Tag Archives: مسز جمشید خاکوانی

پکے پکائے دانشور ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

موجودہ دور پروپیگنڈہ جنگ کا ہے جو ملک جتنا زیادہ شور مچاتا ہے جتنا ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے جتنا زیادہ واویلا کرتا ہے دنیا اس کو سچا مان لیتی ہے اور اس کے دشمن کو دہشت گرد مان کر

ناتجربہ کار حکومت کا پہلا بجٹ ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

میں نے آج تک کوئی بجٹ تقریر نہیں سنی لوگ کہتے ہیں یہ الفاظ اور اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جس کو حکومت ہمیشہ عوام دوست بجٹ کہتی ہے اپوزیشن کا واویلا ہوتا ہے ہائے غریبوں کو مار دیا

انسان اپنا جرم بھول جاتا ہے مگر ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ایک جج صاحب لکھتے ہیں مجھے ایک قتل کے کیس کا فیصلہ کرنا تھا میرے اندر بہت کشمکش تھی کیونکہ وہ نوجوان مجھے بھی قاتل نہیں لگتا تھا وہ چیختا روتا جج صاحب میں نے قتل نہیں کیا بہتان ہے

باؤجی، گدھ اور بلاول ۔۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

مجھے نہیں معلوم یہ کس کی تحریر ہے اس پر لکھا تھا ’’باؤضی کی ڈائری سے ایک ورق‘‘ لیکن یہ اتنی خوبصورت تحریر ہے کہ اسے دنیا تک پہنچنا چاہیے یہ ایک نصیحت بھی ہے اذیت بھی ہے وصیت بھی

عورتوں کے عالمی دن پر عورت کی توہین ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

بابا جی کھیت میں بھینس کو ہل میں جوت کر ہل چلا تھے اور بیل صاحب چھپر کے نیچے آرام فرما رہے تھے ایک سیانے کا ادھر سے گزر ہوا تو پوچھا یہ کیا الٹی گنگا بہہ رہی ہے بھینس

اب اور کیا کریں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ہم طنزیہ فقرے نہیں لکھیں گے ہمیں غرور بھی نہیں کرنا تین ملکوں نے 35جہازوں کی مدد سے حملہ کرتے وقت سوچا بھی نہ ہو گا کہ اندر بیٹھے دشمن کی مدد حاصل کر کے بھی ہم یوں ناکام ،زلیل

میرے پاکستانیو ! اپنی قدر جان کر جیو ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

سعودی وزیر خارجہ نے شدید دباؤ کے باوجود بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے حق میں بیان دیا ہے بھارتی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیرنے کہا کہ پلوامہ حملے میں ابھی

حق کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہوتا ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

امریکہ کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی مسلسل خسارے میں جا رہی تھی کمپنی کے مالکان نے خسارے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ ہائر کیا کنسلٹنٹ نے دو ماہ کے مطالعے کے بعد کمپنی کے زوال کی بڑی

نوزائیدہ حکومت مہلک بیماریوں کی زد میں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

جس طرح بچہّ پیدا ہوتے ہی چھ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگوانے پڑتے ہیں تاکہ وہ ،پولیو،خسرہ،ٹی بی،خناق ،تشنج ،چیچک چکن پاکس جیسی منحوس بیماریوں سے بچا رہے میرا خیال ہے اسی طرح پی ٹی آئی حکومت کو

جس دن عمران خان نے خود کو سیاستدان سمجھا ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ایک مولوی صاحب روزانہ ندی پار کر کے ایک مسجد میں نماز پڑھانے جاتے اور واپس ندی پار کر کے اپنے گھر جاتے ایک دیہاتی آدمی نے دیکھا مولوی صاحب ندی کے پانی پر ایسے چلتے ہوئے جاتے جیسے خشکی

کس کس کو سمجھائیں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

آجکل میرا حال بالکل عمران خان جیسا ہو گیا ہے ا س کو بھی بیوی اور ٹی وی سے پتہ چلتا ہے اس کی حکومت آ گئی ہے مجھے بھی کوئی نہ کوئی روزانہ میسج کر کے یہ یاد دلاتا

مسٹر زرداری ، پاکستان پر بھاری ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ضیا شاہد صاحب کا تاریخی تجزیہ پڑھنے کو ملا ’’احتساب میں پھنسے زرداری کا سندھ کارڈ کھلم کھلا بلیک میلنگ ہے ‘‘اس میں شک بھی کیا ہے چند دن پہلے زرداری کے اباجی حاکم علی زرداری کی ایک وڈیو دیکھی

سانحہ آرمی پبلک اسکول اور انتظارکرتی مائیں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ان شہیدوں کے کی ماؤں کے چہروں پر خوشی کی کوئی رمق نہیں تھی نم آنکھیں، لرزتے ہونٹ،کھوئی کھوئی سی یہ مائیں ان شہیدوں کی مائیں تھیں جو آرمی پبلک اسکول میں انتہائی بے دردی سے شہید کیے گئے تھے

عمران خان میں اخلاقی جرات کی کمی نہیں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

مسلہ یہ ہے وہ اداروں کو کھڑا ہونے میں مدد دے رہے ہیں اس لیے وہ ان میں مداخلت نہیں کرتے ،وہ ایک بیان دیتے ہیں اور اپوزیشن میں صف ماتم بچھ جاتی ہے سات دن بعد ایک اور بیان

جب احساس ہی مر جائے ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

جب چوٹ لگتی ہے درد کا احساس ہوتا ہے کسی میں برداشت زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم ،سچ پوچھیں تو مجھ میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہے نہ میں کسی کو درد میں دیکھ سکتی ہوں

مایوسی کیوں گناہ ہے ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

میں ایک شخص کی کہانی پڑھ رہی تھی وہ لکھتا ہے میرے بہنوئی کا چچازاد جس کا نام جمیل خان تھا پیدائشی دماغی طور پر کمزور تھا شروع میں تو گھر والے اس کی کیفیت سمجھ نہیں پائے لیکن جب

انسان درندے کیوں بن جاتے ہیں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

وہ شخص بڑے اطمنان اور مزے سے اپنے جرم کی کہانی بیان کر رہا تھا اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی تھی ایک سپاہی ہتھ کڑی پکڑے قریب ہی موجود تھا شائد اینکر کے اصرار پر اسے لایا گیا تھا

اس ایوان میں سب ننگے ہیں ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

بڑے ڈیسک بجائے جا رہے تھے جب خورشید شاہ کہہ رہے تھے کہ مشرف کے سارے ساتھی آج کدھر بیٹھے ہیں جناب سپیکر ٓج بھی نون لیگ کے کتنے نام گنواؤں جو چودھری پرویز الہی کے گھر کے باہر لائن

جہالت اور شعور کی جنگ میں جیتے گا کون ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

آجکل جس کو دیکھو وہ مائیک پکڑے جگہ جگہ لوگوں سے ایک ہی سوال کرتا نظر آتا ہے ووٹ کس کو دے رہے ہو ؟۔ جواب میں کوئی پی ٹی آئی کی محبت میں مبتلا نظر آتا ہے تو کوئی

کدھر کھڑا ہے ہمارا نظام انصاف ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

۔16۔اور17جون کی درمیانی رات 1200 پولیس والے خود نیند سے اٹھے تھانوں میں گئے وہاں سے بندوقیں لیں اور ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے ۔ عوامی تحریک کے کارکنوں کو جگایا ،کارکنوں نے پولیس سے بندوقیں چھینیں اور اپنے ہی چودہ