سٹوڈنٹ آف انگلش اینڈ کورس ۔۔۔ (طنز و مزاح) ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

پر معطر بند کمرے میں ایک شخص چاک کو ” چاکِ گریباں” کرتے ہوئے بلیک بورڈ کے پاس کھڑا ناکام”راک اینڈ رول” کی کوشش کر رہا ہو،یا چنداں ماڈرن یونیورسٹیوں میں چند ماڈرن طلبا و طالبات کے جھرمٹ میں سمارٹ بورڈ کا استعمال بڑے ” سمارٹ” طریقے سے ” سمارٹ” نسل کے مستقبل کو بلیک ” سے ” وائٹ ” کرنے کی کوششِ آخر میں مصروفِ عمل ہو،اور پیچھے نششتوں پہ براجماں بحالتِ جامد و ساکت کچھ لڑکے اور لڑکیاں ،روز مرہ کے حالات،سیاست پہ بحث،آج کا سب سے بڑا پاکستان کا مسئلہ،کرکٹ میچ یا یونین کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال فرما رہی ہوں یا آنکھوں ہی آنکھو ں میں کھیلے جانے والا کھیل ” آنکھ مچولی” کھیلا جا رہا ہو،تو سمجھ لیجئے کہ یہ انگلش لٹریچر کا کلاس روم ہے۔کلاس روم میں بیٹھنا ” پیریڈز” کا خیال رکھنا ہوتا ہے وگرنہ کون سی کلاس اور کس کا پیریڈ۔اکثر کلاس روم میں پروفیسر کورس کی طوالت اور طلباٗ وقت کی کمی کا رونا روتے ” ماہی بے آب” کی سی حالت میں ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر رخِ مارکیٹ یا کنٹین ہو جاتے ہیں ۔البتہ اتوار کو ڈیپارٹمنٹ بند کر دیا جاتا ہے تاکہ اتوار بازار کی رونق دوبالا ہو سکے۔اسلئے بھی کہ ” علم کے پیاسے” اپنی تعلیمی استعداد میں کبھی کبھار گھر بیٹھ کر بھی اضافہ کر سکیں۔اور جو معاملاتِ عشق کلاس روم میں بحث نہ ہو پائے ہوں انہیں سوشل میڈیا جیسی نعمت کے ذریعے عمل میں لایا جا سکے۔اس لئے کہ سوشل میڈیا ہی ایک ایسا میڈیم ہے جس میں ماسوا تعلیمی مسائل کے اور سب ڈسکس اور سوشل ہو جاتا ہے۔خواہ وہ کسی بھی میڈیم میں ہو یا کسی بھی” میڈم” کا سوشل ہونا ہو۔
جتنا کٹھن کام انگلش لٹریچر میں داخلہ ہے اس سے کہیں مشکل اور دقیق دو چار مرتبہ سپلی جمع فل چانس لے کر پاس ہونا ہے۔ویسے بھی داخلہ پاس ہونے کے لئے کون کمبخت لیتا ہے۔بس ذرا رعب و دبدبہ کے لئے کہ بچہ انگریزی بھی بول لیتا ہے ۔ڈیپارٹمنٹ میں ادبی سرگرمیوں میں اضافہ اور ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے ” یونین” کے انتخاب بھی عمل میں لائے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں کبھی کبھار “آنکھوں کی ٹھنڈک “کے لئے اجلاس بھی بلایا جاتا ہے ۔جس میں ادبی سرگرمیوں کے لئے لائحہ عمل،بہتر تعلیمی ماحول کے علاوہ ” حسین” اور ” وجیہہ” میں موازنہ آرائی کی جاتی ہے۔۔۔۔جامد حالات میں ” حرکت پزیری” کے لئے سال میں دو ایک کمبائن پروگرام جو کہ اکثر و بیشتر اردو ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کاوش سے کئے جاتے ہیں تاکہ سپلیمنٹری کے “اعدادو شمار” کا مسئلہ بطور احسن انجام پا سکے۔ان فنگشن میں مضامین ،کورس پر تبادلہ خیالات کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ جو خصوصاًسٹوڈنٹ کی ” جذباتی وابستگی” کی امین اور عموماًبہتر مستقبل پر بحث ہوتی ہے ،کہ ان دو مضامین کی mix crop سے “نسلی پروڈکشن “کے زیادہ” بہتر نتائج” مارکیٹ میں دیکھنے میں آئے ہیں۔
کورس کچھ اس طرح سے سٹوڈنٹ آف انگلش کے لئے پیچیدگیوں میں مزید اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
کلاسیکل شاعری میں جان ڈن کی love and divine poems کے حصار سے نکلتے نکلتے ایک سال درکار کر لیا جاتا ہے۔گو” حصار” ٹوٹنا چاہتا ہے تاہم سٹوڈنٹ”سحر” نہیں توڑنا چاہتے اور اسی حصار میں بانہوں میں بانہیں ڈالیں نہر کے ساتھ ساتھ کہیں دور ایسی دنیا میں نکل جائیں جہاں ان دونوں کے سوا کوئی تیسرا نہ ہو۔ایک دم سے حصار ٹوٹتا ہے اور امتحان کا جن سر پہ آن کھڑا ہوتا ہے۔۔۔ڈرامہ میں شکسپئر کے “ہیملٹ” سے نکلتے نکلتے امتحانوں کاہیلمٹ سر پر آ سوار ہوتا ہے۔جبکہ پروفیسرز حضرات “مارلو” کے ” مالٹا” کا رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔اور سٹوڈنٹ ” جوزف اینڈریو” کی محبوبہ کو اپنے محبو بانہ چہروں میں تلاش کرنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کو کوچہء لیلیٰ بنائے بیٹھ رہتے ہیں۔یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب لٹریچر” سٹریچر” میں اور کلچر”لچر ” میں تبدیل ہو کر ایک آفت و قیامت کا ماحول پیدا کر دیتا ہے۔اور طلبا کمال ہوشیاری سے ایک دوسرے کو ایسے مدغم کرتے ہیں کہ کلچر اور لچرً میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا بلکہ کلچر دکھائی ہی نہیں دیتا بس لچًر ہی لچًر ہر سو دکھائی دیتا ہے۔اور تو اور tess کی خوبصورتی اور معصومانہ پن بھی بے چارے معصوم بچوں کے پاس ہونے میں آڑے آتی ہے۔گویا نہ ہی تھامس ہارڈی کی tess اور نہ ہی کیمپس کی Miss campusہاتھ آتی ہے۔لے دے کے ادبی تنقید کا پرچہ رہ جاتا ہے جو بوجوہ مشکل ہونے کے سٹوڈنٹ دلبرداشتہ ہو کر اس میں بھی قسمت آزمائی نہیں کرتے اور ایک عدد اور سپلیمنٹری کے حقدار ٹھہرائے جاتے ہیں۔درج بالا وجوہات کی بنا پہ سٹوڈنٹ سارا سال “ٹریجڈی” سے آگے نہیں بڑھ اور پڑھ پاتے۔
امریکن لٹریچر محض پاک امریکہ دوستی کو مضبوط اور فعال بنانے کی امید پر کورس کا حصہ بنایا گیا ہے کہ” ایڈ” ملتی رہے اور” ایڈز” پلتی رہے۔اگرچہ بعض سیاسی مبصرین اس دوستی کو یک طرفہ خیال کرتے ہیں تاہم میرے وہ “شاہین بچے” جو امریکہ میں جا کر لٹریچر پڑھتے ہیں وہ کسی گوری “میم” سے مل کر اور “گُل کھلاِ” کرطُرفۃ العین میں تعلقات دو طرفہ کر لیتے ہیں۔بعد ازاں چند سالوں کے ان تعلقات کے “نتیجہ” میں ” گوری چٹی ” چھوٹی چھوٹی ” سپلیمنٹریوں” (بچوں) کی صورت میں اضافی لٹریچر(مزید فیملی) کا باعث بن کر نعرہ بازی کر رہے ہوتے ہیں کہ “پاک امریکہ تعلقات زندہ باد”۔انگلش لٹریچر سٹوڈنٹ ،یونیورسٹی میں “کمیٹی” ڈال کر سپلیمنٹری کا مزہ چکھتا ہے جو سٹوڈنٹ آف انگلش لٹریچر پر یونیورسٹی کی طرف سے فرض کر دی گئی ہوتی ہے۔تاکہ سینئر کلاس میں بیٹھ کراپنے بڑے ہونے کا “مزہ” زیادہ اٹھایا جا سکے۔ہاں اگر کبھی موقع مل جاتا ہے اور پاکٹ اجازت دیتی ہوتو بفضل یونیورسٹی ٹھرڈ ڈویژن کی سیڑھی کے آخری ڈنڈے پر قدم مبارک رکھے ہوئے ایم ۔اے۔انگریزی کا ناحق جھومر سٹوڈنٹ کے ماتھے پہ سجا دیا جاتا ہے تاکہ انگریز سے وفا داری کی سند رہے۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *