Tag Archives: اسماء طارق

کمپیوٹر اور استاد کا کیا مقابلہ ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دور سب سے تیز رفتار اور ترقی یافتہ دور ہے اور یہ ساری ترقی ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے اور یہاں کمپیوٹر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جہاں پہلے کسی

اندھی تقلید ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

عدالت میں ایک سے فیصلہ آتا ہے مگر پوری قوم کچھ جانے بغیر ایک شخص کی پیروی میں سڑکوں پر نکل آتی ہے آگ لگاتی ہے ٹائر جلاتی ہے اور پورے ملک میں دہشت پھیل جاتی ہے ۔ فلاں فرقے

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

دل جلانے کی بات کرتے ہو ایسے آنے کی بات کرنے ہو ہمیں در در رول کر ٹھکانے کی بات کرتے ہو ہمیں راستوں کی خبر نہیں تم منزلوں کی بات کرتے ہو ہم سے شوق آرزو چھین کر ملنے

جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

قصہ کچھ یوں ہے کہ جنت نظیر وادی ریاست جموں و کشمیر ڈوگرہ راج کے سائے میں پروان چڑھتی ہے جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ ڈوگراوں کے خلاف جنگ کرکے جموں کو فتح کرتا ہے اور اس کی مدد ڈوگرہ راجہ

شاعری ۔ اسماء طارق ۔ گجرات

خط جو لکھا اس نے آخری پنڈ کے نام اس پہ لکھی کہانی میری زبانی تھی وہ شرمندہ تھا یہ اک نئی کہانی تھی پر پنڈ کی یہ لڑکی اتنی ہی پرانی تھی وہ لڑکا تھا نئے زمانے کا اور

ہنسنا منع ہے ۔۔۔۔۔ صرف مسکرائیے ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

آئین کی رو سے اس دنیا میں انواع و اقسام کے مرد و خواتین پائے جاتے ہیں آئیے ان میں سے چند کا یہاں تذکرہ کرتے ہیں ۔ بنیادی طور پر مرد تین طرح کے ہوتے ہیں اور یہی تین

استاد ایسا بھی ہوتا ہے ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

میٹرک میں غلطی سے اچھے نمبر آجائیں تو آپ کی خیر نہیں۔ خاندان والے ایف ایس سی کی اتنی گردان کرتے کہ آپ سب بھول بھال جاتے اور اسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سو ہم نے بھی ایف ایس

رونا ایک آرٹ ہے ۔۔۔ تحریر: اسماء طارق ۔ گجرات

رونا بھی ایک آرٹ ہے ،ایک فن ہے اور کچھ لوگ اس فن سے اس قدر شناسا ہوتے ہیں کہ آپ بھی ان کی مہارت کی داد دئیے بغیر رہ نہیں سکتے ۔کچھ لوگ تو روتے بھی اس قدر پرلطیف

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

جان کی اب کوئی مانگ نہیں ہتھیلی پہ رکھ کہ چلتا ہوں کیا خبر کب چھین لی جائے اسی ڈر سے زور مرتا ہوں موت مجھ کو کیا ڈرائے گی میں تو جینے سے ڈرتا ہوں جب مخافط ہی ٹھہرے

ڈر لگتا ہے ۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

بابا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے سنہرے خواب بھی مجھے ڈراتے ہیں بچپن کی طرح ان سے مجھے بچالو بابا اندھیرے سے مجھے چھپا لو قدم قدم پہ ہے خوف کا پہرہ یہاں مجھے ہر اک قدم سے ڈر