رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیراہتمام دوسری سالانہ رائٹرز کنونشن کا انعقاد

قلم قبیلے کی متعدد نمائندہ تنظیمیں اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات فراہم کرنے کی دعویدار ضرور ہیں مگر اکثر و بیشتر نمائندہ تنظیموں کی کارکردگی صرف اور صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود نظر آتی ہے۔

علم و ادب اور قلم و قرطاس کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے والوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ قلم قبیلے کی متعدد نمائندہ تنظیمیں اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات فراہم کرنے کی دعویدار ضرور ہیں مگر اکثر و بیشتر نمائندہ تنظیموں کی کارکردگی صرف اور صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود نظر آتی ہے۔ قلم و قرطاس کے میدان میں اہل قلم کی فلاح و بہبود اور تربیت و رہنمائی کے حوالے سے عملی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے۔  11 فروری 2018 ، بلدیہ ہال خانیوال میں رائٹرز کنونشن و تقریب تقسیم ایوارڈز کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ملک بھر سے اہل قلم افراد نے جوق در جوق شرکت کی ۔ معروف و مقبول شاعرو دانشور زاہد شمسی کی صدارت میں بلدیہ ہال خانیوال میں رائٹرز کی فلاح و بہبود اور نو آموز رائٹرز کی حوصلہ افزائی و تربیت کے لیے منعقدہ دوسری سالانہ رائٹرز کنونشن و تقریب تقسیم ایوارڈز کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ، بعد ازاں بارگاہ رسالت ﷺمیں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا جس کی سعادت معروف کالم نگار و دانشور شہزاد اسلم راجہ نے حاصل کی ۔معروف کالم نگار و دانشور ڈاکٹر تنویر سرور نے امت مسلمہ کے خلاف کفر کی سازشوں کا عکاس منظوم کلام پیش کیا جسے خوب سراہا گیا۔ چیئرمین بلدیہ خانیوال مسعود مجید نے اپنے خطاب میں رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر طرح کے تعاون کی مکمل یقین دہانی کروائی ۔مزاح نگار اسلم جاوید ہاشمی نے طنزو مزاح پر مبنی گفتگو سے حاضرین کو محظوظ کیا جبکہ معروف کالم نگار مرزا محمد یسین بیگ نے اپنے خطاب میں اہل قلم کی حوصلہ افزائی کو یقینی بنانے پر زور دیا اور بے جا تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مرزا محمد یسین بیگ نے فرمان نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا ادب نہ کرنے والا امت محمدیہ سے خارج ہے بالکل اسی طرح نو آموز رائٹرز کی حوصلہ شکنی کرنے والا رائٹر کہلانے کا حقدار نہیں بلکہ تنگ نظری کا شکار ہے ۔سینئر کالم نگار و فیچر رائٹر سید بدر سعید نے اچھا کالم لکھنے کے لیے ہدایات و تفصیلات پر مبنی مفید و مدلل گفتگو کی ۔ سید بدر سعید کا کہنا تھا کہ الفاظ کی تعداد ، ادارے کی پالیسی اور موضوع کے انتخاب کو مدنظر رکھ کر کالم لکھا جائے اور کالم ارسال کرنے سے قبل تین سے چار مرتبہ پروف ریڈنگ ضرور کی جائے بصورت دیگر معیاری کالم نہیں لکھا جا سکتا۔ معروف شاعرہ و ادیبہ نیررانی شفق نے اپنے خطاب میں کتاب سے تعلق مضبوط کرنے پر زور دیا جبکہ سینئر کالم ، نگار ، فیچر رائٹر اور عورت کتھا و بے ثمر راہ کا مسافر جیسی شاہکار کتب کے خالق ،محمد سجاد جہانیہ نے اچھی کہانی لکھنے کے لیے رہنما اصول بیان کیے ۔ محمد سجاد جہانیہ کا کہنا تھا کہ کہانی کا ابتدائی پیراگراف پرکشش و دلچسپ ہونا چاہیے جو قاری کو مکمل تحریر پڑھنے پر مجبور کردے گا۔ کہانی لکھتے وقت تحریر میں تجسس ضرور شامل کیا جائے اور کہانی کے آخر میں سبق آموز جملے لکھنے کی بجائے بین السطور سبق دیا جائے تو کہانی قارئین کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث بنے گی ۔گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج خواتین ، شعبہ اردو کی ہیڈ، پروفیسر رضیہ رحمن نے کہا کہ نو آموز ائٹرز کی رہنمائی و حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ علم و ادب کی ترویج و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا ۔پروفیسر رضیہ رحمن نے رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن کے مرکزی صدر آفاق احمد خان ، جنرل سیکرٹری شہزاد اسلم راجہ اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنے مرحوم شوہر کے نام سے جاری شدہ پروفیسر یحییٰ عزیز میموریل ایوارڈ زسے نوازا ۔صدارتی خطاب میں معروف شاعر و دانشور زاہد شمسی نے علم و ادب کی ترویج و ترقی میں کردار ادا کرنے پر زور دیا ۔زاہد شمسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اہل قلم معاشرے کے قابل قدر افراد میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ،فلاح و بہبود اور ترویج و ترقی میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔تقریب میں مقابلہ مضمون نویسی” بعنوان وطن سے محبت ایمان کا حصہ” کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے رائٹرز کو انعامات و ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب میں رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس اور سکھانی معاونتی مشن کی جانب سے علم و ادب ، تعلیم ، سماجی خدمات اورقلم و قرطاس کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے رائٹرز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے اور یہ سعادت راقم کے حصے میں بھی آئی۔ تقریب میں سینئرز کی مدلل و مفید گفتگو سے تمام اہل قلم نے میدان قلم و قرطاس میں کامیابی کے رہنما اصولوں سے شناسائی حاصل کی ۔تقریب کے آخر میں رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس کی جانب سے پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔کامیاب تقریب کے انعقاد پر رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومن رائٹس کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *