Tag Archives: سید سردار احمد پیرزادہ

گوادر کا پراسرار جادو کئی حکمران ہڑپ کر گیا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

گوادر پورٹ کا راز بہت پرانا ہے لیکن ہم اس معمے کو پاکستان بننے کے بعد سے ہی لیتے ہیں۔ جب بھی گوادر کے حوالے سے فیصلے پاکستانی مفاد میں کئے گئے تو فیصلہ کرنے والوں کو عبرت کا نشان

ہم بہت روئے بادشاہ جب یاد آیا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

لکھاری قلم اور کتاب کے ذریعے لوگوں کو وقت کے راز سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عوام کی ذہانت کا نصیب ہوتا ہے کہ وہ اِن کھلے رازوں سے کتنا سمجھ پاتے ہیں۔ اختر سعید مدان چونکا دینے والے

زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، رسولؐ کا نواسہ، تین دن کا پیاسا حسینؑ ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

عزیز ملک نے کتاب ’’خونِ حسینؑ ‘‘ میں لکھا ’’انصار اور اہلِ بیتؑ میں سے کوئی بھی حضرت امامؑ کی طرف سے لڑنے والا باقی نہ رہا۔ صبح عاشورہ سے دوپہر تک اُن کی محفل میں مئے وحدت کی گردش

کلثوم نواز ۔ جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

محترمہ بیگم کلثوم نواز شریف صاحبہ کی آپ بیتی ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے عنوان سے 2007ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ان کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی دلچسپی اور توجہ کے بعد منظرعام پر آئی۔ اس کے مطالعہ

شاہ محمود قریشی پریس کانفرنس میں خود ہی ہیرو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جسے ہم انقلاب روس، دوسری جنگ عظیم اور آخر میں سرد جنگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اِن دنوں کو بیتے ابھی صرف چند دہائیاں ہی ہوئی ہیں۔ اُس وقت ہر طرف پھیلی

عمران خان کے دونوں ہاتھوں پر پڑے دو بوجھ ۔۔۔ تحریر: سید سردار احمد پیرزادہ

اکستان کی سِول حکومتوں کے ایک ہاتھ میں سِول ملٹری تعلقات جبکہ دوسرے ہاتھ میں خارجہ تعلقات اور خارجہ مطالبات کے دہکتے انگارے ہوتے ہیں۔ اِن دونوں میں بیلنس ہی سِول حکومت کو قائم رہنے کا بیلنس فراہم کرتا ہے۔

این اے 53، پی ٹی آئی کو ایک اور دریا کا سامنا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

۔’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘ ۔ منیر نیازی کا یہ شعر تحریک انصاف کی مستقبل قریب کی سیاست پر خوب فِٹ آتا ہے۔ عام انتخابات 2018ء

وِسل بلوئرز مالی کرپشن کے خلاف مؤثر جادو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ترقی یافتہ معاشروں میں ’’وِسل بلوئر‘‘ بہت اہم چیز ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے شخص کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی وَرک پلیس میں کسی کرپشن یا غلط کاموں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یعنی کسی بھی پبلک آرگنائزیشن کا

انتظار حسین کی کہانی ’’بادل‘‘ اور انتخابی جل تھل ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

انتظار حسین اپنے ہی مدھر انداز میں ایک کہانی ’’بادل‘‘ تحریر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شدید گرمی اور پیاس کا موسم تھا۔ ایک لڑکا آدھی رات کو نیم خوابی کے عالم میں آسمان پر بادلوں کے آنے اور

غیرسیاسی دیہاتی ماسٹر صاحب سے سیاسی گفتگو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

دوپہر سے ذرا آگے کا وقت تھا۔ لوگ ظہر کی نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد ابھی واپس نہیں آئے تھے۔ میرے آفس روم کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ میں نے آنے کا کہا تو ایک صاحب