاجزی سے کہا ۔۔جو لڑکیوں کا باپ تھا۔
پھر رُخصتی ہو کر وہ دونوں بہنیں اپنے چچا کے گھر اُس کے دونوں بیٹوں کی دُلہنیں بن کر آگئیں۔۔اُ ن کا خوب پیار بھرے انداز سے استقبال کیا گیا۔۔اور دونوں کو اپنے اپنے دُلہاکے کمرے میں بٹھادیا گیا ۔جنہیں خوب ارمانوں کے ساتھ سجایا گیا تھا۔۔
خلیل ا لرحمن ۔۔شرجیل الرحمن ۔۔کدھر ہو۔۔باپ نے آواز لگائی تو وہ دونوں پریشان ہو کر بولے ۔۔
خیر ہے۔۔
پُتر یہ کوئی سرکاری کاغذ آیا ہے۔۔باپ نے بیٹوں کو دِکھاتے ہوئے کہا۔
ابّا جی۔۔یہ تو سر کار کا بُلاوا ہے۔۔۔۔خلیل ا لرحمن نے باپ سے کہا ۔۔
اللہ خیر کرے۔۔۔۔باپ نے پریشانی سے کہا۔۔اور پھر پوچھا کیا لکھا ہے اس میں ۔۔پُتر۔۔
جنگ کا عالم ہے ابّا ۔۔۔اور ہمیں جانا ہو گا۔۔خلیل ا لرحمن نے جواب میں کہا اور پھر کمرے کی طرف دوڑا تا کہ جانے کی تیاری کرے۔۔اُسے دیکھتے ہی شرجیل ا لرحمن نے بھی کمر باندھی۔۔
اِس طرح وہ دونوں بھائی گھر سے نکلے اور راتوں رات اپنے کیمپ میں پہنچ گئے۔۔اپنے وطن کی محبت میں اُس پہ آئی ہوئی ہر مشکل کے لیے خود کو قربان کرنے کو تیار دونوں سپاہی اپنے اپنے محاذ پہ جا پہنچے۔۔
خلیل الرحمن اور شرجیل الرحمن دونوں کم پڑھے لکھے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوان تھے۔۔اور اُن کے والدین پڑھے لکھے نہیں تھے اِس لیے وہ پنجابی زبان میں جنگ کو ۔۔لام۔۔کہتے تھے۔۔اور وہ اپنے بچوں کو صرف پرائمری تک ہی پڑھا سکے تھے ۔اور اُن کا خالص دیہاتی ماحول تھا۔۔
یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔بھائی صاحب کرم داد نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔
اللہ سب خیر کرے گا ۔۔۔۔بڑے بھائی نے چھوٹے کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔
نگین اور مہ جبین اپنے اپنے کمروں میں اپنی محبت اور اپنے دُلہوں کے انتظار میں بیٹھی ہی رہ گئیں ۔۔اور وہ اُنھیں ایسے ہی سِسکتا ہوا چھوڑ کر اپنے وطن کی حفاظت کی جنگ لڑنے کے لیے چلے گئے۔۔وہ دونوں اپنے دلوں میں ارمان سجائے اپنی اپنی سیج پہ بیٹھی اُن کی سلامتی کی دعائیں کرتی رہیں۔۔اور سُرخ جوڑوں میں دونوں اپنے لال پیلے ارمانوں کو دل ہی دل میں چُھپائے روتیں اور بلکتی رہیں۔۔خلیل الرحمن اور شرجیل الرحمن اپنی شادی کی پہلی رات اپنے دل کے ارمانوں کو نظر انداز کر کے اپنے سِسکتے ہوئے اور بے قرار وجود کو لے کر اپنے وطن کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہو گئے۔۔۔
ہمارے ارمانوں کے شہزادے ضرور کامیاب لوٹیں گے ۔۔۔۔نگین اور مہ جبین نے دُعاؤں کے پُل باندھے۔۔اور اُن کا انتظار کرنے لگیں۔
ہر طرف ہلچل سی مچ گئی سب ریڈیو لے کر ملکی حالات کی خبریں سُننے میں مصروف ہو گئے۔۔
بھارت کے ساتھ جنگ زوروں پہ تھی۔۔۔۔بھر پور گولہ باری شروع ہوگئی۔۔
خلیل ا لرحمن ۔۔فائر کرو۔۔میجر بھٹی نے اپنے پاس کھڑے سپاہی خلیل الرحمن کو آڈر دیا ۔۔تو وہ توپ کے پیچھے سے کھڑے ہو کر اُس میں گولہ بھرنے لگا۔۔اور پھر اُس نے فائر کیا۔۔
خلیل ا لرحمن کی ڈیوٹی ٹینک پہ لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کڈنڑ ولی سو۔۔۔۔
ہو۔سوہنا سانولہ۔۔
ہو۔وطن ساڈے غریباں دے۔۔
ہا۔۔کڈنڑ ولسو۔۔۔۔
جنگ کی ایک شام سارے فوجی دائرے میں چوکھٹ بنائے بیٹھے بھُنے ہوئے چنے چپا رہے تھے ۔اور ساتھ ساتھ میں اپنے گھر والوں کو یاد کر کے ایک چھوٹی سی محفل سجائے گا رہے تھے۔۔تو ساتھ میں بیٹھے خلیل ا لرحمن اور شر جیل الرحمن اپنی اپنی ادھوری محبتوں کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔۔اُن کی محبتیں یہ گانا سُن کر بے قرار ہو گئی تھیں۔۔اور وہ چمکتے چاند کی روشنی میں اپنی بیویوں کی صورت کو ڈھونڈنے میں کہیں دُور تک نکل چکے تھے ۔۔وہ خیال کی دُنیا کو پار کرتے ہوئے اُن کے پاس خود کو محسوس کر رہے تھے۔۔
جی سر۔۔۔میجر بھٹی کو اپنی طرف آتے ہوئے سب سپاہی ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے مگر خلیل ا لرحمن وہیں چاند کی طرف اپنی نظریں جمائے جامد بیٹھا تھا ۔۔
او یارا۔۔کدھر ہو تم۔۔میجر صاحب آئے ہیں ۔۔۔۔شیر دل نے اُس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی اور اُسے ہوشیار کرتے ہوئے کہا۔۔تو وہ چونک کر اُٹھ کھڑا ہوا۔۔
کیا ! بات ہے ؟خلیل الرحمن تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔میجر بھٹی نے اُسے اس حالت میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
جی صاحب۔۔۔خلیل ا لرحمن نے بمشکل جواب دیا۔۔
ہمارے جانوو مال ،حتٰی کہ ہمارہ سب کچھ وطن کی امانت ہیں ۔میجر بھٹی نے اپنا لیکچر دیتے ہوئے کہا تو خلیل ا لرحمن کوہوش میں ہوش آئی اور وہ خود کو چاک و چو بندمحسوس کرنے لگا۔۔
ہمارے کچھ ساتھی ہم سے بچھڑ چکے ہیں اور وہ اللہ کے فضل و کرم سے شہادت کا رُتبہ پا چکے ہیں۔۔ہمارے ملک کا کوئی میجر ہو ،جرنل ہو۔یا کمانڈر اس وقت ہم سب ایک ہیں ۔ہماری فوج کاعام سپاہی بھی عام نہیں ہے ہمارے ملک کے لیے وہ ایک سرمائے سے کم نہیں ہے۔

کھانے میں پھر دال۔۔۔یہ دال ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔۔۔شیردل نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
یار اللہ کا شکر ادا کرو کہ وہ ہمیں یہ بھی دے رہا ہے۔ورنہ اتنے حالات خراب ہوں تو کیسے کھانے پینے کا ہوش رہتاہے۔۔۔۔۔۔خلیل الرحمن نے اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
اچھا یار تُو دیکھ ہمارے میجر صاحب بھی تو ہیں ہمارے ساتھ بھوکے رہتے ہیں اور جو بھی کھانے کو ملتا ہے کھا لیتے ہیں۔۔خلیل الرحمن نے کہا۔۔
اچھا ! کھاتا ہوں یار۔۔۔خلیل الرحمن کے سمجھانے پر شیر دل نے کھانا شروع کر دیا۔
ٹوں۔۔ٹوں۔۔۔ں۔۔ں۔۔۔ن۔۔۔۔۔خلیل اُٹھو یارا۔۔سیٹی کی آواز سنو۔۔شیر دل نے صبح صبح خلیل ا لرحمن کو سیٹی کی آواز سنتے ہی جگا دیا جو رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے مدہوش پڑا سو رہا تھا۔۔جنگ کا سماں آج ہی توکچھ تھما تھا۔کہ صبح صبح اذان کے وقت خطرے کی گھنٹی بجنے
لگی۔۔
رات سب فوجی وردی سمیت ہی پڑے پڑے تھکے ہارے سوچکے تھے۔۔کیونکہ آج جنگ بندی ہو چکی تھی مگر بھارت نے صبح اذان کے وقت ہی دوبارہ لاہور پرزور دار حملہ کر دیا۔تا کہ دُشمن اُن کے حملے کی تاب نہ لاسکے۔۔
سب کیپمس میں سے ہلکے ہلکے اندھیرے میں ایسے فوجیوں کی ڈاریں باہر کی طرف دوڑی جیسے پرندے اپنے ساتھیوں سمیت ایک جھنڈ کی صورت میں اُڑتے ہیں۔۔
سب فوجی پھرتی سے اپنے اپنے کیمپوں میں سے اسلحے کے ساتھ لیس ہو کر نکلے اور اپنے اپنے کمانڈرز کی نفری میں گھوستے چلے گئے۔سب نے وہیں فجر کی نماز اداکی اور پھر سردار چوکی کی طرف دوڑے تا کہ دُشمن کو اپنے وطن کی سرحد پار کرنے سے رُوک سکیں۔۔ ہر میجر اپنی نفری کے ساتھ دُشمن کا سامنا کرنے کے لیے حاضر ہوا خلیل ا لرحمن،شرجیل ا لرحمن اور شیر دل ساتھ ساتھ اپنے میجر بھٹی کی کمانڈ میں تھے۔۔۔۔
نور جہاں کے وطن کے بارے میں گائے جانے والے نغمے ریڈیو پہ چلنے لگے۔۔جنھیں سب سنتے اور اُن میں ایک نیا جوش اور ولولہ اُبھرنے لگتا۔۔۔۔
اللہ اکبر اور پاکستان ذندہ باد کے نعرے نوجوانوں کو ہمت دلانے کے لیے کافی تھے۔۔وہ جب بھی یہ نعرہ لگاتے اُن کا خون کھول اُٹھتا۔۔اور پھر ہر موقع پہ میجر صاحب کا لیکچر اُن کو اپنے وطن کے لیے جان نچھاور کرنے کے لیے جذبہ پیدا کرنے کو کافی ہوتا۔
چھے چھے ساتھیوں کو ہر چوکی میں سے بھیجا جاتا۔۔
شرجیل الرحمن کیا خبر ہے اوؤور۔۔میجر نے وائرلیس پہ شرجیل سے صورتحال جاننا چاہی تو وہ کہنے لگا۔۔
سر۔۔۔ اوؤور۔۔۔دُشمن حملہ کرنے کے لیے بہت آگے تک پہنچ چکا ہے۔۔اوؤور۔۔۔شرجیل الرحمن نے میجر کو بتایا کیونکہ اُس کی ڈیوٹی وائرلیس پہ لگی تھی۔۔
سر۔۔۔دُشمن۔۔لاہور کو گھیرے میں لینے کے لیے آگے تک بڑھ چکا ہے۔اور قریب ہے کہ وہ ہم تک پہنچنے والا ہو۔۔اوؤور۔۔شرجیل الرحمن نے میجر عزیز بھٹی کو اطلاع دی۔۔
سر۔۔سر۔۔۔سر۔۔ہمارے ساتھی جو ساتھ والی جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے دُشمن کی طرف بڑھے تھے وہ دُشمن کی ضَد میں آکر شہید ہو چکے ہیں۔۔شیر دل نے میجر عزیز بھٹی کو اطلاع دی۔۔
اِنا للہ وانا الیہ راجعون۔۔میجر عزیز بھٹی نے یہ کلمات پڑ ھے اور نئے چھے ساتھیوں کو حملے کی روک تھام کے لیے روانہ کر دیا۔جو جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے تھے۔۔اور یہ دستہ حملہ کرنے کے لیے پیدل آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
ہیلو۔۔۔اوؤور۔۔کیا صورتحال ہے۔۔۔میجر عزیز بھٹی نے اپنی دوسری طرف کے ساتھی میجر اظہر سے بات کرتے ہوئے پوچھا۔۔
دُشمن سیالکوٹ کے راستے سے گھس چکا ہے۔۔۔دوسری طرف سے میجر اظہر نے جواب میں بتایا۔
میجر۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میجر عزیز بھٹی نے پریشان ہو کر جواب دیا۔۔
بھارت سردار چوکی پہ پوری طرح قابض ہو چکا تھا۔۔اب پاکستانیوں کو اپنی ہار ہوتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔۔
ٹھ۔۔ٹھ۔۔۔ٹھا۔۔۔اچانک ایک ہولناک آواز سنائی دی تو خلیل ا لرحمن بھاگ کر اُس کی طرف گیا۔تو سامنے اُس کی نظر میجر عزیز بھٹی پہ پڑی جو جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔کیونکہ دُشمن اُن کے ٹینک پہ حملہ آور ہوکر اُن کو شہید کر چکا تھا۔۔میجر عزیز بھٹی کی ساری چوکی میں ایک ہل چل سی مچ گئی۔۔خلیل ا لرحمن ایک اور ساتھی جواِن کے ساتھ میجر عزیز بھٹی کی لاش کو پیچھے لے جانے کے لیے انتظام کر نے میں مصروف تھا۔سارے جوان غم و الم میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔میجر عزیز بھٹی کے بعد جنگ اور ذیادہ چھڑ گئی اور حالات معمول سے زیادہ خراب ہو گئے۔اب کنٹرول کرنا بھی زیادہ مشکل ہوتا ہوا نظر آرہا تھا۔
ایک دفعہ شرجیل الرحمن نے وائرلیس پہ دُشمنوں کی باتیں سُنیں جو آپس میں بحث کر رہے تھے کہ۔سر آپ مجھے راوی کے کس پُل کو اُڑانے کا کہہ رہیں ہیں مجھے تو یہاں دو پُل نظر آرہے ہیں۔میں کس پُل کو اُڑاؤں۔۔حالانکہ راوی کا وہاں پہ صرف ایک ہی پُل موجود تھا۔اور دُشمن کو دو نظر آرہے تھے۔۔شرجیل ا لرحمن نے اپنے ساتھیوں کو جب یہ بات بتائی تو وہ بولے۔
یہ خدائی مدد ہے۔جو اللہ نے ہم مسلمانوں کے لیے بھیجی ہے۔۔اسی طرح ہمارے ایک میجر کو 6 ستمبر کی رات خواب میں نبی پاکﷺ اپنے لشکر کے ساتھ اُن کی طرف آتے ہوئے دِکھائی دیئے آپﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ سفید لباس میں ملبوس تھے۔۔وہ مسلمانوں کی مدد کرنے آئے تھے۔۔اور ہماری فوج کو جنگ بدر کا سا سماں محسوس ہوا تھا۔جس میں اللہ کی غائبی مدد نے مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کیا۔۔
کیا ہوا تم اتنے بوکھلائے ہوئے کیوں ہو۔شیر دل۔۔۔ٹینک پہ کھڑے ایک ساتھی نے پوچھا۔جو شیر دل کی حالتِ غیر کو محسوس کر چکا تھا۔
یارا۔۔۔وہ۔۔ہم۔۔۔ہمارا دوست خا۔۔۔خا۔۔خلیل ا لرحمن۔۔۔۔ شیر دل نے بوکھلاہٹ کے ساتھ بمُشکل چند الفاظ کہے اور زمین پہ بیٹھ گیا۔۔
کیا۔خلیل الرحمن۔۔۔ساتھی نے تجسس کے ساتھ اُس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔جیسے وہ یقین کر چکا ہو کہ اب ہمارے درمیان خلیل ا لرحمن نہیں رہا۔۔
نہیں۔۔یارا۔۔۔اُس کا بھائی۔۔شرجیل الرحمن۔۔دُشمن ہماری طرف بڑھ رہا تھا اور اُ ن کا نشانہ ہمارے وائرلیس کے ساتھیوں پہ جا لگا ہے۔جس سے ہمارے رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔
اُس نے یہ خبر خلیل الرحمن کو بھی دی۔۔اور افسردہ سا منہ بنا لیا۔
ہم۔شیر ہیں۔۔شیر دل۔۔ہم نے گھبرانا نہیں سیکھا۔۔۔۔خلیل ا لرحمن نے اپنے بھائی کی موت کی خبر سُن کر اپنے جگر کو بڑا کیا اور حوصلے سے جواب میں کہا۔
رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے دُشمن کے ارادوں کا پتہ چلانا مشکل ہو گیا۔۔جس کی وجہ سے دُشمن منڈیر تک پہنچ آیا۔۔
اب ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔۔دُشمن تو ہمارے سر پہ آن پہنچا ہے۔۔۔۔۔خلیل الرحمن نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو ٹینک سے گولے برسانے میں مصروف تھے۔۔
اب۔۔پھر۔۔شیر دل نے حیران ہو کر کہا۔اور خلیل ا لرحمن کی طرف دیکھنے لگا۔۔
پھر۔۔کیا۔۔دُشمن کی ایسی کی تیسی۔۔۔خلیل ا لرحمن نے اُسے غصّے سے جواب دیا۔۔اور ایک گولہ اُٹھا کر اپنے جسم کے ساتھ باندھنے لگا۔۔
یہ کیا کر رہے ہو یارا۔۔۔۔شیر دل نے دیکھا تو پریشان ہو کر پوچھا۔۔
پھر۔۔خلیل ا لرحمن کی دیکھا دیکھی دو اور ساتھیوں نے بھی جلدی جلدی گولے اُٹھائے اور اپنے اپنے جسموں کے ساتھ باندھ لیے پھر پھرتی کے ساتھ سب چپ چاپ دُشمن کے ٹینکوں کے نیچے گُھس گئے۔۔اچانک ایک ساتھ زور دار دھماکا ہوا اور دُشمن کے تمام ٹینکس تباہ و برباد ہو گئے۔اور ہمارے تمام ساتھی شہادت کے رُتبے پر فائز ہوئے۔۔میجر عزیز بھٹی کے صرف وہ ہی ساتھی بچے جو ٹینک پہ موجود گولے برسا رہے تھے۔۔میجر بھٹی کی شہادت کے بعد دوسرے ٹینک پہ وہ کام کر رہے تھے۔۔
خلیل ا لرحمن کے اباّ۔۔دیکھو ۔۔۔تمارے بیٹے گھر آگئے ہیں۔۔تمارے دونوں بازو۔۔خلیل الرحمن کی ماں ایک ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کی لاشیں دیکھ کر چِلائی جب فوجی جوان اُن کے گھر کے صحن میں تابوت رکھے آس پاس کھڑے تھے۔۔
شیردل بھی اُن ساتھوں میں موجود تھا جو اُن کے دونوں بیٹوں کے تابوت لے کر آئے تھے۔
ارے دیکھو۔۔۔تو تمہارے دُلہے گھر آگئے ہیں۔۔خلیل ا لرحمن کی ماں چِلائی اور اپنی بہوؤں کو پکارنے لگی۔۔
وہ دونوں بہنیں نئی نویلی دُلہنوں کی طرح اپنے اپنے کمروں سے سجی سنوری باہر آئیں تا کہ اپنے اپنے دُلہے کو دیکھ سکیں مگر وہ باہر آتے ہی سکتے میں آگئیں کہ اُن کے دُلہے تو اُن کے سامنے تابوت میں ہیں۔۔
وہ بھی زاور قطار رونے لگیں۔۔پھر سارے آس پاس کے لوگ بھی آگئے۔اور شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا۔۔
اُن کی تدفین کے بعد دونوں لڑکیوں کی ماں نے کہا۔
بیٹی۔۔اب تم لوگ بھی میرے ساتھ اپنے گھرچلو۔۔تمہارے شوہر اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔اب ہم تمہیں سسرال میں نہیں چھوڑ سکتے۔۔
ہائے میری بیٹیاں بیوہ ہو گئیں۔۔اُس کے دل سے ایک درد ناک آواز نکلی۔۔اور وہ زمین پہ بیٹھ گئی۔۔
نہیں اماں ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ہمارے شوہرہمیں اپنی زوجیت میں قبول کرتے ہی اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے۔وہ ہماری شادی کی پہلی رات ہی ہم سے بچھڑ گئے۔۔اُن کو ہمیں دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔
ہم اپنی زندگی اُن کی خاطر ایسے ہی اُن کے گھر پہ بیٹھ کر گزار دیں گی۔۔ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گی۔۔اور نا ہی آپ کے ساتھ جائیں گے۔اب ہم شہیدوں کی بیوائیں ہیں۔۔۔۔ہم صرف اور صرف اپنے شہید شوہروں کی بیوائیں بن کراِسی گھر میں رہیں گی۔
ان کی ماں انھیں اپنے ساتھ لے جانے اور سمجھانے میں ناکام رہی۔۔اس طرح اُن دونوں بہنوں نے اپنے شہید شوہروں کے گھر پہ ہی ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔۔سب لوگ اُن کو شہیدوں کی بیوائیں کہنے لگے۔۔
ساس سسر کے انتقال کے بعد وہ دونوں ہی سارے گھر کے معاملات دیکھتی اور زمینوں پہ بھی ملازموں سے اپنی نگرانی میں کام کرواتی۔۔گاؤں میں جہاں کہیں کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی یہ دونوں ان کی مدد کرتی۔اور ہر وقت اللہ کو یاد کرتیں۔۔
اس طرح کئی سال گزر گئے۔۔۔
بھابھی۔۔آپ دو عورتیں گھر میں اکیلی ہوتی ہیں کہیں کوئی نقصان نا پہنچائے۔۔۔ایک دن شیر دل خلیل الرحمن اور شر جیل الرحمن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لیے آیا تو وہ ان سے کہنے لگا۔۔
نہیں۔۔۔ہمیں یہاں کوئی ڈر نہیں ہے۔۔۔تم بس ایک کام کرو۔۔خلیل الرحمن اور شرجیل الرحمن کے ناموں کے بورڈ بنوا کے دے جاؤ۔۔ہم اُنھیں اپنے گاؤں کے داخلی راستے پہ لگواناچاہتی ہیں۔۔خلیل ا لرحمن کی بیوی نے کہا۔
جی۔۔بھابھی میں بنوا لاؤں گا۔۔شیر دل نے جواب میں کہا اور دونوں کی آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کو دیکھ کر غم زدہ ہو گیا۔۔۔
یہ لیں بھابھی۔۔بورڈ لگ گیا ہے۔۔شیر دل نے خلیل ا لرحمن اور شرجیل ا لرحمن کی تصویروں اور ناموںے مزین بورڈ گاؤں کے داخلی راستے پہ جڑا اور کھڑے ہو کر بڑی عاجزی سے کہا۔
پھر اُن کی بیویوں اور شیر دل نے ایک ساتھ خلیل ا لرحمن اور شرجیل ا لرحمن کی تصویروں کی طرف منہ کرکے عاجزی سے اُن دونوں کو سیلوٹ کیا۔۔۔اور پھر وہ سب اپنے گھر کی طرف چل دیئے۔۔۔۔۔یہ گاؤں آج بھی شہیدوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔۔

(Visited 11 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *