کمرہ نمبر 109‘‘۔۔۔تبصرہ نگار : مجید احمد جائی ’’

کمرہ نمبر109اپنے اندر بہت سے طوفان لئے ہوئے ہے ۔یونہی کمرہ نمبر109کا لفظ پڑھتے ہیں تو فوراذہن پوری دُنیا کا نقشہ اپنے اندر لے آتا ہے اور پھر متلاشی نظروں کو ،کسی ہسپتال ،جیل کی بیرک اور یا پھر ہوسٹل کی طرف لے جاتا ہے ۔اس لفظ کوپڑھتے ہی سوچوں کا سمندر اُمڈ آتا ہے اور ذہن کی اسکرین پر کئی تصویریں بنتی چلی جاتی ہیں ۔آپ بھلے جو مرضی سوچیں ،جو مرضی تصویر بنائیں آپ کی مرضی ،لیکن میں بات کر رہا ہوں کتاب کمرہ نمبر 109کی ۔
جی ہاں میرے سامنے کمرہ نمبر109پڑی مجھے اپنی طرف مسکراہٹوں کے ساتھ بلا رہی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر مسکراہٹیں بھلے ہوں لیکن اس کا دل معاشرے کے درد،کرب ،مسائل سے زخمی ہے اور یہ اس کوشش میں ہے کہ ہر زخم مندمل کرنے والا کوئی تومل جائے ۔اے کاش ایسا ہوتا،یا ایسا ہو جائے ۔
کمرہ نمبر 109منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جس کے لکھاری شہزادحسین بھٹی صاحب ہیں ۔شہزاد حسین بھٹی اپنی ذات کو مخفی رکھے ہوئے ہیں صرف اتنا کہتے ہیں کہ میں ایک صحافی ہوں۔ظاہر ہے صحافی غیر جانبدار ہوتا ہے ۔آپ کمرہ نمبر109کے بارے جاننے کے خواہش مند ہیں تو جلدی سے کمرہ نمبر 109خریدیں اور جاوید ملک جو کہ سینئر صحافی ،کالم نگارایڈیٹر(نامعلوم)ہیں ،اُن کا لکھا ’’حرف آغاز ‘‘پڑھیں۔کمرہ نمبر 109کے اندر چھپے راز کو افشاں پائیں گے ۔
کمرہ نمبر 109میرے پیارے ادبی دوست جناب سمیع اللہ خاں نے مجھ تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیا ہے،پاکستان ادب پبلشرکا سہرا انہی کے سر ہے اور یہ کتاب یہی سے اشاعت کے مراحل طے کرکے مجھ تک پہنچی ہے ۔
کتاب بہت خوبصورت ہے ۔سرورق اپنے اندر کشش رکھتا ہے اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔اس کتاب کمرہ نمبر 109کا انتساب اپنے والدین اور اساتذہ کے نام کیا گیا ہے ۔بے شک وہی ہستیاں ہیں جو انسان کو باشعور بنانے میں حتی الامکاں جدوجہد کرتی ہیں۔’’اِک داغ نہاں اور‘‘کے عنوان سے پروفیسر محمد انور جلال صاحب (جو کہ مصنف کے استاد محترم بھی ہیں )نے مدّلل اور خاصے کا مضمون لکھا ہے ۔گُلاستہِ خیال جنا ب پروفیسر عاشق حسین شیخ ،فکری بحران ،پروفیسر فہمیدہ کوثر فہمی ،گراں گزرتی ہے ،اقبال زرقاش،دل و روح کی صدا،اختر سردار چوہدری صاحب نے عنوان کے ساتھ رائے دی ہے ۔
کمرہ نمبر 109میں رہنے والے دوستوں کے ساتھ یقینامصنف نے زیادتی کی ہے ،اور نہیں تو کم از کم اُن تمام کی رائے شامل کی جاتی اور اگرا یسا ممکن نہیں تھا تو اُن پر ایک ایک کالم لکھا جا سکتا تھا اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں تھا۔
کمرہ نمبر 109ایک ایسی کتا ب ہے جس کا نام لفظوں اور ہندسوں دونوں پر مشتمل ہے ۔296صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے اندر 74کالمزاور 6ادبی دوستوں کی رائے لیے ہوئے ہے اس کے ساتھ ہی مصنف کے پیش لفظ موجود ہیں ۔یہ کتاب ایک خاص دائرے میں رہ کر مختلف جگہوں کی سیر کراتی ہے ۔اس میں معلوماتی ،علمی ،مذہبی لفظوں کا خزانہ ہے ۔یوں یہ کالموں کا مجموعہ ہے ۔
۔ زیادہ تر کالمز سیاسی ایشوز پر مشتمل ہیں۔معاشرتی ،ثقافتی موضوعات پر بھی لکھا ضرور گیا ہے مگر کم کم ۔کچھ کالمز تاریخی بھی ہیں ۔جو کتاب کی نگری میں رونق بخش رہے ہیں ۔جیسے ’’جونا گڑھ بھولی بسری کہانی ‘‘قومی ترانے کی تنزل پذیری‘‘کالا پانی کی سزا‘‘سلطنت غزنویہ ‘‘امیر تیمور بحثیت فاتح حکمران ‘‘وغیرہ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ادب کے حوالے سے کوئی کالم موجود نہیں ۔لیکن ادبی صنف سے ضرور لطف دیا گیا ہے ۔کتاب کا آخری کالم ’’چند ٹکوں کا پجاری ‘‘کالم نہیں، سچ بیتی ضرور ہے ۔مصنف اس میں سچ بیانی کرتے ہوئے گہرے دُکھ اور صدمے سے چورہے اور ایک حقیقی معاشرتی پہلو کو اجاگر کر رہا ہے۔اور یہی ہمارا المیہ ہے کہ جب ہمیں ضرورت ہوتی ہے تو ہم دوستوں کے گرد گھومتے ہیں اور جب اُن کو ضرورت ہوتی ہے تو ہم کسی بِل میں چھپ جاتے ہیں ۔
یوں تو ہر کالم میٹھی میٹھی تنقیدسے مزین ہے لیکن اگر طنز ومزاح سے لطف اندوز ہونا ہے تو ’’اک واری فیر‘‘لازمی پڑھیں کمرہ نمبر 109اردو میں ہے لیکن چند کالموں کے عنوان ’’پنجابی ‘‘میں ضرورہیں ۔جیسے اک واری فیر،رب اونہوں ملدا جہیڑا اپنے نفس نوں مارے ،نہ چھیڑملنگاں نوں۔یوں اس طرح خوبصورت امتزاج ہے ۔
کمرہ نمبر 109خوبصورت کاغذکے ساتھ ساتھ معلومات کا خزانہ لئے ہوئے ہے ۔مصنف نے تنقید کاخیر مقدم کیا ہے تو عرض ہے کمرہ نمبر 109کے مصنف نے اپنے بارے کچھ نہ بتا کر بہت بڑی زیادتی کی ہے ۔کم از کم سوانحی خاکہ تو ضرور دیا جاتا۔تحقیقی حوالے سے یہ کتاب مکمل ہوتی اور تاریخ کے طالب علموں کے لیے بہت زیادہ مفید بھی۔البتہ ایک کالم میں مصنف نے اپنے جنم بھومی کا ضرور ذکر کیا ہے ۔’’آگے بڑھو یا راستہ چھوڑو‘‘بہترین عنوان کے ساتھ زبردست کالم ہے ۔
کتاب کا سرورق دل کش ہے اور فلاپ بیک پر ارشاد علی کی رائے کے ساتھ مصنف کی تصویر ہے (جو گہری سوچ ،غوروفکر کا پہلو لیے ہوئے ہے )اندرونی طرف سید نصرت بخاری کی رائے شامل ہے ۔کمرہ نمبر 109کالموں پر مشتمل ایک انوکھی ،معلوماتی ،خوبصورت ،بہترین لوازمات کے ساتھ بہت اعلی کتا ب ہے ۔بقول ارشاد علی کے کمرہ نمبر 109سے شروع ہونے والا سفر رُکے گا نہیں ۔چلتے رہیں اور میں اُمید کرتا ہوں یہ سفر تازیست جاری و ساری رہے گا۔
کمرہ نمبر109کی قیمت 500ہے اور اس کی اشاعت اپریل 2017میں ہوئی ہے ۔سرورق جنوبی پنجاب کے معروف قلم کار ’’ناصر ملک ‘‘نے بنایا ہے اور مزے کی بات یہ کہ کمپوزنگ مصنف نے خود کی ہے۔پھر بھی خال خال کمپوزنگ کی غلطیاں موجو د ہیں ۔مجھے اُمید ہے کمرہ نمبر 109شہزاد حسین بھٹی کے لئے بہت سے در وازے کھول دے گی اور انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا ئے گی ۔آمین!۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *