شگوفہ سحر ۔۔۔ تبصرہ : عمارہ کنول

کہتے ہیں لاہور پنجاب کا دل ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا اس کی پیدائش بھی زیر شبہ ہے ۔گو کہ ہماری پیدائش کہیں اور کی پرورش لاہور کی ہے اور آئندہ مرقد بھی لاہور ہی متوقع ہے مگر ہمیں راولپنڈی ،اسلام آباد بھی بے حد عزیز ہیں ۔
آسمان چھوتے پہاڑاور اسی کی طرح کی قد آور اور اونچی سوچ رکھنے والے لوگ،گو لاہوریوں کی طرح خوش مزاج و خوش خوراک نا سہی پر خوش ذوق ضرور ہیں ۔
سنا ہے نام کا انسان کی شخصیت پر بہت اثرہوتا ہے اب مثال کے طور پر ابن ریاض کو ہی لے لیجئے جب تک عمران اعوان رہے کوئی خاص معرکہ نا مار سکے جیسے ہی ابن ریاض ہوئے صاحب کتاب بن بیٹھے ۔
ان کی کتاب کی تقریب رونمائی میں شمولیت کا شرف ہمیں بھی حاصل ہوا ۔کچھ وجوہات کی بناء پر ہم تقریب میں کتاب کے بارے کوئی تبصرہ نا کر سکے ،جب ابن ریاض سے ملاقات ہوئی تو انہیں غالبا ہماری قابلیت کا یقین آیا اور ان کے اس یقین کی تقویت کے لئے آج قلم تھام ہی لیا ۔
شگوفہ سحر اپنے نام کی طرح شگفتہ تحاریر کا مجموعہ ہے بہت ہی نازک معاملات و موضوعات پر انتہائی شگفتگی اور پر مزاح قلم سے پھول کھلائے گئے ہیں جو ابن ریاض کے روحانی استاد ابن انشاء کا ہی خاصہ معلوم ہوتے ہیں ۔
ابن ریاض کی تحاریر میں چبھتا ہوا سا طنز پر مزاح انداز میں ملتا ہے جیسے ، ہمیں تو ایسی شادی نہیں کرنی ، کو ہی لے لیجئے ۔ایسا لطیف طنز ایک منجھے ہوئے قلمکار کی تحریر میں ہی ملتا ہے۔کرکٹ نا کھیل سکنے کی تشنگی کرکٹ پر لکھ کر پوری کی گئی ہے ،کہتے ہیں اچھا طبلہ بجانے والا اچھا گلو کار نہیں ہو سکتا،استاد ذاکر حسین کو ہی لے لیجئے ،اسی طرح ابن ریا ض اچھے مزاح نگار تو ہیں مگر بیحدسنجیدگی سے لکھتے ہیں اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں تاہم ان کا چلبلا پن ان کی تحاریر میں جھلکتا ہے ۔
موصوف کی کتاب میں پاکستان کے لیے بے انتہا درد اور جذبہ حب الوطنی نظر آتا ہے جو کہ شاید پردیس میں رہنے والے ہر پاکستانی کے دل میں ہوتا ہو گا۔ملک کے معاشی مسائل سے لے کر سماجی و معاشرتی مسائل ان کے احاطہ تحریر میں آ ئے ،اصلاحی تنقید کے ساتھ مفیدمشوروں سے بھی نوازا گیا ہے ۔
سعودی عرب میں رمضان ، ہم نے گاڑی چلانا سیکھی ،ہم نے گاڑی چلائی ، ہم وی آئی پی ہیں ، خوش رہو اہل وطن ، جیسی لا جواب تحاریر ہیں جن میں مزاح سے ہٹ کر ایک درد محسوس ہوتا ہے کہ کا ش ہم پاکستان کو بھی کرپشن فری اور ترقی یافتہ بنا سکیں ۔
ابن ریاض یاروں کے یارہیں کتاب میں اپنے گہرے دوست اور تقریبا ہم نام دوست کا ذکر بھی کرتے ہیں اور ، ابن نیاز بقلم ابن ریاض ، کے عنوان سے کالم میں ان کی ابن نیاز سے قلمی وابستگی اور دوستی کا ثبوت ملتا ہے ۔
حالانکہ انسان کی اپنی ذات اس کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے لیکن اس کتاب کے مطالعہ سے نا صرف آپ کو مزاح ملتا ہے بلکہ صاحب کتاب کے درد مند دل ،زندگی کے مختلف پہلو ؤں سے بھی شناسائی حاصل ہوتی ہے ۔
نایاب ہیں ہم ، ہر دوسری لڑکی ابن ریاض کی پرستار ،ہم بخدا خاتون نہیں ، اور ،ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ، جیسے مضامین سے ان کی سنجیدہ شخصیت ،زندہ دلی اور حساسیت کا ادراک ہوتا ہے ۔
جہاں ،ہم ڈرتے ورتے کسی سے نہیں سے کچھ نام نہاد دانشوروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے وہیں ،شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ، کے ذریعے اپنی ذہانت کا لوہا بھی منوایا ہے ۔
اہم سنجیدہ موضوعات پر پر مزاح تحاریر لکھ کر اسے ایک کتاب کی شکل میں ایک خوبصورت گلدستہ بنایا گیا ہے ۔
کالمز پڑھتے ہوئے ایک مسکراہٹ جو آپ کے چہرے پر ابھرتی ہے کالم کے اختتام پر ایک آہ بن جاتی ہے کہ کاش کچھ اچھا ہو جائے
میں اس شعر کے ساتھ اپنی تحریر کو سمیٹنا چاہوں گی کہ
چند کلیاں نشاط کی چن کر
مدتوں محو یاس رہتا ہوں
تم سے ملنا خوشی کی بات سہی
تم سے مل کہ اداس رہتا ہوں
تو دعا ہے کہ ابن ریاض اسی طرح تنقید برائے اصلاح اورمزاح برائے مزاح لکھیں اور معاشرے کی برائیوں کی اسی طرح نشاندہی کرتے رہیں تا کہ شعور بیدار ہو جو کہ ادیب کا اصل مقصد ہوتا ہے۔

(Visited 26 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *