سیاسی ہلچل اور ہلڑبازی ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

جیسا کہ الیکشن 2018 کا پرچار ہر جگہ ہو رہا ہے

ایسا لگتا ہے، جیسے کوئی بکرا حلال ہو رہا ہے

آجکل جو موضوع سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ الیکشن اور اس کی مہم ہے ۔ امید پہ دنیا قائم ہے،اس لئے عوام کے پاس اس بار بھی کوئی چارہ نہ ہوتے ہوئے انہی اکادوکا سیاست دانوں میں سے کسی ایک کا چناؤ کرناپڑے گا ۔مگر دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس بار بھی وہی گھِسا پٹا الیکشن ،وہی ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں اور دھکم پیل ،وہی دھاندلی، وہی طرزِ حکومت، وہی بوسیدہ سیاسی چہرے، وہی ملک کو آگے نہ لے جانے والی اور محض کام چلانے والی سوچ،وہی جھوٹے وعدے و دعوے ، وہی تحریری آئین میں ترمیم سازی کی گھٹیا تراکیب اور حکمران حضرات کے مفادات،وہی نام نہاد بجٹ اور بلز کا منظرِعام پہ آنا،وہی غربت و افلاس،وہی معاشرتی بے راہ روی،وہی سیاسی و سماجی کشمکش ،وہی ملکی و بین الاقوامی انتشار،وہی پانچ سالہ معیاد پوری کرنے کی لالچ اور وہی ملکی خزانے کی لوٹ مار اور عوام بدحال ۔ پھر بھی یہ شور و غل ،یہ افراتفری،یہ دھڑے بازی و پارٹی رکنیت کے شوشے، نعرے بازی،لڑائی جھگڑے،ہلڑبازی و فسادات یہ سب کیا ہے؟ملک میں پاک اور شفاف سیاست کا وجود کہاں ہے؟سیاسی چالیں اور منفی داؤ پیچ سے سیاست بدنام ہے۔ الزامات کی برسات اور گالی گلوچ نے سیاسی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے نیز اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی عوام میں اکثریت ووٹ کی اہمیت سے نا واقف ہے ۔اگر ہمارے ووٹرز ووٹ کی اہمیت کو سمجھ لیں تو ان کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو جائے۔ووٹرز کی بھی چار اقسام ہیں :۔
* ایک جو ووٹ مطلب کے تحت دیتے ہیں اور اس کی خرید و فروخت کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔
* دوسرے وہ جو ایک پارٹی کے نام پر اپنی جان دے دیتے ہیں چاہے ان کا لیڈر حق پہ ہو یا نہ ہو ،بے شک غددار ہو ۔
* تیسرے قسم کے وہ ووٹرز جو ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کو مدِنظر رکھ کر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرتے ہیں ۔
* چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو ووٹ دینے کیلئے باہر ہی نہیں نکلتے بلکہ چھٹی کا دن سمجھ کر آرام کرتے ہیں ۔
ہمارے یہاں دیہی و پسماندہ علاقوں میں ووٹ کی اہمیت ووٹ کی خریدوفروخت پر مبنی ہے ۔ووٹرزاس عمل کو سرانجام دیتے ہوئے اپنے آپ پر فخر کرتے ہیں کہ رقم دو اور پورے خاندان یا برادری کے ووٹ لو۔اس سودے بازی میں جو پارٹی زیادہ پیسہ خرچ کرتی ہے اکثریتی ووٹوں کی حقدار ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے کارکنوں کیلئے الیکشن کے دن گھر سے پولنگ اسٹیشنز تک پِک اینڈ ڈراپ سروس بھی مہیا کی جاتی ہے ۔
ووٹر کی دنیا بھر میں بہت عزت ہے سوائے پاکستان کے ۔پاکستان کے ووٹر کا شمار دنیا کے مظلوم ترین ووٹرز میں ہوتا ہے۔ووٹر سیاست دانوں کی سوتیلی اولاد کی طرح ہوتا ہے جو اسے برے وقت میں یاد آتا ہے ۔ووٹر صرف ایک دن جیتا ہے باقی پانچ سال وہ انہی سیاستدانوں کے تلوے چاٹتا ہے۔اسے صرف چند مخصوص نعرے ،پارٹی جھنڈے کی پہچان اور لیڈرز کے نام رٹادئیے جاتے ہیں جسے وہ ساری زندگی گاتا رہتا ہے کیونکہ ووٹر کیلئے اس کا لیڈر کسی خدا سے کم نہیں ہوتا جس نے اسے غربت و افلاس سے نکالنا ہوتا ہے لیکن یہ عوام اس بات کو نہیں سمجھتی کہ لیڈر پوجنے کیلئے نہیں بلکہ منتخب کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ لیڈر کا کام اپنے عہدے کے فرائض سرانجام دینا ہوتا ہے اور اگر وہ اس سے روگردانی کرے یا سستی و کاہلی اور کام چوری کا مظاہرہ کر ے تو ایسے نا اہل لیڈر کو اپنے منصب پہ جمے رہنے کا کوئی حق نہیں۔جب یہی عوام برے لیڈر کو پیروں پر رکھے گی تب ہی اچھا لیڈر اس عوام کو سر پر بٹھائے گا۔ہمارے ہاں جماعت یا اس کے منشور کو دیکھ کر نہیں بلکہ لیڈر کو دیکھ کر ووٹ دئیے جاتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے عقل و فہم رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے ملک کی فلاح و کامرانی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔جو شخص ملک کا لیڈر بننے کے لائق ہے اسی کا انتخاب کرتے ہیں نیز کچھ ایسے آرام طلب لوگ بھی موجود ہیں جو ووٹ دینے کو زحمت سمجھتے ہیں اور ووٹر کی شرائط پر پورا اترنے کے باوجود بھی گھر پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی پہچان سیاسی لاشوں کے طور پر کی جائے تو یہ بے جا نہ ہو گا ۔اس کے علاوہ جو چیز دیکھنے میں آ رہی ہے کہ سیاستدان تو ووٹ لے کے اپنے راستے لیکن بعض لوگ اس پارٹی بازی میں پھنس کر اپنے عزیزوں ، قریبی رشتے داروں حتیٰ کہ دوست احباب کو بھی نہ صرف بحث کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ مستقل لڑائی جھگڑے اور فسادات تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔اس قسم کی ہلڑبازی سیاست کو بدنام کر کے رکھ دیتی ہے۔
بہرحال سیاسی اعتبار سے اچھی قسمت پانچ سالوں میں ایک بار دستک دیتی ہے اور خوش قسمتی اسی میں ہے کہ اچھے مستقبل کا چناؤ کیا جائے نہ کے لیڈر کا ۔لیڈر کو اس کی تقریر اور کھوکھلے دعوں اور وعدوں سے نہیں بلکہ عمل سے پہچانا جائے۔لیڈر کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ وعدہ توڑے گا تو عوام ناتا توڑے گی۔لہٰذا پاکستان کی عوام کو باشعور ہونا چاہئے اور تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھ کر ایک سیاسی جماعت اور لیڈر کا انتخاب کرنا چاہئے۔اللہ رب العزت سلطنت پاکستان کو اچھے حکمران نوازے۔ آمین

(Visited 39 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *