سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی ۔۔۔ تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل

برصغیر پاک وہندمیں اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اولیاء اللہ کے کرداروگفتارسے پھیلاہے ۔ اولیاء کرام کی کاوشوں کی وجہ سے اسلام کو فروغ ملاپاکستان کے قیام میں اکابرین اہلسنت نے بہت اہم کرداراداکیا۔برصغیر پاک وہندمیں اولیاء کرام نے اسلام کی جوخدمت کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیںیہ ایک مسلمہ حقیقت اور تاریخ گواہ ہے کہ برصغیرپاک وہندکی آبادی کواسلام کی دولت اولیائے کرام کی پرامن تبلیغی مساعی بدولت نصیب ہوئی انہی کے باطنی تصرفات نے اس خطہ پرمسلمانوں کوحکمرانی کے مواقع فراہم کئے۔توپھرمانناپڑے گاکہ برصغیرپاک وہندمیں اشاعت اسلام کاحقیقی سہرااولیاء کرام کے سرہے ۔جوسرزمین پاک وہندپرآفتاب عالم کی طرح طلوع ہوئے۔ اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہ نے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعۂ کہاجاتاہے جو ایک مسلمہ حقیقت ہے اسی کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاء کرام کی تشریف آوری ہے جنہوں نے شبانہ روزدین متین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگانِ دین اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں ۔مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے ۔پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ سرزمین بزرگان دین اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہ کاہمیشہ مرکزرہی ہے ۔یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات پرعمل پیراہیں ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں تاجدارختم نبوت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم،علماء اوراولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہ نے اٹھایا۔خلفاء راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاء امت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دینِ اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں ۔دین مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوبلندیوں تک پہنچایا۔بلکہ ہردورکے محدثین ،مبلغین ،اتقیاء،اولیاء ومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے عَلَّمْ (جھنڈا)کوبلندفرمایا۔الحمدللہ !آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں دین اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں ۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ان کی ناپاک سازشوں کوخاک میں ملانے کے لئے بزرگان دین یہ جنگ لڑرہے ہیں ۔آج جس عظیم ہستی کامیں تذکرہ کرنے جارہاہوں ۔اسے عالمِ اسلام میں ’’سلطان العارفین ،شمس السالکین سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ ‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے ۔
ایمان سلامت ہرکوئی منگے ۔۔۔ عشق سلامت کوئی ہو
ایمان منگن شرماون عشقوں ۔۔۔ دل نوں غیرت ہوئی ہو
ہرایک ایمان کی سلامتی چاہتاہے۔لیکن عشق کی سلامتی چاہنے والاکوئی کوئی ہوتاہے۔ایمان چاہتے ہیں مگرعشق سے کتراتے ہیں۔یہ دیکھ کرہمارے دلوں میں غیرت بھڑک اٹھتی ہے۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق سلسلہ سروری قادری سے ہے۔ سلسلہ قادری کا آغازقطب ربانی ،شہبازلامکانی پیرانِ پیرحضورغوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوا اور اس کی دو شاخیں سروری قادری اور زاہدی قادری ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ ’’سروری قادری‘‘ ہے ۔سلطان العارفین سخی سلطان باہواسی اعلیٰ ترین پائے کے مرشدکامل اکمل ہیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
ہرکہ طالب حق بودمن حاضرم ۔۔۔۔ زاابتداء تاانتہایکدم برم
طالب بیاطالب بیاطالب بیا ۔۔۔۔ تارسانم روزاوّل باخدا
ترجمہ:ہروہ شخص جوحق تعالیٰ کاطالب ہے۔میں اس کے لئے حاضرہوں۔میں اسے ابتداء سے انتہاتک فوراًپہنچادیتاہوں۔اے طالب آ،اے طالب آ،اے طالب آ،تاکہ میں پہلے ہی دن تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچادوں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کااسمِ گرامی ’’سلطان باہو‘‘ہے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدماجدکانام ’’حضرت بازیدمحمدرحمۃ اللہ علیہ‘‘جبکہ والدہ ماجدہ کانام ’’حضرت بی بی راستی رحمۃ اللہ علیہا‘‘ہے۔آپ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اعوانوں کا شجرہ نسب حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔صوفیائے کرام رحمۃ اللہ علیہ میں آپ’’ سلطان العارفین،شمس السالکین ‘‘کے لقب سے معروف ہیں ۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت بروزپیرماہ رمضان المبارک ۱۰۳۹ھجری میں موضع اعوان(شورکوٹ،ضلع جھنگ،پنجاب) پاکستان میں ہوئی۔(باہوعین یاہوص۱۰۷بتغیر)۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشجرہ نسب یوں ہے۔حضرت سلطان باہوبن بازیدمحمدبن حضرت فتح محمدبن حضرت اللہ دتہ بن حضرت محمدتمیم بن حضرت محمدمنان بن حضرت موغلا بن حضرت محمدپیدابن حضرت محمدسگھرابن حضرت محمدنون بن حضرت سُلا بن حضرت محمدبہاری بن حضرت محمدجیون بن حضرت محمدبن ہرگن بن حضرت نورشاہ بن حضرت امیرشاہ بن حضرت قطب شاہ (تذکرہ اولیائے پاکستان ۱۷۷)۔
سلطان العارفین،شمس السالکین سیدسخی حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کی والدہ ماجدہ’’ بی بی راستی ‘‘کو ان کے اعلیٰ مرتبہ کی اطلاع دے دی گئی تھی ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش سے قبل آپ کی والدہ ماجدہ کوالہام ہوچکاتھاکہ ان کے شکم (پیٹ)میں ایک اللہ کاپیارا’’ولی‘‘ پرورش پارہاہے ۔اس بات کی تصدیق آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ خودکرتی ہیں ’’مجھے غیب سے یہ بتایاگیاہے کہ میرے پیٹ میں جولڑکاہے وہ پیدائشی’’ ولی اللہ‘‘ اورتارک الدنیاہوگا۔(مناقب سلطانی،ص۲۶)آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مرتبہ فنا فی ھُو کے مطابق ان کا اسمِ گرامی ’’باھْو ‘‘الہاماً بتا دیا گیاتھا جیسا کہ سلطان العارفین،برہان الواصلین سید سخی حضرت سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،
نام باہومادر باہو نہاد ۔۔۔ زانکہ باہودائمی باہو نہاد
ترجمہ:باہوکی ماں نے نام باہورکھا کیونکہ باہوہمیشہ ’’ہو ‘‘کے ساتھ رہا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی باطنی و روحانی تعلیم و تربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ کیونکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ابھی کم سن ہی تھے کہ والدماجد’’حضرت بازیدمحمدرحمۃ اللہ علیہ ‘‘کاوصال ہوگیاتھا۔اس لئے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ’’بی بی راستی رحمۃ اللہ علیہا‘‘ نے آپ کی تعلیم وتربیت بحسن خوب فرمائی۔
سلطان العارفین سیدسخی حضرت سلطان باہو کے والد’’ بازید محمدرحمۃ اللہ علیہ‘‘ دہلی میں مغلیہ حکومت میں ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ ایک صالح، شریعت کے پابند، حافظِ قرآن فقیہ شخص تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ’’بی بی راستی رحمۃ اللہ علیہا‘‘سے عقد(نکاح) کیا۔سلطان العارفین سیدحضرت سخی سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ’’ بی بی راستی رحمۃ اللہ علیہا‘‘عارفہ کاملہ تھیں اور پاکیزگی اور پارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔وادی سون سکیسرضلع خوشاب کے گاؤں ’’انگہ‘‘کی ایک پہاڑی کے دامن میں چشمے کے کنارے عبادت وریاضت کیاکرتی تھیں۔ایک ’’اللہ کی پیاری ولیہ ‘‘کی نشانی کے طورپروہ جگہ آج بھی معروف ومحفوظ ہے۔(ابیات سلطان باہو،ص۱)۔
سلطان العارفین ،شمس السالکین حضرت سیدسخی سلطان باہو پیدائشی ولی تھے۔ اوائل عمری میں ہی آپ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رہاکرتے تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیشانی نورِ حق سے اس قدر منور تھی کی اگر کوئی کافر آپکے مبارک چہرے پر نظر ڈالتا تو فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتاتھا۔جب سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی نظرولایت سے جوق درجوق غیرمسلموں نے کلمہ پڑھناشروع کیاتوغیرمسلموں میں کھلبلی مچ گئی۔چنانچہ وہ سب’’ حضرت بازیدمحمدرحمۃ اللہ علیہ‘‘ کی خدمت میں حاضرہوکرآپ کے صاحبزادے’’ حضرت سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ‘‘ کی شکایت کرنے لگے ۔آپ کے والدماجدنے ان سے کہاکہ میرابیٹاتوعمرمیں ابھی چھوٹاہے۔یہ توکسی پرہاتھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہے ۔انہی میں سے ایک شخص عرض کرنے لگا۔اے بازیدمحمد !اگرتیرابیٹاہم پرہاتھ اُٹھالیتاتوزیادہ اچھاتھا۔آپ کے والدماجدان سے کہنے لگے پھربتاؤمیرے بیٹے کاقصورکیاہے؟توان غیرمسلموں کاسربراہ کہنے لگاکہ تیرے بیٹے کاقصوریہ ہے کہ جسے نظربھرکردیکھتاہے وہ مسلمان ہوجاتاہے۔۔اس کی وجہ سے شورکوٹ کے لوگوں کاآبائی مذہب خطرے میں پڑگیاہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدماجدکافی دیرتک سوچتے رہے ۔بعدازا ں سربراہ نے کہاکہ آپ سے ایک گزارش ہے کہ’’ دایہ‘‘ آپ کے بیٹے کوبے وقت بازارمت لے جایاکرے بلکہ آپ ان کی سیرکے لئے ایک وقت مقررکردیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدماجدنے ’’دایہ‘‘کوسختی سے ہدایت کردی کہ وہ ایک مقرروقت پر’’سلطان باہو‘‘کوبازارلے جایاکریں۔غیرمسلموں نے چندنوکررکھ لئے کہ جب ’’سلطان باہو‘‘اپنے گھرسے نکلیں توگلی ،کوچے،بازاروں میں ان کی آمدکی اطلاع دی جائے لہذاجب نوکریہ خبردیتے توغیرمسلم اپنی اپنی دکانوں اورمکانوں میں چھپ جاتے تھے۔(مناقب سلطانی ،ص۲۷)۔
نگاہ ولی میں یہ تاثیردیکھی ۔۔۔ بدلتی ہزاروں کی تقدیردیکھی
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ بچپن میں ایک دن سڑک کے کنارے دیدارِ الٰہی میں مستغرق شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہاتھا کہ اچانک ایک بارعب ، صاحبِ حشمت سوار،نورانی صورت والے بزرگ گھوڑے پرسوارہوکر نمودار ہوئے جنہوں نے میراہاتھ پکڑکر اپنے قریب کیا اورگھوڑے پربیٹھالیا۔سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’میں نے ڈرتے ہوئے اورکانپتے ہوئے پوچھا‘‘آپ کون ہیں؟توانہوں نے مجھے آگاہ کیا کہ میں علی ابنِ ابو طالب کرم اللہ وجہہ الکریم ہوں۔میں نے پھرعرض کیامجھے کہاں لے جارہے ہو؟توانہوں نے فرمایا کہ آج تم تاجدارختم نبوت ،سرکارمدینہ،سرورقلب وسینہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے دربار میں طلب کیے گئے ہو۔ پھر ایک لمحے میں نے اپنے آپ کو تاجدارختم نبوت نبی اکرم رسول محتشم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ اقدس میں پایا۔ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ اقدس میں اسوقت خلیفۃ المسلمین سیدناحضرت ابوبکر صدیق ،خلیفہ المسلمین سیدناحضرت عمرفاروق اعظم ، خلیفۃ المسلمین سیدناحضرت عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تمام اہلِ بیت کرام علہیم الرضوان جلوہ فرماتھے۔مجھے دیکھتے ہی سرکارمدینہ ،سرورقلب وسینہ تاجدارختم نبوت، نبی اکرم رسول محتشم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا میرے ہاتھ پکڑو اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔اورکلمہ طیبہ کی تلقین فرمائی ۔سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب میں نے کلمہ طیبہ پڑھاتودرجات ومقامات کاکوئی حجاب باقی نہ رہا۔اس کے بعدسیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف توجہ فرمائی ۔جس کی وجہ سے میرے وجودمیں’’ صدق وصفا‘‘پیداہوگئی۔اس کے بعدسیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ مجلس سے چلے گئے۔پھرسیدناحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف توجہ فرمائی جس سے میرے وجودمیں ’’عدل ومحاسبہ نفسی‘‘ پیداہوگیا۔یہاں تک کہ امیرالمومنین سیدناحضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجلس سے چلے گئے۔اس کے بعدخلیفۃ المسلمین سیدناحضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری جانب توجہ فرمائی ۔جس کی وجہ سے میرے اندر’’حیااورسخاوت‘‘ کانورپیداہوگیا۔بعدازاں خلیفۃ المسلمین سیدناحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے میری جانب توجہ فرمائی ۔جس کی وجہ سے میرا جسم’’ علم ،شجاعت اورحلم‘‘سے بھرگیا۔پھرسرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم میراہاتھ پکڑکرخاتون جنت سیدتناحضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکے پاس لے گئے۔توحضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے فرمایا’’تم میرے فرزندہو‘‘۔پھرمیں نے حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قدمین شریفین کابوسہ لیااوران کی غلامی کاپٹااپنے گلے میں پہن لیا۔بعدازاں سرکارمدینہ ،تاجدارختم نبوت آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے پیران پیر غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد فرمایا۔سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کر لیا۔(باہوعین یاہو،ص۱۱۱تا۱۱۳)۔
بعدازاں شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پرسلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے دہلی میں سیدالسادت حضرت پیرسیدعبدالرحمن جیلانی دہلوی کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی اور ایک ہی ملاقات میں فقر کی وراثت کی صورت میں اپنا ازلی نصیبہ ان سے حاصل کر لیا۔(ابیات سلطان باہو۲)۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کابیشترحصہ دنیاکی سیروسیاحت ’’سیروفی الارض‘‘میں گزرا ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ زیادہ ترملتان،ڈیرہ غازی خان،چولستان،ڈیرہ اسماعیل خان،وادی سون سکیسرضلع خوشاب وغیرہ کے علاقوں میں سفرکرکے مخلوق خدامیں وعظ ونصیحت اورحکمت ومعرفت عام کرکے متلاشیان حق کوحق کی راہ دکھاتے رہے ۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے چارشادیاں کیں ۔جن سے آٹھ بیٹے اورایک بیٹی پیداہوئی۔سب سے چھوٹے صاحبزادے سلطان حیات محمدنے بچپن میں انتقال فرمایا۔آپ ؒ کے دیگرصاحبزادوں کے نام حسب ذیل ہیں۔سلطان نورمحمد،سلطان ولی محمد،سلطان لطیف محمد،سلطان صالح محمد،سلطان اسحاق محمد،سلطان فتح محمد،سلطان شریف محمدجبکہ خلفاء میں حضرت سیدموسیٰ شاہ گیلانی المعروف حضرت مومن شاہ سندھ،حضرت ملامعانی میسوی سبی بلوچستان،حضرت سلطان نورنگ کھیتران بہاولپور،حضرت سلطان حمیدضلع بھکر،حضرت سلطان ولی محمداحمدپورشرقیہ ضلع بہاولپورکے نام سرفہرست ہیں۔(تذکرہ اولیائے پاکستان۱۸۶،۱۸۵،تذکرہ اولیائے پاک وہند)۔
ایک مرتبہ ایک خاندانی رئیس مفلس (تنگدست )ہوگیا۔اس نے مقامی بزرگ سے اپنی حالت زاربیان کی ۔کہ مجھے مفلسی وتنگدستی کی وجہ سے اکثرفاقوں نے گھیررکھاہے۔دروازے پراکثرقرض خواہوں کاہجوم رہتاہے۔مفلسی کی وجہ سے بچیوں کی شادیاں اوردیگرضروریات کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے۔سمجھ میں نہیں آتاکہ ا ب میں کیاکروں ،جاؤں توکس کے پاس جاؤں۔مقامی بزرگ نے کہاکہ دریائے چناب کے کنارے شورکوٹ جاؤوہاں پرسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہوسے اپنی حالت بیان کرنا۔امیدکی کرن لیکردوستوں کی ہمراہ وہ شخص سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں سوالی بن کرحاضرہوا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اسوقت کھیتوں میں ہل چلارہے تھے ۔جب اس شخص نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کوہل چلاتے دیکھاتوسخت مایوس ہوا۔اورسوچنے لگاجوآدمی خودمفلسی کاشکارہواورکھیتوں میں ہل چلاکراپنی گزربسرکرتاہو۔وہ میری کیسے مددکرے گا۔اسی مایوسی کے عالم میں واپس جانے لگا۔جونہی پلٹاتوکسی نے اس کانام لیکرپکارا۔وہ حیران ہوگیاکہ میں اجنبی آدمی ہوں پھرمیرانام پکارنے والاکون ہے۔پیچھے پلٹ کردیکھاتوآپ رحمۃ اللہ علیہ اس سائل کوبلارہے تھے۔جب اس نے یہ ماجرادیکھاتودوبارہ امیدکی کرن لیکرسلطان العارفین سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں باادب حاضرہوگیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا’’ کیابات ہے؟تم اتنے دورسے چل کرتکالیف اٹھاتے ہوئے ہمارے پاس پہنچے ہواوربغیرملاقات کیے واپس جانے لگے ہو۔جب سائل نے یہ بات سنی توفوراًآپ رحمۃ اللہ علیہ کے اورزیادہ قریب ہوگیا۔اوراپنی خستہ حالی کی داستان سنائی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ نے اسوقت مٹی کاڈھیلااُٹھایااورزمین پردے مارا،ڈھیلے کازمین پرلگناہی تھاکہ کھیت میں پڑے تمام پتھراورڈھیلے سونابن گئے۔سلطان العارفین نے اس شخص سے فرمایا۔اے سائل ! آپ کی مرضی ہے جتنادل کرے سونالے جاؤ۔چونکہ وہ توسوالی بن کردوستوں کے ہمراہ آیاتھااس سے بڑھ کراسے کیاخوشی ہوتی کہ دلی مرادپوری ہوگئی۔وہ شخص دوستوں کے ہمراہ اپنے گھوڑوں پروافرمقدارمیں سونالادا۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باہوکی اس کرم نوازی پرشکریہ اداکرتے ہوئے کامیاب وکامران واپس گھروں کولوٹ گئے۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند، ۳۱۶،۳۱۷،مناقب سلطانی۶۸) ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علم تصوف پرڈیرھ صدکے قریب کتابیں بزبان فارسی چھوڑی ہیں۔مجموعہ ابیات پنجابی بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کی یادگارہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی جن کتب کاپتاچل سکاوہ حسب ذیل ہیں۔
عین الفقر،گنج الاسرار،کلیدالتوحیدکبیر،کلیدالتوحیدصغیر،نورالہدٰی ،محبت الاسرار،شمس العارفین،اورنگ شاہی،اسرارقادری،توفیق ا لہدایت،مجالسۃ النبی،تیغ برہنہ،رسالہ روحی،قرب دیدار،کلیدجنت،محک الفقرکبیر،محک الفقرصغیر،مفتاح العاشقین،کشف الاسرار،امیرالکونین،جامع الاسرار،عین الجنات،قطب الاقطاب،محکم الفقراء حجۃ الاسرار،دیوان باہو،ابیان باہو،،عقل بیدارکبیر،عقل بیدارصغیر،مجموع الفضل،فضل اللقاء،رسالہ روحی اورنگ شاہی،دیوان اردو،دیوان فارسی،دیوان پنجابی شامل ہیں۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیرکے عہدمیں یکم جمادی الاخری(جمادی الثانی)۱۱۰۲ھجری شب جمعہ تاجدارختم نبوت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی سنت میں تریسٹھ سال کی عمرمیں داعی اجل کولبیک کہتے ہوئے سفرآخرت فرمایا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کاپہلامزاردریائے چناب کے مغربی کنارے پرواقع قلعہ قہرگان سے کچھ فاصلے پرتھا۔جس کے چاروں جانب پختہ دیواریں تھیں۔۱۱۷۹ہجری میں دریائے چناب میں طغیانی آئی قریب تھاکہ پانی مزارمبارک تک پہنچ جاتاآپ رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں اپنے سجادہ نشین کوحکم فرمایاکہ مجھے کہیں اورمنتقل کردیں ۔اگلے دن مریدوں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے جسم کومنتقل کرنے کے لئے زمین کھودناشروع کی ۔مگرجسم مبارک نہ مل سکا۔مریدبڑے پریشان ہوئے اگلی رات پھرسجادہ نشین سے فرمایاکل صبح ایک نقاب پوش بزرگ سبزلباس میں آئیں گے اورقبرکی نشاندہی کردینگے ۔اگلے دن ایک نقاب پوش بزرگ سبزلباس پہنے ہوئے تشریف لائے اورقبرمبارک کی نشاندہی کی۔ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں جب سلطان العارفین حضرت سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ کاجسم باہرنکالاگیاتوسب نے دیکھاکہ آپ کاجسم وکفن صحیح سلامت ہے۔کئی میل تک فضامعطراورخوشبوآنے لگی۔ریش مبارک (داڑھی )سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔یوں محسوس ہورہاتھاجیسے ابھی سوئے ہوں۔
زمین میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ محمد صلی اللّٰہ علیہ والہٖ وسلم کے غلاموں کاکفن میلانہیں ہوتا
اس کے بعد۱۳۳۶ہجری بمطابق 1918عیسوی میں دریائے چناب میں سیلاب آیاجس کی وجہ سے تیسری مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے جسم مبارک کومنتقل کرناپڑااسوقت بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کاجسم وکفن صحیح سلامت تھا۔(مناقب سلطانی ،ص۱۷۷)۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مزارمبارک کی دہلیزپرسدرۃ (بیری )کادرخت تھا۔جس کی وجہ سے زیارت کرنیوالوں کوپریشانی کاسامناکرناپڑتاتھا۔مگربطورادب اسے نہ کاٹاجاتا۔ایک دن ایک نابیناشخص مزارپرحاضرہواتوان کی پیشانی درخت سے ٹکراکرزخمی ہوئی۔جس کی وجہ سے پیشانی مبارک سے خون بہنے لگا۔خادمین نے انہیں تسلی دی علاج معالجہ کرایااوراگلے دن درخت کٹوانے کاارادہ کیا۔تاکہ آنے والے زائرین کوکسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ محمدصدیق بھی اس مشورے میں شریک تھے۔جب رات ہوئی توخواب میں ’’حضرت سلطان باہورحمۃ اللہ علیہ‘‘کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمارہے تھے ۔اے محمدصدیق!ہمارے بیری کے درخت کوکیوں کاٹتے ہو؟وہ خودیہاں سے دورچلاجائے گا۔جب صبح دیکھاگیاتوواقعی وہ درخت اپنی جگہ سے دس پندرہ ہاتھ کے فاصلے پرکھڑاتھا۔(مناقب سلطانی ،ص۲۱۹)۔۔۔
یہ شان ہے خدمت گاروں کی ۔۔۔۔۔ سردار کا عالم کیاہوگا۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ شاہراہ پرلیٹے ہوئے تھے ۔وہاں سے غیرمسلموں کاایک گروہ گزرا۔ان میں سے ایک نے بطورِحقارت آپ رحمۃ اللہ علیہ کوٹھوکرماری اورکہاہمیں راستہ بتاؤ۔سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اُٹھتے ہی فرمایا’’لااِلٰہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے کلمہ طیبہ جاری ہوناتھاکہ غیرمسلموں کاپوراگروہ کلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا۔
سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کامزارمبارک قصبہ دربارِسلطان باہونزدگڑھ مہاراجہ تحصیل شورکوٹ ،جھنگ ،پاکستان میں مرجع خواص وعام ہے۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *