تھیلیسیمیا کے متعلق چند اہم حقائق ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

* تھیلیسیمیا کا شمار ایک موذی مرض میں ہوتا ہے۔*
اور یہ مرض کسی بھی شخص کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسکے سرخ خون کے ذرات میں شامل ہیموگلوبن نامی پروٹین کی تشکیل مناسب مقدار میں نہ ہوسکے۔ایشیا،افریقہ اور بحیریہ روم سے منسلک ممالک میں تھیلسیمیاکے سب سے زیادہ متاثرین پائے جاتے ہیں۔ناقص خون کی تشکیل کی وارثت میں منتقل ہونے والی یہ سب سے عام بیماری ہے۔
چاہے آپ۔تھیلیسیمیا سے متاثر ہوں یا نہ ہوں،اس بیماری سے متعلق بعض حقائق ہیں جو کہ ہر کسی کیلئے جاننا ضروری ہیں،وہ حقائق درج ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
۔* تھیلیسیمیا سے متاثرہ مریض عام طور پر خون کی کمی کے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں اور یہ مرض شدید یا معمولی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔
۔* تھیلیسیمیاسے متاثرہ افراد دل،ہڈیوں کی بیماری میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں جبکہ ان کے جسم میں آئرن کی مقدارمناسب سے زائد بھی ہوسکتی ہے۔
۔* تھیلیسیمیا کی بیماری دو اشکال میں ہوسکتی ہیں۔ایک بیماری۔تھیلیسیمیا مائنر ، اور دوسری تھیلیسیمیا میجر کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر میں بیماری کی شدت زیادہ نہیں ہوتی اور مریض معمولی انیمیا کا شکار ہوتا ہے لیکن وہ معمول کی زندگی گزار سکتا ہے لیکن تھیلیسمیا میجر کی صورت میں یہ سنجیدہ شکل اختیار کرلیتی ہے،اس میں مریض کو ایک مخصوص وقفے کے بعد نئے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔
۔* تھیلیسمیا کے آثار کچھ امراض ہیں۔ ان آثاروں میں یہ امراض عام طور پر ہلکی نشونما،کم بھوک،یرقان،خون کی کمی یعنی انیمیا،دل کے امراض،جگر کا بڑھ جانا وغیر ہ شامل ہیں۔

blooddonation
*تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا طریقہ*
۔* تھیلیسیمیا میجر مہلک (خطرناک ) ایک وراثتی بیماری ہے۔ اس سے بچنے کا حل کیرئیرسکریننگ ٹیسٹ اور تشخیص قبل از پیدائش ہے۔
لہٰذ ا بچےّ کی پیدائش سے قبل اس حوالے سے ڈاکٹر یا پھر کسی ماہر سے مشورہ کرنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
مندرجہ ذیل افراد تھیلیسیمیا سکریننگ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔اور آنے والی نسلوں کو اس مہلک (خطرناک ) بیماری سے بچائیں۔
*۔ شادی کی عمر کو پہنچنے والے لڑکے۔ لڑکیاں*
۔* ایسے خاندان کے افراد جن میں ایک بھی بچہّ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہے۔
۔* ایسے افراد جو ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کے استعمال کے باوجود مسلسل خون کی کمی کا شکار ہیں۔
ان افراد کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے۔ یہ افراد ہرگز غفلت نہ کریں۔
۔* دنیا بھر میں اس موذی مرض کی آگاہی کیلئے آٹھ مئی کو ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے منایا جاتا ہے، تا کہ عام لوگوں تک اس حوالے سے معلومات پہنچائی جاسکیں۔

dr-murtaza

(Visited 60 times, 1 visits today)

3 Responses to تھیلیسیمیا کے متعلق چند اہم حقائق ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

  1. Having read this I thought it was really informative.
    I appreciate you finding the time and effort to put this content together.
    I once again find myself personally spending a lot of
    time both reading and leaving comments. But so what, it was still worthwhile!

  2. These are in fact wonderful ideas in concerning blogging.
    You have touched some good points here. Any way keep up wrinting.

  3. Hey there, You’ve done a fantastic job. I’ll certainly digg it and for
    my part suggest to my friends. I am sure they will be benefited from this web site.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *