قیامِ امن کیسے ممکن ہے ۔۔۔ تحریر : جاوید یوسف صدیقی

ہر دور میں امن کو قائم کیا جاتا رھا اور مختلف طریقوں سے امن کو قائم رکھنے کی کو شش کی جاتی رھی اور نصائح کی جاتی رہی کہ اگر ان نصائح پر عمل کیا جائے تو امن قائم ہوسکتا ہے۔
اس وقت ہمارا معاشرہ جو فساد کا گڑھ بن چکا ہے اور جودہشتگردی کا ماحول سمایا ہوا ہے رعایا بادشاہوں سے بد ظن ہوتی چلی جا رہی ہے اور جگہ جگہ حکمرانو! کی بے عزتی کی جارھی ھے اور جگہ جگہ بدامنی کی فضاء پھیلی ہوئی ہے تواس کی اک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے اللہ جلاجلالہ اور سیدالانبیاء آمنہ کے لال جناب حضرت محمد الرسول اللہﷺ کے فرامین کو پسںِ پشت ڈال دیاہے ۔ہاں اب یہ بات اٹھتی ہے کے امن کو کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے اور ہمارے معاشرے کی فضا کس طرح پُرامن ہوسکتی ہے۔تو ایسی فضاء کہ ہر جگہ امن ہی امن ہو تو اس کیلیے ہمیں امیرالمومنین خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ(جن کانام اسلام لانے سے پہلے عمر بن خطابؓ تھاجب اسلام لائے تو آپ علیہ السلام نے ان کا نام عمر فاروق رکھ دیا فاروقؓ کھتے ہمیں فرق کرنے والا جب یہ اسلام لائے تو انھوں نے کفر اور اسلام کے درمیان ایسا کر کے دیکھایا کہ ان کا نام ہی فاروق پڑگیا) کے دور میں جانا پڑے گا اور ان کی نصائح کو یاد کرنا پڑے گااور حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کیلئے کچھ نصائح کی جوامن کے قیام کیلئےایک بہترین سنگِ میل ہے۔
جب حضرت عمر فاروقؓ قاتلانہ حملہ کے باعث اس دنیا سے رخصت ہور ہے تھے تو انھوں نے آئندہ خلیفہ کیلئے چند نصائح فرمائی۔
۔(1)۔ کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس شہر کی آبادی سے اچھا سلوک کرے اِ س لیئے کہ جب باشاہوں( یعنی حکمرانوں)کا شہریوں سےاچھاسلوک ہوتا ھے تو باصلاحیت لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں کسی کو کسی کا ڈر نھیں ہوتا ۔
۔(2)۔فرمایا کہ بادشاہ؛ تاجروں کی خصوصی امداد کرتے رہیں کیوں کہ آبادی اور خوشحالی بڑھتی ھی اور فرمایا کہ مال کو جمع کرے کیونکہ کل کو کوئی آسمانی یا زمینی مصیبت آپڑے تواُس کا سدِّباب کرنے کیلئے مالی طاقت کا استعمال ہوگا اور وہی تاجر دل کھول کر دے گااور کہے گاریاست ہوگی تو تجارت ھوگی اور دوسروں کا محتاج نا ہونا پڑے گا۔
۔(3)۔فرمایا کہ دیہاتیوں کی بھی دیکھ بھال کرتے رہنا وگرنہ یہی دیھاتی تمھارے دیہات سے گزرنے والے قافلوں کو لوٹنے لگے گیں۔
۔(4)۔فرمایاکہ کافر لوگ جو ہمارے شہروں میں رہتے ہیں ان کی بھی دیکھ کرتے رہنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ نبی علیہ السلام کے فرمان کا مفہوم ہےجس نے ان کے ساتھ دشمنی رکھی اسکا انتقام قیامت کے دن میں خود لوں گا کیوں ? اس لیے کہ یہ اگرچہ کافر ہیں مگر جب جزیہ دے چکے تو اب ان کا تحفظ مسلمانوں کے ذمہ واجب ہے۔
اگر آج انہی اصلوں کواپنا لیا جائے تو ساری دنیا ہمارے سامنے سرنگوں ہو جائے گی ۔۔

(Visited 8 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *