۔’’پل پل بکھرا جیون ‘‘ کی تقریب رونمائی ۔۔۔ رپورٹ : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

سید فہیم الدین ہاشمی کی شخصیت دوحہ قطر کے ادبی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔وہ جدید اسلوب،دبنگ لہجہ،سنجیدہ و مزاحیہ شاعری کے قادرالکلام شاعراور کہنہ مشق ادیب کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ان کی کتب در بہ در،انفراد،یہ عشق پہلا نہیں ہے،لفظ در لفظ،مزاح کے سر پر،دائرے نقطے اور حرف،بدن سے لپٹا کرب،اداس شہر میں شام،ہزل در غزل اور invisible words منصہ شہود ہو کر عالمگیر شہرت دوام حاصل کر چکی ہیں ۔ان کی تمام کتب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیا بھر میں کتابوں کی طباعت اور فروخت کی مشہور ویب سائیٹ amazon.com پر بھی دستیاب ہیں جو کسی بھی شاعر اور ادیب کے لئے ایک بڑے اعزاز سے کم خیال نہیں کیا جاتا۔حال ہی میں ان کی نثر پاروں پر مشتمل نئی کتاب’’پل پل بکھرا جیون‘‘طباعت کے مراحل سے گزر قارئین کے ذہن کی ادبی آبیاری کر رہی ہے۔اس سلسلہ میں ان کی کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی جس کا اہتمام پاکستان ایسوسی ایشن قطر نے کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی عرفان تاج دفاعی اتاشی سفارت خانہ پاکستان تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرنے اور سٹیج پر خوش آمدید کرنے کی ذمہ داری اعجاز حیدر صدر پاکستان ایسوسی ایشن نے ادا کی جبکہ باقاعدہ پروگرام کی کمپئیرنگ کے فرائض شوکت علی نازؔ نے ادا کئے۔شاہد رفیق نازؔ نے صاحب کتاب سید فہیم الدین کے فن و شخصیت پر مقالہ پڑھتے ہو ئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فہیم الدین قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ادیب بھی ہیں کہ جن کی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آج کے انسان میں ازمنہ قدیم کی روح ڈال دی گئی ہو۔آپ اپنے حال کو ماضی کی روایات ورواجات،اساطیر،اخلاقیات اور اقدار کے دامن سے کبھی بھی الگ نہیں کرتے۔
سید فہیم الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو میں تمام احباب کی آمد اور شرکت کا شکریہ ادا کرتا ہوں،خصوصاً عرفان تاج کا کہ جو ہمیشہ ہی ہمیں عزت و احترام سے نوازتے ہیں اور ہمارے تمام پروگرامز میں شرکت فرما کر ہمارا مان بڑھاتے ہیں۔لکھنے لکھانے کا شوق ،بڑوں کا احترام اور روایات و اقدار کی پاسداری کا عمل مجھے ورثہ میں ملا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عمل بنا علم کا وجود ایسے ہی ہے کہ جیسے روح بغیر بدن بلکہ مجھے حکیم سلمان کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ کہ علم انسانی وجود پر وہی اثر کرتا ہے جو بنجر زمین پر بارش کرتی ہے۔بس اسی مشن کو لے کر آپ کی اور ادب کی خدمت میں لگا ہوا ہوں اس امید اور دعا کے ساتھ کہ انسان اور انسانیت کی فلاح اور بہبود کے لئے قلم کے ذریعے سے خدمت کر سکوں۔پروگرام کے آخر میں مہمان خصوصی عرفان تاج دفاعی اتاشی نے فرمایا کہ مجھے آج کی اس ادبی محفل میں شامل ہو کر بہت خوشی ہو رہی ہے اور میں سید فہیم الدین کا اس لئے بھی مشکور ہوں کہ مجھ ایسے فوجی بندہ کو بھی انہوں نے ادب کا راستہ دکھا دیا ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ مجھے اب انتظار رہتا ہے کہ اس طرح کی ادبی تقریب کا حصہ بن سکوں ۔سید فہیم ایک اچھے شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ و نفیس انسان بھی ہیں۔وہ انسانوں اور جانوروں دونوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔انہوں نے ہفتہ میں ایک دن ایسا بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس دن وہ دوحہ کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے والی بلیوں کو خوراک بھی ڈالتے ہیں۔اللہ انہیں ان کے مقاصد میں کامیاب و کامران کرے۔آمین۔

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *