رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین آمیز خاکے ۔۔۔ تحریر: عبدالرؤف خاں

اُس کا نام آرنوڈوین ڈورن تھا۔ اُس کا تعلق ہالینڈ کی ایک تنظیم پی وی وی سے تھا۔ جس کامطلب ہے پارٹی آف فریڈم۔ وہ اسلام کے سخت خلاف تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ دہشت گرد کہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اسلام قتل وغارت گری کا مذہب ہے۔ اسلام کا امن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُس نے مغربی پروپیگنڈا سے متاثر ہوکر اسلام کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی۔ لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتا کہ اسلام ایک متعصب مذہب ہے دورجدید میں اسلام کے ساتھ نہیں چلا جاسکتا۔ یورپ کو اسلام سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ نعوذباللہ اسلام ایک ایسا فتنہ ہے جو یورپ کے امن وامان کو تباہر کرکے رکھ دے گا۔
پھر اس کی پارٹی نے ایک منصوبے پہ کام کرنا شروع کردیا کہ ایک فلم بنائی جائے جس سے اسلام کا جو تاریک چہرہ ہے وہ دُنیا کے سامنے رکھا جائے تاکہ لوگ اس مذہب سے نفرت کرنے لگ جائیں اور یورپ کے لوگ اسلام سے دوررہیں۔ اُس نے اس فلم کی ڈسٹری بیوشن کی ذمہ داری خود لے لی اور پوری دُنیا میں مختلف زبانوں میں اس فلم کو پیش کرنا شروع کردیا۔
فلم کا نام “فتنہ” رکھا گیا۔ ہالینڈ کی اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بننے والی اس فلم نے اسلامی دُنیا میں ایک ہلچل مچادی۔ پوری اسلامی دُنیا اس مذموم فلم کے خلاف سڑکوں پہ آگئی اور سخت ترین احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج نے چند مسلمانوں کو مل بیٹھ کر سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس سلسلہ کو کیسے روکا جائے۔ وہیں پر مختلف آراء پیش کی گئیں۔ جس میں سب نے ایک بزرگ کی رائے پر متفقہ عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بزرگ نے تجویز پیش کی کہ اس مسئلے کو بالکل ویسے ہی حل کیا جائے جیسے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ بزرگ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف کا واقعہ ایک مثال کے طور پر پیش کیا کہ جب طائف والوں نے چند شرارتی نوجوان آپکے پیچھے لگادئیے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینک رہے تھے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے آگے بھاگ رہے تھے اور پیچھے سے پتھر اُن کے جسم پر لگ کر جسم مبارک کو لہولہان کررہے تھے۔ ٹانگوں سے خون اتنا بہ رہا تھا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا مبارک خون سے پاوں کے ساتھ چپک گیا تھا۔ ایک جگہ راستے میں ایک سایہ دار درخت کے نیچے رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے سر اوپر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے۔ پھر میں نے غور سے دیکھا تو جبرئیل مجھے وہاں دکھائی دیئے۔انھوں نے بلند آواز سے مجھے پکارااور کہا :اللہ تعالیٰ نے وہ گفتگو سن لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قوم کا سلوک دیکھ لیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الجبال یعنی پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش پیش کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ حکم دیں تو ابھی کفار کو 2پہاڑوں کے درمیان پیس دوں۔ میں نے کہا: اَرْجُوْ اَنْ یَّخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ اَصْلَابِہِمْ مَنْ یَّعْبُدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا ۔’’میں امید کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گی اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گی۔
بزرگ کی اس مثال سے سب سے اتفاق کیا اور مختلف لوگوں نے فلم کے پروڈیوسر وین ڈورم کے ساتھ رابطہ کیا۔ اُسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر غیر مسلموں کی لکھی گئی کتابیں پیش کیں اور کہا کہ اے اللہ کے بندے کیا تم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھا ہے؟ اُن کی سیرت کو جانا ہے؟ جواب میں وہ کہنے لگا کہ نہیں میں نے سُنا ہے کہ وہ کوئی اچھے انسان نہیں تھے۔ ڈچ مسلمانوں نے اُسے کہا کہ بہتر ہے آپ خود پڑھیں۔
اب آگے وین ڈورم کہتا ہے کہ جب میں نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو میرا سر شرم سےجھکے جارہا تھا اور مجھے اپنے آپ پر افسوس ہورہا تھا کہ ایسی عظمی شخصیت جو نہ صرف انسانوں کے لئیے باعث رحمت ہے بلکہ کیا شجر، کیا چرند و پرند حتی کہ سب جہانوں کے لئیے وہ رحمت کا پیغام ہیں۔ وین ڈورم کہتا ہے کہ مجھے بہت افسوس ہوا کہ میں نے مغربی مصنفین کی متعصب کتابوں کو پڑھ کر دُنیا کے عظیم انسان کی فلم فتنہ کے ذریعے ایک غلط شبیہہ پیش کی۔
وین ڈورم نے بالآخر اسلام قبول کرنے کافیصلہ کرلیا اور پھر اُس نے سعودی عرب میں جاکر اسلام کو قبول کرلیا اور اُس کے اسلام قبول کرنے کے اعلان نے ڈچ معاشرے میں ہلچل مچادی۔ اُس کی پارٹی نے وین ڈورم کی بہت مخالفت کی لیکن اُس نے کہا میں نے حق کو پہچان لیا ہے بہتر ہے تم لوگ بھی اپنی متعصبانہ سوچ کو چھوڑ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوجاو۔
وین ڈورم بتاتا ہے کہ جب وہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ گیا تو آنسووں کی جھڑیاں لگ گئیں۔ میں بچوں کی طرح سے بلک بلک کر رونے لگ گیا اور بُلند آواز میں پُکارنے لگ گیا کہ اے رحمت اللعالیمن مجھے معاف کردیں۔ میں نے جاہلیت میں بہت بڑی غلطی کردی مجھے معاف کردیں۔ وہ کہتا ہے کہ میں زاروقطار رو رہا تھا اور جیسے جیسے میری آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے میرا دل مطمئن ہورہا تھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ زمانہ جاہلیت کے سارے گناہ اسلام قبول کرنے کے بعد معاف ہوجاتے ہیں۔ آج وین ڈورم کا ستائیس سالہ اکلوتا بیٹا بھی اسلام قبول کرلیتا ہے وہ اعلان کرتا ہے کہ میرا باپ میرے لئیے بہت بڑا رول ماڈل تھا۔ کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرا والد اسلام قبول کرتے ہی کیسے ایک دم تبدیل ہوگیا۔
اب وُہی تنظیم ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کیا ہے جو کہ مسلمانوں کے لئیے سخت رنج والم کا باعث ہے۔ پوری دُنیا کے مسلمان کسی بھی حالت میں حُرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ ہالینڈ کو سمجھنا ہوگا کہ وہ جو کرنے جارہا ہے وہ کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بننے جارہا ہے۔ شخصی آزادی کے روپ میں جس طرح سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی جارہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ اس مسئلے پر پوری دُںیا کے مسلمانوں کو اکھٹا ہوکر ہالینڈ کی حکومت سے سخت احتجاج کرنا ہوگا اور ایسے توہین آمیز مقابلوں کی روک تھام کرنی ہوگی۔ ہالینڈ کے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مبنی لٹریچر کو پھیلانا ہوگا تاکہ غیر مسلم میرے نبی کی سیرت کو پڑھیں اور جانیں کہ اُن کے سامنے اسلام اور میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے۔
کوئی ہالینڈ سے پوچھے کہ کبھی تم میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز فلمیں بناتےہو، کبھی توہین آمیز ویڈیو پیغامات نشر کرتے ہو، کبھی تم کارٹون بناتے ہو۔ تمہارے ایسے توہین آمیز اقدامات سے میرے نبی کی عزت میں تو سوئی برابر فرق نہیں آیا لیکن تمہارے اندرکے غلیظ اور قبیح انسان ضرور بے نقاب ہوئے ہیں۔ اے جانوروں کے حقوق کی بات کرنے والو تمہیں اربوں مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے ذرا بھی شرم نہیں آئی؟ کتے اور بلی کو حقوق دینے والو یہاں اربوں مسلمان تمہاری غلیظ حرکت سے دل گرفتہ ہیں ان کا مداوا کون کرے گا؟
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرکم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قراداد پیش کرے اور مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مضبوط لابنگ کرکے ہالینڈ کی تنظیم پی وی وی کو عالمی دہشت گرد تنظیموں میں شامل کروائے اور اُس پر پابندی عائد کروائے۔ یہ تنظیم فکری دہشت گردی میں مکمل طور پر ملوث ہے اور اربوں مسلمانوں کی دل آزاری کررہی ہے۔ ہماری حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ وہ جب عوام میں پاکستان کو مدینے جیسے ریاست بنانے کے دعوے کررہی ہے تو پھر اُسے حقیقی طور پر مدینے جیسی ریاست کے طورپر ایک سخت ردعمل دینا ہوگا۔ حکومت کو غور کرنا ہوگا کہ وہ کیوں اتنی بے بس ہے کہ اسلام آباد میں موجود ہالینڈ کی ایمبیسی کو بند کیوں نہیں کرسکتی؟
میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ سب سیاسی اختلافات ختم کرکے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ہالینڈ کی اس مذموم حرکت کے خلاف اُٹھ کھڑیں ہوں اور یک زبان ہوکر بیرونی دُنیا کو بتادینا چاہیے کہ پاکستان کے مسلمان سب کچھ گوارا کرسکتے ہیں لیکن اپنے نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حُرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے ایک دفعہ ہارون الشید نے پوچھا ” اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی کر دے تو امت کا کیا حق بنتا ہے؟ تو امام مالک نے کہا امت اس کا بھرپور جواب دے تو ہارون الرشید نے کہا اگر ایسا امت نہ کر سکے تو؟
پھر امام مالک نے فرمایا ساری امت غرق ہو جائے ان کے جینے کا کوئی فائدہ نہیں اگر وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا دفاع نہیں کر سکتی۔
امن اسلام کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ہمیں بھی دشمن کی ساری سازشوں کا امن سے جواب دینا چاہیے۔ یقینی طور پر دعوت وتبلیغ سے ہی دشمن کے دلوں کو فتح کیا جاسکتا ہےبالکل ویسے جیسے ڈچ مسلمانوں نے وین ڈورم کے دل کو فتح کیا۔ انشاء اللہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ اسلام کے ان دشمنوں کو نیک ہدایت دے اور انہیں اسلام کی دولت سے مالا مال کردے۔ ان کے ساتھ ویسا ہی کردے کہ جیسے نمرود کے گھر میں موسی کو پیدا فرمادیا تھا۔ اگر انکے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو انکے خیالات کو انہی پر واپس لوٹا دے۔ اللہ پاک انہیں دُنیا میں ذلت دے دے آمین۔
پاکستان کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پرامن ہوکر ہالینڈ کی حکومت کے خلاف احتجاج کریں اور اپنے ہی بھائیوں کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ یہ اسلام کی تعلیمات ہرگز ہرگز نہیں ہیں کہ احتجاج کی آڑ میں اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔
حکومت پاکستان فوری طور پر ہالینڈ حکومت سے سفارتی سطح پر احتجاج کی آواز بُلند کرے اور ہالینڈ کی حکومت پر زور دے کہ اسلام دشمن اقدامات فوری طور پر ختم کئیے جائیں۔
یارسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
سب غلاموں کا بھلا ہو سب کریں طیبہ کی سیر۔۔۔

(Visited 77 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *