Tag Archives: سید سردار احمد پیرزادہ

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں یہ ضرور پڑھیئے ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں حالیہ آمد کے موقع پر مثبت معاشی و سیاسی اثرات کے حوالے سے بہت بات کی جارہی ہے۔ ایسی شخصیت جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر نوجوانی میں

اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے، اب کیسے پار اترنا ہے ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

تھوڑے عرصے پہلے کی ریل گاڑی کے سفر کا منظر ذہن میں لاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ریل کسی چھوٹے قصبے کے سٹیشن پر رک جاتی۔ کچھ مسافر ریل گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر چہل

سِول یا فوجی ہر حکمران کی خواہش آزاد خارجہ پالیسی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ناکام، مایوس اور مستقبل سے خوفزدہ اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے جو حالیہ بیان دیا ہے وہ نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ ٹیکنیکل طور پر اُن سِول ایکٹوسٹس کے خلاف بھی جاتا ہے

آئین آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

آج سے ساڑھے چار ہزار برس پہلے کا زمانہ تھا جب موجودہ عراق کے علاقے میں لاگاش کے سمیری بادشاہ یوروکجینا نے اپنی حکومت کے لیے ایک قانونی دستاویز تیار کی۔ اسے دنیا کا پہلا آئین مانا جاتا ہے۔ اس

کیمپ جیل سے آصف ہاشمی کا جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار کے نام کھلا خط ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چےئرمین سید آصف ہاشمی نے کیمپ جیل لاہور سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو قارئین کے

ایتھنز کے آسٹرے سیزم کی جگہ نیا قانون ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

   کہتے ہیں کہ تقریباً پانچ سو برس قبل مسیح میں یونان کے شہر ایتھنز میں ’’آسٹرے سیزم‘‘ کا ایک رواج موجود تھا جس کے تحت شہر والے اپنے رہنما یا اہم فرد کی کسی عہدے پر مسلسل موجودگی سے

تاریخی فیک نیوز بمقابلہ پاکستانی فیک نیوز ۔۔۔ تحریر: سید سردار احمد پیرزادہ

اِن دنوں فیک نیوز کی باتیں اُتنی ہی عام ہیں جتنی مہنگائی، اُتنی ہی سستی ہیں جتنی بحث، اُتنی ہی خوف ناک ہیں جتنی وبائی بیماریاں۔ فیک نیوز کی تباہی گھروں سے لے کر ملکوں تک، سیاسی جماعتوں سے لے

ہر ڈیل کی ایک صبح ہوتی ہے ۔۔۔ کالم نگار : سید سردار احمد پیرزادہ

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب لڑکیاں زیادہ خوداعتماد نہیں ہوتی تھیں۔ اُس وقت اگر کوئی لڑکی بیاہ کر شہر چلی جاتی اور اُس کے سسرال والے ذرا بڑے اور بہتر گھرانے کے مالک ہوتے تو وہ لڑکی کئی

پریم چند کی کہانی کفن سے پاکستانی معیشت تک ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

منشی پریم چند نے اپنے افسانے ’’کفن‘‘ میں انسانی معاشرے کے ایسے رویے کو قلم بند کیا ہے جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس کہانی کے کردار ہمارے ارد گرد بھی موجود ہیں۔ افسانہ ’’کفن‘‘ میں باپ اور

پی ٹی آئی اور خرانٹ محلے والیاں ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ذرا پرانے محلوں کا تصور ذہن میں لائیے۔ چھوٹے بڑے گھر، ساتھ ساتھ جڑے گھر اور ایک دوسرے کے اندر گھُسے گھر۔ وہاں پر رہنے والوں کی عادات بھی عجیب تھیں۔ سب الگ الگ خاندان ہوتے لیکن ایک ہی لگتے۔