Tag Archives: مدیحہ ریاض

مادری زبان ۔۔۔ انسان کی پہچان ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

سندھی برادری،پشتون برادری،بلوچ برادری،سرائیکی برادری۔۔۔یہ وہ برادریاں ہیں جنہیں اپنی ماںّ بولی سے محبت ہے یہ وہ لوگ ہیں جنھیں گھر سے باہر اپنی مادری زبان میں بات کرتے شرم نہیں آتی بلکہ یہ لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں

لفافہ صحافت ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

ابلاغ عامہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔اور اس اکیسویں صدی میں ابلاغ عامہ سمٹ کر ایک آلے میں مقید ہو چکا ہے۔اور اس آلے نے دنیا کے فاصلوں کو مٹا کر

خمیازہ …. تحریر: مدیحہ ریاض

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنی نیک پروین زوباریہ کی راہ تک رہی تھی -شام کے 6بج چکے تھے اور زوباریہ ابھی تک اکیڈمی سے واپس نہیں آئی تھی -رضیہ بیگم کا ایک پاؤں کمرے میں تو دوسرا پاؤں بیرونی

سودی مسکراہٹ ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے گھر جانے کی بجائے اپنی بہن کے گھر چلا گیا ۔قہر کی گرمی ، حبس زدہ موسم اور اوپر سے روزہ اس نے کسی رکشہ میں جانے کی بجائے اپنی بہن کے

اک چھوٹی سی  کہانی ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

۔18۔ویں سن چڑھتی وہ الہڑ دوشیزہ جب بات کرتی تو گویا چڑھتی جوانی بولتی اور وہ اس چڑھتی جوانی کے سمندر کو بد مستی نگاہوں سے تکتا اسے وہ کسی شاعر کا خواب لگتی اس کا چڑھتا شباب اسے دیوانہ

فروٹ کا بائیکاٹ ۔۔۔ تحریر: مدیحہ ریاض

اس نے جب اپنی والدہ ماجدہ کو فیس بک اور وٹس ایپ پر پیش کی جانے والی ان ترکیبوں کے بارے میں بتایا۔کہ رمضان میں فروٹ سستا کروانے لئے اس قسم مشورے سے نوازا جا رہا ہے کہ رمضان فروٹ

فیکٹری میں کام کرنے والیاں ۔۔۔ تحریر: مدیحہ ریاض

عقل کے ناخن لو مدیحہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم ۔میں اپنے بیٹے کی شادی فیکٹری میں کام کرنے والی لڑکی سے کرواؤں۔تمہیں پتہ بھی ہے کہ کتنے مردکام کرتے ہیں وہاں معلوم نہیں کتنوں کے ساتھ چکر چل

جہیز ایک لعنت ہے ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

جہیز ہے کیا؟جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سامان،وہ سامان جو والدین اپنی بیٹی کی شادی پر اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔مگر آج کے اس جدید دور میں یہ ایک کاروبار کی شکل

بانجھ ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

اے بہن کتنے سال ہو گئے تمہاری بیٹی کی شادی کو خیر سے ابھی تک کوئی خوش خبری نہیں ۔پاؤں بھاری نہیں ابھی تک ۔اے بہن کسی ڈاکٹرانی کو چیک کروا لو۔تمہیں تو معلوم ہے تمہاری بیٹی کی شادی کے

روزی‘‘ عورت کو کھلونا سمجھنے والوں کے لئے آئینہ ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض’’

۔90ء کی دھائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا جانے والا ڈرامہ روزی صنف نازک کے مسائل پر مبنی تھا ۔ اس ڈرامہ کی کہانی عمران سلیم نے لکھی ،یہ ڈرامہ محض ایک ڈرامہ نہیں تھا جسے لوگوں کی