آپ ہی بتائیں قصور کس کا ہے؟۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

کان میں اسٹیتھو اسکوپ لٹکائے سفید اوور کوٹ میں ملبوس شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معذرت کی اور کہا کہ ہم آپ کی والدہ کو نہیں بچا سکے۔جیسے مالک کی رضا کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔اور میں سوچتا ہی رہ گیا کہ مالک کی رضا یا پھر بے حسی کا نتیجہ؟لفظ مالک کی رضا سے مجھے اپنی ماںّ کے درد کی شدت یاد آگئی جب وہ وہ درد سے کراہ رہی تھیں، اور تحصیل ہسپتال میں کوئی پُرسان حال نہ تھا۔والدہ کو تحصیل اسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں لے کر گئے تو موجود ڈاکٹرز نے مریض کو دیکھنے کی زحمت نہ کی۔بلکہ بغیر چیک اپ کئے ہی ایک نسخہ ہاتھ میں پکڑا دیا اور کہا کہ جا کر انجیکشن لے کر آئیں۔جب انہیں والدہ کے پسلی کے درد کا بتایا اور التجا کی کہ برائے مہربانی آپ الٹرا ساؤنڈ کر کے بتائیں کہ درد کس وجہ سے ہور رہا ہے؟تو انہوں نے ہسپتال میں الٹرا ساؤنڈ مشین کی عدم دستیابی کا بتایا اور کہا آپ مریض کو ضلعی ہسپتال لے جائیں۔جبکہ والدہ متواتر درد کی شدت سے بلبلا رہی تھیں۔اور جب والدہ کو ضلعی ہسپتال لے جایا گیا تو انہوں ابتدائی چیک اپ کے بعد فوراً ہی آپریشن تھیٹرمنتقل کر دیا۔اور والدہ دوران آپریشن ملک راہی عدم سدھار گئیں کیونکہ ان کا پِتہ پھٹ چکا تھا جس کی وجہ سے زہر پورے جسم میں پھیل گیا۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ قصور وار کسے ٹھہراؤں؟؟ڈاکٹر ز کو الٹرا ساؤنڈ مشین کو یا پھر اس نظام کو۔۔ مجھے تو اس سوال کا جواب نہیں مل رہا۔ آپ ہی بتا دیں۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *