قربانی کون دے ۔۔۔ تحریر : علی اکبر

عام انتخابات کے نتیجہ اور عوام کے ووٹوں کی طاقت سے ملک میں جمہوری عمل کا سلسلہ مکمل ہوا اور تحریک انصاف کی حکومت نے ایوان اقتدار کا رخ کیا۔ مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب حکومت کی ٹرین پڑی پرچل چکی ہے۔ پاکستان میں جب جب جمہوریت آئی حکمرانوں کی جانب سے یہ سننے کو ملا کہ ماضی کی حکومت تمام قومی خزانہ لوٹ کر چلی گی ہے اور اب ملک بحران کا شکار ہے اور انہتائی برے حالات ہیں جس کا حال صرف ہماری حکومت کے پاس ہے اور اب ہم ملک کی معشیت بحران کا شکار ہے جس کو ائندہ ماہ میں بحران سے باہر نکال لیں عوام بس اس مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیں اور قربانی دیں۔ تقریبا اس قسم کے بیانات کئی حکمرانوں کے منہ سے سننے کو ملے اور عوام ہر قربانی کو آخری قربانی سمجھ کر قبول کرتی رہی لیکن یہ کب تک چلے کا اس کو کوئی جواب نہیں کیونکہ موجودہ حکومت میں عوام کو ماضی کی حکومتوں کی طرز پر ہی لالی پاپ دے رہے ہیں۔ عوام سے قربانیاں مانگنے والے خود پہلے اپنے جہاز اور کروڑوں روپے کی مالیت کی گاڑیاں فروخت کر کے قومی خزانہ میں پیسے جمع کروا دے تو شائد اس شخص سے قربانی مانگے کی ضرورت نہ پڑے جو دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہا ہے۔ لیکن ملک کے وہ بڑے جس کے بچے نوٹوں کے بستر پر سوتے ہیں وہ قربانی دینے کو تیار نہیں، قربانی ،پھر اس سے مانگی جارہی ہے جو پہلے ہی ہر روز اپنی خواہشات اور جذبات کی قربانیاں دے کر مشکل سے دو وقت کی روٹی کھاتا ہے۔ اگر میں اسان الفاظ میں یہ کہو دو کے ملک کے چند امیر لوگوں نے قربانی دینے کے لیے کروڑوں غریب لوگوں کو رکھا ہوا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔۔ ملک میں اس وقت غریب کے بچوں کو عذائی قلت کا سامنا ہے بہت کم ایسے افراد ہیں جن کے پاس اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے لیے وسائل موجود ہیں۔ اس ملک میں صرف دو ہی طبقات خوشخال ہیں معذرت کے ساتھ خوشحال وہ لوگ ہیں جو ملک کی اشرافیہ ہیں وہ خوشحال ہیں جو عیاش ہیں اور وہ خوشحال ہیں جو عیاشی کا سامان ہیں۔ باقی صرف اس وقت اپنے حالات کے نتیجہ میں نفساتی مریض بن چکے ہیں ۔ شاہد ان ہی حالات کے پیش نظر کسی نے کہا تھا کہ غریب شہر فاقوں سے مر کیا امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔۔۔ ووٹرز کا خیال تھا کہ شاہد عمران خان کی حکومت میں سرکاری افیسران اور اراکین اسمبلی کے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرے گے اور اس سے سرکاری سکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہو گا ۔ یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ شاہد عمران خان کی حکومت میں وزیر اور ان کے اہلخانہ سرکاری ہستپالوں سے علاج کروائے گے تاکہ سرکاری ہستپالوں کا معیار اچھا ہو سکے لیکن ایسا کچھ نہیں ہونا اور پس یہ ثابت ہونے جارہا ہے کہ حکومت ن لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی یا بھر تحریک انصاف کی عوام کو نیا نیاانداز سے پرانے روایتی سیاستدانوں سے دکھوکہ ہی ملنا ہے ۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے پرانی پالیسیوں کو نیے انداز میں پیش کرنے کے سوائے کچھ نہیں کر سکتے ۔ مجھے یاد ہے سابق صدر پرویز مشرف کا دور تھا وہ ایک فوجی آمر تھا لیکن اس کے دور میں عوام کس حد تک خوش تھے روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی قیمت زیادہ نہیں تھی اشیاء خور ونوش کی قیمتیں سفید پوش طبقے کی پہنچ اگر نہیں تھی تو اتنی دور بھی نہیں تھی کہ لوگ دووقت کی روٹی کو ترس جاتے ۔ اس وقت بھی عوام منہگائی کا رونا روتے تھے لیکن اس دور میں شاہد کوئی سفید پوش حکمران کو بدعائیں نہیں دیتا تھا۔اس کے بعد اگر جمہوری ادوار کا تقابلی جائرہ لیا جائے تو حالات خراب سے خراب تر ہوتے رہے اور اس کے نتیجہ میں اب عام آدمی کے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت عوام کو کہتی ہے کہ صبر کریں۔ جناب صاحب اقتدار صبر کرنے کے لیے کچھ ہونا بھی ضروری ہے صبر وہ کرتا ہے جس کو کچھ مثبت نظر اتا ہو۔ جس کے بچے رات کو بھوکے سو رہے ہوں جس کے لیے موسمی پھل ایک نایاب چیر کا نام ہو، جن کے پاس روز گار نہ ہو۔ اس سے صبر کی بات کی جائے تو وہ قتل کرنے یا خودکشی کرنے پر مبجور ہو جاتا ہے۔اسلئے میری جناب صاحبان اقتدار سے اپیل ہو گی کہ صبر کا درس ان لوگوں کو دیا جائے جو لوگ جہاز کے مالک ہیں اور ان کے پاس اللہ کے حکم سے بے تحاشہ دولت اور وسائل ہیں۔ جس کی پراپرٹی انتی ہے کہ وہ غریب کالونی بنائی جائے تو کئی ہزار بے سہارا افراد کے لیے گھر بن سکتے ہیں جن کی دولت کو غریب لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو بہت سے لوگ خوشحال ہو سکتے ہیں۔۔ آپ جن لوگوں سے صبر کرنے کا کہہ رہے ہیں ان حالات میں یا تو غدار پیدا ہو سکتے ہیں یا بھر باغی اور دنوں ہی اس ملک اور حکومت کے لیے اچھے نہیں۔۔ ریاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسے ہوتی ہے اور ہمارے معاشرہ میں ماں خود تو بھوکی سو جاتی ہے لیکن اپنے بچوں کو بھوکا سونے نہیں دیتی۔ لیکن تحریک انصاف وہ ماں بن چکی ہے جو خود سکون سے سو رہی ہے اور بچوں کو کہتی ہیں صبر کرو قربانی دو ایسا نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا اس لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی فرمائیں یا بھر اپنی ناکامی کو تسلیم کر کے خود الگ ہو جائیں کیونکہ ملک کے حالات اس طرف جا رہے ہیں جب کھانے کو نہیں ملے گا تو چور ہوٹل سے کھانا چوری کرے گا یا آٹا کی دکان پر ڈکیتی کرے گا۔۔۔اگر حکمرانوں کو عوام کا خوف نہیں تو اللہ کا خوف تو ضرور ہو گا اور ایک غریب کی بددعا کا ڈر بھی ہونا چاہیے۔ ۔اب بات کر لیتے ہیں پنجاب اور قومی اسمبلی میں حکمرانوں اور اپوزیشن کے رویہ کی تو اسمبلیوں کے لیے حکمران جماعت کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا جارہا ہے اس کے بارے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ پنجاب میں ایک محاورہ ہے کہ لڑکی کے سو دن بتا دیتے ہیں اس کے گھر بسانا ہے یا نہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی بات کی جائے تو وہ ابھی تک ایک ناکام وزیر اعلی کی طور پر کام کر رہے ہیں اوراب تو ایوان وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی ساتھی اپنی نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ناکام ہو چکے ہیں ان کو تبدل کرنا پڑے گا۔۔ میرے نزدیک وزیر اعلیٰ پنجاب کی ناکامی میں ان کی ناتجزبہ کار ٹیم کا ہاتھ ہے ان کے ساتھ وہ لوگ کام کر رہے ہیں جو خود ناتجربہ کار ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی قابلیت پر کوئی شک نہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی ٹیم کو بہتر کر لیں تو وہ اچھی کارگردکی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ حالات چلتے رہے تو میرا خیال ہے کہ انیدہ چند ماہ میں پنجاب میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی ویسے بھی وزیر اعلی پنجاب کے خلاف ان ہی کی جماعت کی ایک اہم لابی ان کے خلاف متحرک ہو چکی ہے ۔ ویسے چند افسرا ں تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ایوان وزیر اعلی پنجاب میں ایک نہیں چار ہیں اور چار بڑے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب تصور کرتے ہوئے حکومتی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتے ہیں بلکہ وہ پنجاب کے معاملات بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ہی چلنا چاہتے ہیں اور کس حد تک وہ اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہیں ۔ ۔۔ قارئین ان دنوں پاکستان کی بری معاشی صورتحال کے باعث میڈیا کی انڈسٹری کے بھی کچھ اچھے حالات نہیں ہیں ویسے تو ہر دور میں قلم کے مزدور کو مشکل کا سامنا رہا ہے اور بہت کم ایسے میڈیا پرسن ہیں جو خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں میڈیا کی انڈسڑی میں بہت سے صحافی ایسے ہیں جو دوقت کی روٹی بھی مشکل کماتے ہیں دوسری جانب ایسے بھی قابل افراد ہیں جن پر اللہ تعالی نے اپنا خاص کرم کیا ہے اور وہ لاکھوں میں ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں اس فرق کو تو شائد وقت ہی ختم کرے لیکن اج کل جو حالات ہیں اس پر اتنا ہی تحریر کروں کا کہ جو سکیڑوں افراد میڈیا سے بے روزگار ہو رہے ہیں ان کے ساتھ پورا پورا خاندان ہے جو حکومت کے لیے کم از کم دعا گو تو نہیں ہے اس لیے سفید پوشوں اور غریبوں کی سرد آہ سے ڈریں کیونکہ غریب کی آہ میں بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *