پی آئی اے اور مارخور ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کی ایک پہاڑی پر مار خور رہا کرتا تھا۔ساتھ ہی پہاڑ پر سانپوں کا بسیرا تھا جن سے قریبی بستی والے بہت تنگ تھے۔مار خور نے روزانہ کی بنیاد پہ سانپوں کو کھانا شروع کر دیا اور سانپوں کی تعداد میں دن بہ دن کمی واقع ہونا شروع ہو گئی تاہم بستی والے اب سکون میں تھے کہ مار خور کی وجہ سے انہیں کافی سکون نصیب ہو رہا ہے مگر دوسری طرف سانپوں کی بستی میں کھلبلی مچ گئی کی سانپوں کی تعداد میں آئے روز کمی ہو رہی ہے اور اس کی کوئی تدبیر نہ کی گئی تو ایک دن ایساآئے گا سانپ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔اب وہ اکیلے تو مار خور کو مار نہیں سکتے تھے لہذا انہوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا ایک سانپ مارخور کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھاگے گا ،مار خور اس سانپ کا پیچھا کرے گا تو اسی اثنا میں دیگر سانپ بستی کے لوگوں کو جا کر ڈس لیں گے۔اب ایسا ہی ہوا اور روزانہ ہی بستی کے لوگ ڈسے جانے لگے۔مار خور کچھ نا کر پا رہا تھا۔اب ایسی صورت حال میں لوگوں میں چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں کہ مارخور اب بوڑھا ہو گیا ہے،اب شکار اس کے بس کی بات نہیں ہے،اسے بستی سے نکال دینا چاہئے،اب اس سے سانپوں کا شکار نہیں ہوتا لہذا اب اسے ذبح کر کے کھا لیا جائے۔ایسے میں برفانی لومڑیاں بھی میدان میں آ گئیں کہ ان کا دل بھی مار خور کا گوشت کھانے کو للچا رہا تھا۔انہوں نے بھی الٹے سیدھے مشورے دینا شروع کر دئے۔یہ ساری صورت حال مارخور بھی مشاہدہ کر رہا تھا لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ اسی میں اس کی عزت ہے کہ بستی کو چپکے سے چھوڑ کر کسی اور جگہ جا بسیرا کر لے۔مار خور نے رات کے اندھیرے میں بستی چھوڑی اور باہر ایک ویران سڑک پہ جا بیٹھا۔اب وہا ں اس نے کیا منظر دیکھا کہ بہت سے سانپ بستی کی طر ف رواں دواں ہے۔اور ایک سانپ حسبِ منصوبہ مارخور کے سامنے سے گزر کر بھاگنا شروع ہو گیا۔جب مار خور نے اس کا پیچھا کرنے میں عدم دلچسپی دکھائی تو سانپ بہت حیران ہوا کہ آج اسے کیا ہو گیا ہو۔سانپ نے مار خور کی عدم دلچسپی دیکھ کر اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ایسے میں مار خور نے دیکھا کہ بہت سے سانپ تو بستی پر حملہ کرنے جا رہے ہیں۔مار خور نے فوراً بستی کی راہ لی اور تمام سانپوں کو مار ڈالا۔کہتے ہیں کہ آج بھی جب سانپ گھر سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو اس کی ذمہ داری مار خور پر ہو گی۔
اس کہانی کے لکھنے کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان کی قومی ائیر لائن PIA نے اپنا لوگو( logo) تبدیل کر دیا ہے اور اس کی دم پر اب لفظ پی آئی اے کی بجائے پاکستان کے قومی جانور مار خور کی تصویر ہوگی۔مارخور پاکستان میں کوہِ سلیمان کی پہاڑیوں میں رہتا ہے،یہ ایک چرندہ ہے۔اسے جنگلی بکرا بھی کہتے ہیں۔دشوار گزار راستوں میں اس کا گزر ہوتا ہے اسی لئے اس کا شکار بہت مشکل ہوتا ہے۔یہ دراصل فارسی کا لفظ ہے مار کے معنی سانپ اور خور کے معنی کھانا ہوتا ہے چونکہ یہ جانور سانپوں کو بھی کھا جاتا ہے اس لئے اسے مار خور کہا جاتا ہے۔اس سے قبل اس جانور کو یہ بھی فضیلت حاصل ہے کہ یہ پاکستان کے ایک اہم حساس ادارے آئی ایس آئی کا لوگو بھی ہے۔آئی ایس آئی نے اس لوگو کو اس لئے منتخب کیا کہ ملک دشمن عناصر جو صفوں میں گھس کر ملک اور فوج کا نقصان کرتے ہیں آئی ایس آئی ان شر پسندوں کو ان کے بلوں سے نکال کے مارتے ہیں۔تاہم پی آئی اے کے لوگو کو تبدیل کرنے کی وجہ جو بتائی جا رہی ہے وہ ہے نیاعزم،ہمت،مستقل مزاجی اور عظمتِ گذشتہ کو واپس لے کر آنا اور پاکستان کا جھنڈا ایک بار پھر پوری دنیا پر لہرانا۔یقیناً خوش آئند بات ہے مگر بہت سی ایسی باتیں ہیں جن پر توجہ دینا ’’لوگو‘‘ اور پینٹ تبدیل سے زیادہ ضروری ہیں مثلاًکیا حکومت نے اس بات کے بارے میں سوچا ہے کہ مارخور کی نسل نایاب ہو تی جا رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ مارخور کی طرح پی آئی اے کے تیارے بھی گراؤنڈ ہوتے ہوتے نایاب نسل میں شمار ہونا شروع ہو جائیں۔کیا طیاروں کے رنگ بدلنے سے ان میں بہتری آجائے گی؟مارخور کو لوگو بنایا ہے تو پھر اس کی طرحPIA میں چھپے حرام خوروں کو بھی ا ن کے بلوں سے نکال باہر کر کے شفاف خطوط پہ چلانا ہو گا۔برفانی لومڑیوں کی طرح پشت پیچھے سازشیں تیار کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر کے انہیں کیفر کردار تک بھی پہنچانا ہوگا۔تب کہیں جا کے مارخور کے لوگو کے فلسفہ کو تقویت ملے گی وگرنہ ان کی نسل نایاب ہونے کی طرح پی آئی اے کے تیاروں کی تعداد بھی کم سے کم ہوتی چلے جائے گی۔یعنی لیبل نہیں میٹیریل تبدیل کرنا ہو گا۔قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا بلکہ پانچویں بار پی آئی اے کا رنگ تبدیل کیا جا رہا ہے۔اور اس پر کروڑو ں روپے کا خرچہ حکومت وقت کو برداشت کرنا ہوگا کیونکہ یہ رنگ اور لوگو کی تبدیلی نہیں بلکہ لیٹر ہیڈ،رسیدات،میمو،وغیرہ سب کو تبدیل کرنا ہوگا ۔دوسرا ایک جہاز کو رنگ کر کے تیار کرنے میں ۵ سے ۶ دن درکار ہوتے ہیں یعنی ایک ہفتہ تک طیارہ کو گراؤنڈ کرنا ہوگا جس کا نقصان الگ سے ہمیں اٹھانا پڑے گا۔سوال یہ ہے کہ؟کیا LOGO تبدیل کرنے سے ائیر لائن کا معیار بہتر ہو پائے گا؟۔کیا لوگو کی تبدیلی مسافروں کو متاثر کر کے اپنی طرف کھینچ پائے گی؟کیا عملہ کا رویہ مسافروں سے اور کاؤنٹر عملہ اپنے اندازِ تخاطب کو درست کر پائے گا؟۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *