سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

علامہ محمد اقبال کے اس مصرع پر اگر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں آنکھوں کے نور کی نورانیت خاکِ بطحا کے نورانی ذروں میں پوشیدہ و مضمر ہے۔اقبال خاک مدینہ کو زینتِ عینین اور نورِچشم خیال کرتے ہیں۔یہی ایک مصرع نہیں بلکہ اقبال کے ہاں عشقِ مصطفےٰ میں کسی اور کا خیال بھی خیالِ باطل نہیں بلکہ مترادفِ شرک ہے۔
ہر کہ رمزِ مصطفےٰ فہمیدہ است
شرک را در خوف مضمر دیدہ است
خاکِ بطحا سے کسے پیار نہیں ۔حضرت عمرؑ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ ” اے اللہ مجھے شہادت کی موت عطا فرمانا اور اسی شہر میں عطا فرمانا۔” اللہ کے ہاں قبولیت کا کمال ہے کہ نہ صرف حضرت عمرؑ کو موتِ شہادت نصیب ہوئی بلکہ ارضِ مقدس کا وہ حصہ قسمتِ عمر میں لکھا گیا جو آقا نامدار کے پاؤں کا لمسِ اطہر ہے۔اور جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا۔بہر کیف یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جو بھی ارضِ مقدس کا باسی ہوا کسی اور وطن میں جانے کی خواہش اور ارمان کو پھر دل سے نکال باہر کرتا ہے۔امام مالکؑ ساری عمرمدینہ میں رہے لیکن ساری عمر پاؤں میں جوتا نہ پہنا کہ کہیں گستاخی کے زمرے میں نہ آ جاؤں۔رفع حاجت کے لئے شہر سے باہر تشریف لے جاتے،تیز قدموں جاتے اور بجلی کی سی سرعت سے واپسی فرماتے کہ کہیں بیرونِ مدینہ جان قفسِ عنصری سے پرواز نہ کر جائے اور مجھے خاکِ مدینہ نصیب نہ ہو۔ایک بار آپﷺ تبوک سے واپسی تشریف لا رہے تھے کہ کسی صحابی نے گرد سے بچنے کے لئے منہ ڈھانپا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مدینہ کی خاک میں شفا ہے”
حضرت مسلمہؑ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایاکہ
” مدینہ منورہ کا غبار کوڑھ کے مرض کو ٹھیک کرتا ہے”
تو اقبا ل جیسے عاشق کا قلم کیوں نا اظہارِ عشقِ مصطفے کرے وہ ارمغانِ حجاز میں فرماتے ہیں کہ۔
خاکِ یثرب از دو عالم خوشتر است
آں فلک شہر کہ آنجا دلبر است
کہ مدینے کی خاک دو عالم سے بڑھ کر ہے۔یہ ٹھنڈی ہواؤں کا شہر ہے جہاں ہم سب کا دلبر موجود ہے۔عشقِ خاک مدینہ کا والہانہ پن اقبال کے ہاں تو ملتا ہی ہے دیگر شعرا بھی کسی طور بھی پیچھے دکھائی نہیں دیتے۔جیسے عزت بخاری ایرانی شاعر فرماتے ہیں کہ
ادب گاھیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
ذاتِ اقدس سر زمینِ عرب کے لئے ہی نہیں عالمین کے لئے سراپا رحمت بن کر آئے، تو وہ کون ہوگا جو اپنا دامن،رحمت اللعالمین کے نور سے تر بلکہ بھرنا نہ چاہتا ہو۔ان کی رحمت تو وہ بحرِ بے کنار ہے کہ کوڑا پھینکنے والی اماں کو امان،حباب بن اسید کو گورنرِ مکہ ،ہندہ کو معافی اور کعب بن زہیر جیسے شاعر کو اپنے کمبلی سے نواز دیتے ہیں۔پس جس نے بھی اس حقیقت کو پا لیا اس نے دنیا جہاں کو پا لیااور آخرت کے رازوں کو پالیا۔اور جنہوں نے راز کو پا لیا ان کی زبانیں قفل ہو گئیں۔اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاہ کار کیسے اس مقدس ہستی کا نام گناہوں سے بھرے لوتھڑے سے لیں۔کہ جس مقدس ہستی پہ اللہ اور فرشتے از خود درود و سلام کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔تو ایک عاشقِ محمدﷺ نے جسے ہم سعدی شیرازی کے نام سے جانتے ہیں اس مسئلہ کا حل اس شعری پیرائے میں بیان کر دیا کہ
ہزار بار بشویم دہن زمشکِ گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمالِ بے ادبی است

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *