شادی ہمارے بھائی کی ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اس برس کے ابتدامیں ہی ہمیں گھر والوں نے بتا دیا تھا کہ چھوٹے بھائی کی شادی کرنی ہے۔ طے یہ پایا کہ ہماری تعطیلات کے دوران ہی اس فرض سے سبکدوش ہونا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو بہت سمجھایا کہ رہنے دیں۔ اچھی بھلی آزاد زندگی گزار رہا ہے مگر بزرگوں نے ہمیں لاجواب کر دیا کہ جو اپنے لئے پسند کریں اسی گڑھے میں دوسرے کو بھی گرانا چاہیے۔ ہم نے بھائی کو بھی سمجھایا کہ آزاد جی لو۔ بعد میں اس وقت کو ڈھونڈو گے گھڑیال گھڑیال مگر ملنا کا نہیں کہ نایا ب ہے۔یہ ایک معروف شاعر کے مشہور زمانہ شعر کا بھی حوالہ دیا۔
سہرہ بندی ہے کہیں اور کہیں براتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
تاہم سمجھداری کی باتوں پر قوم پہلے کب عمل پیرا ہے جو بھائی پر اثر ہوتا۔ اس نے بھی ایک کان سے سنی اور دوسرے سے نکال دی۔
ہمارے پاکستان آنے کے بعد شادی کی باقاعدہ تیاریاں شروع ہوئیں۔ ہم چونکہ تعطیلات پر تھے تو ہمیں ڈرائیور کی اعزازی ذمہ داری سونپی گئی۔شادی کے لئے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاء کے لئے بازاروں کے چکر لگنا تو معمول کی بات تھی۔ اس دوران ہمیں محسوس ہوا کہ اتنا تو ہم اپنی شادی پر بھی نہیں تھکے جتنا بھائی کی شادی نے تھکایا۔ پھر خیال آیا کہ ہم نے تو چند دن ہی تھکنا ہے، اب تو باقی عمر بھائی بھی یہی کچھ کرئے گا تو اس پر پیار بھی آیا اور ہمدردی بھی ہوئی۔
ہم نے چونکہ بھابی کو نہیں دیکھ رکھا تھا تو والد صاحب نے ان سے ملوانے کا پروگرام بنایا۔ ہم لوگ وہاں گئے تو ملنے کے لئے تھے مگر اتفاقات ایسے ہوئے کہ شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی۔ عید کے پانچویں دن یعنی 16 اگست کو شادی اور اگلے روز ولیمہ طے پایا۔شادی کی تاریخ میں کچھ لوگوں کی مرضی نہیں تھی توکچھ کو اعتراض تھا کہ ہم سے پوچھ کر نہیں رکھی گئی۔ کچھ اور بھی ایسے ہی بڑے بڑے مسائل تھے جو ناقابل بیان ہیں تو خاندان میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ہمارے ہاں کچھ دن جھگڑا نہ ہو تو ہمیں اختلاج قلب ہونے لگتا ہے سو ہم لوگ کوئی بہانہ کر کے آپس میں جھگڑنے لگتے ہیں اور اگر بہانہ نہ ملے تو بہانہ بنا لیتے ہیں۔ یہاں تو وجوہات بھی تھیں سو جھگڑا کیسے نہ ہوتا۔
جب جھگڑے میں کچھ دن بیت گئے اور شادی کے دن سر پر آ گئے تو خیال آیا کہ ابھی دلہن کے لئے لہنگا اور زیور لینا اور ولیمہ کے لئے شادی ہال کی بکنگ باقی ہے۔ جھگڑوں کو شادی کے بعد تک ملتوی کیا اور سب اپنے کاموں سے لگ گئے۔ لہنگا عید سے پہلے چاہیے تھا کیونکہ عید کے فوراً بعد شادی تھی۔ دو ہفتے کے مختصر نوٹس پر مناسب قیمت میں لہنگا بنوانا بھی ایک چیلنج تھا۔ کئی دوکانداروں کی منت سماجت کے بعد ایک کو ہم پر ترس آ ہی گیا، یا شاید اس کے پاس گاہک نہیں تھے) اور اس نے دس اگست کو لہنگادینے کا وعدہ کر لیا۔ ہم نے اسی سے معاملہ طے کیا اور ھال کی بکنگ کا معاملہ حل کرنے لگے۔ہال کا معاملہ بھی انتہائی دلچسپ تھا۔ گھر میں کچھ لوگ چاہتے تھے کہ ولیمہ پنڈی گھیب ہو تو کچھ راولپنڈی کے حق میں تھے یعنی پنڈی پر سب کا اتفاق تھا۔ بس راول اور گھیب میں سے ایک کے نام قرعہ نکلنا تھا۔ چند جھڑپوں کے بعد ہی راول پنڈی فاتح ہو گیا۔ زیورات کا معاملہ بھی عجیب تھا۔ جس دن خریدنے کا ارادہ کرتے اسی دن سونا مہنگا ہوتا۔ سونا سستا ہونے کا انتظار کرتے کرتے آخری دن آ گئے۔ مہنگے داموں زیورات ہم لوگوں نے بنوا لئے تو اگلے روز ہی روز سونا سستا ہو گیا۔
عید کے چوتھے روز ہمیں شادی کی اختتامی تیاری کرنی تھی۔ اس میں ساتھ لے جانے والی اشیاء کی فیصلہ کن جانچ اور کمرے و گاڑی کی سجاوٹ شامل تھی۔ باقی کام تو ہو گئے لیکن د ولہے والی گاڑی بھائی کو اس کے ادارے نے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ گاڑی اتفاق سے عید کی چھٹیوں میں آزاد کشمیر کے کسی علاقے میں تھی اور ایسی جگہ تھی کہ جہاں موبائل کے سگنل بھی نہ تھے۔ جس بندے نے کمرہ سجایا گاری بھی اسی نے سجانی تھی مگر گاڑی ہو تو سجائے۔ ایک دو گھنٹے انتظار کروا کے اسے ہم نے معذرت کی۔زر کثیر لے کر اس نے ہمیں سیر چشمی سے معاف کر دیا۔ ادھر گاڑی نہ آئی اور ادھر بھائی کی کلاس ہوتی رہی۔کرائے پر گاڑی دینے والوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی ہمارے ڈرائیور نہیں آئے۔ مغرب تک گاڑی نہ آئی تو ہم نے اپنی گاڑیاں ہی سجانے کا سوچا۔ ابھی بہنوئی نے گاڑی دھلوائی ہی تھی کہ وہ گاڑی آئی جس کو آنکھیں اڈیک رہی تھیں۔ تاہم اس کا ڈرائیور چلا گیا کہ صبح نیا ڈرائیور آئے گا۔کہنے لگا کہ میرے ذمے بس گاڑی آپ کے گھر پہنچانا تھا۔ اس گاڑی کی حالت ایسی نہ تھی کہ اس کو سجایا جاتا سو اس کو گیراج میں کھڑا کیا اور رات اس گاڑی کے گرد باری باری پہرہ دیا گیا کہ وہ چار چھ کروڑ کی گاڑی تھی۔ پورا گھر بیچ کر بھی پیسے نہ پورے ہوتے۔
اگلی صبح منہ ّ اندھیرے اُٹھ کر گاڑی کو دھویا اور اس پر پھول اور گلدستہ لگا کر سجا دیا تا کہ کچھ تو دولہے کی گاڑی لگے۔ اس کے بعد ہم تیار ہوئے۔ ہم نے سب سے پہلے والٹ میں ناردہ والا شناختی کارڈ ڈالا تا کہ کسی غیر متوقع صورت حال میں برادری میں ناک نہ کٹ جائے۔اس دوران بارات کو لے جانے کے لئے ہائی ایس آ گئی۔
گھر والے تیار ہو گئے تو دولہاوالی گاڑی کے ڈرائیور کا انتظار شروع ہو گیا۔ ایک بار پھر بھائی کو ہی تختہ مشق بنایا گیا کہ یہ اس کا ہی انتظام تھا۔ شادی سے پہلے ہی شادی کے بعد والی مشق ہو رہی تھی بھائی کی۔ طویل انتطار کے بعد ڈرائیور صاحب نے اپنا دیدار کروایا تو بارات کا قافلہ روانہ ہوا۔ وہاں ہم لوگ جمعہ سے قبل پہنچ گئے۔ ماحضر ہمیں پہلے دے دیا گیا۔نکاح جمعہ کے بعدہونا طے پایا۔ کچھ لوگوں نے ازراہ مذاق کہا کہ کھانا کھا لیا ہے اب واپس چلتے ہیں۔ نکاح و دوسری رسوم کے بعد بارات قریب عصر واپس روانہ ہوئی۔رات کو اسلام آباد پہنچے۔
اگلے روز ولیمہ تھا۔ ایک مرتبہ پھر صبح جلدی ہوئی کہ اس تقریب کے ہم اور ہمارے بہنوئی صاحب منتظم تھے۔ بھابی کو ہم نے پارلر چھوڑا۔ خود تیار ہوئے اور شادی ہال جا پہنچے۔ باقی افراد بعد میں تشریف لائے۔آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور ہال احوال پوچھنے سے زیادہ ہم کسی کو وقت نہ دے پائے۔ ابن نیاز نے اس مرتبہ بھی دوستی کا حق ادا کیا اور ولیمے میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں رابعہ ملک نے بھی تقریب کو چار چاند لگائے۔ ولیمے کے لئے ہم نے تین سو لوگوں کا کھانا بنوایا تھا مگر تاریخ طے کرتے وقت یہ معلوم نہ تھا کہ حکومت سولہ اور سترہ اگست کو لوگوں کو واپس کام پر بلوا لے گی سو،سوا دو سو کے قریب لوگ آئے۔ باقی کھانا ہم گھر لے آئے اور محلے والوں میں بڑے بڑے برتنوں میں ڈال کر بانٹ دیا۔
شادی کے ابتدائی دن تو بھائی اور بھابی کی دعوتوں کے تھے اور کچھ ہی دن بعد ہم واپس سعودی عرب آ گئے سو بعد میں ہونیوالی لڑائیوں کا ہمیں بالکل علم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *