پھوار ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

امّی آپ نے مجھے کبھی کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔لیکن اب میں ایگزیم سے فارغ ہوئی ہو ں۔۔۔۔۔۔بس مجھے خالہ لوگوں کے گھر جا نا ہے۔
رابیل نے بی ایس سی کے امتحان سے فارغ ہوتے ہی گھر میں شور ڈالنا شُروع کر دیا۔وہ خالہ کے گھر جانے کے لیے بچوں کی طرح بضد تھی۔
اچھا اچھا صبر کرو ۔آرام سے بیٹھو ۔۔باپ کا پتہ ہے نا۔۔۔۔امُی نے اُسے ڈرا دھمکا دیا۔۔۔
لیکن شام کو پاپا کے آنے پر رابیل نے پھر سے کہنا شُروع کر دیا۔مجھے خالہ کے گھر جانا ہے۔وہ بار بار امی کے ارد گرد گھومنے لگی ۔کیونکہ وہ اتنے عرصے سے کہیں بھی نہیں گئی تھی۔اور اب وہ چاہتی تھی کہ رزلٹ آنے تک وہ فری ہے ۔پھر أس نے سٹڈی میں بزی ہو جانا ہے۔اور پھر کہیں جانے کا ٹائم نہیں ملنا ۔نا ہی پاپا نے کہیں جانے دینا ہے ۔۔۔اس لیے وہ اس موقع سے فائدہ أٹھانا چاہتی تھی۔۔
پلیز پاپا مجھے خالہ کی طرف جانے دیں نا ۔پلیز پلیز پلیز۔۔۔۔۔جیسے ہی رزلٹ آ ے گا میں واپس آجأوں گی۔رابیل پاپا کے سامنے کٹھری بچوں جیسی ضد لگاے بولے چلی جا رہی تھی۔
اوکے اوکے۔۔۔۔پاپا نے دھیمے لہجے میں کہا ۔تو وہ مُنہ پہ انگلی رکھے کیسی دانشور کی طرح سوچنے میں مصروف ہو گئی۔اور مُنہ ہی مُنہ میں بڑبڑانے لگی۔میری ایک خالہ تو ملتان میں رہتی ہے اور دوسری لاہور میں پر میں تو لاہور ہی جاؤں ؤی۔کیونکہ مُلتان میں تو بہت گرمی ہوتی ہے۔بھلا خاک مزہ آئے گا وہاں۔۔۔ویسے بھی لاہور تاریخی شہر ہے گھومنے پھرنے کا وہیں تو مزہ آئے گا۔۔وہ اپنے ہی خیالوں میں شاہی قلعہ میں خود کو گھومتی پھرتی انار کلی سمجھنے لگی۔۔۔۔
کس سے باتیں کر رہی ہو رابیل۔۔۔۔امُی نے آواز لگائی اور پوچھا ۔تو وہ ایک دم سے چونک سی گئی۔۔۔اور بولی کسی سے بھی نہیں امّی۔۔
اچھا اچھا یہ خوابوں کی دُنیا سے نکلو۔اور میرے ساتھ کام کرواؤ۔۔امّی نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔تو وہ مُنہ بسوڑنے لگی۔۔۔تمہارے امتحان ختم ہو گئے ہیں اب کچھ گھر داری سیکھ لو تمہارے کام آئے گی۔تیری دونوں بہنوں نے بھی شادی سے پہلے سیکھا تھاآج سُسرال میں اُن کے کام آ رہا ہے۔تم بھی میرا ہاتھ بٹایا کرو۔امّی کی اتنی لمبی نصیحتیں سن کر وہ بولی۔امّی بس کر دیں نا اب۔۔۔۔اُس کے رویے میں اُکتاہٹ سی تھی۔وہ اُٹھی اور سیڑھیاں اُترتی ہوی کیچن کی طرف چلی گی۔۔
رابیل بیٹا کھانا لگا دو تمہارے پاپا آگئے ہیں۔امی نے اُسے کہا تو وہ جلدی سے کام میں لگ گئی۔۔۔امی نے باتوں باتوں میں پاپاسے اس کے جانے کی اجازت لے لی پھر وہ اگلے ہی روز اپنے پاپا کے ساتھ لاہور جانے والی ٹرین پر بیٹھ گی۔پاپا اسے ریلوے اسٹیشن سے ہی ٹرین پر بیٹھا آئے تھے۔اور لاہور خالہ کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ وہ رابیل کو لاہوریلوے ر اسٹیشن سے لے لیں۔وہ بڑی خوش تھی سارے راستے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی اُسے قدرتی مناظر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔جب بھی آسمان پر بادل دیکھتی فوراًچھت پر چلی جاتی۔اور موسم کا خوب مزہ لیتی۔
وہ دل ہی دل میں اپنی ماں کی شکر گزار ہوئی جس نے أسے پاپا سے جانے کی پرمیشن لے کر دی تھی ۔أسے کیا پتہ کہ أس کی ماں نے کیسے کتنی بڑی تقریر کے بعد پرمیشن حاصل کی تھی۔کہ لڑکیوں کا یہی وقت ہوتا ہے ۔میکے میں ہی وہ اپنی من مانی کر سکتی ہیں پھر سسرال میں تو زمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔اور پھر زندگی أن کی مرضیوں کے مطابق ہو جاتی ہے سسرال والوں کی پرمیشن کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتی ہوتی۔۔
ماں نے بیٹی کے لیے راہ ہموار کی ۔۔کیونکہ ایک ماں ہی ایسی ہستی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کی خوشی کا خیال کر تی ہے۔۔اس کے لیے أسے نا جانے کس کس ازیت سے گزرنا پڑتا ہے۔۔
میکے میں ماں اپنی بیٹیوں کے لیے ایسی چھت ہوتی ہے جو أنھیں تپتی دھوپ اور ناگہانی آفات سے بچائے رکھتی ہے۔ماں کی گود کی گرمی أن کی ہر تکلیف کا مداوہ بن جاتی ہے۔ایک ماں ہی ہے جو بیٹی کی ہر تکلیف پر چیلا أٹھتی ہے۔۔وہ ماں ہونے کے ساتھ ساتھ بیٹی کے لیے ایک اچھی دوست بھی ہوتی ہے جس سے بیٹی اپنا ہر دکھ سکھ شیئر کر سکتی ہے۔ماں کے پیار کی سچائی اولاد کے لیے ایک سائبان کا کام کرتی ہے۔۔
فریال بیٹا !تمہارے بھائی گھر پہ نہیں ہیں مجھے ہی ریلوے اسٹیشن جانا پڑے گارابیل اب تک آچکی ہو گی۔فریال کی ماما نے أسے بتایا اور یہ کہتے ہوئے وہ رابیل کو لینے چلی گئی۔…
ارے خالہ! آپ اکیلی ہی آئی ہیں۔فری کو لے آتی ساتھ ۔۔۔۔۔رابیل نے تمہید باندھی تو وہ کہنے لگی۔
بیٹا!گھر میں اور کوئی نہیں تھا۔اس لیے اُسے گھر چھوڑ آئی ہوں۔پھر گھر بھی تو اکیلا تھا نا۔سب شام میں آتے ہیں۔۔۔خالہ نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔۔پھر وہ دونوں گھر آنے کے لیے گاڑی میں بیٹھی۔
1 او ۔و۔و۔و۔و۔و۔و ۔رابیل ۔۔۔۔ ۔فریال نے لمبے سانس میں بولتے ہوئے ۔دونوں ہاتھ پھیلائے اور اُس کی طرف ایسے بڑھی جیسے اُس کے لیے بہت اُداس بیٹھی تھی۔
1 فریال بیٹا جلدی سے چائے بناؤ۔۔اور ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے بھی بنا لینا ۔۔۔ماما نے فریال سے بولا ۔۔۔تو وہ فٹا فٹ اُٹھ کے کیچن کی طرف چلی گئی۔ اورکچھ ہی دیر میں وہ چائے کے سا تھ سموسے ٹرے میں سجا ک ر لے آئی ۔۔۔لگتا ہے باہر موسم بہت اچھا ہو رہا ہے۔فریال نے ٹرے ٹیبل پہ رکھتے ہوؤ کہا۔تو رابیل جھٹ سے بولی ۔۔تو پھر ہم باہر لان میں ہی چاأ پیتے ہیں۔کیا خیال ہے۔۔۔
1 اس میں خیال والی کیا بات ہے ڈیئر چلو چلتے ہیں لان میں۔۔۔فریال نے یہ کہتے ہوئے ٹرے اُٹھایا اور ڈراأنگ روم سے نکل کر لان کی طرف بڑھنے لگی۔
فریال اوررابیل نے مل کر سارے برتن لان میں پڑے ٹیبل پر لگائے۔۔
‘1 یار ۔۔میں کچھ پھول توڑ کے ٹیبل پہ رکھ دوں۔۔رابیل نے سارے لان کا نظارہ کرتے ہوؤ کہا۔جو کے قدرے چھوٹا تھا ۔لیکن رنگ برنگے پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
جی ضرور۔۔فریال نے لان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔جیسے أسے پھول توڑنے کی اجازت دے رہی ہو۔اس کے بعد وہ اندر چلی گئی۔۔۔
1 پھولوں کی مالا سے سیمرُون میں پی کا نام۔۔۔ہلکی ہلکی آواز میں گاتی گنگوناتی ایک حسین وجمیل پری نمالڑکی سفید پاجامہ اور فروضی شرٹ میں ملبوس اپنے لمبے بالوں سے چہرے کو چھوپاأ کھڑی تیزی سے پھول توڑے جا رہی تھی۔اُس کا دوپٹہ اس کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔
157 شہریار اپنے روم سے نکلا اور اُسی کی طرف دیکھنے میں مصروف اس کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
ہائے ۔۔اوے۔۔۔۔ہمارے لان میں یہ جن پریوں کا سایہ تو نہیں ہو گیا کہیں۔۔۔ایک لڑکا مین گیٹ سے گھر میں داخل ہوا۔اور بڑ بڑاتے ہوئے اس پری کی طرف بڑھتا گیا۔اور پھول توڑنے پر غصے سے بھرا ہوا ۔آہستہ آہستہ قدم لیتا ہوا آگے کی طرف بڑھا۔اس دوران وہ راستے میں پڑی بہت سے چیزوں سے ٹکرایا۔شہریار پہ بھی کچھ ایسا ہی تعاقب چھایا ہواتھا۔دونوں ہی اپنی دھن میں گم اس لڑکی کو گھور تے ہوئے چل رہے تھے۔۔
آ۔۔آ۔۔۔آ۔۔آ۔۔آؤ۔چ ۔۔۔اچانک ایک زور دار آواز دونوں کے حلق سے نکلی۔جب وہ دونوں ایسے چلتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکراأ۔
;1 آآآآآآآ۔۔لڑکی اچانک یہ آواز سن کے ڈر گئی اور أس کے منہ سے بھی ۔۔آ ۔۔کی آواز نکلی۔اس کے ہاتھ سے سارے پھول بکھر کر زمین پر گر گئے۔اور وہ خوف زدہ سی ہو گئی۔
1 م ۔۔م۔۔میں ۔۔ ٹا ۔۔۔ ٹا ۔۔ٹیپو ۔۔۔۔آ۔۔آ۔آپ کون؟ٹیپو نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہاجو اچانک اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے شہریار سے ٹکرا کر گرگیا تھا۔وہ لڑکی کچھ نہ بولی۔اور زمین سے بکھرے پھول چُنے لگ گئی۔
آپ ہمارے پھول کیوں توڑ رہی ہیں اور کس کی اجازت سے۔۔ٹیپو خاصا غصے سے بولا۔اسے لگا ہمسائے سے کوئی لڑکی ہمارے لان میں گھُس کر پھول توڑ رہی ہے۔مگر وہ حسب معمول خاموش ہی رہی اور پھول اُٹھا کرفریال کی طرف بڑھنے لگی جو چائے کی میز پر اُس کا ویٹ کر رہی تھی۔
ایسے کسی کے لان میں گُھس کر پھول توڑ نانہیں چاہیے اورأن کے لان کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔مس۔۔۔شہریارنے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ارے بھائی یہ کوئی بکری تھوڑی ہے ۔جو آپ ایسے کہہ رہے ہیں کہ لان خراب نہیں کرنا چاہیے۔۔ٹیپو نے شہریا ر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوؤ کہا۔
1 یہ کوئی ہمسائے سے نہیں آئی ہیں بیٹا تمہاری کراچی والی خالہ کی بیٹی رابیل ہے۔۔ان کی ماں نے اپنے بیٹوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا تو وہ شرمندہ سے ہو گؤ۔اوردونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
اُو۔۔۔۔اچھا تو یہ شبو ہے۔۔۔شبو ہی نام ہے نا اس کا غالباٌ۔۔۔۔ٹیپو بڑے فن میں ہر بات کرنے کا عادی تھا۔۔وہ منہ بسوڑتے ہوئے اچھی خاصی بات کو مزاأ میں لے جاتا تھا ۔۔۔۔۔
بے وقوف!۔۔ شبو کہاں سے آ گئ؟؟؟یہ رابیل ہے۔۔ہماری خالہ کی بیٹی۔فریال نے اُسے ہاتھ مارتے ہوؤ کہا ۔اور پھر چاأ کا ایک سیپ لینے کے بعد کپ ٹیبل پر پڑی پیرچ پر رکھ دیا۔۔
را۔ا۔۔ا۔۔ا۔بیل ۔۔اچھا کس کی بیل۔۔۔۔پودے کی ۔یا عدالت کی۔۔ٹیپو ابھی بھی ایسے ہی بات کو فن میں لیے ہوئے تھا۔۔
ارے بھئی !!!!۔خالہ شمیم کی بیٹی ۔۔رابیل ہے۔۔فریال اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر زور سے بولی۔۔تو ٹیپو ریسپونس دیتے ہوئے بولا۔۔
ا۔۔۔چ۔۔چ۔۔چھا پتہ ہے مجھے ۔۔بہرہ نہیں ہوں میں جو اتنا چیلا رہی ہو تم۔۔ٹیپو نے بڑے اختصار سے فریال کو دیکھتے ہوؤ کہا۔۔
تم خاموشی سے چائے پییو گے یا نہیں۔۔امی نے ٹیپو کو ڈانٹا تو وہ ایک دم چُپ ساہو گیا۔۔
1 رابیل بیٹا ٹیپو کی باتوں کا بُرا نا منانا اس کی تو عادت ہے ۔۔اُلٹی سیدھی باتیں کر کے تنگ کرنا ۔۔خالہ نے ٹیپو کی عادت کی وضاحت بیان کی تو وہ مُنہ بسوڑنے لگ گیا۔۔ ۔
ہلکی ہلکی بارش کی بوندیں ٹیبل پر پڑے پھولوں پر پڑنے لگی۔۔سب موسم کا مزہ لیتے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ٹیپو رابیل کے بالوں کو غورسے دیکھ رہا تھا اُسے اس کے بالوں پہ پڑنے والی بوندیں ہیرے کی ماند دہکتی ہوئی دیکھائی دے رہی تھی۔۔جیسے کسی نے سُچے موتی اس کے بالوں میں جڑ دیے ہوں۔رابیل کی اچانک نظر پڑی کے وہ اسے ایسے کیوں گھور رہا ہے تو وہ گھبراسی گئی۔۔۔
ٹیپو!!!!! تم آرام سے بیٹھو گے یا ہر وقت شرارتیں ہی کرتے رہو گے۔اس کی ماں نے ایک بار پھر اسے سُنا دی۔۔تو وہ خاموش ہوگیا۔اور ماں کو تشویشی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔کہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں اور امی نے ڈانٹ دیا۔۔رابیل دبی ہنسی ہنسنے لگی۔۔بارش ساتھ ساتھ تیز ہوتی گئی۔اور وہ لوگ اُٹھ کر اندر چلے گئے جبکہ بارش تقریباٌ پوری رات وقفے وقفے سے ہوتی رہی۔
1 شبو جی کیا کر رہی ہیں آپ ؟؟ٹیپویہ کہتے کہتے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔وہ صبح ناشتے کے لیے اُٹھا تو ڈرائنگ روم میں أسے اکیلے دیکھتے ہوئے موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تنگ کرنے لگا۔
میں شبو نہیں ہوں۔۔رابیل نے زرہ غصے سے کہا۔اوراپنا مُنہ دوسری طرف کر لیا۔
رابیل یار ۔۔تمہیں پتہ ہے یہ ایسے ہی تنگ کر رہا ہے بس !!!۔تم فکر نا کرو میں اِسے سمجھا دوں گی۔اوکے نیکسٹ ٹائم یہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔۔فریال نے رابیل کو غصے میں بیٹھے دیکھ کر تسلی دی۔۔
یہ سب مجھے شبو کیوں کہتے ہیں؟؟؟؟۔۔فری آپی۔رابیل تشویش میں پڑ گئی۔اور أس سے سوال کرنے پر تُل گئی۔۔
ٹیپو وہاں سے چلا گیا پھر فریال نے اسے ساری حقیقت سے آگاہ گیا .وہ بولی میں تمہیں بتاتی ہوں تمہارے پاپا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔اور وہ شہر سٹڈی کے لیے گئے تووہاں اُنھوں نے تمہاری ماں سے اپنی پسند کی شادی کر لی جس پر تمہارے دادیال والے ناراض گئے۔ کیوں کہ تمہاری دادی تمہارے پاپا کی شادی اپنی بھتیجی سے کرنا چاہتی تھی۔پھر جب تم پیدا ہوئی تو تمہارے پاپا گاؤں اپنے ماں باپ کے پاس چلے گأ۔اس طرح تمہاری دادی نے تمہارا نام شبانہ رکھا۔سب شبو کہنے لگے خالہ کو یہ نام پسند نہیں تھا ۔اس لیے جب وہ شہر آئیں اور تمہارا سکول میں ایڈمیشن کرواتے ہوؤ نام چینج کر کے رابیل لیکھوایا۔سب کو یہ نام اچھا لگا ۔اس کا مطلب ہے سفید پھول۔۔۔دادی کو خالہ پسند نہیں تھی اس لیے انھوں نے تمہارے پیرنٹس کو گھر سے نکال دیا ۔۔ایسے آپ لوگ ہمارے گھر ہمارے ساتھ رہنے لگے تب تم سب چھوٹے تھے۔۔اور سب تم کو شبو کہتے ۔۔پھر تمہارے پاپا کی جاب کراچی میں ہوئی تو وہ کراچی چلے گء۔بس اس لیے ٹیپو تمہیں شبو کہتا ہے ۔۔
133 اچھا تو یہ بات تھی۔۔رابیل نے اپنے منہ پر انگلی ٹپٹپاتے ہوؤ کہا۔۔جیسے وہ حیرت کا اظہار کر رہی ہو۔۔
ہاں ۔۔ماما لوگ تین بہنیں ہی ہیں ان کا کوئی بھائی نہیں ہے۔۔ماما سب میں بڑی ہیں اس لیے کوئی بھی مسۂ ہو وہ ہی ہینڈل کرتی ہے۔
1 ہوں ۔۔۔ہوں ۔۔۔رابیل ہاتھ اپنی تھوڑی کے نیچے رکھے بڑے غور سے اس کی بات سنے میں مصرُوف تھی۔اور اس کے منہ سے صرف ہوں کی آواز ہی بمشکل نکل رہی تھی۔
1 فریال بیٹا کب سے فون کی بل بج رہی ہے دیکھو کس کی کال ہے ۔تم باتوں میں گم ہو بس۔۔۔ماما نے فریال کو آگاہ کرتے ہوؤ کہا تو وہ فون کی طرف دوڑی۔۔
ہیلو۔۔اسلام علیکم!او خالہ جان کیسی ہیں آپ؟؟فریال نے رسیور اُٹھاتے ہی حال پوچھنا شروع کر دیا۔۔
کس کا فون سے بیٹا؟ماما نے آواز لگائی تو فریال بولی کراچی والی خالہ کا ۔۔۔لاؤمجھے فون دو۔۔ماما نے جلدی سے اس سے رسیور پکڑا اور پٹر پٹر بولنے لگ گی۔کچھ دیر بعد انھوں نے بولنا بند کیا تو فورنًا فریال نے انُ سے پوچھا کیا کہہ رہی تھی خالہ؟؟
تمہاری خالہ کہہ رہی تھی کہ رابیل کو جلدی واپس بھیج دینا۔مجھ سے اب گھر کے کام نہیں ہوتے ۔یہ میری ہلپ کر دیا کرے گی۔۔۔فریال کے پوچھنے پر ماما نے أسے ساری بات بتائی تو وہ بولی
ماماپھر آپ نے کیا کہا ان کو۔۔۔ فریال تجسس سے پوچھنے لگ گئی۔۔۔۔۔۔تو ماما نے اسے بتایا کہ میں نے انھیں بول دیا ہے کہ اب تومیں رابیل کو شہریار کی شادی کے بعد ہی واپس بھیجوں گی۔۔
واہ گوڈ۔۔ماما اچھا کیا۔۔۔۔فریال نے جواب دیتے ہوئے کہا اور خوش ہو گئی۔۔۔
ماما ہم شہریار بھائی کی شادی کی ساری شاپنگ مل کر کریں گے ۔فریال سوچ میں پڑ گئی کہ کیسا جوڑا بناؤں گی۔۔۔۔
فکر کیوں کرتی ہو لڑکیوں !!!!!!!!!میں ہوں نہ میں لے جاؤں گا آپ کو شاپنگ کے لیے۔۔۔۔۔۔چلو مل کے سوچتے ہیں کیا کیا کریں گے شادی پہ۔۔۔۔۔ٹیپو اپنی جگہ سے اُٹھ کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔اور سب شادی کی پلاننگ کرنے لگ گئے ۔۔۔۔ٹیپو رابیل کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔۔
1 کھانا لگ گیا ہے سب آجائیں باتیں کرنا چھوڑیں ۔۔ماما کا کہنا ہی تھا کہ سارا حصار ہوا میں اُڑ گیا جو اتنا پیارا ماحول بنا کے سوچ میں گم تھے۔۔اور أن کی پلاننگ کے سارے نظارے أن کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔۔
1 کھانے کی ٹیبل پے ایک دم سے خاموشی چھا گئی۔۔۔
او۔۔۔ں۔۔۔ن ۔۔یہ۔۔۔ٹیپو نے ادھر اُدھر نظردوڑای سب کھانے میں بزی تھے موقع پاتے ہی أس نے بڑے چمچ پر ایک لیگ پیس أٹھایا اور ۔۔لاتے لاتے رابیل کی پلیٹ میں ڈال دیا۔۔اورساتھ میںأس کے منہ سے او۔۔ں۔ن کی آواز نکل رہی تھی۔پھر اُسے اشارا کر کے اپنے بھنوے ٹپٹپاتے ہوئے مُسکرانے لگا۔۔
رابیل مُنہ بسوڑ کر اُس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔۔۔
ٹیپو بیٹا آپ کل جلدی کالج سے آجانا ہم سب شاپنگ کے لیے چلیں گے ۔رابیل نے دیکھا موقع اچھا ہے۔۔ٹیپو باتوں میں مصرُوف ہے ۔۔اُس نے جلدی سے سب سے نظر بچاتے ہوؤ اُس کی پلیٹ سے چکن پیس نکال کر ساری پلیٹ چاولوں سے بھر دی۔۔ٹیپو باتوں سے فارغ ہو کرجب کھا نا کھانے کے لیے اپنی پلیٹ کی طرف دیکھنے لگا تو اس کی نظر رابیل پر پڑی وہ اُسے اشارا کر رہی تھی کہ اپنی پلیٹ میں دیکھو۔۔۔اور وہ بھی اپنے بھنوے ٹپٹپاتے ہوئے مسکرانے لگی ۔۔
1 او۔۔شِٹ۔۔۔۔ٹیپو کے مُنہ سے اچانک آواز نکلی۔۔مجھے ایک کام یاد آگیا ۔۔۔سوری۔۔ وہ اپنی چیر سے جیسے ہی اُٹھا تا کہ أسے چاول نا کھانے پڑیں۔۔۔ماما نے اُسے اشارا کیا پہلے اپنا کھانا تو ختم کر لو پھر جانا ۔۔چلو ختم کرو۔۔۔ماما کی بات سنتے ہی وہ پھر أسی شیپ میں چیر پر مُنہ بناتا ہوا بیٹھ گیا جیسے پہلے بیٹھا تھا۔۔
143 ہاہاہا۔۔رابیل اور فریال دونوں کی ہنسی نکل گئی۔۔کیونکہ فریال بھی سب نوٹ کر رہی تھی۔۔

1 پوچھوں گا تم سے بچو! !!!!ٹیپو نے بڑبڑاتے ہوؤ کہا اور اپنے مُنہ پہ دائیاں ہاتھ ایسے پھیرا جیسے وہ یہ شو کر رہا ہو کے وہ ضرور بدلہ لے گا۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر سب چائے پینے کے لیے ٹی وی لاؤنچ میں جا کر بیٹھ گء۔رابیل اور فریال دونوں چائے لے کر آئی پھر سب شاپنگ کی باتیں کرنے لگ گئے ۔آگلے دن ٹیپو کالج سے جلدی گھر آگیااور سب شاپنگ پر چلے گأ۔وہاں بھی ٹیپو کی شرارتیں ختم نا ہوئیں ۔۔۔۔
چلو چلو پکڑو ۔۔یہ آئیس کریم ۔۔۔رابیل کے مُنہ کے سامنے کرتے ہوئے اُس نے کہا تو وہ اچانک ڈر سی گئی ۔لیکن ٹیپو نے جلدی جلدی سے لمبی کون میں بھری رنگ برنگی کے ۔ٹو کی پہاڑی نُما آئیس کریم دونوں کے ہاتھوں میں تھما دی۔۔۔وہ فٹا فٹ زبان نکالے اُسے کھانے لگی۔اور ساتھ میں ایک ساتھ بولی ۔۔
ہوں۔۔۔مزے کی ہے ۔۔واہ !!! مزہ آگیا۔۔۔۔
چلو ! بچو گھر چلیں بہت ٹائم ہو گیا شہریار بھی آفس سے آگیا ہو گا اب تک۔۔۔ماما نے جانے کا حکم صادر فرما دیا۔۔
تھکے ہارے وہ سب گھر پونچھے ۔۔آج وہ کھانا باہر سے ہی لے آأ تھے۔گھر آتے ہی سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔رابیل اب ٹیپو کی حرکتیں جان چکی تھی۔اب وہ اُسے اِگنور کر دیتی تھی۔رات کے کھانے کے بعد سب لوگ شاپنگ کھول کر بیٹھ گئے۔ہر کوئی کہنے لگا یہ ڈریس ایسا ہے وہ ویسا ہے ہر کسی نے اپنے اپنے کمنٹس پاس کأ۔
اُڑ ھنی اُڑھ کے نا چوں اُڑھنی ۔۔۔ٹیپو نے رابیل کا پیلا ڈوپٹہ اُڑلیا اور گانا گانے لگ گیا۔۔وہ ساتھ ساتھ ایسے جھُومنے لگا جیسے کسیاولڈ فلم کی ہیروئین ڈانس کرنے میں مست ہو۔۔
1 ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ اُسے دیکھتے ہی سب کی ہنسی نکل گئی اور سب خوب ہنسے۔۔۔وہ اس پیلے ڈوپٹے میں بلکل لڑکی لگ رہا تھا ۔۔۔۔فریال اور رابیل جو بھی کام کرتی وہ ان کے آگے پیچھے ہوتا۔اور ان کو تنگ کر کے خوب مزہ لیتا۔
یار !!!!رابیل تم کہاں ہو ہر وقت روم میں ہی گُھُسی رہتی ہو ۔باہر نکلو دیکھو مُوسم کتنا پیارا ہو رہا ہے۔۔فریال نے اسے آواز لگائی تووہ پاؤں گھسیٹتے ہوؤ کمرے سے باہر نکلی اُس کا دوپٹہ بھی اُس کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔اور بال بھی کافی بکھرے ہوئے تھے جیسے ابھی سو کر اُٹھی ہو۔۔روم سے باہر آتے ہی ٹھنڈی ہوا کے ایک ہی جھونکے سے وہ جیسے فریش سی ہو گئی۔پھر وہ دونوں جلدی سے مُوسم کا جائزہ لینے کے لیے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چھت پے پونچھ گئی۔
141 واؤ۔۔۔۔کتنا مزے کا مُوسم ہے۔۔رابیل نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوؤ کہا۔
129 ہاں ۔۔بہت۔۔پر آج بہت ٹھنڈی ہو اہے جس کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔۔فریال نے تو محکمہ موسمیات ہی کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔۔کچھ ہی دیر میں فریال نے ماما کی بلانے کی آواز سُنی تو غم زدہ ہو کر چھت سے نیچے آگئی۔جیسے اس کا مزہ خراب سا ہو گیا ہو۔رابیل مزے سے چھت پر ٹہلنے لگ گئی ۔۔جب نظر اُٹھا کر سامنے والی چھتوں پر دیکھا تو اور بھی بہت سی لڑکیاں اس کے ساتھ موسم کا مزہ لے رہی تھی۔ساتھ والی چھت پر ایک لڑکی ٹہل رہی تھی جو رابیل کی طرف دیکھ کر باربار مسکراأ جا رہی تھی۔پھر درمیان والی دیوار کے پاس آگئی جو ان کی اور اُس کی چھت کے درمیان تھی وہ پاس آکر اس سے مخاطب ہوئی۔۔
ایکسییوزمی!آپ کون ہیں؟؟ آپ کو کبھی پہلے نہیں دیکھا۔وہ لڑکی رابیل سے مخاطب ہوئی۔
جی میں فریال کی کزن ہوں۔۔رابیل نے جواب میں کہا۔
اچھا!!! ہم لوگ بھی یہاں نیو آأ ہیں ۔۔۔ بٹ فریال سے تو میں مل چکی ہوں۔۔وہ لڑکی بولی میرا نام مہوش ہے۔۔آپ کا نام؟؟؟ اس طرح دونوں کا اچھا خاصا تعارف ہو گیا۔۔
ہوا کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی پُھوار ہونے لگی ۔وہ دونوں باتوں میں مگن ہو گئی اور موسم انجوائے کرنے لگی۔۔پھوار ابھی ہلکی ہی تھی کہ ساتھ والی سب چھتوں سے لڑکیاں نیچے چلی گئی۔مگر یہ دونوں ہلکی پھوار کا مزہ لینے کے لیے چھت پہ ہی رہی۔پُھوار کی چمک دار بُوندیں رابیل کے بالوں پہ ڈائمنڈ کی طرح چمکنے لگی۔جن کی چمک أس کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔۔
مہوش۔۔۔۔مہوش۔۔۔مہوش۔۔۔کوئی آواز آہستہ سے بلند ہوتی گئی ایسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اُن کی طرف بڑھتی ہوئی آرہی ہے۔اور ساتھ میں کسی کے سیڑھیاں چڑھنے سے قدموں کی آواز بھی آنے لگی۔۔کچھ ہی دیر میں وہ آواز اُن کے قریب آگئی ور بلند ہو کربولی مہوش تمہیں ماما بولا رہی ہیں ۔۔۔وہ کب سے تمہیں آواز دے رہی ہیں اور تم یہاں ہو۔۔کہ۔۔۔اچھا بھائی میں جاتی ہوں۔۔۔۔مہوش یہ سُنتے ہی بولی۔۔اور فوراٌسیڑھیاں اُترنے لگی ۔اور وہ جس کی آواز آرہی تھی وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔اُس کی نظریں سامنے کھڑی لڑکی پر برف کی طرح جم سی گئی وہ اُس کے بالوں سے لے کر سارے بُت کا جائزہ لینے لگا۔سامنے کھڑی لڑکی اسے بھلی لگ رہی تھی۔اُس کے لمبے حسین بال اس کی کمر کو چھوتے ہوئے پُھوار پڑنے سے چمک رہے تھے جو اس کی نظروں کو بھانے لگے۔ اور اس کے ان چمکتے اور ہو امیں مُسلسل اُڑتے ہوؤ بالوں میں چُپا سفید چہرہ آسمان پہ چمکتے چاند کی ماند دہک رہا تھا جو کے شام کے اس منظر کو اور بھی خوبصورت کیے ہوئے تھا۔۔۔اورجو جیسے آسمان کورونق بخشتا ہے۔۔۔۔جس سے شام مزید حسین ہو جاتی ہے۔اُس کے ہونٹ ایسے خشک پڑچکے تھے جیسے کوئی تپتی صحرا میں بارش کے انتظار میں ہو۔ اور آنکھیں ایسی نشے سے بھری لگ رہی تھی جسے کیسی ایسی خوشی کا انتظار کر رہی ہوں جو نا صرف اُنھیں بلکہ ان کے ساتھ اس ویران دل کے لیے بھی سکون کا باعث بنے ۔جسم بارش میں بھیگا سِل کی طرح بے سُود بُت لگ رہا تھا ۔ جیسے اُس میں رُوح کا نام ونشان تک نا ہو۔اور وہ کیسی شاپنگ ہال میں کھڑی اس پلاسٹک کی گڑیا جیسی حسین و جمیل لگ رہی تھی جو ہال میں آنے والے ہر شخص کی پیار بھری ایک نظر کی منتظر ہوتی ہے۔۔اور یہ نظر ہی اُس کے لیے رُوح کا کام کرتی ہے۔جو کھوکھلے بُت میں جان ڈال دے۔ د ونوں خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے میں مگن تھے ۔رابیل نے اپنی جھکی ہوئی نظریں اُٹھائی اور اُس نوجوان کے چہرے پرجما دی وہ لڑکا بے حس وحرکت اس کے سامنے کھڑا تھا ۔اس کے بال ہوا کی وجہ سے اُڑے ہوؤ بے ترتیب ہو چکے تھے۔اور گلے میں ٹائی ڈھیلی پڑ چکی تھی۔اس ہوا میں پڑنے والی پھوار سے دونوں کافی حد تک بھیگ چکے تھے۔مگر اُن کو اس طرح سے بھیگ جانے کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ایک دم سے ہوا زور کی چلی اور ساتھ میں بارش بھی تیز ہو گئی۔اور وہ دونوں مزید بھیگنے لگے۔اچانک ایک اور ہوا کا زور دار جھونکا آیاجس نے جسم میں کرنٹ سا بھر دیا ا اورپھر دونوں کو بھیگ جانے کا احساس ہوا۔
ہو۔۔۔ں۔۔۔۔رابیل کے مُنہ سے صرف ہوں کی آواز نکلی اور وہ خود کو سمیٹے ہوؤ وہاں سے بھاگی اور تیزی سے سیڑھیاں اُترنے لگی۔
وہ بھی ہلکا سا سرکا جیسے کیسی پتھر میں جان آگئی ہو۔۔اور اپنے گھر کی سیڑھیاں اُتر کر اپنے کمرے میں چلا گی۔۔
اُ۔۔و۔۔و۔۔ف ۔۔۔رابیل نے کمرے میں جاتے ہی ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگے بڑے آئینے میں اپنا جائزہ لینا چاہا۔اور خود کو ایسی حالت میں دیکھ کر اُس کے مُنہ سے اُف۔۔کی آواز نکلی۔اُس نے جب ایک نظر اپنے بارش میں بھیگے ہوئے بدن پر ڈالی۔تو أسے شرم محسوس ہوئی جو بارش میں اتنا بھیگ چکا تھا کہ اس کے کپڑے بھیگنے کی وجہ سے جسم کے ساتھ چپک گئے تھے اور اُس کے اُبھار وضع ہونے لگے تھے۔اُس نے کمرے میں ادھر اُدھر نظر ڈورائی اور صوفے پر پڑے ایک بڑے سے کپڑے سے اپنے بدن کو اچھی طرح ڈھانپ لیا۔۔اور بیڈ کی سائڈ پر بیٹھ کر کانپنے لگ گئی۔۔جیسے اُسے شرم کے ساتھ سردی بھی محسوس رہی ہو۔۔
1 ارے تم یہاں بیٹھی ہو۔۔فریال کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی۔اور کو ئی جواب نا ملنے پر اس کے قریب آکر کہنے لگی ۔۔۔یار میں نے چائے کے ساتھ پکوڑے بنائے ہیں ۔تمہیں بہت پسند ہیں نا!!! وہ بولے چلی گئی مگر۔۔ ۔رابیل اُسے کوئی جواب نا دے سکی۔ وہ مزید اس کے قریب آگئی۔۔۔۔اور بولی ۔۔
ارے بابا!!!! لگتا ہے موسم کا کچھ زیادہ ہی مزہ لے لیا ہے تم نے تو ۔۔۔۔فریال نے اُسے ٹیس کیا اور ہاتھ سے پکڑ کر کہنے لگی ۔۔یار کہاں کھوئی ہوئی ہو تم۔۔۔۔
رابیل مُسلسل کانپ رہی تھی۔۔ارے تمہاری تو طبیعت ٹیھک نہیں لگ رہی۔فریال نے جب پاس آکر کہا تو وہ بولی۔۔ سردی بہت لگ رہی ہے۔۔۔۔
1 اچھا اُٹھو !!چلو چائے پیو گی تو ساری سردی غائب ہو جائے گی ۔۔۔۔فریال نے جیسے سردی کے مسلئ کا حل بتا دیا۔۔اور زبردستی اُسے اٹھانے لگی ۔۔
لو !!!!!سردی بھلا کیسے نا لگتی تم نے گیلے کپڑے جو نہیں اُتارے۔۔فریال نے اس کی حالت دیکھی تو اسے کہنے لگی۔
اچھا!!!! تم چلو چائے لگاؤ میں چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔رابیل نے جب اسے کہا تو وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور رابیل چینج کرنے کے لیے الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔۔اور ایک بار پھر وہ اُسی آئینے کے سامنے ہوکر خود کو دیکھنے لگی۔۔ایک دم سے جب اُس کے دماغ میں یہ بات آئی کہ اُس نے مجھے اس حالت میں دیکھا ہے تو وہ پھر سے غم زدہ سی ہو گئی۔اور جلدی سے چینج کر کے روم سے باہر چلی گئی۔۔
ہو۔۔م۔۔مممم بہت مزے کے بنے ہیں پکوڑے تو۔۔رابیل کے آتے ہی ٹیپو نے کہا ۔۔مگر وہ خاموشی سے چاأ پینے میں بزی تھی۔۔
یہ آج موسم کیوں خراب ہے ۔۔۔ٹیپو نے فریال کی طرف دیکھتے ہوئے فریال کو بات سُنائی۔مگر وہ پھر بھی خاموش رہی۔۔اس نے سارا وقت چپ میں گزار دیا۔۔سب نے یہ بات محسوس کی۔۔
1 رات رابیل صحیح سے سو نا پائی کیونکہ ساری رات وہ اُس مدہوش بھرے سحر سے باہر نا آسکی۔۔اُس کی طعبیت میں بے چینی سی تھی جو اُسے سکون نا لینے دے رہی تھی۔کروٹوں کروٹوں میں ہی رات بھیت گئی۔
بیٹا رابیل کہاں ہے؟ خالہ نے اپنی بھانجی کو صبح نا پا کر فریال سے دریافت کیا۔
ماما وہ ابھی سو رہی ہے۔۔فریال نے جواب دیتے ہوئے کہا۔اور اُس کی خبر لینے روم میں چلی گئی جہاں وہ سوئی ہوئی تھی۔
ارے تمہیں تو ٹیمپریچر ہے۔فریال نے اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو اسے معلوم پڑا۔
ماما۔۔ماما۔۔رابیل کو تو بہت زیادہ ٹیمپریچر ہے۔فریال روم سے باہر بھاگتی ہوئی آئی اور ماما کو آوازیں لگا کر کہنے لگی ۔۔فوراٌماما اس کے روم میں گئی اور پھر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔۔بارش میں بھیگ گئی ہے نا اس لیے۔ٹیمپریچر ہو گیا ہے شائد۔۔فریال نے سب کو بتایا۔۔
اچھا میڈیم نے موسم کچھ زیادہ ہی انجوائے کر لیا ہے ۔۔۔ٹیپو نے اس کی طرف دیکھتے ہوؤ کہا۔لیکن وہ مُسلسل خاموش تھی۔۔
لگتا ہے اُداس ہو گئی ہے۔۔اسے اس کے گھر بھیجنا ہو گا۔۔ماما نے نے کہا تو سب اداس سے ہو گؤ۔اور وہ بھی۔
1 نہیں ماما اصل میں نا !!!یہ ویسے ہی اُداس ہے ہاں ۔۔آپ اس کی گھر والوں سے بات کروا دیں ٹھیک ہو جاأ گی ۔۔ٹیپو نے مُنہ بناتے ہوؤ کہا۔ تاکہ ماما کہیں اسے اس کے گھر ہی نا بھیج دیں۔۔۔
1 ہاہاہاہا۔۔رابیل ٹیپو کی ایکٹنگ پہ ہنسنے لگی۔اس کے بعد اُس نے جلدی سے کال ملا کر سیل رابیل کے مُنہ کے سامنے کر دیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کر لے۔۔کیونکہ سب چاہتے تھے کے رابیل ادھر ہی رہے۔اور وہ بھی ایسا ہی چاہتی تھی۔
کچھ دن ایسے ہی گزرگئے رابیل چھت پر نا گئی ۔۔ایک دن مہوش اس سے ملنے گھر پہ آگئی ۔۔اس طرح اب وہ کوئی نا کوئی کھانے کی چیز بنا کر اسے دینے گھر پہ آجاتی۔خالہ کو وہ لڑکی کچھ اچھی نہیں لگی وہ اپنی حرکتوں اور باتوں سے چلاک لگتی تھی۔اب جب موسم اچھا ہوتا تو رابیل چھت پہ نا جاتی بس گھر کے اندر سے ہی دیکھتی رہتی تھی۔
لگتا ہے آج پھر موسم کچھ بگڑ رہا ہے یہ برسات کا موسم بھی نا ایسے ہی ہوتا ہے ہر آأ دن بارش ۔۔۔اُف مجھے لگتا ہے کام والی چھت سے کپڑے لانا بھول گئی ہے موسم بھی خراب ہو رہا ہے۔۔بیٹا تم جا کے زرہ لے آؤ۔۔۔ خالہ نے فریال کو نا پا کر رابیل کو کام کہہ دیا تو اُسے جانا پڑا۔
1 آ۔۔۔آ۔۔۔آپ۔۔۔تار پہ لٹکے کپڑے اُتارتے ہوؤ رابیل کی نظر سامنے کھڑے اُسی لڑکے پر پڑی جو اس دن اسے ملا تھا ۔۔اور وہ گھبرا کر بولی۔۔۔۔
1 جی ۔۔آپ بہت دنوں بعد چھت پے آئی ہیں ۔اور مہوش بتا رہی تھی کہ آکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔۔اب کیسی ہیں آپ؟؟؟؟؟اُس لڑکے نے جلدی جلدی بہت سی باتیں کہ ڈالی۔۔۔مگر وہ خاموش رہی۔۔183آپ نہیں جانتی ۔جب سے آپ کو دیکھا ہے تب سے دوبارہ دیکھنے کے لیے بے چین تھا۔ شکر سے آپ چھت پے آئی ہیں۔۔ویسے آپ کیوں نہیں آئی۔ اور آج اتنے دنوں بعد۔۔۔۔۔وہ بولے چلا جا رہا تھا ۔۔۔مگر وہ جیسے سُن ہی نہیں رہی تھی۔۔۔وہ چھت کے درمیان میں ڈالی گئی دیوار پار کر کے اس کے پاس آگیا اور کپڑے اس کے ہاتھ سے پکڑ کر بولا میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔رابیل۔۔
1 پلیز !!!!! مجھے جانے دیں۔۔۔رابیل بس اتنا ہی بول سکی ۔۔اور وہ کہنے لگا مجھے کامران کہتے ہیں ۔۔میں مہوش کا بھائی ہوں۔۔۔رابیل یہ نام مہوش سے سن چکی تھی۔۔
اچھا دوبارہ کب آؤ گی۔۔کامران نے اس کا راستہ روک کر پوچھا ۔۔
1 پتہ نہیں۔۔ پلیزمجھے جانے دیں۔۔رابیل نے کہا تو وہ بولا ۔۔پہلے بتاؤ ۔۔رابیل اُس کی طرف دیکھنے لگ گئی۔وہ ایک بار پھر اُس کی براؤن آنکھوں کا شکار ہو گئی۔۔۔۔۔۔
1 اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پھر سے چھت پے آنے لگی۔۔اس طرح وہ چھت پہ ملنے لگے کیسی کو اس بات کی خبرتک نا ہوئی۔حتی کہ اس نے یہ کہا ۔کہ اب تم مجھ سے روز ملو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔مگر ایسے روز روز ملنا اور چھت پہ آنا أس کے لیے آسان نا تھا۔۔
آنٹی میں رابیل کو لینے آئی ہوں شاپنگ کے لیے جانا ہے بس کچھ ڈریس لینے ہیں امی بیمار ہیں میرے ساتھ وہ جا نہیں سکتی اس لیے أنھوں نے کہا کے رابیل کو لے جاؤ ۔۔آپ پلیز اجازت دے دیں میں ایسے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔مہوش أن کے گھر رابیل کو لینے آ گئی ۔
نہیں ۔۔۔آنٹی کے مُنہ سے ابھی ایک ہی لفظ نکلا تھا۔۔ فریال نے فوراٌ کہا کہ ماما جانے دیں کوئی بات نہیں بس تم لوگ زارہ جلدی آجانا ۔۔۔فریال نے خود ہی فیصلہ بھی سُنا دیا۔۔اور ماما کچھ نا کہہ سکی۔
تم کہاں سے شاپنگ کرتی ہو رابیل ۔۔جب شاپنگ مال کے سامنے ٹیکسی روکی تو مہوش نے رابیل سے پوچھا۔۔۔۔
ہوں ۔۔میں ایک بار آئی تھی فریال کے ساتھ اسی شاپنگ ہال میں۔۔۔۔بھائی شہریار کی شادی ہے نا ۔رابیل نے أسے بتایا تو مطمین ہو گئی۔
یہ ڈریس کیسا ہے رابیل۔۔۔مہوش نے أس سے پوچھا تو وہ بولی ڈیزائن تو اچھا ہے ویسے ۔۔۔مہوش نے أس کی بات سنتے ہی ڈریس اپنے جسم کے ساتھ لگا کر دیکھا اور اندازہ لگانے لگی کہ أسے کیسا لگ رہا ہے۔
یہ دیکھو کتنا پیارا ڈریس ہے۔۔۔۔رابیل نے جب سوٹ کو ہنگر سے پکڑ کر أس کی لٹکی ہوئی جگہ سے أتارا اور فوراٌ اپنے جسم کے ساتھ لگا کر أسے دیکھانا چاہا ۔تو سامنے مہوش کی بجائے کامران کو دیکھ کر أس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔
پیارا ہے لیکن جب تم پہنو گی تب زیادہ پیارا ہو جائے گا۔کیونکہ تمہارے پہنے سے زیادہ پیارا ہو جائے گا۔۔کامران نے سامنے کھڑے ہو کر أسے کہا تو کہنے لگی ۔آپ ۔۔یہاں کیسے؟وہ گھبرا سی گئی۔اور جلدی سے أس أٹھاے ہوئے سوٹ کو دوبارہ أس کی جگہ پر رلٹکاتے ہوئے بولی مہوش کہاں ہے۔۔۔
وہ ادھر ہی ہے بس دوسری طرف گئی ہے ابھی آجاتی ہے۔۔تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔کامران نے أسے کہا اور رابیل کے ڈریس رکھتے وقت ساتھ ہی اپنے ہاتھ کو أس کے ہاتھ پر رکھا اور بولا یہ تمہیں پسند ہے نا تو واپس کیوں رکھ رہی لے لو ۔تم یہ ڈریس۔۔۔اور وہ أسے بیک سے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے کر کہنے لگا ۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔اور تھینکس جو تم مہوش کے ساتھ آگئی ۔۔
تو کیا آپ نے مہوش سے کہا تھا ۔۔یہ سب۔۔۔رابیل أسے کہتے کہتے رک گئی اور أس کی مدہوش آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
کامران اپنے بازوؤں کے گھیرے کو مزید تنگ کرتا چلا گیا ۔یہاں تک کے دونوں کے چہرے اتنے قریب آگئے کہ وہ ایک دوسرے کے سانس کو محسوس کرنے لگے۔۔۔کامران أسے پیچھے سے گھیرے کھڑا تھا اور دونوں کے ہاتھ میں وہ ڈریس تھا جو رابیل نے پسند کیا تھا۔وہ أسے یہ ڈریس دیلانے کی ضد کر رہا تھا اور وہ مان نہیں رہی تھی۔۔کامران نے اپنا ہاتھ کافی دیر تک أس کے ہاتھ پر تھمائے رکھا۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔رابیل نے جب أس کے ہاتھ کے لمس کو اپنے جسم پر محسوس کیا ۔۔جو ڈریس کو چھوڑ کر أس کے جسم پر رکھا گیا تھا تو وہ بولی۔۔اور جھٹ سے أس سے دُور ہو گئی۔
کیا ہوا۔۔۔کامران آگے بڑھ کربولا ۔۔مگر وہ خاموش رہی۔دونوں کی آنکھوں میں سُرخی چھا چکی تھی۔
کیا ہوا؟ کون سا ڈریس رابیل کو پسند آیا ہے بھئی۔۔۔مہوش نے جلدی جلدی أن کے پاس آتے ہی پوچھا۔۔۔تو کامران نے أس ڈریس کی طرف اشارہ کیا جو رابیل کے ہاتھ میں تھا ۔۔اور أن دونوں نے زبردستی وہ ڈریس أسے دلا دیا۔۔پھر وہ تینوں ریسٹوران کھانا کھانے کے لیے چل پڑے ۔رابیل کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ کامران بھی وہاں پہنچ جائے گا۔
بہت دیر لگا دی تم لوگوں نے ۔۔رابیل کے گھر آتے ہی خالہ نے أسے کہا تو مہوش بولی بس تھوڑی دیر ہوگئی آنٹی۔۔۔ڈریس لینے میں ہی۔۔کوئی پسند ہی نہیں آرہا تھا۔۔یہ دیکھیں رابیل کا ڈریس میں نے لے کے دیا ہے ۔۔۔مہوش نے أن کو اپنا بتایا کہ أس نے لے کے دیا ہے جب کہ وہ کامران نے دلایا تھا۔۔وہ ساری بات اپنے أوپر لے گئی کیسی کو پتہ نا چلا کہ کامران بھی وہاں آیا تھا۔۔اور أس نے رابیل کو ڈریس دیلایا تھا۔پھر سب شہریار کی شادی کی تیاریوں میں بزی ہو گئے اور رابیل اس دوران کامران سے نا مل سکی۔
رابیل تم کہاں بزی ہو بھئی۔۔۔اتنے دنوں سے تمہارا کوئی اتاپتہ نہیں ۔مہوش آج پھر گھر تک آگئی تاکہ معلوم کر سکے کہ رابیل کہاں مصروف ہے۔
بس یار!!!! بھائی شہریار کی شادی قریب آرہی ہے اس لیے بزی ہوں ۔رابیل نے اپنی مصروفیت سے أسے جب آگاہ کیا تو وہ بولی ۔۔۔اچھا۔۔
ٹرن۔۔۔ٹرن۔۔ فون کے بجنے کی آواز سُنتے ہی فریال نے رابیل سے کہا یار دیکھنا زرہ کس کی کال ہے ۔یہ کہہ کر وہ کیچن میں چلی گئی
ہیلو۔۔۔جی کون؟؟؟رابیل نے ریسیور أٹھاتے ہی ہیلو کیا تو آگے سے کامران کی آواز نے أسے چونکا دیا جب وہ بولا میں ہوں ۔۔کیسی ہو تم یار اتنے دن ہو گئے تم کہاں گم ہو۔۔۔میں اتنا بے چین ہو رہا ہوں تمہیں دیکھا ہی نہیں ۔۔۔کامران نے اپنی کیفیت بیان کی اور ساتھ ہی أسے کہہ دیا کہ آج میں تمہارہ ویٹ کروں گا مجھے تم چھت پہ ملو۔۔۔مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے ۔
کیا بات ؟؟؟کامران میں نہیں ۔۔۔۔رابیل کی ابھی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ أس نے کال کاٹ دی۔
کس کا فون تھا رابیل ۔۔۔فریال نے کیچن سے باہر آتے ہی پوچھا ۔۔۔۔۔کوئی رونگ نمبر تھا ۔۔رابیل نے بات گول کرنے کے لیے جھوٹ بول دیا ۔۔اور سوچنے بیٹھ گئی کہ کامران کو گھر کا نمبر کس نے دیا ۔۔یا پھر أس نے کیسے لیا۔۔۔
کیا بات ہے تم پریشان کیوں ہو۔۔فریال نے رابیل سے پوچھا ۔۔۔تو وہ بولی ۔۔نہیں ۔کچھ نہیں ہے۔پھر دوپہر کے وقت سب اپنے اپنے رومز میں آرام کے کے لیے چلے گئے ۔۔رابیل کو نیند نہیں آرہی تھی وہ کامران کی بات کو لے کے سوچ میں گم تھی کہ أس نے کیا ضروری بات کرنی ہے ۔اور وہ مجھے پریشان بھی لگ رہا تھا ۔۔یہ سوچتے ہوئے وہ اپنے روم سے نکلی اور سیڑھیاں چڑنے لگی۔۔چھت پہ پہنچتے ہی أسے کامران ملا جو أس کا انتظار کر رہا تھا۔
جی بتائیں کیا بات ہے؟۔رابیل نے جلدی جلدی آتے ہی کہا تا کہ جلدی سے وہ چھت سے چلی جائے۔اور کوئی أسے دیکھ نا لے وہ گھبرائی ہوئی تھی۔
میڈیم کیا جلدی ہے آپ کو ۔۔کامران نے تمہید باندھی ۔تو وہ کہنے لگی بات بتائیں کیا کرنی تھی اور آپ کو ہمارے گھر کا نمبر کیسے ملا ۔کس نے دیا ۔۔۔
چھوڑو یہ سب!!!!!! تم یہ بتاؤ ۔۔کہ کہاں تھی تمہیں میرا کوئی خیال نہیں ۔۔۔اتنے دنوں سے تمہیں دیکھا نہیں ۔۔بہت مس کر رہا تھا تمہیں میں۔۔کامران نے اپنی کیفیت بیان کی ۔۔ابھی وہ ایسی کشمکش میں ہی تھے کہ کامران کو کیسی نے آواز دی اور وہ بولا ۔لگتا مجھے امی بولا رہی ہیں ۔۔یہ پکڑو اِسے پڑھنا ضرور کامران نے ایک کاغذکا ٹکڑا أس کی طرف بڑھایا اور کہا۔۔
مُون سُون کی ہوا چل رہی تھی موسم میں کافی نمی تھی ۔کامران نے جیسے ہی وہ کاغذ کا ٹکڑا أس کی طرف بڑھایا ۔۔وہ ہوا کی زد میں آ کر أڑنے لگا اور أڑتے أڑتے چھت سے نیچے چلا گیا ۔۔رابیل أسے پکڑنے کی کوشش کرتی رہی مگر وہ أس کے ہاتھ نا آیا۔۔اتنے میں ٹیپو مین گیٹ سے گھر میں داخل ہوا ۔جو کالج سے واپس گھر آرہا تھا ۔ٹیپو اپنے دھیان میں تھا کہ أسے اچانک چھت پہ کیسی کا سایہ محسوس ہوا۔جب وہ لان کے قریب پہنچا تو وہ کاغذ کا ٹکڑا ہو امیں لہراتا ہوا أس کے پاؤں کے پاس آگرا ۔۔۔أس نے نا چاہتے ہوئے أس ٹکڑے کو أٹھا لیا ۔۔اور پھر ناکارہ کاغذ سمجھ کر پھینکنے لگا پھر أسے خیال آیا کہ اِس وقت چھت پہ کوئی انسانی سایہ ۔۔۔۔۔وہ یہ سوچتا ہوا اندر چلا گیا اور اپنے کمرے میں آتے ہوئے أسے سیڑھیوں سے کیسی کے أترنے کی آواز سُنائی دی۔اور وہ کمرے کے دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔۔یہ سب وہ کیسی گمان کے طور پر نہیں کر رہا تھا بلکہ انجانے میں ہی تھا ۔رابیل ۔۔۔رابیل کو دیکھ کر أس کے مُنہ سے بے اختیار ہی نکل گیا۔مگر أس کی آواز دھیمی تھی جو رابیل تک نا پہنچ سکی۔۔۔وہ سب دیکھتا رہا کہ یہ اس وقت چھت پہ کیا کر رہی ہو گی۔ رابیل گھبرائی ہوئی جلدی سے لان کی طرف دوڑی اور وہاں جا کر وہ پلانٹس میں ادھر أدھر ہاتھ مارنے لگی ۔۔ٹیپو کو نہیں پتہ تھا کہ أس کے ہاتھ میں کوئی کاغذ کا ٹکڑا ہے وہ بے دھیانی میں اپنا کوٹ أتارنے لگا تو اپنے ہاتھ میں أسے وہ پکڑا ہو امحسوس ہوا۔أس نے سامنے پڑے بیڈ کی طرف أسے أچھال دیا ۔اور خود لان میں رابیل کے پاس چلا گیا۔۔
کیا ڈھونڈ رہی ہو رابیل ؟۔۔کیا گم ہو گیا ہے۔؟۔ٹیپو نے جب أس سے پوچھا تو وہ چونک سی گئی۔اور گھبرا کر بولی کچھ نہیں ۔۔أس کا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا ۔۔اور کچھ نا پا کر وہ أٹھ کھڑی ہوئی۔ٹیپو أسے مسلسل گھور رہا تھا جس سے وہ مزید پریشان تھی کہ کہیں اِسے پتہ نا چل جائے۔۔وہ بغیر کچھ کہے سُنے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔اور ٹیپو بھی اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔جب وہ بے دھیانی میں بیڈ پہ لیٹنے لگا تو وہی کاغذ کا ٹکڑا أسے وہاں پڑا ملا ۔۔وہ أٹھا کر ہاتھ میں مسلنے لگا تا کہ أسے پھنک دے۔۔۔پھر أس نے أسے پھنکنا چاہا تو لیٹتے ہوئے أس نے انجانے انجانے میں أسے کھول لیا۔ اور أس پہ لکھارابیل کا نام پڑھتے ہی وہ چونک کر أٹھا اور فوراٌ سارا کھول کر أسے گھور سے دیکھنے لگا ۔۔وہ جیسے جیسے أس کاغذ کے ٹکڑے کو پڑھتا گیا أس کا جسم پسینے میں ڈوبتا گیا۔۔حالانکہ سارا بدن پسینے سے شرابور ہو گیا۔۔أس کا دل أسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے کیسی بوجھ تلے دب سا گیا ہے۔۔أسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔جیسے وہ عام سا کاغذ کا ٹکڑا سمجھ رہا تھا اصل میں وہ کامران کا وہ محبت نامہ تھا جو أس نے رابیل کو لکھا تھا ۔۔ٹیپو جو خود نا جانے کب سے رابیل کو چاہنے لگا تھا اور أس کی فیملی أن دونوں کی شادی کے لیے بھی سوچ رہی تھی۔اور رابیل۔۔۔۔۔کامران کے ساتھ۔۔۔۔۔ٹیپو کا یہ سب سوچ سوچ کر سانس أکھڑنے لگا ۔أس نے جلدی سے أٹھ کر پانی کا گلاس اپنے خشک ہونٹوں سے لگا لیا تا کہ أس کے ہلکاتے ہونٹوں کے ساتھ ساتھ وہ أس کے دل کی پیاس بھی ٹھنڈی کر دے۔۔۔ٹیپو کے سامنے أس کی معشوقہ کا محبت نامہ تھا جو کیسی اور نے أس کے لیے لکھا تھا۔۔اور یہ بات ٹیپو کے لیے برداشت کرنابہت مُشکل تھا۔۔أس نے خاموشی دھار لی۔۔اب وہ پہلے جیسا ٹیپو نا تھا جو ہر وقت شراتیں کرتا رہتا تھا۔۔۔
پتہ نہیں وہ کاغذ کہاں چلا گیا۔۔رابیل سارا دن یہی سوچتی رہی۔۔پتہ نہیں کامران نے أس میں کیا لکھا ہو گا۔۔اگر کیسی کے ہاتھ لگ گیا تو ۔۔۔۔۔یہ بات أس کے دماغ میں اک سوال سا بن کے رہ گئی۔
اور ٹیپو جو رابیل سے بے انتہا محبت کرنے لگا تھا ۔۔اب أس کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ وہ کسی اور کو چاہتی تھی اور ٹیپوکے لیے ب اپنے جسم کا بوجھ أٹھانا مُشکل ہو گیا تھا ۔وہ صرف أسے خوش دیکھنا چاہتابتھا۔أس کاغذ پہ لکھے الفاظ أس کو لمحہ بہ لمحہ پگھلا رہے تھے جو أس کی رُوح کو تکلیف دینے کے سوا کچھ نہیں تھے۔جو أس نے اپنے خوابوں کا انبار لگا رکھا تھا وہ ریزہ ریزہ ہو کرہو امیں کہیں بکھر چکا تھا۔أس کی سوچوں کا پہاڑ خود أس پہ آن گرا تھا۔جس کے بوجھ تلے وہ دبتا چلا جا رہا تھا گھبراہٹ سے أس کا بُرا حال تھا مگر أسے اپنی کیفیت کیسی پے واضع نہیں ہونے دینے تھی۔رُوح نا سکون لینے دیتی اور نا بدن سے نکلنے کا کام کرتی۔عجیب سی کیفیت میں خود کو ڈالے وہ کافی دیر تک چیر پر بیٹھا سوچتا رہا۔جیسے وہ ہمت ہار چکا ہو۔وہ خود کو سہارا دیتے ہوئے چیر کو أس کے بازو سے پکڑ کر أٹھا اور باہر لان میں چلا گیا۔۔أس کی آنکھوں میں خون أتر آیا اور وہ اس کیفت سے نکلنے کے لیے لان میں آکر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔۔وہاں أس کی نظر ایک با رپھر رابیل پر پڑی جو کچھ ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔
کیا ڈھونڈ رہی ہو؟۔۔ٹیپو کی آواز سُنے ہی رابیل لڑکھڑا سی گئی۔اور بولی کچھ نہیں ۔۔کچھ بھی تو نہیں۔۔۔مگر ٹیپو ہر بات نوٹ کر رہا تھا۔۔اور وہ خود کو ایک ہارا ہو انسان سمجھے اپنی محبت کے سامنے کھڑا تھا۔۔جو آج تک أسے صرف مذاق سمجھتی تھی اور أس کی محبت کو بھی أس کی شراتوں کی طرح مذاق سمجھنے لگی تھی۔۔مگر آج تو ساری شرارتیں أس کے وجود کی طرح بکھر چکی تھی۔۔جنہیں سمیٹنا اب بہت مُشکل تھا۔۔
ڈھم۔۔۔ڈھم۔۔۔ڈھم شام ہوتے ہی ڈھولک کی آواز سے سارے گھر میں ہلا گلا سا ہونے لگا ۔۔پڑوس سے بھی لڑکیاں بُلائی گئی جو ڈھولک کے آس پاس بیٹھی تالیاں بجانے میں گم تھی ۔۔میوزک کی آوازاور ییلو کلر کے پُھولوں سے ماحول کافی مُعطر لگ رہا تھا ۔۔ایسا لگتا تھا جیسے گھر میں بہار آگئی ہو۔۔
وا۔۔۔ا۔۔۔ا۔۔۔ؤ۔۔۔رابیل کمرے سے تیار ہو کر نکلی تو سامنے آتی مہوش نے أسے دیکھ کر کہا۔۔اور أس کے دو قدم دُور کامران کھڑا تھا جس نے دُور سے ہی اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو گو لائی میں جوڑ کر ایسے اشارہ کیا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔اے۔ون۔
نائس۔۔۔کامران نے سلو آواز میں أسے ٹونٹ کیا تو وہ أسے دیکھ کر مُسکرانے لگی جب وہ أس کے پاس سے گزر کر لڑکیوں کے پاس جانے لگی۔۔ٹیپو دُور سے ہی أسے دیکھ رہا تھا ۔کہ حسین و جمیل ییلو کلر کے ڈریس میں اپنے لمبے بالوں سے پیٹھ کو چھپائے کوئی حسینا کمرے سے نمودار ہو کر أس کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے باہر آئی ہے۔۔اور مہکتی خوشبو بکھیرتی ہوئی أس کے پاس سے گزر گئی ہے ۔وہ چُپ چاپ أسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔اور وہ لڑکیوں کے درمیان جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔وہ اپنی کھنکھناتی ہوئی آواز سے أن کے ساتھ گیت گانے لگی۔۔منظر خوب مہکتا ہوا دیکھائی دینے لگا ۔۔پھر وہ مہندی کی پلیٹس أٹھانے کے لیے وہاں سے أٹھی اور لڑکیوں کے جھنڈ میں گم ہو گئی ۔سب لڑکیاں سیڑھیوں کے پاس مہندی کی پلیٹس أٹھانے کے لیے گئی تو اچانک لائٹ چلی گئی رابیل کی پلیٹ سے کینڈل کی روشنی بجھ گئی وہ چیلائی ۔۔میری کینڈل تو کوئی جلا دے پلیز۔۔۔۔اچانک روشنی نے کچھ منظر اپنے گھیرے میں لے لیا۔۔جب کامران نے اپنی پاکٹ سے ماچس نکال کر أس کی کینڈل کو روشنی بخشی۔رابیل کی کینڈل کی روشنی صرف اور صرف کامران اور أس کے چہرے پر پڑنے کے لیے کافی تھی۔جس سے وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔وہ دونوں اک دوجے میں گم تھے کہ آواز آئی ۔۔۔
لڑکیوں پلیٹس لے کر چلو بھی۔۔۔اس آواز سے وہ دونوں چونک گئے رابیل نے ادھر أدھر دیکھا تاکہ دیکھ سکے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ۔۔أسے کیا خبر کہ ٹیپو أس کی ہر ہر حرکت پے نظر رکھے ہوئے تھا۔کامران کو شک گزرا کے ٹیپو أن کے بارے میں جان چکا ہے۔کیونکہ أس دن أس نے أسے گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔۔مگر أس نے رابیل سے اس بات کا زکر نا کیا۔۔۔مہندی پھر بارات اور پھر ولیمے کا فنگشن تیزی سے گزر گیاکچھ دن گھر میں خوب چہک مہک تھی۔۔رابیل کے گھر والے بھی آئے ہوئے تھے ۔وہ جب جانے لگے تو رابیل کو بھی ساتھ لے جانے کا کہنے لگے مگر أس کی خالہ نے کہا کچھ دن اور رہنے دیں پھر ہم لوگ خود ہی ایسے چھوڑنے آئیں گے۔۔سب لوگ چلے گئے اورگھر میں بھابھی آگئی۔ٹیپو کی شرارتیں اب ختم ہو چکی تھی ۔۔اور یہ بات سب نے نوٹ کی ۔بعض دفعہ وہ ہنس مکھ ہو جاتا تا کہ کیسی کو محسوس نا ہو کہ أس کے اندر آج کل کچھ چل رہا ہے۔۔
ہم سب مل کر رابیل کے گھر جائیں گے اور اس کے پیرنٹس سے اس کے اور ٹیپو کے رشتے کی بات کریں گے۔۔خالہ نے اگلی شام جب سب چائے پینے کے لیے ڈرائینگ روم میں اکٹھے بیٹھے تھے تو کہا۔۔۔۔سب یہ بات سُن کر بہت خوش ہوئے۔۔رابیل جب کمرے سے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوئے نکلی تو اس کے کانوں میں خالہ کی یہ بات پڑی جیسے سُن کر وہ خوش ہونے کی بجائے پریشان ہو گئی۔اور مُنہ بسوڑ کر أن کے درمیان جا کر بیٹھ گئی۔ٹیپو أسے مسلسل دیکھ رہا تھا۔۔پھر سب اپنے اپنے کاموں میں بزی ہوگئے۔اور رابیل چھت پہ کامران کا ویٹ کرنے لگی۔۔أس کے آتے ہی وہ أس کی طرف لپکی اور سب أسے بتا دیا۔۔کہ اگر وہ کراچی چلی گئی تو پھر وہ کبھی مل نہیں سکیں گے۔۔کامران نے أسے حوصلہ دیا۔۔اور اپنی محبت کا یقین دلایا۔۔
شہریار بیٹے!!!! تمہاری خالہ فریال کی جلد شادی کرنے کا کہہ رہی ہے۔۔تمہارے پاپا ذندہ ہوتے تو سب کچھ دیکھتے مگر اب میرے لیے تو تم ہی ہو نا۔۔اور گھر میں بڑے بھی ہو تو بتاؤ أن کو کیا جواب دوں؟؟؟ فریال کی ماما نے آج اپنے بیٹے کو آفس جانے سے پہلے رُوکتے ہوئے کہا۔تو وہ ماں کی اس محبت کا جواب دیتے ہوئے بولا۔۔ماما جیسے آپ کہیں گی ویسا ہی ہو گا۔۔۔بیٹے کا جواب سُن کر ماں خوش ہو گئی اور فریال کے بتانے پر رابیل پریشان ۔۔۔۔
ہم کراچی چلتے ہیں فریال کے ساتھ رابیل کے رشتے کی بھی بات کر لیں گے ۔۔میں چاہتی ہوں کہ فریال کو بیاہ کر رُخصت کروں تو ساتھ ہی رابیل کو بہو بنا کر لے آؤں۔۔۔خالہ نے آج ڈنر کرتے وقت ڈائنگ ٹیبل پہ ہی بات چھیڑ دی۔۔جیسے سُن کر رابیل پریشان ہو گئی۔۔
ٹرن ۔۔۔ٹرن۔۔ٹرن۔۔۔۔ آگلی شام فون کی گھنٹی بجنے لگی تو فریال نے کال رسیو کر لی ۔۔مگر کوئی جواب نا ملنے پر أس نے رسیور رکھا اور بڑ بڑا کر وہاں سے چلی گئی کہ پتہ نہیں کون ہے۔اگر بات نہیں کرنی تھی تو پھر فون ہی کیوں کیا۔۔
کامران کی ہی کال ہو گئی۔۔۔پاس کھڑی رابیل مُنہ میں بڑ بڑائی۔۔۔کیونکہ أسے لگ رہا تھا کہ وہ ضرور کال کرے گا ۔۔۔
ٹرن۔۔۔ ٹرن۔۔۔فون پھر بجنے لگا تو دوسری ہی بل پہ رابیل نے رسیور أٹھا کر کان سے لگا لیا ۔۔اور جلدی سے گھبرا کے بولی ۔۔کامران۔۔
رابیل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے تم مجھے باہر کہیں ملو ۔۔یا پھر شام کو چھت پہ۔۔۔۔کامران نے اپنا مدعا بیان کرتے ہی فون کاٹ دیا۔۔۔
رابیل اب شام ہونے کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔؟۔فریال نے رابیل کو سیڑھیاں چڑتے دیکھا تو کہا۔۔۔
بس ابھی آئی تھوڑا کام ہے ۔۔صبح چھت پہ کپڑے ڈالے تھے أتارنا بھول گئی اب لینے جا رہی ہوں۔۔رابیل جلدی جلدی سیڑھیاں چڑتے ہوئے بولی جا رہی تھی۔۔
اچھا۔۔۔فریال نے جواب میں سرسری سا کہا۔۔
میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔۔مجھے پتہ تھا تم چھت پہ ضرور آؤ گی۔۔۔کامران نے أسے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں کہیں باہر ملنا پوسیبل نہیں تھا اس لیے تمہیں نہیں کہا۔۔۔اب بتاؤ کیا بات کرنی تھی مجھ سے ۔۔رابیل نے آتے ہی پوچھ ڈالا۔ساتھ میں أس کی ناراضگی محسوس کرتے ہوئے اپنی ریزن بھی بتا دی ،،
میں کل شام کو اسلام آباد جا رہا ہوں۔۔میری جاب اسلام آباد میں ہو گئی ہے مجھے میرے آفس والوں نے أدھر سیٹلڈ ہونے کا بولا ہے ۔۔تم بھی میرے ساتھ چلو!!!!!!!!کامران نے أسے اپنی بات کم فقروں میں ہی کہہ دی۔۔
مگر ایسے کیسے چلی جاؤ ں تمہارے ساتھ میں ۔۔۔رابیل نے گھبرا کر أسے کہا اور أس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔۔۔کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔۔
دیکھو !!!! رابیل تم پھر کراچی چلی جاؤ گئی اور پھر کبھی یہاں نہیں آپاؤ گئی ۔۔اگر آبھی سکو گی تو ٹیپو کی بیوی بن کر۔۔۔اور دوسری بات یہ کہ میرا بزنس اب اسلام آباد میں سیٹ ہو نے والا ہے میں بہت جلد مہوش اور امی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا ۔۔اب اگر میں تمہارے گھر والوں سے تمہارا رشتہ بھی مانگوں جو تم کہتی ہو تو ایسے وہ کبھی بھی نہیں کریں گے ۔۔۔سو ایک ہی راستہ ہے تمہارے پاس یا اپنے پیار کو پا لو یا پھر أن کی مرضی سے شادی کر لو جہاں وہ کہہ رہے ہیں۔۔کامران نے أسے ساری بات تسلی سے سمجھائی۔۔مگر وہ کچھ نا بول پائی۔۔
سُنو میں کل گیارہ بجے تک تمہاراگھر سے باہر ویٹ کروں گا اگر تم آگی تو ٹھیک ورنہ پھر ۔۔۔۔کامران نے أسے کھری کھری سُنا دی۔۔
ورنہ۔۔۔۔رابیل بمُشکل ایک الفاظ ہی بول پائی۔۔تو وہ بولا ورنہ ۔۔۔۔۔تم مجھے بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ چلتا بنا ۔۔اور رابیل دیکھتی ہی رہ گئی۔۔وہ آگلی شام تک پریشان ہی رہی کہ اب کیا کرے ۔۔۔
یہ پیار بھی کیا چیز ہے انسان کو بے بس کر دیتا ہے۔أسے اپنے محبوب کی خوشی کہ سوا کچھ نہیں اچھا لگتا ۔۔یہ سارے رشتوں کو بے معانی بنا دیتا ہے اور انسان صرف اپنے پیار کو سوچنے لگتا ہے ۔اس پہ کسی کوا ختیار نہیں ہوتا۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو اپنے رشتوں کے لیے پیار کو بھولنا پڑتا ہے مگر ایسا کرنا آسان نہیں لگتا جب انسان پر پیار ایسے سوار ہو جاتا ہے جیسے کوئی تیز رفتار گھوڑا پکی سڑک پہ خوشی سے دُوڑتا ہے۔اور أسے اپنے قدموں کی آواز سُہانی لگنے لگتی ہے۔جس میں وہ مگن ہو کر اور بھی تیزی سے بھاگتا ہے بلکل ایسے ہی انسان جب پیار کی پکی سڑک پر دُوڑ لگانے کے لیے خو د کو لاتا ہے تو پھر أسے ہوش نہیں رہتا کے أسے کس طرف جانا ہے یا یہ سڑک أسے کس طرف لے جائے گی ۔کیا اس کی کوئی منزل بھی ہے یا نہیں۔۔یہ سوچے بغیر ہی وہ اپنی دوڑ میں ایسا مگن ہوتا ہے کہ أسے سڑک کے ختم ہونے کا بھی ہوش نہیں ہوتا ۔۔اور نا وہ یہ سوچتا ہے کہ سڑک کے ختم ہونے پر أسے لازمی ہی منزل مل جائے گی۔وہ تو بس پیار کے نشے میں گم صرف اور صرف دُوڑتا ہے۔۔۔۔شائد دُوڑ ہی أس کا مقدر ہوتی ہے ۔منزل توکیسی خوش نصیب کوہی ملتی ہے۔۔اواگرر منزل نصیب میں ہو تو پھر دُوڑ لگانے کا أسے اپنا ہی مزہ آتا ہے۔۔کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں دُوڑ بھی نہیں لگانی پڑتی اور منزل خود چل کر أن کے قریب آجاتی ہے۔۔اور اسیے لوگوں کو لوگ خوش نصیب سمجھنے لگتے ہیں۔۔
آ۔۔۔ہا۔۔۔۔رابیل آج اپنے دل اور دماغ کے درمیان عدالت لگائے بیٹھی تھی وہ پیار کو دل اور دماغ میں باری باری ناپ تول رہی تھی۔اور سوچ رہی تھی کہ أس کی بھی حالت أسی گھوڑے کے جیسی ہے جو صرف پکی سڑک پہ بھاگنے کے لیے خوش ہوتا ہے۔۔رابیل کو بھی منزل سامنے کھڑی دیکھائی دے رہی تھی۔۔وہ بہت جلد اس عدالت میں دل کے کیس کو جیتانے میں کامیاب ہو گئی ۔
دل اور دماغ کی جنگ جب ہوتی ہے تو پھر جیت دل کی ہی کیوں ہوتی ہے ۔۔۔شیر جیسے جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے بلکل ایسے ہی دل پُورے جسم کا بادشاہ ہوتا ہے اور وہ سارے جسم پر اپنا ہولڈ رکھتا ہے۔جب تک دل کی کہی ہوئی بات مان نا لی جائے تب تک وہ سارے جسم کو آرام نہیں لینے دیتا ۔۔جیسے شیر جنگل میں اپنی من مانی کرتا ہے باقی سارے جانور أس کا حکم ماننے پر مجبور ہوتے ہیں اسی طرح دل بھی جسم پر حکومت کرتا ہے اور اپنی منواتا ہے۔۔دماغ صرف وزیر کا کام کرتاہے جو أسے صرف مشورہ دیتا ہے ۔اور دل بعض اوقات أس کی بات مان کر کامیاب بھی ہوتا ہے اور بعض دفعہ ناکام بھی۔۔ہم میں سے بہت سے لوگ دل کی مانتے ہیں اور بعض دماغ کی۔۔
کوئی بھی کاروبار کا معاملہ ہو تو دماغ سب سے اچھا مشورہ دیتا ہے اور انسان کو کامیاب ہونے میں مدد بھی دیتا ہے ۔۔مگر جب بات رشتوں کو نبھانے کی آتی ہے یا پیار کی آتی ہے جو انسان کے دل میں ایک احساس بن کرأّ بھرتا ہے ۔۔۔ تو ہمیشہ انسان دل کی سُنتا ہے ۔۔کیونکہ سب سے زیادہ تکرار ان دونوں کی اسی مسلئے پہ ہوتی ہے۔بدن اور رُوح کو جتنی بھی تکلیف أٹھانی پڑے ۔دل ان کو اس کے لیے تیار کرتا ہے۔۔اور وہ دل کی بات مانتے چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس معاملے میں بھی دماغ کی سُنتے اور مانتے ہیں ۔۔اور جو ایسا کرتے ہیں وہ صرف اور صرف اپنا فائدہ چاہتے ہوتے ہیں ۔اس لیے أن کے نزدیک دوسروں کے اس احساس کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی۔۔اور دُنیا ایسے لوگوں کو بے وفا جیسے ناموں سے جانتی اور پکارتی ہے۔۔۔کچھ لوگوں کو مجبوری میں بھی اپنا پیار چھوڑنا پڑتا ۔۔مگر ایسے لوگ بھی بے وفا ہی کہلاتے ۔۔۔۔
رابیل أن ہی سیڑھیوں پہ بیٹھی کافی دیر تک سوچتی رہی وہ آج دل اور دماغ کی جنگ میں مُبتلا تھی۔۔
کیا بات ہے رابیل تم کچھ خاموش سی ہو آج صبح سے ۔۔۔فریال نے أس سے آکر کہا تو وہ چونک کرکہنے لگی ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔۔بس ویسے ہی ۔۔۔پھر رابیل کمرے میں جا کر الماری کھول کر بیٹھ گئی ۔أس نے ایک ڈریس نکالا اور پہن کر بیڈ پہ بیٹھی ایک بار پھر سوچ میں کھو
گئی۔۔اگر کامران چلا گیا تو پھر کبھی واپس نہیں آئے گا ۔۔۔میں اپنے پیار کو کھو نہیں سکتی ۔۔وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔۔اور مستحقم ہو کر کھڑی ہوئی۔۔جیسے وہ جانے کا فیصلہ کر چکی ہو۔۔
تم آگئی رابیل۔۔۔۔میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا مجھے یقین تھا تم ضرور آؤ گی۔۔۔کامران نے گھر کی پچھلی سائڈ پہ رابیل کے پہنچتے ہی کہا۔۔۔تو وہ بولی۔۔
جی ۔۔۔رابیل صرف اتنا ہی کہہ سکی ۔۔
چلو !!!!چلو!!! جلدی سے گاڑی میں بیٹھو۔۔۔کامران نے أسے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔جس پر وہ أسے لینے کے لیے آیا تھا۔۔۔
رابیل کے گاڑی میں بیٹھتے ہی أس نے تیزی سے گاڑی چلائی اور جلد ہی وہ شہر سے بہت دُور نکل آئے۔۔
ہم اسلام آباد جا رہے ہیں نا؟؟؟؟؟رابیل نے سوال کیا تو وہ جواب میں بولا ۔نہیں یہاں میرے دوست کا فام ہاؤس ہے آج رات ہم یہیں روکیں گے ۔۔کل اسلام آباد جائیں گے۔۔
مگر آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ کو آج ہی اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے۔۔رابیل نے أسے أس کی کہی ہوئی بات یاد دلائی تو وہ خاموشی دھار گیا۔۔۔۔گاڑی ایک بڑے گیٹ سے اند ر داخل ہوئی تو سامنے سفید کلر کے کمرے تھے جو رات کے اس پہر میں ایسے سفیدی پھیلا رہے تھے کہ جیسے چاند اپنی پُوری آب و تاب میں ہو۔۔گاڑی سے أترتے ہی انھیں ایک بوڑھا سا شخص نظر آیا ۔جس کا چہرہ دھکاوٹ سے چور اس سفیدی میں ہلکا ہلکا سا کچھ اشارہ کرتے ہوئے نظر آرہاتھا۔۔جو صرف کامران ہی سمجھ پایا ۔۔شائد وہ کوئی سلام دُعا کر رہا ہو۔۔۔وہ ان دونوں کے ساتھ کمرے تک آیا جہاں کامران نے رابیل کو رکنے کے لیے کہا۔۔وہ بوڑھا شخص جیسے کامران کی ہر بات کو بغیر کہے ہی سمجھ رہا تھا۔۔۔
اچھا ڈئیر!!!!!تم یہاں رہو۔۔ کل ہم اسلام آباد کے لیے یہاں سے ہی نکلیں گے۔۔کیسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو اس بابا جی سے کہہ دینا او۔۔کے۔۔۔کامران أسے یہ کہہ کے وہاں سے چلا گیا اور وہ أس کی بات پر یقین کرتی گئی۔۔صبح ہوئی مگر کامران نا آیا ۔۔وہ سارا دن أس کے انتظار میں رہی مگر وہ نا آیا ۔۔
بابا جی ۔۔کیا آپ اکیلے یہاں رہتے ہیں ؟۔۔رابیل نے أس بوڑھے آدمی سے پوچھا جب وہ أس کے لیے ٹرے میں کھانا رکھے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مگر وہ بوڑھا کچھ نا بولا کھانا رکھتے ہی وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔رابیل کی بھوک ختم ہو گئی وہ پریشان ہونے لگی کہ آخر وہ أسے یہاں چھوڑ کر کہاں چلا گیا۔۔کھانا ایسے ہی پڑا رہا۔۔ رات کا پچھلا پہر تھا اور وہ ابھی بھی جاگ رہی تھی اور کامران کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔وہ بوڑھا بھوت نُما آدمی کمرے میں آتا اور أس کی ضرورت کی چیز رکھ کے چلا جاتا وہ با ربار أس سے کامران کے بارے میں پوچھتی مگر وہ سوائے خاموشی کہ کچھ نا کرتا۔۔أف ۔۔کمرے میں کتنا اندھیرہ ہو گیا ہے۔۔ رابیل نے أس بوڑھے کو آواز دی۔مگر وہ نا آیا ۔۔أس نے سوچا شائد لائٹ چلی گئی ہے۔۔وہ بیڈ پہ جا کر بیٹھ گی کچھ دیر ایسے ہی کچھ سوچتی رہی۔ پھر أسے کیسی کے بولنے کی آواز سُنائی
دینے لگی۔۔وہ خوف کے مارے سکڑ گئی اور بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے خود کو سمیٹنے لگی۔۔پھر أسے محسوس ہوا جیسے کوئی باہر ڈرائنگ روم میں بول رہا ہو آواز کچھ صاف نہیں تھی۔أس نے ہمت کر کے کمرے کی ہلکی سی کھڑکی کھولی۔۔تو أسے کچھ آواز صاف طو ر پر سُنائی دینے لگی وہ پہچان گئی کہ یہ تو کامران کی آواز لگ رہی ہے مگر أسے الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں ۔۔کامران کی آواز سُنتے ہی وہ دروازے کی طرف لپکی اور أس کے مُنہ سے صرف ایک ہی لفظ نکل پایا ۔۔کامران ۔۔۔۔کامران۔۔۔وہ کامران کامران کہتے کہتے کمرے سے باہر آگئی مگر جب وہ ڈرائنگ روم تک پہنچی تب تک وہاں کسی کا کوئی نام و نشان تک نا تھا ۔۔وہ ادھر أدھر بھاگنے لگی تا کہ دیکھ سکے مگر أسے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔۔۔پتہ نہیں وہ کہاں چلے گئے۔۔۔وہ ناکام اپنے کمرے میں لوٹ آئی۔۔اور ساری رات یہی سوچتی رہی کہ کامران وہاں کس سے بات کر رہا تھا۔۔۔
سُنو!!!!! میری بات سُنو۔۔۔صبح جب وہ بوڑھا شخص أسے ناشتا دینے کمرے میں آیا تو وہ چیلائی ۔۔وہ أٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔
رات کو کون لوگ ڈرائنگ روم میں آئے تھے ۔۔۔؟؟؟رابیل نے أس بوڑھے سے پوچھا تو وہ خاموشی سے أسے گھورتا رہا ۔۔پھر ناشتا أس کے بیڈ کے کونے پہ رکھ کر خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔رابیل کو أس کی نگاہوں سے بھی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔
پتہ نہیں یہ شخص بولتا کیوں نہیں ہے۔۔آخر؟؟؟۔۔رابیل کو أس کے نا بولنے پر ألجھن ہونے لگی۔۔پھر وہ ناشتے کے ٹرے سے چائے کے کپ کو ہاتھ میں لیے بیٹھی۔چائے کے سیپ لینے لگی۔۔پھر أس نے ٹوسٹ کا ایک پیس أٹھایا اور مُنہ میں ڈالنے کے لیے مُنہ کے پاس تک لے گئی۔۔ایک دو نوالے ہی لیے تھے کہ أسے پھر سے رات والی بات یاد آگئی۔۔اور وہ سوچنے بیٹھ گئی أس کے ایک ہاتھ میں چائے کا کپ اور دُوسرے میں وہ ٹوسٹ تھا جس کا تقریباٌ تیسرا حصہ وہ کھا چکی تھی باقی أس کے ہاتھ میں سوکھ رہا تھا۔۔اچانک أس کے کان میں کامران کی آواز پڑی تو وہ چینخ أٹھی۔۔۔
کامران ۔۔۔۔کامران ۔۔کامران۔۔۔۔وہ چیلا ہی رہی تھی کہ کامران أس کے پاس کمرے میں آگیا ۔۔کپ اور ٹوسٹ أس نے وہیں رکھ دیا اور أٹھ کرکامران کے پاس جا کر بولی۔۔آپ کہاں چلے گئے تھے؟۔۔۔مجھے یہاں نہیں رہنا ۔۔مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔۔وہ ڈری ڈری أس کے ساتھ لگ گئی اور سیمٹ کر أسے کہنے لگی۔۔کامران آ۔۔۔آ۔۔۔آپ کل رات یہاں آئے تھے نا؟؟؟ بات کرتے وقت أس کا خشک حلق أس کا ساتھ دینے سے قاصر تھا۔۔وہ بار بار لعابِ دہن سے حلق کر تر کر رہی تھی مگر پھر بھی أس سے نا تو بولا جا رہا تھا اور نا ہی الفاظ أس کا ساتھ دینے میں کامیاب ہو رہے تھے ۔بمُشکل أس نے أس سے سوال کرہی ڈالا۔۔۔۔
میں۔۔۔نہیں تو میں یہاں نہیں آیا ۔۔تمہیں کوئی ظلط فہمی ہوئی ہو گی۔۔۔مجھے تو کسی کام سے آؤٹ آف سیٹی جانا پڑھ گیا تھا ۔میں یہاں کیوں آتا بھلا پھر تم سے ملے بغیر کیسے جا سکتا تھا میں۔۔۔کامران نے بات گول کر دی ۔۔اور أسے خود پر یقین دلانے کی بھر پور کوشش کرنے لگا۔۔۔جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکا تھا۔۔
اچھا تم پریشان نا ہو ۔۔میں نے نکاح کا انتظام کر لیا ہے ہم کل ہی نکاح کر رہے ہیں پھر اس کے بعد ہم اسلام آباد چلے جائیں گے اب تو
ٹھیک ہے نا۔۔۔کامران نے أسے چاپلوسی سے منا لیا ۔۔
میں اب چلتا ہوں نکاح کے لیے ابھی مولوی کا انتظام بھی کرنا ہے ۔۔۔وہ أسے تسلی دے کر چلا گیا۔۔
آگلی صبح أٹھتے ہی رابیل بہت خوش تھی کہ آج کامران أس کا ہونے جا رہا ہے۔۔۔لیکن جب شام ہونے کو آئی تو کامران کا کوئی اتاپتہ نا چل سکا۔۔تو وہ مزید پریشان ہو گئی۔۔
بابا جی ۔۔۔باباجی۔۔۔کامران کب تک آئے گا ؟؟؟؟شام ہو گئی ہے أس نے کہا تھا کہ شام سے پہلے آجاؤں گا مگر۔۔۔۔رابیل نے أس بوڑھے آدمی سے مخاطب ہو کر کہا ۔۔۔مگر أسے تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ادھر رابیل کی جان پر پڑی تھی۔۔
رابیل بی بی ۔۔۔۔آپ ہیں ۔۔شام ہوتے ہی ایک انجانے سے شخص نے أسے درائنگ روم میں بلایا اور پوچھا ۔۔۔
جی ہاں۔۔۔میں رابیل ہوں۔۔رابیل کمرے سے باہر آکر أس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔وہ شخص خوفناک سا تھا جیسے دیکھ کر أسے خوف آنے لگا۔۔۔أس کی مونچھیں أس کے سارے چہرے کو گھیرے ہوئے تھی ۔آواز میں بھی بھاری پن موجود تھا۔۔ہاتھ میں ایک پیسٹل پکڑے وہ رابیل سے مخاطب تھا۔۔۔رابیل کی جب نظر أس کے پسٹول پر پڑی تو وہ گھبرا گئی۔۔
کامران ۔۔۔رابیل نے ابھی أس کا نام ہی لیا تھا کہ وہ بولا ۔۔۔مجھے کامران نے ہی بھیجاہے کہ آپ کو لے کر اسلام آباد جاؤں ۔۔وہاں وہ آپ کا انتظار کر رہا ہے أسے کوئی کام پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ جلد اسلام آباد چلا گیا۔وہاں أن کی خالہ رہتی ہیں اور مجھے أس نے بولا کہ آپ کو لے کے اسلام آباد پونچوں۔۔۔اور آپ کو أن کی آنٹی کے گھر پہ چھوڑوں۔۔۔أس شخص نے جب رابیل سے کہا تو أس نے أس پر یقین نا کیا۔۔۔۔میں نہیں ۔۔۔رابیل نے یقین نا کرتے ہوئے کہا ۔
یہ لیں بی بی جی۔۔۔کامران صاحب سے بات کریں۔۔أس شخص نے اپنا موبائیل نکال کر أس نے سامنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کیا ۔اور کہا۔۔۔
رابیل نے موبائیل پکڑا اور کان سے لگا لیا۔۔
رابیل ۔۔۔رابیل میری جان میں کامران ۔۔سوری ۔۔۔۔میں تمہیں ساتھ نہیں لا سکا ۔۔میری اسلام آباد والی آنٹی بہت بیمار ہو گئی تھی ۔اس لیے مجھے آنا پڑا۔۔وہ ابھی ہوسپیٹل میں ہی ہے اس لیے میں خود نہیں آسکتا تم اس کے ساتھ آجاؤ۔۔ہم خالہ کے ٹھیک ہونے کے بعد أن کے گھر پہ ہی شادی کریں گے۔۔تم آؤ !!! نا پھر ہم مل کر اپنے لیے کوئی اچھا سا گھر بھی لیں گے۔۔کامران نے أسے یقین دلانے کے لیے ساری بات سے آگاہ کیا۔۔اور وجہ بیان کی تو وہ راضی ہو گئی۔
وہ شخص جب أس رات أسے گاڑی میں بیٹھانے کے لیے کمرے سے باہر لایا تو سامنے کھڑے أسی بوڑھے آدمی نے رابیل کی طرف گھور کر دیکھا ۔جیسے وہ آنکھوں آنکھوں میں أسے کچھ کہہ رہا ہو ۔۔مگر رابیل ہمیشہ کی طرح أس کی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔جب وہ أس شخص کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو وہ بوڑھا جلدی سے تیز قدموں کے ساتھ أس گاڑی کے قریب آیا اور أس کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔جیسے کہ وہ رابیل کو کہہ رہا ہو کہ اس گاڑی میں مت بیٹھو۔۔۔۔وہ أسے مسلسل گھور رہا تھا۔۔

یہ کیا کہہ رہا ہے؟؟؟رابیل أس کا کوئی اشارہ نا سمجھ پائی اور کہنے لگی۔۔۔
کچھ نہیں جی ۔۔۔یہ تو گونگا ہے ۔یہ بچارہ کیا کہے گا۔۔أس شخص نے رابیل کو حقیقت سے آگا ہ کیا۔۔۔اور پھر تیزی سے وہاں سے گاڑی چلا کر گیٹ سے باہر آگیا۔۔۔رابیل خوف زدہ تھی کہ کب اور کیسے کامران تک پہنچے گی۔۔
بی بی جی !!! آپ کا سٹاپ آگیا۔۔أس شخص نے ایک حسین اور کافی بڑی بلڈنگ کے سامنے گاڑی کھڑی کی اور أسے أترنے کے لیے کہا۔۔۔
کامران کی خالہ کا گھر یہی ہے۔۔رابیل نے أس سے پوچھا تو وہ سر ہلا کر آگے کو چلا گیا ۔۔۔
یہ رابیل بی بی ہیں جی۔۔۔۔ایک عورت سے أس نے کہا۔۔جب وہ أسے أس گھر کے اندر لے گیا۔۔
وہ شخص رابیل کو جب اندر لے گیا وہاں ایک ادھیڑ عمر عورت نے أن کا استقبال کیا۔۔رابیل نے جب أس کی طرف نظر دُوڑای تو وہ عورت سبز کلر کی ساڑھی میں نُمودار أس کے سامنے کھڑی تھی۔جو حسین ہونے کے ساتھ فُل میک اپ میں کوئی اوباش خاتون لگ رہی تھی۔جس کے بات کرنے کے سٹائل سے ظاہر ہو رہا تھا۔۔کہ وہ کوئی سیدھی سادھی گھریلو عورت نہیں ہے۔۔
بیٹھو! !!بیٹا۔۔آنٹی نے بڑے پیار سے مخاطب ہو کر رابیل سے کہا۔۔۔
جی آنٹی۔۔۔رابیل یہ کہتے ہوئے ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
میں چلتا ہوں جی۔۔۔وہ شخص أس عورت کو کہنے لگا تو وہ بولی۔۔۔جی ضرور آپ اب جائیں۔۔۔۔آنٹی نے أسے کہا تو وہ چلا گیا۔۔
جوس لاؤ۔۔۔۔آنٹی نے أس شخص کے جانے بعداپنی ملازمہ کو کہا رابیل کے لیے جوس لاؤ۔۔تو وہ فوراٌ جوس لے کر حاضر ہوگئی۔۔رابیل نے جوس پکڑا اور آہستہ آہستہ سے پینا شروع کر دیا۔أس نے ایک نظر أٹھا کر سرسری طور پر سارے گھر کو دیکھنا چاہا۔تو وہ ایک ہی نظر میں اس سحر انگیز ماحول کے سحر میں آگئی۔۔جہاں أسے بیٹھایا گیا تھا۔وہ جگہ سفید رنگ کے پردوں میں ڈھکی ہوئی تھی۔اور ہلکی ہلکی ہوا کے چلنے سے وہ پردے آہستہ آہستہ أڑ رہے تھے۔صوفے بھی کوئی مخملی کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔۔وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کامران کی آنٹی کا گھر کتنا پیارا ہے۔۔پھر أسے کمرے میں بھیج دیا گیا وہاں بھی ہر چیز صاف اور چمکیلی اورآرٹی فیشل سی تھی۔۔وہ بڑے مزے سے وہاں بیڈ پہ لیٹے آرام کرنے لگی۔۔۔
آنٹی۔۔کامران کب آئے گا؟؟؟؟۔۔۔رابیل نے أس عورت سے پوچھا تو وہ سرسری سا جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔آجائے گا۔۔بیٹا۔۔۔
رات انتظار میں ہی گزر گئی مگر کامران نا آیا۔۔۔شام ہوتے ہی رابیل کمرے میں اکیلے رہتے ہوئے گھبرا گئی۔۔ أسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب کس سے کامران کے بارے میں پوچھے۔۔اچانک أس کے کانوں نے میوزک کی آواز سُنی ۔تو وہ أٹھ کر کمرے سے باہر آنے لگی۔۔۔
یہ کیا؟؟؟؟؟أف فففف۔۔۔۔رابیل کے مُنہ سے صرف یہ ایک دو لفظ ہی نکلے پھر وہ بُت بنے کھڑی کچھ دیر تک سب کچھ دیکھتی رہی
۔جب وہ آنٹی وہاں کھڑی کیسی سُپروائزر کی طرح سب کو گائڈ کر رہی تھی کہ ایسے بیٹھو ۔ایسے کام کرووغیرہ وغیرہ۔۔رابیل کے سامنے سارہ منظر ہی ألٹا ہو گیا۔۔مخملی قالین بچھائے قطار میں تبلہ بجانے والے بیٹھے تھے جنہیں وہ عورت گائڈ کر رہی تھی ۔۔ساتھ میں سامنے قالین پر ایک قطار میں طقیے لگائے گئے تھے جیسے وہاں کیسی معززشخصیات کے حامل لوگوں کو بیٹھانے کا انتظام کیا گیا ہو۔۔۔درمیان والاحصہ کھولا چھوڑ دیا گیا تھا۔۔جہاں وہ عورت کھڑی سب کو گائڈ کرنے میں مصروف تھی۔۔کچھ لڑکیاں اندر ایسے تیار ہو رہی تھی جیسے ابھی کسی بارات میں جانے والی ہیں۔۔یا پھر اِس درمیان والی جگہ پر آنے والے مہمانوں کے لیے کچھ خاص کرنے والی ہیں۔۔رابیل یہ منظر دیکھ کر حیران ہو گئی۔۔
آنٹی۔۔۔آنٹی۔۔۔وہ کامران ۔۔۔رابیل ایک بار پھر گھبرا کر أس کے پاس چلی گئی اور بولنے لگی۔۔۔
کون کامران ؟؟؟؟آنٹی نے رابیل سے جب ایسے کہا تو أس کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین ہی نکل گئی۔۔وہ ہکا بکا ہو کر أسے گھورنے لگی۔۔
آنٹی۔۔۔کا۔۔۔کا۔۔کامران ۔۔رابیل نے پھر سے ٹوٹے پھو ٹے لفظوں میں أسے کہا تو وہ بولی ۔۔
اے لڑکی۔۔۔کون کامران ہاں ۔۔۔ہم کسی کامران کو نہیں جانتے آئی سمجھ۔۔أس کے اس لہجے سے وہ ڈر گئی۔۔
اور ہاں میں کوئی آنٹی وانٹی نہیں ہوں۔۔مجھے کبھی آنٹی مت کہنا۔۔او۔کے ۔اور ہاں اب کبھی کامران کے بارے میں بھی مت پوچھنا ۔۔۔أس عورت نے أسے سختی سے کہا۔۔تو وہ رونے لگ گئی۔۔
مجھے کامران کے پاس جانا ہے۔۔۔رابیل نے ضد پکڑی تو وہ مزید غصے ہو گئی۔۔کوئی بھی رابیل کی بات سُننے کو تیار نہیں تھا۔۔وہ گھبرا گئی کہ وہ کہاں آگئی ہے۔
آنٹی مجھے کامرا۔۔۔ن۔۔رابیل کے منہ میں ابھی بات تھی کہ وہ عورت پھڑپھڑاتے ہوئے بولی ۔دیکھو لڑکی !!!!!! اب تمہیں یہیں رہنا ہے زیادہ شور کرنے کی ضرورت نہیں اور کوئی کامران نہیں ہے سب بھول جاؤ۔۔۔
آنٹی۔۔۔۔رابیل سیسکتے ہوئے بولی ۔۔
یہاں کوئی رشتہ ناتا نہیں صرف اور صرف کاروبار ہوتا ہے سمجھی کاروبار۔۔۔أس عورت نے رابیل کو پکڑ کر چینخ کر کہا۔۔اور پھر زور سے رابیل کو جھٹک کر خود سے دُور کر دیا۔۔
نہیں ۔۔آنٹی ایسے مت کہیں ۔۔۔رابیل أس کے قریب ہونے کے لیے آگے بڑھی تو أس عورت نے أسے دھکا دے دیا جس سے وہ دُور جا گری ۔تو وہ عورت بولی میں کسی کی آنٹی نہیں ہوں ۔۔میرا نام مادام بیگم ہے یہاں سب مجھے مادام کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔۔۔وہ مزید سیسکنے لگی۔۔رابیل کے سر سے دُوپٹہ أتر کر زمین پے گر گیا۔اور وہ خود مُنہ کے بل تبلے بجانے والوں کے قریب جا گری۔۔اور بلک بلک کر رونے لگی۔۔مگر أس ظالم عورت پہ أس کے تمام حربے ناکام گئے۔۔رابیل وہیں پڑی روتی بلکتی سیسکیاں لیتی رہی مگر أس عورت نے أس کی ایک نا سنی اور تبلہ بجانے والے نے تبلہ بجانا شروع کر دیا ،تبلے کی آواز میں أس کی سیسکیوں کی آواز دب
گئی۔۔اور وہ أترے ڈوپٹے کے ساتھ زمین پہ أ ندھے مُنہ پڑی سیسکیاں لیتی رہی۔أس کے لمبے بال زمین کو چھو رہے تھے۔اور بلیک کلر کے سوٹ میں ایک خوبصورت سمارٹ سی لڑکی کوئی سوگ منانے والی بیوہ لگ رہی تھی۔۔وہ عورت أسے روتا چھوڑ کر چلی گئی اوروہ سیسک سیسک کر روتی رہی تبلے کی آواز میں رابیل خود بھی اپنی آواز سُن نا سکی۔۔۔پھر أسے کمرے میں دھکیل دیا گیا ۔۔ساری رات تبلے بجتے رہے اور خوبصورت لڑکیاں اپنے حسن اور ناچ سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی۔۔
چلبلی!!!!جاؤ۔۔أس لڑکی کو لے آؤ ۔۔آج أس کی پریکٹس کا دن ہے۔۔۔مادام بیگم نے ایک شوخ چنچل سی لڑکی سے رابیل کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔اور أس کے اشارے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ رابیل کو لانے کا کہہ رہی ہے۔۔وہ چلبلی جو دیکھنے میں نا مرد لگتی تھی نا عورت۔۔جلدی سے حکم سُنتے ہی رابیل کے پاس آگئی۔۔۔
رابیل بی بی جی آپ کو مادام بیگم نے بلایا ہے۔۔۔چلبلی نے رابیل سے أس کے پاس کمرے میں آکر کہا۔۔
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا۔۔رابیل نے أسے صاف انکار کر دیا۔۔۔تو وہ بولی بی بی جی ۔۔مادام نے پہلے ہی آپ کا کھانا پینا بند کر رکھا ہے اور وہ اس سزا کو اور بھی بڑھا سکتی ہیں۔۔۔
کیا کر لیں گی وہ۔۔زیادہ سے زیادہ مار دیں گی نا مار دیں مجھے زندہ نہیں رہنا۔۔۔رابیل دو دن سے کھانا نا ملنے کی وجہ سے لاغر دیکھائی دے رہی تھی۔۔أس کے سامنے تن گئی۔۔
پھر مادام نے أسے زبردستی کمرے سے لانے کے لیے کہا تو دو لڑکیاں أسے مادام کے پاس لے گئیں۔۔اور رابیل کیسی مُجرم کی طرح مادام کے سامنے کھڑی تھی۔۔
اے لڑکی۔۔۔۔۔کس بات کے نخرے ہیں تمہارے ۔۔۔سُنو یہاں یہ سب تمہیں کرنا پڑے گا انکار کی صورت میں تم نہیں جانتی کہ کیا سزا ہو سکتی ہے ۔۔مادام نے سختی سے کہا۔جو ڈرائنگ روم کے ایک طرف کوئی سٹیج نُماچبوترے پہ بیٹھی پان چبا رہی تھی۔۔۔
مجھے یہ سب نہیں کرنا۔۔رابیل اپنے ڈوپٹے کو جسم پر لپیٹتے ہوئے تھر تھرا کر بولی۔۔اور وہ خوف کے مارے کانپ رہی تھی ۔۔
یہاں جو بھی آتا ہے ہمارا حکم أسے ہر صورت میں ماننا پڑتا ہے۔۔مادام نے روب ڈالتے ہوئے أسے کہا۔۔
مجھے کامران کے پاس جانا ہے۔۔۔رابیل نے پھر سے وہی ضد پکڑ لی۔۔۔
میں لے جاتی ہوں تمہیں کامران کے پاس ۔کامران کے پاس جاتی ہوتم ہاں۔۔بولو۔۔۔مادام بیگم اپنی جگہ سے أٹھی اور اپنے پاس رکھی ایک چھڑی (سٹیک) سے أسے خوب پیٹنے لگی۔۔
ہائے۔۔ہائے رابیل کے مُنہ سے صرف یہ آوازیں نکلتی رہی۔۔اور وہ ظالم عورت أسے پیٹتی رہی۔۔رابیل بے بس ہو کر زمین پر گر گئی۔۔۔
یہ سب گھر سے بھاگنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔بی بی ۔۔گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کے لیے یہی جگہ ہوتی ہے۔۔۔مادام بیگم نے تو آج أسے أس کی اوقات یاد دلا دی۔۔وہ ایک بار پھر أندھے مُنہ گر گئی۔۔

چلو تم لوگ کام کرو اس کا دماغ ابھی ٹھیک نہیں ہوا۔۔کرنا پڑے گا ۔۔۔مادام بیگم نے دوسری لڑکیوں کو کہا تو وہ ناچنے لگ گئی۔۔رابیل اپنے کمرے میں بھی جا کر أن تبلوں کی آواز سے چھٹکارہ نا پاسکی۔۔
کامران ۔۔تم کہاں ہو؟؟؟ وہ بخار میں بلکتی ہوئی أسے پکار رہی تھی ۔ اچانک أسے کامران کی آواز سُنائی دی جو مادام بیگم کے پاس کھڑا أس سے کیسی بات پر جھگڑ رہا تھا ۔۔رابیل اپنے لاغر لاش جیسے جسم کو بمشکل گھسیٹ کر اپنے کمرے کے درواز ے تک لائی۔۔جہاں أسے کامران کی آواز واضح سنائی دینے لگی۔
مجھے اپنے کام کے پورے پیسے چاہیں۔۔کامران مادام بیگم سے کہہ رہا تھا ۔۔۔رابیل نے کان لگا کر سننا چاہا۔ جیسے سن کر أسے بہت دکھ ہوا۔۔
لڑکی تو کیسی کام کی نہیں ہے جیسے تم پیار کا جھانسا دے کر لائے ہو۔۔وہ آج بھی کامران ۔۔کامران کرتی ہے۔۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔مادام بیگم نے أس کے کام کو ناکارہ کہتے ہوئے ہنس کر أس کا مذاق أڑایا۔۔
ہاہاہاہا۔۔کامران بھی ہنسنے لگا ۔۔وہ دونوں رابیل کی حالت پر ہنسنے لگے۔۔۔چلو جو بھی ہے آگے آپ کا کام ہے میں نے تو اپنا کام کر دیا ۔۔جس کے پیسے آپ مجھے پورے دیں ۔۔۔کامران نے أسے احساس د لایاکہ أس کے پیسے جو تہہ ہوئے تھے وہ أسے دے دیے جائیں۔۔
رابیل اتنی دیر میں کمرے سے باہر آگئی۔۔اور کمرے کے باہر کھڑی سب دیکھ اور سُن رہی تھی۔۔
یہ لو اپنے پیسے اور سُنو !!!کچھ دن أس فام ہاؤس مت جانا پولیس کو ہم پہ شک ہو گیا ہے۔۔۔مادام بیگم نے روپوں کی ایک گٹھی أس کی طرف أچھالی اورکہا پورے پانچ لاکھ ہیں۔۔۔اور پھر أسے ساری صورت حال سے آگاہ کیا تا کہ وہ احتیاط سے کام لے۔۔
کامران کی نظر ایک دم رابیل پر پڑی جو بے حس و حرکت أسے دیکھ رہی تھی أس کی آنکھوں میں بے بسی تھی وہ ایک قابل رحم لڑکی لگ رہی تھی جیسے خوب اچھے طریقے سے وہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر گیا تھا۔ وہ مسلسل أسے گھورتی رہی ۔۔اور کامران اپنی ہٹ دھرمی دیکھا کر پیسے لیتے ہی وہاں سے چلا گیا۔لیکن وہ بے حس و حرکت وہیں کھڑی رہی۔۔نا جانے وہ کب سے مادام کے لیے یہ سب کچھ کر رہا تھا۔۔
اے لڑکی ۔۔۔۔۔۔چلو پریکٹس سٹارٹ کرو۔۔۔مادام نے پھر أسے بلا کر کہا۔۔آج جیسے أس کی ہار کا پورا انتظام ہو چکا تھا۔۔رابیل مادام بیگم کو صرف گھور رہی تھی اور ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ أس کی کوئی بھی بات سن نہیں رہی ہو۔۔
چلو!!مادام نے ایک چھڑی أس کے پاؤں پہ دے ماری جن میں أسے گھونگھروں پہنائے گئے تھے ۔۔وہ پھرویسے ہی بُت بنی کھڑی رہی اور تبلہ بجانے والے خوب شور کر رہے تھے ۔۔
وہ کامران ۔۔۔رابیل نے پھر کامران کا نام لیا ۔۔جیسے وہ مادام بیگم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہو مگر مادام بیگم نے أس کی ایک نا سنی ۔۔اور کہنے لگی۔۔پھر کامران ۔۔۔ارے وہ تو کل مجھ سے تمہاری قیمت لے کر گیا ہے ۔جو وہ تمہیں بہلا پھسلا کر لایا تھا ۔۔

نہیں ۔۔رابیل نے کہا۔۔وہ اِس درد سے چُور ہو چکی تھی جو مادام کی بات نا ماننے پہ أسے سزا کے طور پر مل رہا تھا۔۔۔۔
کامران مجھ سے پیار۔۔۔رابیل نے ابھی یہی الفاظ اپنے مُنہ سے نکالے تھے ۔کہ پھرسے درد میں ڈوب گئی۔۔
ہاہاہاہا ۔۔پیار۔۔ارے پاگل لڑکی یہ دنیا ہے۔۔وہ دُنیا جہاں صرف پیسہ کام آتا ہے پیار نہیں ۔۔اور جیسے تم پیار کہتی ہو ۔۔وہ أس کی قیمت لے کر گیا ہے مجھ سے پگلی۔۔یہ دل کی نہیں دماغ کی دُنیا ہے یہاں کوئی رشتہ کام نہیں آتا صرف پیسہ کام آتا ہے۔۔سب پیسے کو سلام کرتے ہیں ۔۔تم کس دُنیا کی بات کرتی ہو۔۔بی بی۔۔مادام بیگم نے آج أسے نا صرف کھری کھری سنائی بلکہ کامران کی اصلییت بھی أس کے سامنے رکھ دی جو کہ کل رات خود اپنی آنکھوں سے بھی وہ دیکھ چکی تھی۔۔کامران ایسے بھی کر سکتا ہے رابیل اپنے حواس کھو بیٹھی تھی مادام بیگم کی اتنی باتیں سنانے کے بعد وہ ایک دم زمین پہ گھومنے لگی اور گھومتے گھومتے وہ ایسے رعکس کرنے لگی جیسے ناچنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہو ۔۔شائد وہ ایسی طرح اپنے اندر چپے درد کو نکال باہر پھینکنا چاہتی تھی۔۔تبلوں کی آواز سارے مکان میں گوجنے لگی اور رابیل کے اندر چپا دکھ اندر ہی اندر رہ گیا۔۔۔جس کا کوئی مداوا نہیں تھا۔۔
دن گزرتے گئے اور رابیل ترقی کرتی چلی گئی۔۔بہت جلد وہ مادام بیگم کی من پسند بن گئی جو ناچتی کم اور شام میں غزل گانے کا کام کرنے لگی۔۔کیونکہ أس کی آواز میں ایک درد تھا جو للہ نے أس کی آواز میں رکھا تھا۔۔
مادام بیگم کے اندر بھی کبھی عورت ہوتی ہو گی۔۔ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈر کیوں نہیں لگتا ۔۔میں یہ کیسے لوگوں میں پھنس گئی ہوں پتہ نہیں کبھی میں ان کے چونگل سے نکل بھی پاؤں گی یا نہیں۔۔کامران آہا۔۔کامران نے میرے ساتھ کیا کیا۔۔ میں نے أس کی جھوٹی محبت پہ یقین ہی کیوں کیا۔۔رابیل آج سات سال کے لمبے عرصے کے بعد پھر ساری پرانی باتیں نکال کے بیٹھ گئی اور وہ کامران کو کوسنے کے ساتھ اپنے آپ کو بھی کوسنے لگی۔۔میں روز دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے یہاں سے نکالے پتہ نہیں وہ کب میری سنے گا۔۔آج پھر رابیل کا دل بہت أداس تھا ۔أسے کہیں بھی سکون نہیں آرہا تھا۔
ایک عورت دوسری عورت کے لیے کیسے گڑھا کھود سکتی ہے۔۔یہ مادام بیگم کو کبھی خیال نہیں آیا ہو گا کہ وہ گناہ کر اور کروا رہی ہے۔۔کیسے دوسروں کی بہن بیٹی کے ساتھ یہ سب کر کے وہ خوش ہوتی اور روپے کماتی ہے۔اور مرد جو خود کو اس معاشرے کا بڑا طاقت ور سمجھتا ہے کیسے خود کو ایسی عورت کے قدموں میں ڈالنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اپنا روپیہ ایسی عورت پے لُٹاتا ہے۔۔پھر بھی سب کے سامنے نیک پاک ہی رہتا ہے۔۔کیوں ۔۔۔رابیل طرح طرح کے سوالات لیے اپنے زہن سے لڑ رہی تھی کمرے کی لائٹ گل تھی۔۔اور وہ اپنے ارمانوں کو کوسنے لگی ہوئی تھی۔۔وہ اندھیرے میں کمرے کی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔۔
مادام بیگم مجھے پورے پیسے چاہیں ۔۔آپ کاَ مندہ جا رہا ہے تو میں کیا کروں ۔آپ پلیز مجھے میرے پیسے دے دیں میں پھر یہاں کبھی نہیں آؤں گا۔۔۔میری پیچھے پولیس لگی ہوئی ہے آپ مجھے پناہ بھی نہیں دے رہی ہیں ۔۔۔اور نا میرا حساب چکتا کر رہی ہیں۔۔کامران رات کے اندھیرے میں مادام بیگم کو گھیرے کھڑا تھا اور أس سے اپنے کاروبار کے پیسے مانگ رہا تھا جو وہ دینا نہیں چاہتی تھی۔۔

میں تمہیں یہاں نہیں رکھ سکتی پولیس تجھ تک پہنچتی ہوئی مجھ تک پہنچ جائے گی۔۔تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔مادام بیگم نے أس پر حکم صادر کر دیا ۔۔مگر وہ ضد لگائے کھڑا تھا۔۔
کا۔۔کا۔۔کامران۔۔رابیل کے مُنہ سے کامران کا نام ایک بار پھر ٹکڑوں میں نکلا ۔۔مگر وہ کمرے سے باہر نا آسکی۔۔کمرے کا دروازہ کھلاتھا اس لیے أسے أن کی باتوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔۔
کامران ۔۔۔کاش۔۔۔۔رابیل نے صرف یہی کہا اور ایسی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی خود کو گھیٹتے گھسیٹتے دیوار کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گئی آج أس میں ہمت نہیں تھی کہ کامران کا سامنا کرے یا جا کر أس سے اپنا حساب چکتا کرے۔۔زمین پر وہ مردہ نُما بیٹھی تھی کہ اچانک لائٹ آنے سے ٹی۔وی کے چلنے سے ٹی ۔۔وی کی آواز آنے لگی ۔۔اور کامران کی آواز پھر أس کی آواز میں دب گئی جو کیسی لڑکی کو پھر أسی فام ہاؤس سے لایا تھا اور مادام بیگم سے أس کے لانے کے پیسے مانگ رہا تھا ۔۔خود کو پولیس سے بچانے کے حربے تلاش کر رہا تھا ۔۔ٹی وی کی آواز سے رابیل کے مردہ وجود میں حر کت محسوس ہوئی۔۔جو سرد مہر ہوا پڑ ا تھا۔۔وہ زمین سے أٹھی اور ٹی وی پر چلنے والی نیوز سننے کے لیے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔
ٹک۔۔ٹک۔۔ٹک۔۔دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی تو آیا جی !!رابیل کے لیے کھانا لائی۔۔لیکن رابیل کا دھیان ٹی وی کی طرف تھا وہ ہاتھ میں نوالہ لیے ایک دم رُک گئی اور نیوز سننے لگی ۔
آج کراچی میں بارش نے اپنا ریکارڈ توڑ دیا ۔۔دو دن مسلسل ہونے والی بارشوں سے سمندر کے پاس والا سارا علاقہ زیرآب آگیا جس سے لاکھوں لوگ جاں بحق اوربہت سے بے گھر ہوگئے۔۔نیوز پڑھنے والی نے بتایا تو رابیل کی یہ سن کے اندر ہی اندر چینخ نکل گئی۔۔نوالہ أس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔وہ پریشان رونے کے لیے بے تاب تھی کیونکہ أس کا گھر بھی اِسی علاقے میں تھا أسے اپنے ماں باپ یاد آنے لگے وہ بے سُود ہو کر بیٹھ گئی۔۔دل میں عجیب قسم کے ہول أٹھنے لگے۔۔
اے لڑکی جلدی سے تیار ہو جاؤ،،بیگ صاحب کا فون آیا ہے أن کے ہاں غزل پارٹی کے لیے جانا ہے ۔۔مادام بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی حکم صادر فرما دیا اور أس کے دکھ کا أسے کو ئی احساس نا تھا۔۔رابیل ایک با ر پھر پتھر کی ہو گئی۔۔وہ رونا چاہتی تھی أسے رونے بھی نا دیا گیا۔۔آنکھیں آج سارا پانی بہا نے کی ضد میں تھیں ۔۔بارش سے محبت أسے بہت مہنگی پڑی تھی۔أس کے اندر ماتم برپا تھا۔۔مگر یہاں أسے کوئی بھی سمجھنے والا نہیں تھا۔۔ہر کوئی آپا دھاپی میں جی رہا تھا۔۔نا چاہتے ہوئے وہ آج بھی تیار ہونے لگی۔۔
زہے نصیب۔۔۔بیگ صاحب کے گھر جب وہ سب لوگوں کے سامنے پیش ہوئی تو سب بولنے لگے وہ سب اَش اَش کر أٹھے۔۔رابیل سفید فراک نُما لباس زیب تن کیے سفید موتیوں والے جیولری سیٹ پہنے اور سامنے ماتھے سے بالوں کوشولڈر تک کٹ کیے جیسے کم پڑ گے ہوں مگر پچھے سے ویسے ہی لمبے کسی گھوڑے کی دُم جیسے ۔۔غزل گانے کے لیے سب کے سامنے آئی تو سب اش اش کرنے لگے ۔۔آج أس نے شبانہ بننے تک کا سفر بمشکل طے کیا تھا ۔۔۔وہ شبانہ کے رُوپ میں شبانہ کا کردار نبھانے بمشکل آئی تھی۔أس کے اندر کا درد آج أس کی
آواز میں گھل گیا تھا ۔جو لوگوں کے کانوں میں رس گھولنے لگا۔۔وہ اپنی غزل گاتے ہوئے آخری فقرے کو ضبط میں نا لا سکی اور گاتے گاتے أس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کو رونے لگی۔۔أس کے ساتھ آج موسم بھی رونے کے لیے اپنی آنکھوں کو سنوار رہا تھا ۔۔ہلکی ہلکی پُھوار باہر کے موسم کو خوشگوار بنا رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے آج آسمان بھی رابیل کے ساتھ رونے کے لیے تیار ہے۔۔پھوار جو پہلے ہلکی ہلکی تھی بارش کا روپ دھار گئی۔اور خوب جم کے برسنے لگی ایسا لگتا تھا جیسے یہاں کا بھی سارا علاقہ زیرآب آ جائے گا ۔۔غزل گاتے ہوئے رابیل کی سیسکیاں صاف سنائی دینے لگی۔۔أس نے اپنی زندگی کے تمام بیتے لمحے اس غزل کے سُر میں ڈھال دیے۔۔
میری زندگی ہے نغمہ۔۔میری زندگی ترانہ
میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ
میری زندگی ہے نغمہ ۔۔میری زندگی ترانہ
میں کیسی کو کیا بتاؤں مجھے یاد کچھ نہیں ہے
کہاں رہ گئی بچھڑ کے میری شاخ آشیانہ
میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ
میرے دل کی دھڑکنیں ہیں۔۔میرے بچپنے کی یادیں
یہاں وہ گاتے گاتے رو پڑی اور آگلا فقرہ أس کے گلے میں اٹک کر رہ گیا۔۔اورأس کی درد بھری سیسکیوں کے ساتھ أس کے دل میں أتر گیا۔۔پھر بمشکل وہ آخری فقرے کو گائیکی کی شکل دے پائی ایسی دوران باہر کا موسم سہانا ہو گیا اور بارش پھر سے پھوار کی شکل میں برسنے لگی۔۔آسمان بھی أس کے دکھ میں رو رہا تھا ۔۔اور آج پھوار أسے کانٹوں کی طرح چب رہی تھی۔۔جیسے کبھی وہ خوش ہو کر دیکھتی تھی۔۔أس کا دل پھوار پڑنے پر خوش ہونے کی بجائے ماتم کر رہا تھا ۔۔أسے آج اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی تھی جو زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے أس سے بچھڑ چکے تھے ۔۔بڑی مشکل سے وہ غزل کا اختتام کر پائی۔۔
میرے سوز میں ۔۔تبسم۔۔۔ میری آہ ! میں ہے ترنم
میں چراغ شام غم ہوں ۔۔۔ آ ہا۔۔۔
میں چراغ شام غم ہوں ۔۔میرانام ہے شبانہ ۔۔۔
میری زندگی ہے نغمہ ۔۔۔میری زندگی ترانہ
میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ
وہ اپنے آنسو صاف کرتی کرتی جلدی سے محفل میں سے أتھی اور اندر چلی گئی۔۔
سب لوگ چلے گئے ہیں آپ کیوں بیٹھے ہیں یہاں۔۔۔۔مادام بیگم نے محفل ختم ہونے کے بعد ایک شخص کو بیٹھے دیکھا تو کہا۔۔۔۔وہ
شخص ساری محفل میں رابیل کو گھو ر رہا تھا جو رابیل سے شبانہ بن چکی تھی۔۔وہ أس کی غزل میں أس کے چھپے درد کو تلاش کر رہا تھا ۔۔یہ بات رابیل کو معلوم نا تھی۔۔
میں ملنا چاہتا ہوں۔۔۔أس شخص نے أس طرف اشارہ کیا جس طرف رابیل گئی تھی مادام کو سمجھ آگئی کہ وہ شبانہ کو ملنا چاہتا ہے۔۔
تم کون ہو؟؟؟مادام بیگم نے جاننا چاہا تو وہ بولا ۔۔۔اویس أس شخص نے بڑے روب سے جواب میں صرف اپنا نام بتایا۔۔
ہم تو ملنے کی بھی قیمت۔۔۔ابھی الفاظ مادام بیگم نے پورے نہیں کیے تھے کہ وہ بولا قیمت۔۔۔۔
جی ہاں ۔۔۔مادام نے سر ہلا کر أس سے کہا تو وہ وہاں سے چلا گیا۔۔اور پھر بہت سے پارٹیز پر نظر آتا رہا مگر رابیل سے نا مل سکا۔۔بس اأس کا گانا سنتا اور چلا جاتا صرف اور صرف رابیل کو گھورتا رہتا۔۔رابیل بھی تھوڑا أس سے ہچکچا سی گئی وہ أسے پہچان نا پائی تھی کہ کون ہے ۔آخر یہ شخص أس نے ایک آدھ بار مادام بیگم سے پوچھا مگر کوئی تسلی بخش جواب نا ملا۔۔
تا۔۔تم رابیل ہو نا۔۔۔وہ غزل ختم ہونے پر جب لوگوں کے درمیان سے أٹھ کر اندر جانے لگی تو أس کا راستہ روک کر وہ شخص کہنے لگااور رابیل کا ہاتھ پکڑ کر أسے تھپکی دیتے ہوئے کہنے لگا میں بہت جلد تم سے ملنے آؤں گا ۔۔۔لیکن وہ سنی ان سنی کر گئی۔اورتیز قدموں کے ساتھ اندر چلی گئی۔۔
پتہ نہیں یہ کون ہے جو ہر پارٹی پے آکر صرف مجھے گھورتا ہے۔۔اورمیرا نا م بھی جانتا ہے آخر کون ہے یہ ۔۔۔رابیل نے سوچنا شروع کیا ۔۔تو کسی نتیجے پر نا پہنچ پائی۔۔مگر وہ اپنا پورانا نام سن کر چونک سی گئی تھی ۔تو تم یہاں تک آگئے۔۔نوجوان۔۔۔مادام بیگم نے أس لڑکے سے کہا جو آج مادام بیگم کے گھر تک آنپہنچا تھا۔۔
جی مجھے رابیل سے ملنا ہے ۔۔۔أس لڑکے نے کہا۔۔۔
یہاں کوئی رابیل نہیں رہتی ۔۔شبانہ ۔۔مادام بیگم أسے کہنے لگی تو وہ بات مکمل کرنے سے پہلے ہی بول پڑا ۔۔جی جی وہ ہی مس شبانہ۔۔
اچھا ۔۔تو میں نے کہا تھا ۔۔کہ قیمت۔۔مادام بیگم نے ایسے کہا جیسے کوئی لالچی کتا ہڈی دیکھنے پر للچا کر بولتا ہے اور أس کے منہ سے پانی جاری ہو جاتا ہے ۔۔
یہ لیں قی۔۔۔۔۔مت ۔۔۔أس لڑکے نے روپوں کی ایک گٹھی مادام بیگم کے قدموں میں پھینکی اور اترا کر بولا۔۔اور لفظ قیمت کو جیسے کھنچ کر أس کے منہ پر مارا ہو ۔۔۔
جی بیٹھیں سرکار۔۔مادام بیگم نے أسے عزت دیتے ہوئے کہا ۔۔اور أسے شبانہ کے پاس کمرے میں بھیج دیا۔۔
آپ۔۔۔۔شبانہ نے چونک کر کہا اور أٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔
جی آج قیمت ادا کر کے تم سے ملنے آیا ہوں ۔۔۔أس شخص نے کہا۔۔
رابیل۔۔أس شخص نے پھر أسے أس کے اصل نام سے پکارا تو پریشان ہو گئی کہ یہ کون ہے جو مجھے میرے پرانے نام سے جانتا ہے۔۔
تم کیسے ان لوگوں کے چنگل میں پھنس گئی ہو۔۔۔وہ بولا

آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں آپ کون ہیں ۔۔۔شبانہ نے أس سے سوال کر ڈالا تو وہ بولا ۔۔واہ رابیل اتنا کچھ ہو جانے کہ بعد بھی تم نہیں پہچان سکی ۔۔وہ أسے تانا دیتے ہوئے بولا۔
پہچان تو گئی تھی مگر أسے محسوس نہیں کروانا چاہتی تھی۔۔اس لیے کہنے لگی ۔۔آپ پلیز چلے جائیں یہاں سے ۔۔۔
میں ٹیپو ہوں ۔۔وہ ٹیپو جو ہمیشہ تمہیں بُرا لگتا تھا۔۔جس کی شرارتیں تمہیں اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔تمہیں ہمیشہ میری محبت پے یقین نہیں آتا تھا اور تم أسے میری طرح مذاق سمجھتی رہی تھی۔۔تمہیں پتہ کراچی بارش بہت ہوئی جس سے سمندر والی سائڈ پر ایسا سیلاب آیا کہ بہت تباہی ہوئی خالہ اور خالو بھی أسی میں ۔۔۔۔وہ ساری کہانی سنائے جارہا تھا اور رابیل أسے گھورے جا رہی تھی جب وہ خالہ خالو کا بتانے لگا تو رابیل کہ آنکھیں پانی سے بھر آئی۔۔۔مگر وہ بت بنی کھڑی سب کچھ سنتی رہی۔۔۔ایک دم وہ لڑکھڑائی اور ساتھ پڑی چیر پر بے سُود گر گئی۔۔
میں تبھی سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں جب سے تم ہمیں چھوڑ آئی ہو مجھے پتہ تھا تم کامران کے ساتھ۔۔۔۔مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ تم یہاں مجھے اس حال میں ملو گی۔۔ٹیپو أسے ساری بات سے آگاہ کر رہا تھا۔۔
پتہ ہے جب سے تم ہمیں چھوڑ آئی ہو ہمارے گھر سے کبھی کسی کے ہنسنے کی آواز نہیں آئی۔۔
چُپ ہو جاؤ پلیز۔۔۔رابیل نے تڑپ کر أسے کہا ۔۔تو بولا جب سے رابیل گئی ہے ٹیپو کی شرارتیں بھی چلی گئی۔۔تب سے ہنسنا حرام سا ہو گیا ہے۔۔۔
ٹیپو!!!!رابیل اپنے درد میں ڈوبی صرف أس کا نام ہی لے سکی أس کا درد أس کے چہرے پر واضح طور پر نظر آرہا تھا۔۔وہ ٹوٹ چکی تھی زندگی سے بے زار ہو چکی تھی ۔۔
آپ بہت بدل گئے ہیں۔۔رابیل نے أس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں بدل گیا ہوں ۔۔ٹیپو ۔۔۔ میرے اندر کہیں مر گیا ہے۔۔مگر تم بھی تو رابیل سے شبانہ بن گئی ہو۔۔میں ٹیپو سے بدل کر اویس بن گیا تو کیا ہوا ۔۔۔انسپیکٹر اویس۔۔۔أس نے بڑے درد بھرے لہجے میں اپنی بات مکمل کی تو وہ أس کے چہرے کی طرف ہی دیکھتی رہ گئی جو اپنے نام کے ساتھ خود بھی بدل گیا تھا ٹیپو جس کا اصل نام اویس تھا آج اس شہر کا انسپیکٹر تھا ۔۔أس نے داہڑھی رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے رابیل أسے جلد پہچان نا سکی۔۔وہ چھوٹی چھوٹی دہڑھی میں بلکل بدلا بدلا سا لگتا تھا ۔۔
چلو ۔۔لڑکے تمہارا ٹائم اب ختم ہو چکا ہے ۔۔اتنی سے قیمت میں بس اتنا ہی ہوتا ہے۔۔مادام بیگم نے أسے رابیل کے کمرے میں آکر کہا تو وہ مسکرا دیا۔۔۔
اچھا رابیل میں بہت جلد تمہیں لینے آؤں گا۔۔وہ جاتے جاتے کہنے لگا ۔۔
لینے۔۔۔ارے تم تو ملنے کی قیمت آسانی سے ادا کر نہیں سکتے لینے کی کیا کرو گے۔۔مادام بیگم نے أسے جگت لگائی ۔
یہ میں آپ کو بہت جلد بتاؤ گا کہ میں کون سی قیمت آسانی سے ادا کرسکتا ہوں اور کون سی نہیں ۔۔۔أس نے جاتے ہوئے دروازے کے
پاس جا کر مڑ کر کہا تو مادام أسے غصے سے دیکھنے لگی۔۔وہ بات مکمل کر کے چلا گیا۔۔
شبو !!!!! آج شام جلدی تیار ہو جانا ہمیں فام ہاؤس جانا ہے ہمارا پُرانا آشنا بہت دنوں بعد آیا ہے اس شہر میں۔۔أس نے بلایا ہمیں ۔۔۔آج وہ جو چاہے گا ہم انکار نہیں کریں گے۔۔مادام نے أس پر اپنا حکم صادر کیا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
لگتا ہے آج کوئی بھاری آسامی ہاتھ آئی ہے تبھی مادام بیگم آج بہت خوش ہیں ۔۔رابیل نے أس کے جانے کے بعد مُنہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔اور اپنے کمرے میں لگی خانہ کعبہ کی تصویر کو دیکھنے لگ گئی۔۔اور دعا کرنے لگی ۔۔اے اللہ تو نے مجھے ہمیشہ بُرے کام سے محفوظ رکھا ۔۔مجھے اس دلدل سے نجات دے اور یہ جو مصیبت اب آنے والی ہے جس سے مادام خوش ہے اس سے مجھے بچا لے۔۔۔أسے شک گزرا کے مادام أس کے ساتھ کچھ بُرا کرنے والی ہے ۔۔کیونکہ اس سے پہلے وہ کبھی بھی کسی فام ہاؤس میں نہیں گئی تھی وہاں دوسری لڑکیا ں جاتی تھی اور بڑے بڑے بزنس مینز کا دل بہلاتی تھی جو ہر ویکنڈ پہ اپنا پسیہ ایسی عورتوں پے لوٹانے کے لیے آتے تھے ۔۔
ٹیپو میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا۔۔سب گھر والے مجھ سے نفرت کرتے ہوں گے۔۔رابیل بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ مادام بیگم کا پیغام آگیا کہ جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔وہ أٹھی اور بے دلی سے تیار ہونا شروع ہو گئی۔۔دل ہی دل میں وہ اللہ سے دعا بھی کر رہی تھی اور تیار بھی ہو رہی تھی۔۔وہ آہستہ آہستہ تیار ہو رہی تھی تا کہ دیر ہو جائے اور أسے جانا نہ پڑے،
کیا بات ہے اتنی دیر کیوں لگا رہی ہو آج۔۔۔مادام بیگم نے أس کے کمرے میں آکر أسے کہا ۔۔اور پھر فون کان سے لگا کر کسی سے بات کرنے لگ گئی۔۔جی جی ہم بس پہنچنے ہی والے ہیں سیٹھ صاحب ! آج آپ کی خوشی کی انتہا نہیں رہے گی ایسی چیز لا رہی ہوں ۔آپ کے لیے کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔۔۔۔مادام بیگم نے سیٹھ صاحب کا دل بہلانے کا آج جیسے مکمل انتظام کر رکھا تھا۔وہ شبانہ کے روپ میں أسے آج کی رات تحفہ دینا چاہتی تھی۔
وہ ما دام کی فون پر بات سن کر مزید پریشان ہو گئی اور دعا کرنے لگی اتنے میں ڈرائینگ روم سے قدموں کے چلنے کی آواز سنائی دی جسیے کوئی مادام سے بات کر رہا ہو ۔۔رابیل نے فوراٌ کمرے کو چھوڑا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر آگئی کہ کون مادام سے جھگڑا کر رہا ہے۔
اویس۔۔۔۔أس کے مُنہ سے بے اختیار أس کا نام نکلا اور وہ دوڑی دوڑی اویس کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی کہ جیسے وہ أس کے لیے کوئی مسیحا ثابت ہو۔۔اور بولی شکر ہے اویس آپ آگئے مادام مجھے آج فام ہاؤس۔۔۔وہ ابھی بتا رہی تھی کہ أس نے با ت کاٹ دی اور کہا ۔۔میں آج اس مادام جی کا سارا کھیل ختم کرنے آیا ہوں ۔ بات کرتے وقت وہ اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی سٹک کو اپنے بائیں ہاتھ پر ضرب لگا رہا تھا ۔جو أسے انسپیکٹر بننے پر دی گئی تھی۔۔۔ اورمادام اورنج کلر کے لباس میں غصے سے لت پت ایک بھڑکیلی عورت لگ رہی تھی۔
تم ۔۔تم کون ہو؟ اور پولیس کی وردی میں ۔۔۔۔مادام نے غصے سے بھڑک کر کہا ۔۔
اسنسپیکٹر اویس۔۔۔اویس نے جواب میں کہا تو أس کے ہاتھوں کے طوطے أڑ گئے۔وہ ہکا بکا ہوگئی۔پھر اویس نے أسے اس کے ورنٹ دیکھائے اور لیڈی پولیس کو اسے ہاتھ کڑھی پہنانے کے لیے اشارہ کیا ۔۔آج أس کی ایک نا چلی اور وہ پکڑی گئی ۔گھر کی تلاشی لینے پر
ڈراگز بھی باآمد ہوئی جس کا کاروبار یہ عورت کرتی تھی ۔۔گاڑی اسے لے کر سیدھی تھانے کی طرف روانہ ہوئی ۔۔۔۔ اویس اور رابیل دوسری گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔
شکریہ ٹیپو!!!!!!۔۔بلکہ انسپیکٹر اویس صاحب ۔۔رابیل نے أس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔تو أس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے
ہا ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔أس نے رابیل کی طرف دیکھا اور مسکرانے لگا ۔۔اور بولا ۔۔سنو ۔۔میں آج سے پھر ٹیپو ہو گیا ہوں ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ تو رابیل بھی أس کی بات سن کے اپنے آنسو پونجھ کر ہنسنے لگی۔۔
آج میڈم مادام کا سارا کھیل ختم ہو گیا۔۔۔پتہ یہ سب کامران کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔۔میں بہت دیر سے أس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔کوئی پروؤ نا ہونے کی وجہ سے میں کچھ کر نہیں سکتا تھا ۔۔مگر اب کامران جب فام ہاؤس سے ڈراگز کیس میں پکڑا گیا تو پھر مادام نے أسے چھوڑوانے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے کامران نے مادام کے خلاف سب کچھ بک دیا ۔۔
مجھے أس کا نام بھی نہیں سننا ۔۔بے غیرت انسان ہے وہ ۔۔رابیل نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔تو وہ بولا او ۔کے
آپ بس مجھے گھر لے چلیں۔۔مجھے گھر جانا ہے ۔کیونکہ گھر ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم لڑکیاں محفوظ رکھ سکتی ہیں۔۔گھر کے باہر ہمارا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے۔اللہ کا شکر ہے جس نے ہم لڑکیوں کو گھر جیسی نعمت سے نوازا ۔جہاں ہماری عزت محفوظ رہتی ہے اور جو گھر سے بھاگ جاتی ہیں أن کی کہیں بھی کوئی عزت نہیں ہوتی۔۔
مجھے معاف کر دو ٹیپو میں نے آپ کی قدر نہیں کی ۔۔اور آپ کو بہت ہرٹ کیا۔آپ کے جذبات کی قدر نہیں کی۔۔آپ کے پیار کو آپ کی باتوں اور شرارتوں کی طرح مذاق سمجھا۔اور آج خود مذاق بن گئی۔۔رابیل اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بولی توآنسو أس کی آنکھوں سے نکل کر گالوں کو چھونے لگے۔وہ ٹوٹ چکی تھی۔
مادام کے سارے دھندے کھل کر سامنے آئے ٹیپو نے بتایا کہ وہ کامران کے کہنے پر أس غزل پارٹی میں آیا تھا مادام نے کامران کے پیسے نہیں دیے جس کی وجہ سے أس نے پولیس کو مادام کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔۔اور پولیس کامران کے زریعے مادام بیگم تک پہنچ پائی۔
یہ کہاں لے کے جا رہے ہیںآپ؟رابیل نے ٹیپو سے کہا
بھول گئی ہو کیا ہمارا گھر ہے ۔۔ٹیپو نے أسے بتایا تو وہ گھبرا گئی اور بولی ۔نہیں۔۔نہیں۔۔میں نہیں جا سکتی۔۔رابیل نے گھبرا کر کہا۔۔۔
کیوں؟ ٹیپو نے حیران ہو کر اپنا ایک بھنوا أٹھایا اور حیرت بھری نظروں سے أس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔جو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ أس کے بائیں جانب بیٹھی تھی۔۔
وہاں مجھے کوئی ایکسیپٹ نہیں کرے گا ۔۔رابیل نے أس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے کہا۔
تم چلو تو سہی۔۔۔۔نا۔۔۔ٹیپو نے سرسری سا جواب دیتے ہوئے کہا تو وہ مزید پریشان ہوگئی۔أس کا دل وسوسوں سے بھر گیا۔۔
گاڑی مین گیٹ کے اندر جا کر روکی۔تو رابیل کی نظر سامنے لان میں کھیلنے والے بچوں پر پڑی۔جو پھول توڑ رہے تھے ۔۔أسے اپنی بات یاد آگئی جب وہ پہلی بار یہاں آئی تھی اور پھول توڑنے پر ٹیپو نے أس کے ساتھ کیا کیا تھا۔وہ ایک دم مسکراتی ہوئی خاموش سی ہو گئی وہ سوچنے
لگی کہ ٹیپو کے بچے۔۔۔
ارے میرے پیارے پھول میرے بچے ۔۔ٹیپو نے گاڑی سے أترتے ہی بچوں کو أٹھا کر گلے سے لگا لیا اور پیار سے بولا۔۔۔ جو دوڑے دوڑے أسے دیکھ کر پاس آگئے تھے۔
رابیل یہ دیکھ کر پریشان کھڑی تھی۔۔۔
ماموں۔۔۔۔ایک بچے کہ منہ سے ماموں سن کر وہ چونک سی گئی اور ٹیپو کی طرف دیکھنے لگی۔۔
او یار۔۔۔یہ آپی فریال کے بچے ہیں۔۔۔۔ٹیپو نے رابیل کے چہرے پر لکھے سوال کو پڑھ لیا تو أسے بتایااور ساتھ میں مسکرا دیا ۔۔۔وہ جیسے أسے پھر سے چھیڑنے کی کوشش میں تھا۔۔
چلو اندر چلتے ہیں ۔۔ٹیپو نے أسے کہا تو سہمی ہوئی أس کے ساتھ قدم أٹھانے لگی۔۔
امی ۔۔دیکھیں کون آیا ہے ۔۔امی ۔۔امی۔۔۔رابیل۔۔آ گئی۔۔فریال نے أن کے اندر داخل ہوتے ہی شور ڈال دیا ۔تو سب أس کے پاس آ ۔۔آکر أسے گلے ملنے لگے مگر رابیل بت بنی ایک جگہ کھڑی رہی ۔وہ خود کو سب کا مجرم تصور کر رہی تھی۔۔
رابیل دیکھو !!!!یہ تمہارے بھائی کے بچے ہیں ۔۔۔فریال نے رابیل سے کہا تو أس میں زارا بھی جان نا آئی وہ بت کی بت ہی کھڑی رہی۔۔۔
رابیل ۔۔تمہارا بھائی بھی أسی سیلاب میں کمرے کی چھت گرنے سے اس دنیا سے چلا گیا۔۔فریال نے دُکھی لہجے سے أسے کہا۔۔تو وہ ایک دم لرز سی گئی جیسے أسے کوئی کرنٹ لگا ہو ۔۔اور وہ جو بت بنی کھڑی تھی زرہ سے سرکی اور پھر دونوں بچوں کو گلے سے لگا کر زاروقطار رونے لگی۔۔
آپی تب سے ہمارے پاس ہیں۔۔ٹیپو نے جب أسے بتایا تو رابیل نے أس کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ وہ درد بھی دیکھا جو ایک بہن کے بیوہ ہوجانے پر ایک بھائی کے چہرے پر ہوتا ہے۔۔وہ کافی دیر گھٹنے ٹیکے زمین پر بچوں کو اپنے ساتھ چپکا کر روتی رہی پھر ٹیپو نے أسے سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا۔۔۔اور وہ کھڑے ہوتے ہی ٹیپو کے ساتھ چپک کر کسی بے سہارا عورت کی طرح رونے لگی۔۔
کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ٹیپو نے رابیل سے کہا جب وہ سارے گھر کا جائزہ لینے کے لیے ادھر أدھر دیکھ رہی تھی۔۔
سب ویسا ہی ہے ۔۔بس اب اس گھر سے ہنسنے کی آواز نہیں آتی۔۔ٹیپو نے درد بھرے لہجے میں کہا تو أس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔۔۔شہریار بھائی کی فیملی آوٹ آف کنڑی میں شفٹ ہو گئی ہے اور ۔۔ہم یہاں ۔۔۔ٹیپو نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔تو مسکرانے لگی ۔۔وہ آج بھی أسے دیکھ کو ایسے ہی شرارتی سا ہو رہا تھا جسے پہلے أسے دیکھ کر وہ شرارتیں کرنے لگتا تھا۔۔
رابیل ۔۔۔رابیل۔۔۔ارے بابا کہاں ہو؟؟؟؟؟؟ٹیپو آفس سے آتے ہی چیلایا۔۔پھر أسے ونڈو کے پاس کھڑے دیکھ کر بولا ۔۔۔او۔۔اچھا تو موسم کا مزہ لیا جا رہا ہے۔۔۔وہ شرارتی موڈ میں تھا ۔۔
نہیں میں تو بچوں کو دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔کتنا خوش ہو رہے ہیں ہلکی ہلکی سی بارش میں۔۔رابیل ونڈو کے شیشے سے باہر جھانکتے ہوئے
بولی ۔۔
یاد ہے یہ پھُوار تب بھی ایسے ہی پڑی تھی جب تم پہلی بار ہمارے گھر آئی تھی۔۔۔۔اور میں نے تمہیں لان سے پھول توڑتے ہوئے پکڑ لیا تھا ۔۔۔ٹیپو نے أسے پرانی بات یاد دلائی اور ساتھ أس کی چوری بھی سنا دی تو وہ مسکرانے لگی۔۔۔۔
مجھے نہیں دیکھنی یہ پُھوار۔۔۔۔رابیل کھڑکی سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر کہنے لگی ۔۔وہ ڈری ہوئی تھی اور نا جانے کیا سوچ کر أس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔
میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نا دیکھوں۔۔۔۔ٹیپو أسے اپنی باہوں کے دائرے میں لے کر گھیسٹ کر دوبارہ أس کھڑکی کے پاس لے جا کر کہا۔۔۔۔
کیا میرے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتی ہو۔۔۔ٹیپو نے أس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے درد بھرے انداز میں کہا۔۔تو وہ أس کی طرف دیکھنے لگی۔۔اب أسے أس کی محبت پر یقین ہو چلا تھا ۔۔
مجھے ڈر لگتا ہے ایسے موسم سے ۔۔رابیل نے ہلکی سی آواز کے ساتھ کہا تو وہ کہنے لگا ۔۔ڈرنے کی ضرورت نہیں اب کی بار کامران نہیں !!! میں ہوں تمہارے ساتھ۔۔ ۔۔ٹیپو نے جب أسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ۔تو وہ کامران کا نام سن کر شرمندہ ہو گئی ۔اور نظریں جھکا لی۔۔
یہ لیں جی موسم کا مزہ لیں چائے اور پکوڑوں کے ساتھ ۔۔فریال ٹرے میں پکوڑے اور چائے کی پیالیاں سجائے ان کے پاس آکر بولی ۔۔۔تو ٹیپو نے دو کپ چائے اور ایک پلیٹ پکوڑوں کی أس میں سے أٹھا لی۔۔اور بولا ہم تو کھڑکی سے ہی موسم کا مزہ لیں گے ۔۔فریال چلی گئی اور أس نے ایک کپ رابیل کو پکڑا دیا اور ایک خود پکڑ لیا اور پکوڑوں کی پلیٹ سامنے پڑے ٹیبل پر رکھ دی ۔اور بولا چلو کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر چائے پیتے ہیں ۔کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی وہ جلدی سے واپس مڑی لیکن ٹیپو نے أسے اپنے بازوؤں کا دائرہ مضبوط کرتے ہوئے پھر دھکیل کر کھڑکی کے پاس کر دیا ۔
مجھے جانے دو پلیز !!!مجھے بارش نہیں دیکھنی ۔مجھے ڈر لگتا ہے اس سے ۔۔۔۔رابیل نے گھبر ا کر کہا ۔۔اور جلدی سے مڑنے لگی۔۔
کیوں؟؟؟؟؟؟ ٹیپو نے حیرت سے سوال کیا ۔اور پھر أس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔
اس نے مجھ سے میرا سب کچھ تو چھین لیا ہے ۔۔۔مجھے رسوا کر کے چھوڑا ہے اس نے۔۔۔۔رابیل کی آواز میں درد تھا ۔اور أس کی سیسکیاں أس کے اندر ہی اندرکہیں دب رہی تھی۔۔۔
نہیں ایسے نہیں کہتے ۔۔جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔۔۔۔ہر کام میں اللہ کی مرضی شامل ہوتی ہے۔۔ٹیپو نے أسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ۔۔
نہیں مجھے بارش سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔خوف آتا ہے مجھے۔۔۔رابیل نے کپکپی ظاہر کرتے ہوئے کہا أس کی آواز میں لرز ش تھی أس کا جسم ویبریٹ ہوتا ہوا محسوس ہو نے لگا ۔۔
گزرے دنوں کو مت یاد کرو ۔۔اب پچھتا نے سے کیا فائدہ۔۔دیکھو !!!!!اب بارش سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں تمہارے
ساتھ ہوں ۔۔۔ٹیپو أسے سمجھاتے ہوئے مذاق کے موڑ میں آگیا ۔۔۔کہ میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔
أس نے چائے کا سیپ لیا اور اپنا سر رابیل کے سر کے ساتھ جوڑ لیا ۔۔۔تورابیل کے اندر ایک اطمنان کی لہر ڈور گئی ۔أسے محسوس ہونے لگا اب وہ مضبوط ہاتھوں میں ہے۔۔آج ایک شرارتی اور چنچل سا لڑکا جیسے وہ کچھ نا سمھتی تھی أس کے سامنے چٹان بنا کھڑا تھا ۔۔اور أس کی خاطر ساری دُنیا سے لڑنے کے لیے تیار تھا ۔۔
اگر آپ نا ہوتے تو ۔۔۔۔رابیل نے جب چائے کا کپ ٹیبل پہ ررکھا تو أس سے کہا ۔اور رونے لگ گئی۔۔وہ بھی چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھ کر چیر سے أٹھا جہاں وہ اپنی چائے کا آخری سیپ لینے کے لیے بیٹھا تھا ۔۔اور أس کے پاس آکر أس کا ہاتھ تھام کر أسے حوصلہ دینے لگا ۔۔
اویس آپ بہت عظیم انسان ہیں ۔۔مجھ جیسی لڑکی کو ۔۔۔رابیل نے أس کی سچے دل سے تعریف کی اور أس کی آواز ہچکیوں میں باندھ گئی ۔۔کیونکہ ٹیپو نے آج أسے عزت کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا ۔۔ورنہ ایک طوائف کو اس معاشرے میں اتنی عزت کون دیتا ہے ۔۔نا ہمارے معاشرے میں اتنی ہمت ہے اور نا ہی اس معاشرے کے مردوں میں ۔۔ وہ دل ہی دل میں أسے دعائیں دے رہی تھی ۔۔
رابیل کے یہ الفاظ أس کے چہرے پر خوشگوار رونق بن کر بکھر رہے تھے جن کو سننے کے لیے وہ نا جانے کب سے بے چین تھا ۔۔
عظیم میں نہیں ۔۔عظیم تو محبت ہوتی ہے۔۔جو اللہ اپنے خاص بندوں کے دل میں ڈالتا ہے ۔۔جو محبت کی قدر کرنا جانتے ہیں اور أسے مایوس نہیں ہونے دیتے۔۔پتہ ہے ۔۔محبت کی کوئی کوئی ہی قدر کرنا جانتا ہوتا ہے ورنہ محبت تو ہر کوئی کرنے کا دعوا کرتا ہے ۔۔مگر اس کی لاج ہر کوئی نہیں رکھتا ۔۔بس۔۔ ہم سچی محبت کو پہچان نہیں پاتے۔۔اور تم یہ کبھی بھی مت سوچنا کہ تم أس ماحول میں رہ کر میری محبت کے قابل نہیں رہی۔۔محبت تو محبت ہوتی ہے اس میں لائق اور قابل ہونا کہاں آتا ہے ۔۔بس اس کی قدر کرنا ضروری ہوتا ہے ۔۔
محبت تو ایک پاک جذبہ ہے ہماری نیت أسے پاک یا ناپاک بنا دیتی ہے ۔۔ محبت اپنے محبوب کی ہر خامی کو چپا لیتی ہے بلکہ وہ محبوب میں خامی نظر ہی کہاں آنے دیتی ہے ۔۔۔ٹیپو نے أس کے سامنے ساری محبت کی داستان کہہ ڈالی جیسا وہ محسوس کرتا تھا۔۔
رابیل نے آسمان کی طرف اپنی نظریں أٹھا ئیں اور ایسے محسوس کرنے لگی جیسے وہ اللہ کا شکر ادا کر رہی ہو ۔۔کہ شکر ہے أس پاک زات کا جس نے أسے عزت دی ایسی عزت جس کی ہر لڑکی کو ضرورت ہوتی ہے۔۔مرد أس کے لیے ایسی چٹان کی طرح ہوتا ہے جو أسے ہر معاملے میں ہمت دیتا ہے أس کے لیے سہارہ ہوتا ہے۔۔جس کے کندھے پہ وہ سر رکھ کر سارے غم بھول جاتی ہے۔۔اور یہی أس کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔۔آج اس شخص نے پھر سے أسے زندگی کی أمید دلائی تھی ۔۔ایک لمحے کے لیے وہ پھر کھو گئی۔۔اور سوچنے لگی۔۔۔
کاش کوئی بھی لڑکی میری طرح غلطی نا کرے ۔۔۔ کیونکہ ہر کسی کے پاس ٹیپو جیسا مرد نہیں ہو گا ۔۔۔گھر سے بڑھ کر ایک لڑکی کے لیے کوئی حفاظت کی جگہ نہیں ہو سکتی ۔۔جو ایسا قدم أٹھاتی ہیں وہ عزت پانے کے لیے ترس جاتی ہیں کیونکہ ایک طوائف کا ٹھکانہ أس کے کو ٹھے کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔۔یہ معاشرہ أسے کبھی بھی گھر کی عزت نہیں دے سکتا۔۔اور نا ہی ٹیپو جیسے مرد یہاں پیدا ہوتے ہیں ۔۔اور نا ہی ٹیپو جیسی محبت کی حفاظت ہر کسی کو ملتی ہے۔۔وہ دل ہی دل میں خود کو سمیٹی رہی۔۔

ارے بابا کہاں کھو گئی۔۔۔ٹیپو نے أس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے کہا تو وہ چونک کر بولی کچھ نہیں۔۔کہیں نہیں۔۔
چلو چلو !!!!! ہم بھی لان میں چلتے ہیں ۔۔۔ٹیپو نے کہا أس نے جانے سے انکار کر دیا وہ پھر سے ڈر محسوس کرنے لگی۔۔مگر وہ أسے زبردستی باہر لے گیا جہاں بچے ہلکی ہلکی پُھور کا مزہ لے رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے۔۔۔ٹیپو بھی أن کے ساتھ مل کرشرارتی بچہ بن گیا تھا ۔۔وہ ویسی ہی شرارتیں کرنے لگا جیسے پہلے کیا کرتا تھا ۔۔رابیل أسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔۔سامنے کھڑکی سے خالہ اور فریال سب کو بارش میں نہاتے ہوئے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔۔اتنے میں بارش تیز ہو گئی۔اور بچے بھاگ کر اندر چلے گئے جب کہ وہ دونوں مسلسل بارش میں بھیگتے رہے۔۔بارش کی چھوٹی چھوٹی بوندیں دھواں دار تھی جس میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دھندلے دیکھائی دینے لگے۔۔رابیل آس پاس ہاتھ مارتے ہوئے أسے ڈھونڈنے لگی ۔اور پھر ٹیپو نے أس کا ہاتھ پکڑا اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگ گئے۔۔
آج پُھوار محبت بن کر برسی اور شیدت سے برسنے لگی جس میں دونوں بھیگ گئے۔۔۔اور أس کی دھندلاہٹ میں وہ کسی کو نظر نہیں آرہے تھے ۔۔مگر ایک دوسرے کی محبت أن کو صاف دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔جو أن دونوں کے لیے کسی سرمائے سے کم نا تھی ۔۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *