سو برس پرانی کہانی پردہ اور آج کی سیاست کا پردہ ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ تقریباً سو برس پرانی یشپال کی ایک کہانی ’’پردہ‘‘ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق ’’بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ اُن کے دو بیٹے تھے جو ریلوے اور ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ دونوں کی شادیاں ہوئیں، بچےّ ہوئے اور خاندان بڑھتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد آبائی گھر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے۔ تیسری نسل کے آتے آتے آبائی گھر بھی بک گیا اور خاندان کے آپس میں رابطے بھی ختم ہوگئے۔ ڈاکخانے والے بابو بیٹے کا ایک لڑکا بخشو تھا جس نے اپنا خاندانی رعب برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ وہ بہت کم اجرت پر ایک آئل فیکٹری میں منشی ملازم تھا۔ وہ کچی بستی میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا۔ اُس کے کندھوں پر ماں، بیوی اور پانچ بچوّں کا بوجھ تھا۔ اُس کی تنخواہ اٹھارہ روپے تھی۔بخشو کے چھوٹے سے گھر کا ایک مرکزی راستہ تھا جس پر پرانی موٹی بوری کا ٹاٹ پردے کے طور پر لٹکا رہتا۔ بستی کے لوگوں نے اُس کے گھر کی خواتین کو کبھی باہر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کسی غیرفرد کو مرکزی راستے پر لٹکے ٹاٹ والے پردے کو اٹھا کر اندر جھانکنے کی جرات تھی۔ یہاں کے لوگ کئی برسوں سے اُس کے ساتھ رہنے کے باوجود اُس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے کیونکہ اُس نے یا اُس کے گھر والوں نے کسی سے ذاتی میل جول نہیں رکھا تھا۔ بخشو نے کبھی اپنے خاندانی رعب پر سمجھوتا نہیں کیا اسی لئے بستی میں اس کی شخصیت کا دبدبہ تھا۔ جب کبھی بستی میں کوئی جھگڑا ہوتا تو آخری فیصلہ بخشو کا ہوتا۔ جب کبھی دھوبی تندور والے کا ادھار واپس نہ کرتا تو بخشو دونوں کے معاملات سلجھاتا۔ جب کبھی سرکاری کارندے بستی کی معلومات لینے آتے تو بخشو ہی معلومات فراہم کرتا۔ تمام تر ظاہری رعب کے باوجود اُس کے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے تھے۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ پورا کنبہ صرف ایک وقت باجرے کی روٹی پانی میں ڈبو کر کھاتا اور زندہ رہنے کا سبب کرتا۔ بخشو کے پاس ایک پاجامہ کرتہ تھا جسے وہ اپنا رعب بلند رکھنے کے لئے صاف ستھرا رکھتا۔ بخشو اپنی گھریلو معیشت کی پھٹیچر ریڑھی آگے بڑھانے کے لئے فیکٹری کے سیٹھ سے ایڈوانس تنخواہیں بھی لے لیتا اور رقم کی واپسی کے لئے رات کو بھی دن بناکر ڈبل شفٹیں لگاتا۔ بستی کے لوگ بخشو کے اِن حالات سے ناواقف تھے کیونکہ اُس کے گھر کے مرکزی راستے پر لٹکا پرانی بوری کا ٹاٹ نما پردہ اُس کے اندرونی حالات پر پردہ ڈالے ہوئے تھا۔ ایک مرتبہ اُس پر زیادہ برا وقت آگیا۔ بوڑھی ماں اپاہج اور بیوی شدید بیمار ہوگئی۔ صحت کی کمزوری کے باعث وہ خود بھی فیکٹری میں ڈبل شفٹ لگانے کے قابل نہ رہا۔ اُس نے فیکٹری کے سیٹھ سے ماں، بیوی اور اپنے علاج کے لئے ایڈوانس تنخواہ مانگی تو سیٹھ نے سیٹھی انکار کردیا اور پہلے لی گئی دو روپے ایڈوانس تنخواہ واپس جمع کروانے کا سخت حکم دیا۔ اُس بستی کے باہر ایک ساہوکار رہتا تھا جو سود پر ادھار دیتا۔ بخشو اپنی نوکری بچانے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگیوں کی سانسیں چلائے رکھنے کے لئے ساہوکار سے تین ماہ کے وعدے پر چار روپے سود پر ادھار لے آیا جس میں سے اس نے دو روپے فیکٹری سیٹھ کو جمع کروا دےئے۔ باقی دو روپے اُس کی اور اُس کے گھر والوں کی بیماریوں اور باجرے کی سوکھی روٹی کے چند نوالوں کے لئے بھی ناکافی تھے۔ لاعلمی کے باعث اب بھی وہاں کے لوگ بخشو کو مضبوط خاندانی پس منظر کا فرد سمجھتے اور اسے ہی اپنا لیڈر تصور کرتے۔ تین ماہ گزرنے کے بعد جب ساہوکار کو رقم لوٹانے کا وقت آیا تو بخشو پہلے سے بھی زیادہ کنگال تھا۔ وہ ساہوکار کے پاس گیا اور دو ماہ کی مزید مہلت مانگی۔ ساہوکار نے آج تک کسی کو ادھار کی واپسی میں ایک دن کی رعایت بھی نہ دی تھی۔ اگر کوئی اس کا ادھار واپس کرنے نہ آتا تو ساہوکار ایک موٹا ڈنڈہ اٹھاکر اگلے روز اس کے گھر پہنچ جاتا اور ڈنڈہ دروازے پر مار مارکر اتنی اونچی اونچی گالیاں دیتا کہ اس کی آواز بستی کی حدود پار کرکے دوسری بستیوں تک جاپہنچتی۔ یہاں تک کہ ادھار لینے والا اپنی ہر شے ساہوکار کے قدموں میں گروی رکھ کر پیسے چکاتا۔ تاہم بخشو کے خاندانی رعب اور بستی کا لیڈر ہونے کے باعث اُسے ادھار کی واپسی کی حد میں دو ماہ کی سہولت مل گئی۔ دو ماہ بعد بخشو ادھار کہاں سے اور کیسے واپس کرتا۔ وہ پھر ساہوکار کے پاس گیا۔ رفتہ رفتہ ادھار کی واپسی میں سات ماہ کی تاخیر ہوگئی۔ اب ساہوکار کنٹرول سے باہر ہوچکا تھا۔ اس نے بخشو کے خاندانی رعب کو ایک طرف رکھا اور موٹا ڈنڈہ اٹھا کر اس کے گھر پہنچ گیا۔ بخشو نے ساہوکار کی اونچی اونچی گالیاں سنیں جو موٹے ٹاٹ کے پردے پر ڈنڈے بھی برسا رہا تھا۔ پوری بستی کے لوگ گھر کے باہر جمع تھے۔ بخشو کے خاندانی رعب پر ساہوکار کے یہ ڈنڈے بستی والوں کے لئے حیران کن تھے۔ آخرکار غصےّ سے آگ بگولا ہوکر ساہوکار نے بوری کے موٹے ٹاٹ والا پردہ نوچ کر پھینک دیا۔ لوگوں کے خیال میں ٹاٹ والے پردے کے بعد گھر کا مرکزی دروازہ ہونا تھا لیکن جب پردہ زمین پر گرا تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کیونکہ پردے کے اُس پار چھوٹا سا صحن تھا جس میں دیواروں کے بغیر صرف ایک چھپر بنا ہوا تھا جو اس پورے گھر کا واحد کمرہ تھا۔ گھر کا ہر فرد صاف نظر آرہا تھا لیکن لوگ شرم کے باعث دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے کیونکہ خواتین سمیت گھر کے سب چھوٹے بڑے افراد کے تن پر معمولی کپڑے بھی نہ تھے۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے اپنے جسموں کو چھپا کر ایک دوسرے میں چھپ رہی تھیں۔ لوگوں کو تب پتہ چلا کہ بخشو اور ان کے درمیان ٹاٹ کا یہی پردہ تھا جس نے اس کا رعب رکھا ہوا تھا۔ جب ساہوکار نے بخشو کی بدحالی کا یہ منظر دیکھا تو وہ بھی ادھار لئے بغیر واپس چلا گیا۔ اب اس گھر کے مرکزی راستے کی زمین پر بخشو بے ہوش پڑا تھا جس کے ساتھ پرانی بوری کے ٹاٹ کا وہی پردہ گرا ہوا تھا جو اس کے خاندانی رعب کا پردہ تھا‘‘۔ کہانی یہاں ختم ہوتی ہے لیکن اپنے ہاں کے اکثر سیاست دانوں کی سیاسی کہانیوں پر پڑا موٹے ٹاٹ کا پرانا پردہ گرائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں بھی اخلاقیات، خفیہ شادیوں اور ایمانداری کا دیوالیہ پن ہے۔ ان کے ہاں بھی لوٹا کریسی، اقربا پروری اور اقتدار کی ہوس نے ان کے تن پر اصول پسندی کے معمولی کپڑے بھی نہیں رہنے دےئے۔ جن سیاست دانوں کو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپنے اثاثے ظاہر کرنے پر اعتراض تھا کیا انہیں انتخابی شفافیت پر بات کرنے کا حق ہے؟ اگر مخصوص ادارے بستی والوں اور اکثر سیاست دانوں کے گھروں کے درمیان پرانی بوری کے ٹاٹ والے موٹے پردے کو نہ لٹکائے رکھیں تو ان سیاست دانوں کی اندرونی اخلاقیات، خفیہ شادیوں، کرپشن، انکم ٹیکس چوری، لوٹا کریسی، اقرباپروری، اقتدار کی ہوس اور اصول پسندی وغیرہ کی بدحالی کو دیکھ کر بستی والے چیخیں مارتے بھاگ جائیں۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *