پاکستان آئیڈیل سیاحتی ملک ۔!۔۔ تحریر : رانا اعجاز حسین چوہان

پاکستان کے دلکش سیاحتی مقامات نہ صرف اہل پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے باعث کشش ہیں۔ سال نو کے آغاز پر مشہور امریکی میگزین ’’فوربز‘‘ نے دنیا بھر کے مشہور ٹریول ایجنٹس سے تحقیق کے بعدسال 2019 ء کے لیے 10 آئیڈیل سیاحتی ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان کا نام نمایاں طور پر شامل ہے، جبکہ پرتگال کا علاقہ ایزورس، مشرقی بھوٹان، میکسیکو کا لاس کابوس، کولمبیا، ایتھوپیا، مڈغاسکر، منگولیا، روانڈا اور ترکی کی ساحلی تفریح گاہیں بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔فوربز کا کہنا ہے کہ اگر اس سال آپ قدرتی نظاروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو پاکستان کی سیر سے اچھا خیال اور کیا ہوسکتا ہے۔ قدرتی نظاروں اور خوبصورت وادیوں کا لطف اٹھا نے کے لیے ’ ’قراقرم ہائی وے‘‘کے ذریعے پاکستان کی وادی ہنزہ کا رخ کرتے ہوئے ہوش اڑا دینے والے قدرتی حسن کا نظارہ کیجئے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے مناظر اتنے مسحورکن ہیں کہ آپ اپنی گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے پلک بھی اس وجہ سے نہ جھپکائیں گے کہ کہیں کوئی منظر مس نہ ہو جائے۔ یہاں برف کے ٹکڑوں سے بھرے دریاؤں اور ان پرجھولتے پلوں کی خوبصورتی ناقابل بیان ہے۔ یہاں گرم جوشی سے سیاحوں کا خیرمقدم کرتے مکین، گلیشیر کے نیلے پانی سے بنی عطا آباد جھیل، ہریالی اور صدیوں پرانے خوبانی کے باغات میں پیدل گھومنا اور برف سے ڈھکی شاندار راکا پوشی کی چوٹی، یہ سب دیکھنا اور محسوس کرنا پوری زندگی کا ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔ آپ گلگت جائیں یا چترال، سیف الملوک جائیں یا کمراٹ آسمان کو چھوتے دیو ہیکل پہاڑ گویا دیو ہیں ، جوکہ ان خوبصورت وادیوں میں انتہائی خوبصورت نیلی اور سبز آنکھوں والے معصوم بچوں کی دلفریب اور روح کو تازہ کر دینے والی مسکراہٹ کی حفاظت پر مامور نظر آتے ہیں۔ شمالی اور مشرقی پاکستان کے بل کھاتے دریاؤں کا شفاف میٹھا اور ٹھنڈا پانی، سنگلاخ چٹانوں میں گھری ایسی وادیاں جن میں گویا کھلتے سبز رنگ کی خوشبو دار فصل اگی ہو، جو ٹھنڈی اور معطر ہواؤں سے ایک انجانی سی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے، یہ سب دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ وقت یہیں تھم جائے اور ہم کئی صدیوں سے ٹھہرے ان خاموش لمحوں میں کھو جائیں جو ہزاروں سال کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی وادی کیلاش بلاشبہ پاکستان ہی نہیں بلکہ روئے زمین کے چند حسین ترین علاقوں میں سے ایک ہے‘‘۔
بلاشبہ سیاحت بین الاقومی برادری کے لئے ناگزیر ہے ، کیونکہ سیاحت سماجی ، ثقافتی ، اقتصادی اورتعلیمی حالات پر براہ راست اثر اندا ز ہوتی ہے۔سیاحت کے ذریعے سے ذہنی آسودگی اور بہت سے جسمانی و نفسیاتی امراض سے نجات ممکن ہوسکتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کا شمار جغرفیائی محل وقوع کے اعتبار سے دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیزمیدان بھی ہیں، دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ سرزمین پاکستان پر17 بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، وطن عزیز میں چار موسم آتے ہیں اور اپنی چھب دکھاتے ہیں ۔ قدرت نے یہاں ہر قسم کی زمین اور آب و ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگوں کی مختلف میٹھی زبانیں اوررسم و رواج ہیں جنہوں نے پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنادیا ہے۔ ریگستان ، سرسبز ہریالی کے علاقے،پہاڑ، جنگلات، گرم علاقے، سرد علاقے ،خوبصورت وادیاں ،جزائر ، الغرض ہرمزاج کے ملکی اورغیر ملکی سیاحوں کے لئے قدرت نے یہاں دل پذیری و آنکھوں کوخیرہ کرنے کا بھرپورانتظام رکھا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اہل پاکستان کو انتہائی خوبصورت خطہ سرزمین سے نواز ا ہے جہاں ایڈونچر سے بھرپور ٹورازم ،،قدرتی حسن و خوبصورتی کے مناظر سے مزین مقامات کے علاوہ مذہبی و تاریخی مقامات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ سرزمین پاکستان کے قدرتی مناظر میں ساحل سمند رسے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش پہاڑی چوٹیاں ، خوبصورت آبشار یں، چشمے و جھرنے ، سرسبز گھنے جنگلات سے بھر ے پہاڑ اور وادیاں ، خوابوں سے بھری رومان خیز جھیلیں اور وسیع و عریض دنیا کے مشہورصحرا شامل ہیں۔ یہاں اولیاء اللہ کے مزارات، ہندؤوں کے تاریخی مندر،سکھوں کے قدیم مذہبی مقامات اور بدھ مت کی تاریخی نشانیاں ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم تہذیبوں کی علامتیں موجود ہیں۔ان کے علاو ہ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار قدیمہ ، ثقافت اور صوفی ازم بھی سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ پاکستان میں سیاحت کو سب سے زیادہ فروغ 1970 ء کی دہائی میں ملاجب ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا ، اور دیگر شعبوں کی طرح سیاحت بھی اپنے عروج پر تھی اوربیرون ممالک سے لاکھوں سیاح پاکستان آنا شروع ہوئے۔اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول سیاحتی مقامات میں درّہ خیبر،پشاور،کراچی،لاہور،سوات اور راولپنڈی جیسے دیگر علاقے شامل ہوا کرتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ملک میں مذید خوبصورت علاقوں کی معلومات ہوتی رہی اور سیاحت کا سفر تیزی سے جاری رہا،آج پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت سب سے زیادہ ہے۔شمالی علاقوں میں گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، اور شمال مغربی پنجاب شامل ہیں۔ پاکستان کے ان شمالی علاقہ جات میں قدرت کے بے شمار حسین نظارے موجود ہیں، کے ٹو،نانگا پربت ،چترال،اسکردو ،گلگت ،ہنزہ ،سوات، ہزارہ، مری اور کشمیر کے پہاڑی سلسلے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں۔ ڈیرہ غازیخان کے قریب واقع فورٹ منرو کا صحت افزاء مقام اس کے علاوہ مختلف شہروں میں موجود قدیم تایخی قلعے،تاریخی مقامات،آثار قدیمہ عمارتیں،وادیاں،دریا،ندیاں،جنگلات ، جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں ،اور یہاں سے واپس جانے کے بعد بھی ان حسین و جمیل وادیوں کے نظاروں کو مدتوںیاد رکھتے ہیں۔
یوں تو پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے شروع ہی سے ایک پرکشش مقام رہا ہے ، لیکن گزشتہ چندبرسوں سے شمالی علاقہ جات میں ملک دشمن عناصرکی جانب سے پیدا کردہ خراب حالات کے باعث یہاں سیاحوں کی آمد میں کمی آئی اور پاکستان کا سیا حتی شعبہ خاطر خواہ ترقی نہ کرسکا ۔ مگر اب متعدد فوجی آپریشنز کے بعد پاکستان بھر کے تمام سیاحتی مقامات مکمل محفوظ تصور کئے جاتے ہیں اور سیاحتی علاقہ جات میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔جبکہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان قدرتی و ثقافتی ورثہ تک سیاحوں کو باسہولت رسائی دینے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے مذید اقدامات کرے۔ گزشتہ حکومتوں نے ان علاقوں کے انفراسٹرکچر پرخاصا کام کیا ہے لیکن اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ جبکہ یہاں کے مکینوں کے لیے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، حکومت پاکستان کی جانب سے اگر کچھ رقم اس علاقے کے لوگوں کی غربت اور بے روزگاری ختم کرنے پر خرچ کی جائے تو اس سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا امیج مثبت بنانے میں مدد لے گی بلکہ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن بھی بہتر ہوسکے گا۔ سائنسی ایجادات کے اس دور نے جہاں انسانی دماغ کو تھکا کر رکھ دیا ہے وہاں سیاحت انسانی دماغ کی ورزش تصور کی جاتی ہے جوکہ ذہنی تھکاوٹ کو دور کرتی ہے ۔ سیاحتی مقامات کے حسین قدرتی نظارے ہمیں قدرت الٰہی سے روشناس کرواتے اور ہمارے ایمان کو مذید پختہ کرتے ہیں۔ سیاحت جہاں علم میں اضافے کا باعث ہے وہاں ہمارے لئے غور و فکر کے نئے دروازے کھولتی ہے ۔ آسمان کو چھوتی برف پوش پہاڑی چوٹیاں ، خوبصورت آبشار یں، چشمے ، ، سرسبزپہاڑ اور وادیاں ، رومان خیز جھیلیں ہمیں ربّ رحمن کی طرف بلاتی ہیں اور ربّ قائنات کے بہترین تخلیق کار اور خالق قائنات ہونے کے بارے میںآگاہ کر تے ہوئے پیغام دیتی ہیں کہ یہ تو خالق کی دنیا ہے اس کی جنت کتنی حسین و جمیل ہوگی جو پرہیزگاروں کا ابد الاباد ٹھکانہ ہے ۔
*۔۔۔*۔۔۔*

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *