Tag Archives: ثناء خان تنولی

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 4 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری کے پاپا کا import Export کا بزنس تھا۔۔۔ ان کا اسلام آباد میں فلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی اپنی زاتی گاڑی بھی تھی حُوری خود ڈرائیو کر کے یونیورسٹی آتی جاتی۔۔۔ ڈرائیور کے ہوتے سوتے اُسے

سنو۔۔۔۔۔۔! “جاناں” تمھاری مُحبت بھی محض ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

سُنو “جاناں”۔۔۔!۔ تمھاری مُحبت بھی محض اک ڈرامہ ہی تھی۔۔۔۔۔۔ بس تم اِس ڈرامے میں اپنا کردار اچھے سے نہیں نبھا پائے۔۔۔۔۔۔ جو بھی چند اک “مجبوریاں” گنوائی تھیں ناں’ تم نے۔۔۔ وہ سب بھی ڈھونگ تھیں۔۔۔!۔ کاش !!!!۔۔۔ زرا

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 3 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

آخر کار کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے دو سموسے /چٹنی پلیٹ اور ساتھ میں ایک کپ چائے آرڈر کی۔۔۔ وہ چائے اور سموسے لیکر جلدی سے کینٹین کے پچھلی طرف باغیچے میں پڑے ٹیبل پر بیٹھی اور جلدی

میرے دل کے ہر اِک تار پر ۔۔۔ ترا نام تھا جولکھا ہوا ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

میرے دل کے ہر اک تار پر ترا نام تھا جو لکھا ہوا۔۔۔ غمِ دل کی حسرتوں نےخار میں اُسے رَگڑ رَگڑ کر مٹا دیا۔۔۔!۔ میری زُباں جو تیری مثال تھی۔۔۔ تیرے ہر اک سوال کا جواب تھی موئے دل

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 2 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری جو کہ کافی (Confident)  لڑکی تھی، اُن سب کو خود پر ہنستا دیکھ رونے والی شکل بنا لیتی ہے۔ وہ لڑکا جس کے پاس اُسے بھیجا گیا تھا( مسٹر ہینڈسم) وہ کوئی سٹوڈنٹ نہیں بلکہ اُنکا نیا سائیکالوجی ٹیچر

میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بوند ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

“نظم” میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بُوند کی دلکشی، مٹی میں مل کر اور بھی نکھرتی جا رہی ہے۔۔۔!۔  اور یہ خُوشبو۔۔۔۔۔۔۔ دُنیا کی سبھی خُوشبوؤں کو پیچھے چھوڑ رہی ھے مٹی کی یہ

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 1 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

  صُبح یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، اور حُوری ابھی تک ڈریس کی سلیکشن میں کنفیوز تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ پہلا تاثر بہت معنی خیز ہوتا ھے۔۔۔ اپنی ماما کے کمرے میں 5-6 ہینگروں سمیت کپڑوں کے جوڑے

بے دردی ۔ کہانی ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

مناہل نوکری ملنے کی خوشی میں آفس سے انٹرویو کے بعد نکلتے ہی خوشی کے اظہار کے طور پر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر کودنے لگی، اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے یہ نوکری مل کیسے گئی

کیا حادثہ ، کیا حقیقت ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

مختصر چند پُراسرار واقعات سچ کہوں تو مجھے جنوں بھوتوں کے ہونے پر بالکل یقین نہیں تھا، بس ایک انجان سا خوف تھا جو کہیں نہ کہیں جا کر ان کے ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ جیسا کہ ہم اکثر

تنہائی ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

افسانہ ہماری زندگی میں دو طرح کے لوگ ہوتے ھیں :۔ ایک وہ جن کے ساتھ وقتی ناراضگی اور غصے کے بعد سب ٹھیک ہو جاتا ھے، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو،۔ جن سے ہمیں معافی مانگنے کی بھی