Tag Archives: مجید احمد جائی

وحید رضا عاجز کا شاہکار’’ سوچ دا سُورج‘‘۔۔۔ تبصرہ : مجید احمد جائی

سوچ دا سُورج ،وحید رضا عاجز کا شاہکارپنجابی شاعری مجموعہ پر مشتمل خوبصورت کتاب ہے ۔سرورق بہت پیار،دل کش ،خوبصورت اور دیدہ زیب ہے ۔بیک پر وحید رضا عاجز آنکھوں پر کالا چشمہ سجائے ،بہت سُندر لگ رہے ہیں ،ساتھ

۔’’دبیز پانیوں کے نام ایک خط‘‘۔۔۔ تحریر : :مجید احمد جائی

دبیز پانیوں کے نام ایک خط گزشتہ کئی دنوں سے میرے ساتھ رہی ہے ۔یہ خوبصورت کتاب افسانوں پر مشتمل ہے اور اس کے لکھاری الطاف فیروز صاحب ہیں ۔گو کے الطاف فیروز صاحب سے پہلے میرا رابطہ نہیں تھا

وُجُود کیا حَباب کا ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار: مجید احمد جائی’’

’’وجو د کیا حباب کا ‘‘گزشتہ چند روز میرے زیر مطالعہ رہی ہے ۔یہ شاعری مجموعہ ہے ،جس کے مصنف مُشبر حسین سید صاحب ہیں ۔ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے کرتے ہیں اور آقا دو جہاں ﷺ پر دورو

۔’’چراغ کو جلتا رہنا ہے ‘‘۔۔۔ تحریر : مجید احمد جائی

اگست کے مہینے سے میری بہت سی یادیں وابسطہ ہیں جب جب اگست کا مہینہ آتا ہے میرے لیے خوشیاں ،مسرتیں لے آتا ہے اور بے پناہ رحمتیں ،نعمتیں دے کر جاتا ہے اورمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا

۔’’گاڑی جا چکی ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

’گاڑی جا چکی ‘‘ بظاہر سادہ اور آسان جملہ ہے لیکن اپنے اندر تجسس لیے ہوا ہے ۔اس میں جو درد ،کرب ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،تڑپ ،زخم ہیں وہ اس کو پڑھے بغیر آشکار نہیں ہوتے ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘صرف

لوٹ آتے تو اچھا تھا‘‘ ۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی’’

لوٹ آتے تو اچھا تھا ،یہ فریاد ی جملہ نہیں کتاب کا نام ہے ۔یہ کتاب شاعری مجموعہ ہے جس کی مصنفہ ’’ھما خان ‘‘ہیں۔کتاب کا سرورق بہت دیدہ زیب ہے ۔بیک فلاپ پہ مایہ ناز شاعر ارشد ملک کے

ملتان کی دھرتی کے مقدر کا ستارہ ۔۔۔۔ تحریر : سید مبارک علی شمسی

شفق کہوں ،شفیق کہوں کہ تجھے کیا کہوں اے مجید القاب کے پیچ و خم میں حیران ہے زبان میری مدنیۃالاولیاء ملتان زمانہ قدیم سے ہی علم و ادبّ اور روحانیت کا مرکز رہا ہے ۔اس کی تاریخ اُتنی ہی

کتب بینی‘‘۔۔۔ تحریر : مجید احمد جائی’’

میں کتابوں میں رہتا ہوں ،جس دن میں کچھ نہ کچھ پڑھ نہ لوں مجھے نیند نہیں آتی ۔میرے اردگر د کتابیں رہتی ہے اور میں کتابوں میں خوش رہتا ہوں ۔کتابوں نے مجھے معاشرے میں پھیلی بُرائیوں سے بچا

کالم پوائنٹ کے کالم نگاروں کی کھری باتیں‘‘۔۔۔ تحریر: مجید احمد جائی’’

مجھے اکثر یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے ’’کتاب کوئی نہیں پڑھتا ،کتاب کا زمانہ نہیں رہا‘‘لیکن میں ایسے خیالات کے مالک اِنسان سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا۔کتاب نہ ہوتی تو اِنسان ارتقا کی منزلیں کیسے طے کرتا۔؟ہاں اتنا

۔’’خود کشی ۔۔۔:تدارک کیسے ‘‘۔۔؟۔۔۔تحریر : مجید احمد جائی

زندگی بڑی عزیز شئے ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت بھی۔زندگی ہمیشہ زندہ نہیں رہتی ۔اس کو ایک نہ ایک ضرور فنا ہونا ہوتا ہے۔زندگی اُن وجودوں میں رہ کر فخر محسوس کرتی ہے اور