سوئی گیس کی قلت اور بحران ۔۔۔ تحریر : قراۃ العین سکندر

زندہ قوموں کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ با اصول ہوتی ہیں۔مگر ہمارے مطلق العنان حکمران ہر اصول سے بری الذمہ ہیں۔ہر نئے طلوع ہونے والے دن میں ہمارے حکمران ایک نیا وعدہ کرتے ہیں جو کبھی ایفا ہوتا دکھای نہیں دیتا۔
صبح سویرے جب مایں ٹھٹھرتی برفا دینے والی سردی میں اپنے بچوں کو سکول روانہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں تو بچوں کے لبوں پر مچلتا ہوا سوال ۔ُامی آج لنچ باکس میں کیا دیں گی۔؟ اور مایں فقط ٹھنڈی آہیں بھر کر رہ جاتی ہیں۔ٹھنڈے چولہے ان کا منہ چڑھا رہے ہوتے ہیں۔اسوقت جابر حکمرانوں کو ڈھیروں بددعاوں کا تحفہ دیتی مایں اپنے جگر گوشوں کو ٹھنڈے توس پر جیم لگا کر ہی روانہ کر دیتی ہیں۔
ہمارا ملک طبقاتی کشمکش کا ہمیشہ شکار رہا ہے مگر سوئ گیس کا یہ بحران فقط عوام الناس کے لیے ہی مختص ہے۔دوسری جانب حکمران اور اعلی حکومتی افسران کے دستر خوان تو انواع و اقسام کے پر لذت کھانوں سے سجے رہتے ہیں۔ان حکمرانوں کو عوام الناس کے مسائل سے نہ تو کوی واسطہ ہے نہ ہی کوی سروکار۔
ہر سال ہی سوئ گیس کے بحران کے حل کے لیے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔مگر جمہوریت کے نام پر بٹورے گے وٹوں کا حق ادا کرنے کی بجاے ہمارے حکمران بینکوں سے قرضے لینے اور سوشل ویلفیر کے نام پر رقم بٹورنے میں سرکرداں و کوشاں دکھای دیتی ہے۔اور ہمارے حکمرانوں کے بلند و بانگ جھوٹے وعدے وہیں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔آہ ایک نظر ادھر بھی۔۔۔۔۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *