سٹالن کا روس اور ماس خوروں کا معاشرہ ۔۔۔ تحریر : عماد ظفر

زمانہ قدیم میں غلاموں یامشقتیوں سے کام لینے کے بعد انہیں قید خانوں میں بند کیا جاتا تو اس امر کا خیال رکھا جاتا تھا کہ انہیں زندہ رکھنے کیلئے غذا کے ساتھ ساتھ آزادی کے حسین خواب بھی دکھائے جائیں۔مثال کے طور پر اسٹالن کے روس میں ہر قید خانے میں خود اس کے اپنے کارندے قیدیوں کے روپ میں موجود ہوتے تھے جو دیگر قیدیوں کی ہمت جوان رکھنے کیلئے انہیں آزادی اور روشن مستقبل کے جھوٹے خواب دکھاتے تھے. ان خوابوں اور آسوں کے سہارے قید خانے کے مشقتیوں کا زندہ رہنے کا حوصلہ جوان رہتا تھا۔ قیدی قید خانے کی دیواروں کے ٹوٹنے کی جھوٹی آس میں زندہ رہنے کا ساماں ڈھونڈ لیتے اور خوب جان لگا کر مشقت کرتے۔یوں قیدیوں سے نہ صرف بھرپور مشقت کروا کر کام کرا لیا جاتا بلکہ ان کے عرصہ حیات کو بھی طویل کر دیا جاتا۔دراصل انسان کی زندگی امید اور خواب کے دم پر قائم رہتی ہے۔ سٹالن کا روس اور کمیونزم تو اپنی موت آپ مر گیا لیکن یہ قید خانے کا کلیہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید بنیادوں پر استوار ہو کر مختلف اشکال میں آج بھی قائم ہے. وطن عزیز میں گو کمیونزم تو کبھی بھی نافذ نہیں ہوا لیلن کمیونزم کے دیگر لوازمات جیسے کہ اظہار رائے ہر پابندی،اختلاف رائے کو جرم قرار دینا، شخصی آمریت کا تسلط وغیرہ فی الوقت رائج ہیں۔ مہذب معاشروں یا مضبوط جمہوریتوں کی چند خصوصیات کو ایک کنٹرولڈ طریقے سے رائج کر کے وطن عزیز میں بسنے والے مشقتیوں اور قیدیوں کو اس گمان میں رکھا جاتا ہے کہ دیگر مہذب معاشروں کی مانند ہمارے ہاں بھی سب اچھا ہے.جبکہ اس کے برعکس،مجموعی طور پر آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی پالیسی نے ہمیں تضادات اور منافقت کے فن میں یکتا اور بے مثال بنا ڈالا ہے۔کبھی مارشل لا تو کبھی کنٹرولڈ جمہوریت،کبھی اسلامی نظام تو کبھی خلافت راشدہ کے سہانے سپنے،کبھی ضیاالحق کی خود ساختہ شریعت اور کبھی مشرف کا عجیب و غریب لبرلزم, ان تجربات نے معاشرے کو ایک تجربہ گاہ بناتے ہوئے یہاں کے بسنے والوں کو ”گنی پگ” سے زیادہ کچھ خاص اہمیت نہیں دی.تضادات،نرگسیت پسندی اور کھوکھلے نعروں کے ساتھ مذہبی شدت پسندی اور نازی جرمنی یا سٹالن کے روس جیسی حد سے زیادہ قوم پرستی کا نتیجہ ہم نے سقوط ڈھاکہ کی صورت میں بھی دیکھا اور فاٹا و بلوچستان کو آگ و خون میں نہلانے کی صورت میں بھی دیکھا لیکن مجال ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بسنے والی اشرافیہ یا معاشرے میں بسنے والی مجموعی آبادی کے اکثریتی حصے کے کانوں پر کوء جوں بھی رینگی ہو۔دہائیوں پرانا نعرے ”وطن اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے”، ’’’مذہب خطرے میں ہے‘‘ ہمیں بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے” آج بھی نہ صرف مقبول ہیں بلکہ حیران کن طور پر ملکی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ان پر من و عن ایمان بھی رکھتا ہے. ان نعروں یا مفروضوں کے دم پر سیاسی,دفاعی و مذہبی اشرافیہ نے جس قدر بے رحمی سے معاشرے کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے نابلد و نافہم رکھا ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور مہذب معاشرے میں اس کی مثال ملنے پائے. سیاسی اشرافیہ نے روز اول سے ایک ہی گردان الاپی ہوء ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے، مذہبی اشرافیہ کو دیکھیں تو مذہب خطرے میں ہے کی گردان اور دفاعی اشرافیہ کی جانب سیہمہ وقت وطن کی سالمیت خطرے میں ہے کا راگ سناء دیتا ہے. ان نعروں اور مفروضوں کو سن کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے وطن عزیز کے کل مسائل صرف اور صرف مذہب,جمہوریت اور نظریاتی و دفاعی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے.جبکہ ساٹھ فیصد سے زائد آبادی زہر آلود پانی پیئے تقریباً نصف سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارے، کڑوڑوں بچےّ علم کی روشنی سے محروم رہیں، مشعال جیسے بچے دن دہاڑے جنونیوں کے ہاتھوں کچلے جائیں یا عنبرین جیسی ان گنت بچیاں غیرت کے نام پر قتل کر دی جائیں یہ حقائق و واقعات گویا کوء معنی ہی نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کا تدارک ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ہماری ترجیحات قیام پاکستان سے لیکر آج تلک صرف اور صرف مختلف گروہوں کے اشتراک پر مبنی اشرافیہ اور ان کے حواریوں کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنا اور اپنی اپنی تجوریوں کو بھرنا ہے. دوسری جانب عام آدمی بھی اس اجتماعی نفسانفسی اور نرگسیت کا شکار ہو کر یا تو انہیں اجارہ داروں کا غلام بن کر روزی روٹی پوری کرتا ہے یا پھر اپنی اپنی بساط کے مطابق بے ایمانی یا کرپشن کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔جمہوریت ہو یا آمریت دونوں نظام صرف اور صرف معاشرے کے استحصال کے گرد گھومتے رہے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ایوب خان ہو یا پرویز مشرف یا پھر نواز شریف ہو یا عمران خان ان سب افراد اور ان سے منسلک قریبی گروہ بھرپور ترقی کرتے نظر آتے ہیں. دفاعی و سیاسی اشرافیہ یا مذہبی اشرافیہ کے اس استحصالی گٹھ جوڑھ سے جہاں وطن عزیز میں معاشی و اقتصادی مسائل کا ایک انبار ستر برسوں میں جمع ہوا ہے,وہیں اس گٹھ جوڑ نے معاشرے کو اخلاقی پستی اور انسانی جبلتوں سے دور رہتے ہوئے ایک شتر مرغ کی مانند ریت میں سر چھپا کر جینے کا درس بھی سکھایا ہے. کشمیر کی آزادی کے کھوکھلے نعرے ہوں یا فلسطین و برما میں مظالم کے خلاف احتجاج,چیختے چنگھاڑتے گلے پھاڑتے افراد اپنے ہی معاشرے میں اقلیتوں کو بربریت سیقتل کئیے جانے اور ان کے حقوق غصب ہونے پر بالکل خاموش دکھاء دیتے ہیں. لال مسجد کا سانحہ ہو یا ماڈل ٹاون کا قتل عام, ان سانحات میں مرنے والوں کو شاید انسان ہی تصور نہیں کیا جاتا۔اپنے ہی وطن میں بلوچستان سے ملنے والی سینکڑوں مسخ شدہ لاشیں ہمارے کھوکھلے نعروں اور تصورات کا سر عام مذاق اڑاتی دکھاء دیتی ہیں. وطن عزیز کے قیام سے لیکر آج کے دن تک ترجیحات کے غلط ہونے اور اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کی سوچ نے معاشرے میں جو جمود طاری کیا ہے اس کے نتیجے میں جمہوریت آمریت مذہب صحافت اور دفاع کے نام پر مبنی گروہ معاشرے کی ہڈیوں سے ماس تک اتار کر کھا چکے ہیں. یہ ڈھانچہ ان ماس خوروں کے تسلط سے آزاد ہو گا تو پھر سے گوشت پوشت حاصل کر کے تندرستی کی جانب مائل بہ سفر ہو سکے گا. لیکن اس کے لئیے ان ماس خوروں سے نجات بے حد لازمی ہے.نجات یا آزادی کیلئے قیدیوں کا جھوٹے خوابوں اور مخبریوں سے پیچھا چھڑانا ضروری ہے۔سٹالن کے کلئیے کی مانند سیاسی,مذہبی،دفاعی اشرافیہ نے معاشرے کے قید خانے میں مخبر چھوڑ رکھے ہیں جو دانشوروں،صحافیوں سیاسی کارکنوں،مولویوں پیروں یا دفاعی تجزیی نگاروں کی شکل میں ہم سب کے ارد گرد موجود رہتے ہیں۔یہ ایجنٹ یا مخبر سٹالن کے کلئیے کے مطابق قیدیوں کو جھوٹے آزادی کے سپنے دکھاتے ہوئے روشن مستقبل کی نوید سناتے رہتے ہیں تا کہ قیدیوں کے ذہنوں میں حقیقی آزادی کا تصور ابھرنے ہی نہ پائے.اور قیدی بھرپور طریقے سے ان ماس خوروں کیلئے مشقت کرتے ہوئے ان کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں. وطن عزیز میں موجود قیدی کیا خود کبھی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ان ماس خوروں اور ان کے ایجنٹوں سے نجات حاصل کریں گے یا پھر سٹالن کے روس کی مانند ظلم و جبر اور قدغنوں کے بوجھ تلے دفن ہو کر یہ کھوکھلا نظام خود ہی دم توڑ جائے گا اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔وقت کا جواب چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو سننا اور دیکھنا پڑتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *